قرآن و سنت میں حضرت فاطمہ زہراء کی شخصیت

مولانا سید اشہد حسین نقوی

حضرت زہراء سلام اللہ علیہا کا مقام اور آپ کی منزلت اس قدر بلند و بالا ہے کہ اہلِ بیتِ اطہار علیہم السلام کے سوا کوئی بھی اسے نہیں سمجھ سکتا اور نہ ہی اس کے بارے میں گفتگو کر سکتا ہے۔ سخن آرائی سے ہٹ کر آپ کی منزلت اور مقام کو سمجھنا اس سے بھی کہیں دشوار ہے، کیونکہ حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر خاتم النبیین صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تک کسی بھی بندے کو یہ رتبہ حاصل نہیں ہوا اور نہ ہو سکتا ہے۔
درحقیقت صدیقۂ کبریٰ سلام اللہ علیہا کائنات کی وہ واحد ہستی ہیں جنہیں خداوندِ متعال نے اپنے رازوں میں سے ایک راز قرار دیا ہے، جس تک اہلِ بیتِ اطہار علیہم السلام کے سوا کسی کی رسائی نہیں۔
اتنا کہا جا سکتا ہے کہ حضرت صدیقۂ کبریٰ سلام اللہ علیہا رسالت اور امامت کے درمیان حلقۂ وصل ہیں۔
آپ کی ذات وہ درخشاں ستارہ ہے جس کے فضائل و کمالات کے اہلِ سنت علما بھی قائل ہیں۔ اہلِ سنت کے تاریخی، حدیثی، رجالی اور تفسیری مصادر میں حضرت زہراء سلام اللہ علیہا کے فضائل کے بارے میں سیکڑوں روایات نقل ہوئی ہیں۔
سنی محدث ابنِ حجر عسقلانی (م 852ھ) اپنی کتاب لسان المیزان میں لکھتے ہیں کہ جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ رسولِ خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ جب حضرت آدم و حوا علیہما السلام جنت میں تھے تو انہوں نے حضرت زہراء سلام اللہ علیہا کے نور کو وہاں دیکھا۔ اس وقت خداوندِ متعال نے فرمایا: “یہ نورِ زہراء سلام اللہ علیہا تمہاری تخلیق سے دو ہزار سال قبل پیدا کیا گیا تھا۔” (۱)
قرآنِ کریم میں حضرت فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا کی منزلت واضح طور پر بیان ہوئی ہے۔ ساٹھ سے زیادہ آیات آپ کی فضیلت اور بلند مقام پر شاہد و گواہ ہیں، جن پر ایمان لانا ہر عاقل و بالغ پر واجب ہے۔
ان کے علاوہ وہ آیات بھی ہیں جن میں آپ دیگر ائمۂ معصومین اور اہلِ بیت علیہم السلام کے ساتھ شریک ہیں۔
پس آپ کی فضیلت کے لیے کتابِ خدا ہی کافی ہے، اور کیا خدا کی گواہی سے بڑھ کر کسی اور کی گواہی ہو سکتی ہے؟
پاکیزہ روح اور نفس کو، جو ہمیشہ ذکرِ الٰہی میں مصروف رہتا ہے، مبارک ہو! خدا اسے بلند ترین مرتبہ عطا فرمائے۔ آمین۔
مزید آگاہی کے لیے کتاب ما نَزَلَ مِنَ القرآن فی شَأنِ فاطمہ الزہراء کا مطالعہ کیجیے۔
ہم یہاں چند آیات کی جانب اشارہ کرتے ہیں:
۱:«وَآتِ ذَا الْقُرْبَىٰ حَقَّهُ وَالْمِسْكِينَ وَابْنَ السَّبِيلِ وَلَا تُبَذِّرْ تَبْذِيرًا» (۲)
“اور قرابت دار کو، مسکین کو اور مسافرِ غربت زدہ کو ان کا حق دے دو، اور خبردار! اسراف سے کام نہ لینا۔”
مفسرین لکھتے ہیں کہ اس آیت میں ذی القربیٰ سے مراد حضرت فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا ہیں، یعنی مسلمانوں پر خدا کا حکم ہے کہ وہ ان کا حق ادا کریں۔ چونکہ آیت میں صیغۂ امر وَآتِ استعمال ہوا ہے، لہٰذا یہ وجوب پر دلالت کرتا ہے۔ یعنی ہر مسلمان پر نماز، روزہ، حج اور زکوٰۃ کی طرح حضرت زہراء سلام اللہ علیہا کے حقوق کی ادائیگی بھی لازم ہے۔
رسولِ خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس آیت کی تفسیر میں ارشاد فرمایا:
“میں تمہارے درمیان دو گراں قدر چیزیں چھوڑ کر جا رہا ہوں: ایک خدا کی کتاب اور دوسری میری عترت۔ اگر تم ان دونوں سے وابستہ رہو گے تو کبھی گمراہ نہ ہو گے۔”
پھر فرمایا:
“لوگو! یاد رکھو، میں نے پیغام پہنچا دیا۔ قیامت کے دن تم سب حوضِ کوثر پر میرے سامنے پیش ہو گے، اور میں تم سے سوال کروں گا کہ تم نے ان دو امانتوں قرآن اور اہلِ بیت کے ساتھ کیا سلوک کیا؟ پس ان پر سبقت نہ کرنا، کہ ہلاک ہو جاؤ گے، اور انہیں سکھانے کی کوشش نہ کرنا، کیونکہ وہ تم سے زیادہ علم رکھتے ہیں۔”
