افضال انصا ری
بڑی کٹھن ہے یہ ڈگر مگروزیر اعلیٰ عمرعبداللہ بہت حسن وخوبی سے اپنی ذمہ داری نبھا رہے ہیں ۔اُن کی حکومت نے جمعرات16 اکتو بر کو ایک برس مکمل کر لیا۔اس درمیان جموں و کشمیر نے مختلف اُتار چڑھائو دیکھامگر وہ ثا بت قدم رہے اور حالات پر قابوپانے میں کا میاب ہو ئے۔پہلگام کے افسوسناک سا نحہ سے زبردست بحران پیدا ہوا تھا۔ اس کے خلاف ملک میں شدیدغصے کی لہر تھی۔اس کو لے کر چار دن کی ایک مختصر جنگ بھی چھڑی مگر عمر عبداللہ کے قدم نہیں لڑکھڑائے اور حوصلہ قایم رہا۔پہلگام کے واقعہ سے یہاں کی سیا حت پربرا اثر پڑتا لیکن ان کے بر وقت قدم اُٹھانے سے حالات بہت زیادہ نہیں بگڑے ۔سیاحت وادی ٔکشمیر کی آمدنی کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔اس کاحال براہوا تو اس سے جڑے تمام کام اور کاروبارٹھپ پڑجا ئیں ۔گاڑیوںکے پہئے نہیں گھومیںاور ہوٹل کے کمرے بُک نہ ہو ں۔دکا نوں میں سامان پڑے رہیں اور گا ہکوں کے ہاتھ نہ لگے تو لو گوں کا کیسے چلے اورگھر کے سال بھر کا خرچ کیسے پورا ہو ۔سیاحت ہی تو سہاراہے ۔اس کے جوار میںبھاٹہ پڑ گیا تو تو تکلیف ہو گی اوپریشانی بڑھے گی۔ عمر عبداللہ کے بھاگ دوڑسے سیاحوں کے آنے کا سلسلہ کچھ دن کیلئے سست ضرور پڑامگر رکا نہیں۔ اس کیلئے وہ اگست کے شروع میںبنگال بھی آئے تھے ۔وہ ریاستی سکریٹریٹ نبنّامیں وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی سے ملے اور ان سے گذارش کی کہ یہاں کے لو گ ہم سے منہ نہ پھیریں۔وہ کشمیر جا ئیں توہم ان کی حفا ظت کا پورا انتظا م کریں گے ۔ عمر عبداللہ اچھی طرح جا نتے ہیں کہ بنگال کے لو گ گھو منے پھرنے کے کتنے شو قین ہیں۔ ممتا دیدی کو بو لیں تو کام بن جا ئے گا ۔
جموں و کشمیر کو ریا ستی درجہ اب تک نہیں دیا گیا ۔عمر عبداللہ یہ اعزاز حاصل کر لیتے تو وادی کے ہر موڑ میں ان کے نا م کے ڈنکے بجتے ۔انہوں نے کو شش تو کی مگر بد قسمتی سے کامیا بی نہیں ملی ۔ حلف لینے کے دوسرے ہی دن ، حلف انہوں نے 16 اکتوبر 2024 کو لیا تھا اور 17کو کا بینہ کی پہلی میٹینگ میںجموں و کشمیر کے ریا ستی درجہ کی بحا لی پر قرار دا کو منظور کروایا۔وہ اس کو لے کر دہلی بھی آئے اور صاحبان ِ حکومت سے ملے لیکن کا م نہیںبنا ۔مرکزی نے جو روڈ میپ(Road Map)دیا تھاکہ اول اسمبلی کی سیٹ کی حلقہ بندی (Delimitation) دویم انتخاب (Election) اور پھر ریاستی درجہ (Statehood)تو اس پر عمل نہیں ہوا ۔ حلقہ بندی اور اسمبلی کے انتخاب کے بعد مر کزی خطہ Territory) (Union سے ریاست تک کا سفرابھی ادھورا ہے ۔کب طے کیا جا ئے گا یہ کہنا مشکل ہے ۔پتہ نہیں کس با اثر حلقے سے وزیر اعلی عمر عبداللہ کے کا ن میں یہ بات ڈالی جا رہی ہے کہ بی جے پی سے ہا تھ ملا لو، تمہیں ریا ستی درجہ ملنے میں کو ئی دشواری نہیں ہو گی ۔جو کل ہو نا ہے وہ آج ہو جا ئے ۔ اپنے پریس کا نفرنس میں جمعرات 16 اکتوبر کو اس مو ضوع کو چھیڑتے ہو ئے عمر عبداللہ نے دو ٹوک کہہ دیا کہ ریا ستی درجہ بھلے اور 4برس نہیں ملے لیکن اس کیلئے میں بی جے پی سے کبھی سمجھوتہ نہیں کروں گا ۔
اک اپنے آشیاں کے تحفظ کے واسطے
صیاد سے چمن کا نہ سودا کریں گے ہم
(ابراہیم ہو شؔ )