یہی وہ بیان ہے جس کے ذریعے نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اہلِ بیتِ اطہار علیہم السلام کی فضیلت کو قرآن سے واضح کیا۔
چنانچہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
«إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا» (۴)
“اللہ چاہتا ہے کہ اے اہلِ بیت! تم سے ہر قسم کی ناپاکی کو دور کر دے اور تمہیں خوب پاک و پاکیزہ رکھے۔”
اسی طرح ایک اور مقام پر فرمایا:
«وَاعْلَمُوا أَنَّمَا غَنِمْتُم مِّن شَيْءٍ فَأَنَّ لِلَّهِ خُمُسَهُ وَلِلرَّسُولِ وَلِذِي الْقُرْبَىٰ» (۵)
“اور جان لو کہ جو کچھ تمہیں غنیمت حاصل ہو، اس کا پانچواں حصہ اللہ، رسول اور ذی القربیٰ کے لیے ہے۔”
۲:
«وَأْمُرْ أَهْلَكَ بِالصَّلَاةِ وَاصْطَبِرْ عَلَيْهَا…» (۶)
“اور اپنے اہل کو نماز کا حکم دو اور اس پر ثابت قدم رہو۔ ہم تم سے رزق نہیں چاہتے، بلکہ ہم ہی رزق دینے والے ہیں، اور انجامِ کار تقویٰ والوں ہی کے لیے بہتر ہے۔”
یہ آیت مکہ میں نازل ہوئی، یعنی عہدِ نبوت کے ابتدائی ایام میں، اور مفسرین کے مطابق یہاں اہلِ بیت سے مراد فقط جناب خدیجہ، حضرت فاطمہ زہراء، اور امیرالمؤمنین علی بن ابی طالب علیہم السلام ہیں۔
امام علی بن ابراہیم (رہ) روایت کرتے ہیں کہ اس آیت کے نزول کے بعد رسولِ خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم روزانہ صبح کی نماز کے وقت حضرت علی اور حضرت فاطمہ زہراء علیہما السلام کے دروازے پر تشریف لے جاتے، سلام کرتے اور فرماتے:
“نماز! نماز! اے اہلِ بیتِ رسول! اللہ تم پر رحمت نازل فرمائے، اللہ یہی چاہتا ہے کہ تم سے ہر رجس کو دور کرے اور تمہیں پاک و پاکیزہ رکھے۔”
رسولِ خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی زندگی کے آخری دن تک یہ عمل جاری رکھا۔ (۹)
۳:
«وَهُمْ فِيمَا اشْتَهَتْ أَنْفُسُهُمْ خَالِدُونَ» (۱۰)
“اور وہ اپنی خواہش کے مطابق نعمتوں میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔”
رسولِ خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا:
“خدا کی قسم! اس آیت میں مذکور دائمی جنت میں رہنے والے فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا، ان کی ذریت، ان کے شیعہ اور ان کے محبان ہیں۔” (۱۱)
ابن عباس روایت کرتے ہیں کہ ایک دن رسولِ خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم حضرت فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا کے پاس تشریف لائے تو دیکھا کہ آپ غمگین ہیں۔ آپ نے دریافت کیا: “بیٹی! تمہیں کیا پریشانی ہے؟”
انہوں نے عرض کیا: “اے والدِ گرامی! مجھے قیامت کے دن کا منظر یاد آ گیا جب سب لوگ برہنہ ہوں گے۔”
رسولِ خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: “بیٹی! وہ دن واقعی عظیم دن ہوگا، مگر جبرئیل نے مجھے خبر دی ہے کہ اللہ تعالیٰ اس دن تمہیں محفوظ رکھے گا۔ اسرافیل تمہارے لیے نور کے تین لباس لائیں گے، تمہارا بدن ڈھکا ہوگا اور تمہیں کوئی خوف لاحق نہ ہوگا۔ پھر تم نور کے ایک ناقہ پر سوار ہو کر جنت کی طرف روانہ ہو گی، تمہارے آگے ستر ہزار فرشتے ہوں گے جن کے ہاتھوں میں تسبیح کے علم ہوں گے، اور جنت کے دروازے پر تمہارا استقبال بارہ ہزار حورانِ جنت کریں گی۔ تمہارے شیعہ اس وقت جنت کی نعمتوں سے لطف اندوز ہوں گے جبکہ دوسرے لوگ حساب میں مصروف ہوں گے۔” (۱۲)
امیرالمؤمنین علی علیہ السلام فرماتے ہیں:
“اپنے اعمال میں جلدی کرو تاکہ خدا کے گھر میں اس کے پڑوسی بن سکو۔ وہاں رسولوں کی رفاقت نصیب ہوگی، فرشتے تمہاری زیارت کریں گے، تمہارے کان جہنم کی آواز سے محفوظ رہیں گے اور تمہارے جسم ہر مشقت سے آزاد ہوں گے۔ یہ سب اللہ کا فضل ہے، جو جسے چاہے عطا کرے، اور بے شک اللہ فضلِ عظیم والا ہے۔” (۱۳، ۱۴)

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

بفلیاز پونچھ میں آگ لگنے سے 13 دکانیں جل کر خاکستر

پونچھ 7 جون: پونچھ ضلع کی تحصیل سورنکوٹ کے...

گھریلو ایل پی جی کی قیمت میں 29 روپے فی 14.2 کلوگرام سلنڈر کا اضافہ

نئی دہلی 7 جون: گھریلو کھانا پکانے والی گیس ایل...

شاعری

شیخ افلاق حسین سیمانی وہ بات اب تجھ میں باقی...

شاعری

جاوید قسیم شعر گوئی کی ہی پہچان سے سب جانتے...

دہلیز

راشیدہ یاسمین سارہ جب ہنستی تھی تو یوں محسوس ہوتا...

تازہ ترین خبریں

بفلیاز پونچھ میں آگ لگنے سے 13 دکانیں جل کر خاکستر

پونچھ 7 جون: پونچھ ضلع کی تحصیل سورنکوٹ کے...

گھریلو ایل پی جی کی قیمت میں 29 روپے فی 14.2 کلوگرام سلنڈر کا اضافہ

نئی دہلی 7 جون: گھریلو کھانا پکانے والی گیس ایل...

شاعری

شیخ افلاق حسین سیمانی وہ بات اب تجھ میں باقی...

شاعری

جاوید قسیم شعر گوئی کی ہی پہچان سے سب جانتے...

دہلیز

راشیدہ یاسمین سارہ جب ہنستی تھی تو یوں محسوس ہوتا...