اس مو ضوع پر جموںو کشمیر کی اپو زیشن پارٹیاں خصوصاپیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (PDP) کی لیڈر ً محبو بہ مفتی سیا ست کر رہی ہیں کہ عمر عبداللہ ریاستی درجہ (Statehood)اور370 کے سوال پر بی جے پی کے سا منے جھک گئے اور اس کی من مانی کو مان لیا ۔امور ِ سیاست کے اس نظریے کو سمجھنا پڑے گا کہ اقتدار سے باہر جس بے خوفی سے سوال اُٹھایا جا تا ہے وہ حکومت میں رہ کر ممکن نہیں ہے ۔ذمہ داریاں پائوں کی بیڑی بن جاتی ہیں ۔مرکز کے خلاف ٹکرائو میں جاناجموں و کشمیر کے حق میں مفید نہیں ہے ۔ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے بہت اچھاکیا کہ کا بینہ کی پہلی میٹینگ میں صرف ریاستی درجہ کی بحا لی کاذکر چھیڑااور اس پرقرارداد کو منظور کروایا مگر 370 کے قریب بھی نہیں گئے اور اسے ہو شیا ری سے ٹال گئے ۔یہ بہت دانش مندا نہ قدم تھا کہ نا را ضگی کے راستے کو اپنا نے سے گریز کیا گیا ۔ اس پر اپو زیشن کے ممبروں کی نکتہ چینی با لکل بے معنی ہے کہ دفعہ 370کی منسوخی پر مہر لگ گئی ہے اور مرکز کے فیصلے کو ما ن لیا گیاہے ۔عمر عبداللہ کا موقف بالکل صحیح ہے کو وہ اس موضوع کو زیر ِ بحث لا نا منا سب نہیں سمجھتے خصوصا ً اس پس منظر میں کہ سپریم کورٹ نے بھی مرکزی حکومت کے فیصلے کو قانونی طور پر صحیح ماناہے ۔یہاں تک کہ اس رائے کے خلاف نظر ثانی (Review Petion) کی جتنی عرضیا ں دا خل ہوئی تھیں وہ بھی رَد کر دی گئی ہیں۔لہٰذا 370 پر معزز عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانے سے کو ئی فا یدہ نہیں ہے. ہاںریاستی درجہ کے مطا لبے میںدم ہے ۔اول ، اس لیے کہ سپریم کی ہدا یت ہے اور دویم مرکزی حکو مت نے جو روڈ میپ دیا اس میں بھی یہ شا مل ہے ۔تاخیر ہے لیکن انکار نہیں ہے ۔مرکز نے یہ کبھی نہیں کہا کہ نہیں دیں گے ۔بس معا ملے کو ٹالا جا رہاہے ۔اب یہ دھواںلدا خ سے بھی اُٹھ رہا ہے کہ ریا ستی درجہ کو بحال کیا جا ئے ۔ کچھ دنوںپہلے وہاں احتجاج کے دوران تشدد برپاہو گیا ۔حالات بے قابو ہو گئے تو پولیس کو فائرنگ کرنی پڑی جس میں 4 بے گناہوں کی جا نیں گئیں۔تحریک کے لیڈر سونم وانگ چگ کو قومی سلامتی ایکٹ(NSA) کے تحت گرفتار کیا گیا۔وہ اب بھی راجستھان کے جودھ پور جیل میں ہیں۔ ان کی بیگم ان کی ضمانت کیلئے سپریم کو رٹ میں دوڑ دھوپ کر رہی ہیں ۔
عمر عبداللہ ملازمت کی نئی ریزرویشن پا لیسی سے بہت فکر مند ہیں۔ وہ پانی اور بجلی کے مسئلے میں الجھے تو تھے ہی کہ ایک اور پریشانی سامنے آگئی ۔یہ جموں و کشمیر کی 2005 کی ریزرویشن پالیسی کو ترمیم کر کے تشکیل دی گئی ہے مگرسیاسی پارٹیوں کو یہ منظور نہیںہے ۔ اس کی مخالفت میںمظا ہرے بھی ہو ئے ۔عمر عبداللہ کو اندازہ تھا کہ یہ چنگاری ضرور بھڑکے گی ۔ چنانچہ انہوں ننے پہلے ہی مو رچہ سنبھا ل لیا تھا ۔اس معاملے کو دیکھنے کیلئے گذشتہ دسمبر کو 3 ِ رکنی کمیٹی بنی جو وزیر ِ صحت سکینہ ایتو ، وزیر جنگلات جا وید احمد راینا اور اور سائنس و تکنالوجی کے وزیر ستیش شرما پر مشتمل ہے ۔یہ معاملہ جموں و کشمیر ہائی کورٹ کے زیر ِسماعت ہے ۔
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ دربار کی منتقلی (Darbar Move) کی سا لا نہ روایت پرپھر سے چل پڑے ۔جموں و کشمیر کی راجدھانی شدید برف با ری کی وجہ سے ہر سال اکتو بر کے مہینے میں سری نگر سے جموں منتقل ہو جا تی ہے ۔ بیشتر دفاتر جموں چلے آتے ہیں اور یہیں سے کا م کرتے ہیں ۔ اس برسوں پرا نی روایت کو ڈوگراخاندان کے پہلے مہا را جہ گلاب سنگھ نے 1872میں شروع کیا تھا۔ ہری سنگھ جنھوںنے کشمیر کو سن 1947میں ہندوستان سے الحا ق کیا وہ اس خاندان کے آخری راجہ تھے۔دربار کی اس منتقلی کولیفٹیننٹ گو رنر منوج سنہا نے 2021میں منسوخ کر دیا تھا جو اب بحا ل ہو گیا ہے ۔
مرکزی خطہ کے وزیر اعلیٰ کے اختیارات محدود ہیں ۔ وہ لیفٹیننٹ کے رحم و کرم پر ہیں اور مکمل آزادی سے کا م نہیں کر سکتے۔مقامی آرزوئیں اور تمنا ئیں تکمیل کی راہ ڈھونڈھتی ہیں مگر ایل جی (LG) صاحب کی مرضی انہیںپنپنے نہیںدیتی ہیں۔وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کا کہنا با لکل درست ہے کہ ریا ست کا درجہ ملے تو ہمارے بہت سے مسا ئیل ہو جا ئیں ۔ بے بسی میں لو گوںکے تمام ارما نوں کو کچلنا پڑتا ہے ۔
٭٭٭