قرآن و سنت میں حضرت فاطمہ زہراء کی شخصیت

مولانا سید اشہد حسین نقوی

حضرت زہراء سلام اللہ علیہا کا مقام اور آپ کی منزلت اس قدر بلند و بالا ہے کہ اہلِ بیتِ اطہار علیہم السلام کے سوا کوئی بھی اسے نہیں سمجھ سکتا اور نہ ہی اس کے بارے میں گفتگو کر سکتا ہے۔ سخن آرائی سے ہٹ کر آپ کی منزلت اور مقام کو سمجھنا اس سے بھی کہیں دشوار ہے، کیونکہ حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر خاتم النبیین صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تک کسی بھی بندے کو یہ رتبہ حاصل نہیں ہوا اور نہ ہو سکتا ہے۔
درحقیقت صدیقۂ کبریٰ سلام اللہ علیہا کائنات کی وہ واحد ہستی ہیں جنہیں خداوندِ متعال نے اپنے رازوں میں سے ایک راز قرار دیا ہے، جس تک اہلِ بیتِ اطہار علیہم السلام کے سوا کسی کی رسائی نہیں۔
اتنا کہا جا سکتا ہے کہ حضرت صدیقۂ کبریٰ سلام اللہ علیہا رسالت اور امامت کے درمیان حلقۂ وصل ہیں۔
آپ کی ذات وہ درخشاں ستارہ ہے جس کے فضائل و کمالات کے اہلِ سنت علما بھی قائل ہیں۔ اہلِ سنت کے تاریخی، حدیثی، رجالی اور تفسیری مصادر میں حضرت زہراء سلام اللہ علیہا کے فضائل کے بارے میں سیکڑوں روایات نقل ہوئی ہیں۔
سنی محدث ابنِ حجر عسقلانی (م 852ھ) اپنی کتاب لسان المیزان میں لکھتے ہیں کہ جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ رسولِ خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ جب حضرت آدم و حوا علیہما السلام جنت میں تھے تو انہوں نے حضرت زہراء سلام اللہ علیہا کے نور کو وہاں دیکھا۔ اس وقت خداوندِ متعال نے فرمایا: “یہ نورِ زہراء سلام اللہ علیہا تمہاری تخلیق سے دو ہزار سال قبل پیدا کیا گیا تھا۔” (۱)
قرآنِ کریم میں حضرت فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا کی منزلت واضح طور پر بیان ہوئی ہے۔ ساٹھ سے زیادہ آیات آپ کی فضیلت اور بلند مقام پر شاہد و گواہ ہیں، جن پر ایمان لانا ہر عاقل و بالغ پر واجب ہے۔
ان کے علاوہ وہ آیات بھی ہیں جن میں آپ دیگر ائمۂ معصومین اور اہلِ بیت علیہم السلام کے ساتھ شریک ہیں۔
پس آپ کی فضیلت کے لیے کتابِ خدا ہی کافی ہے، اور کیا خدا کی گواہی سے بڑھ کر کسی اور کی گواہی ہو سکتی ہے؟
پاکیزہ روح اور نفس کو، جو ہمیشہ ذکرِ الٰہی میں مصروف رہتا ہے، مبارک ہو! خدا اسے بلند ترین مرتبہ عطا فرمائے۔ آمین۔
مزید آگاہی کے لیے کتاب ما نَزَلَ مِنَ القرآن فی شَأنِ فاطمہ الزہراء کا مطالعہ کیجیے۔
ہم یہاں چند آیات کی جانب اشارہ کرتے ہیں:
۱:«وَآتِ ذَا الْقُرْبَىٰ حَقَّهُ وَالْمِسْكِينَ وَابْنَ السَّبِيلِ وَلَا تُبَذِّرْ تَبْذِيرًا» (۲)
“اور قرابت دار کو، مسکین کو اور مسافرِ غربت زدہ کو ان کا حق دے دو، اور خبردار! اسراف سے کام نہ لینا۔”
مفسرین لکھتے ہیں کہ اس آیت میں ذی القربیٰ سے مراد حضرت فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا ہیں، یعنی مسلمانوں پر خدا کا حکم ہے کہ وہ ان کا حق ادا کریں۔ چونکہ آیت میں صیغۂ امر وَآتِ استعمال ہوا ہے، لہٰذا یہ وجوب پر دلالت کرتا ہے۔ یعنی ہر مسلمان پر نماز، روزہ، حج اور زکوٰۃ کی طرح حضرت زہراء سلام اللہ علیہا کے حقوق کی ادائیگی بھی لازم ہے۔
رسولِ خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس آیت کی تفسیر میں ارشاد فرمایا:
“میں تمہارے درمیان دو گراں قدر چیزیں چھوڑ کر جا رہا ہوں: ایک خدا کی کتاب اور دوسری میری عترت۔ اگر تم ان دونوں سے وابستہ رہو گے تو کبھی گمراہ نہ ہو گے۔”
پھر فرمایا:
“لوگو! یاد رکھو، میں نے پیغام پہنچا دیا۔ قیامت کے دن تم سب حوضِ کوثر پر میرے سامنے پیش ہو گے، اور میں تم سے سوال کروں گا کہ تم نے ان دو امانتوں قرآن اور اہلِ بیت کے ساتھ کیا سلوک کیا؟ پس ان پر سبقت نہ کرنا، کہ ہلاک ہو جاؤ گے، اور انہیں سکھانے کی کوشش نہ کرنا، کیونکہ وہ تم سے زیادہ علم رکھتے ہیں۔”
یہی وہ بیان ہے جس کے ذریعے نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اہلِ بیتِ اطہار علیہم السلام کی فضیلت کو قرآن سے واضح کیا۔
چنانچہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
«إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا» (۴)
“اللہ چاہتا ہے کہ اے اہلِ بیت! تم سے ہر قسم کی ناپاکی کو دور کر دے اور تمہیں خوب پاک و پاکیزہ رکھے۔”
اسی طرح ایک اور مقام پر فرمایا:
«وَاعْلَمُوا أَنَّمَا غَنِمْتُم مِّن شَيْءٍ فَأَنَّ لِلَّهِ خُمُسَهُ وَلِلرَّسُولِ وَلِذِي الْقُرْبَىٰ» (۵)
“اور جان لو کہ جو کچھ تمہیں غنیمت حاصل ہو، اس کا پانچواں حصہ اللہ، رسول اور ذی القربیٰ کے لیے ہے۔”
۲:
«وَأْمُرْ أَهْلَكَ بِالصَّلَاةِ وَاصْطَبِرْ عَلَيْهَا…» (۶)
“اور اپنے اہل کو نماز کا حکم دو اور اس پر ثابت قدم رہو۔ ہم تم سے رزق نہیں چاہتے، بلکہ ہم ہی رزق دینے والے ہیں، اور انجامِ کار تقویٰ والوں ہی کے لیے بہتر ہے۔”
یہ آیت مکہ میں نازل ہوئی، یعنی عہدِ نبوت کے ابتدائی ایام میں، اور مفسرین کے مطابق یہاں اہلِ بیت سے مراد فقط جناب خدیجہ، حضرت فاطمہ زہراء، اور امیرالمؤمنین علی بن ابی طالب علیہم السلام ہیں۔
امام علی بن ابراہیم (رہ) روایت کرتے ہیں کہ اس آیت کے نزول کے بعد رسولِ خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم روزانہ صبح کی نماز کے وقت حضرت علی اور حضرت فاطمہ زہراء علیہما السلام کے دروازے پر تشریف لے جاتے، سلام کرتے اور فرماتے:
“نماز! نماز! اے اہلِ بیتِ رسول! اللہ تم پر رحمت نازل فرمائے، اللہ یہی چاہتا ہے کہ تم سے ہر رجس کو دور کرے اور تمہیں پاک و پاکیزہ رکھے۔”
رسولِ خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی زندگی کے آخری دن تک یہ عمل جاری رکھا۔ (۹)
۳:
«وَهُمْ فِيمَا اشْتَهَتْ أَنْفُسُهُمْ خَالِدُونَ» (۱۰)
“اور وہ اپنی خواہش کے مطابق نعمتوں میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔”
رسولِ خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا:
“خدا کی قسم! اس آیت میں مذکور دائمی جنت میں رہنے والے فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا، ان کی ذریت، ان کے شیعہ اور ان کے محبان ہیں۔” (۱۱)
ابن عباس روایت کرتے ہیں کہ ایک دن رسولِ خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم حضرت فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا کے پاس تشریف لائے تو دیکھا کہ آپ غمگین ہیں۔ آپ نے دریافت کیا: “بیٹی! تمہیں کیا پریشانی ہے؟”
انہوں نے عرض کیا: “اے والدِ گرامی! مجھے قیامت کے دن کا منظر یاد آ گیا جب سب لوگ برہنہ ہوں گے۔”
رسولِ خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: “بیٹی! وہ دن واقعی عظیم دن ہوگا، مگر جبرئیل نے مجھے خبر دی ہے کہ اللہ تعالیٰ اس دن تمہیں محفوظ رکھے گا۔ اسرافیل تمہارے لیے نور کے تین لباس لائیں گے، تمہارا بدن ڈھکا ہوگا اور تمہیں کوئی خوف لاحق نہ ہوگا۔ پھر تم نور کے ایک ناقہ پر سوار ہو کر جنت کی طرف روانہ ہو گی، تمہارے آگے ستر ہزار فرشتے ہوں گے جن کے ہاتھوں میں تسبیح کے علم ہوں گے، اور جنت کے دروازے پر تمہارا استقبال بارہ ہزار حورانِ جنت کریں گی۔ تمہارے شیعہ اس وقت جنت کی نعمتوں سے لطف اندوز ہوں گے جبکہ دوسرے لوگ حساب میں مصروف ہوں گے۔” (۱۲)
امیرالمؤمنین علی علیہ السلام فرماتے ہیں:
“اپنے اعمال میں جلدی کرو تاکہ خدا کے گھر میں اس کے پڑوسی بن سکو۔ وہاں رسولوں کی رفاقت نصیب ہوگی، فرشتے تمہاری زیارت کریں گے، تمہارے کان جہنم کی آواز سے محفوظ رہیں گے اور تمہارے جسم ہر مشقت سے آزاد ہوں گے۔ یہ سب اللہ کا فضل ہے، جو جسے چاہے عطا کرے، اور بے شک اللہ فضلِ عظیم والا ہے۔” (۱۳، ۱۴)

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں