ہم اور ہمارے شعرا

ہلال بخاری 
معلم محکمہ تعلیم جموں و کشمیر 
کشمیر ہمیشہ سے ادب و فنون کی زرخیز سرزمین رہی ہے۔ یہاں کے پہاڑ، جھیلیں، وادیاں، اور روحانی فضا نے صدیوں سے شاعری کو جنم دیا ہے۔ یہ مٹی نہ صرف حسن و فطرت کی شاعر ہے بلکہ درد و جذب کے احساس سے بھی معمور ہے۔ اسی مٹی نے لل دید، رسول میر، مہجور اور عبدل احد آزاد جیسے شعرا کو پیدا کیا جنہوں نے کشمیر کی روح کو لفظوں میں ڈھالا۔ مگر آج جب ہم اپنے دور کی شاعری کا منظرنامہ دیکھتے ہیں تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہم واقعی اس عظیم روایت کے وارث ہیں یا محض اس کے نام کے دعوے دار؟
آج کے کشمیر میں ایسا لگتا ہے کہ ہر گھر سے شاعر پیدا ہو رہا ہے۔ سوشل میڈیا کے اس دور میں ہر شخص شعر کہنے کی کوشش کر رہا ہے — چاہے وہ فنِ شاعری کے اسرار و رموز سے واقف ہو یا نہ ہو۔ اگرچہ یہ رجحان بظاہر ادب سے دلچسپی کی علامت ہے، مگر گہرائی میں دیکھا جائے تو صورتحال اتنی خوش آئند نہیں۔ ہماری اکثریت کی شاعری نقل، تکرار اور نقالی کا شکار ہے۔ وہی پرانے مضامین، وہی جذبات، وہی الفاظ، بس چہروں اور زبانوں کا فرق ہے۔
شاعری وہ فن ہے جو ندرتِ خیال، تازگیِ بیان اور احساس کی سچائی کا تقاضا کرتا ہے۔ مگر افسوس کہ آج کی بیشتر شاعری میں ان میں سے کوئی وصف ناپید ہے۔ زیادہ تر نوآموز شعرا وہی خیالات دہرا رہے ہیں جو پہلے کئی بار کہے جا چکے ہیں۔ اگر پرانے خیالات کو نئے زاویے سے بیان کیا جائے تو یہ تخلیق ہے، مگر جب نہ خیال نیا ہو نہ انداز، تو پھر ایسی شاعری کا مقصد صرف خودنمائی رہ جاتا ہے۔
آج کے شعری منظرنامے کا ایک بڑا المیہ یہ بھی ہے کہ عشقِ مجازی اور عشقِ حقیقی کا فرق مٹ چکا ہے۔ ہر دوسرا شاعر چند مبہم اشعار کے ذریعے اپنی صوفیانہ بصیرت ثابت کرنا چاہتا ہے۔ عشق، جو کبھی روح کی گہرائیوں سے اٹھنے والا پاک جذبہ تھا، اب محض الفاظ کا کھیل بن گیا ہے۔ یہ صورت حال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ہماری شاعری نے روحانی صداقت کے بجائے ظاہری نمائش کا لبادہ اوڑھ لیا ہے۔
یقیناً یہ کہنا درست نہ ہوگا کہ سارے شاعر سطحی ہیں۔ آج بھی ایسے اہلِ قلم موجود ہیں جن کے اشعار میں فکر کی روشنی، فلسفے کی گہرائی، اور نفسیاتی مشاہدے کی باریکی پائی جاتی ہے۔ کچھ شعرا اپنے کلام میں حسنِ بیان، موسیقیت اور زبان کی تازگی برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ مگر ان کی تعداد انگلیوں پر گنی جا سکتی ہے۔ اکثریت ایسے شعرا پر مشتمل ہے جو محض مشاعروں اور شہرت کے لیے شعر کہتے ہیں۔ ان کا مقصد داد حاصل کرنا ہے، نہ کہ قاری کے دل میں کوئی کیفیت پیدا کرنا۔ یہ “پبلسٹی شاعری” کا رجحان ہمارے ادبی معیار کے لیے ایک خطرناک علامت بنتا جا رہا ہے۔
المیہ یہ بھی ہے کہ بہت سے شعرا نے ضخیم مجموعے تحریر کیے ہیں، مگر انہیں پڑھنے والا کوئی نہیں۔ ان کی کتابیں اشاعت کے چند ہفتے بعد ہی گرد میں اَٹ جاتی ہیں۔ یہ محض شعرا کا نقصان نہیں، بلکہ پورے معاشرتی ذوق کا زوال ہے۔ جب شاعری محض مشاعروں یا سوشل میڈیا کی پوسٹوں تک محدود رہ جائے تو قاری کے دل تک نہیں پہنچ سکتی۔ نتیجتاً نئی نسل میں شاعری پڑھنے کا شوق تیزی سے کم ہو رہا ہے۔ وہ نسل جو کبھی میر، غالب، فیض اور مہجور سے رہنمائی لیتی تھی، اب شاعری کو سنجیدہ مطالعے کے قابل نہیں سمجھتی۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ ہماری ادبی انجمنیں، مشاعرے اور ثقافتی تنظیمیں بھی اس زوال کی ذمہ دار ہیں۔ ان اداروں نے معیار کے بجائے تعلقات کو اہمیت دی ہے۔ جس کے نتیجے میں اوسط درجے کے شاعر نمایاں ہو گئے ہیں جبکہ حقیقی فنکار گمنامی میں دب گئے۔ یہ روش اگر نہ بدلی گئی تو آنے والے وقتوں میں شاعری محض ایک رسمی مشغلہ بن کر رہ جائے گی، جو دل کو نہیں بلکہ انا کو مطمئن کرتی ہے۔
اب ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنی شاعری کے مقصد کو از سرِ نو سمجھیں۔ شاعر کا کام محض قافیہ اور ردیف باندھنا نہیں، بلکہ معاشرتی شعور کو جگانا، انسان کے اندر کے احساسات کو زبان دینا اور وقت کے دکھوں کو بیان کرنا ہے۔ شاعری وہ چراغ ہے جو قوموں کے ضمیر کو روشن کرتا ہے۔ اگر اس چراغ میں سچائی کا تیل ختم ہو جائے تو وہ روشنی نہیں دیتا، محض دھواں پھیلاتا ہے۔
ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے شعرا کو مطالعے، مشاہدے اور خود تنقیدی کی راہ پر لگائیں۔ نئی نسل کے لکھنے والوں کو چاہیے کہ وہ محض شہرت کے بجائے علم و فکر کی بنیاد پر لکھیں۔ اگر ہم نے اپنی شاعری کو دوبارہ خلوص، ندرت اور حقیقت کے رنگ میں ڈھال لیا تو وہ دن دور نہیں جب کشمیر کی وادی ایک بار پھر اپنے شعری وقار کو واپس پائے گی۔
کشمیر کی فضا میں آج بھی لفظوں کی خوشبو باقی ہے، بس ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے اندر سے اس خوشبو کو محسوس کریں، اسے نقالی کی گرد سے پاک کریں اور اسے وہ رنگ دیں جو صرف سچائی، درد اور محبت سے پیدا ہوتا ہے۔ تبھی ہماری شاعری پھر سے وہی اثر پیدا کرے گی جو کبھی ہمارے بزرگ شعرا کے کلام میں ہوتا تھا  ایک ایسا اثر جو دل کو چھو جائے، اور روح کو جگا دے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

جموں کشمیر میں شادی کی تقریب کے دوران مکان گرنے سے 20 زخمی

سری نگر: جموں و کشمیر کے ضلع ریاسی کی تحصیل...

بفلیاز پونچھ میں آگ لگنے سے 13 دکانیں جل کر خاکستر

پونچھ 7 جون: پونچھ ضلع کی تحصیل سورنکوٹ کے...

گھریلو ایل پی جی کی قیمت میں 29 روپے فی 14.2 کلوگرام سلنڈر کا اضافہ

نئی دہلی 7 جون: گھریلو کھانا پکانے والی گیس ایل...

شاعری

شیخ افلاق حسین سیمانی وہ بات اب تجھ میں باقی...

شاعری

جاوید قسیم شعر گوئی کی ہی پہچان سے سب جانتے...

تازہ ترین خبریں

جموں کشمیر میں شادی کی تقریب کے دوران مکان گرنے سے 20 زخمی

سری نگر: جموں و کشمیر کے ضلع ریاسی کی تحصیل...

بفلیاز پونچھ میں آگ لگنے سے 13 دکانیں جل کر خاکستر

پونچھ 7 جون: پونچھ ضلع کی تحصیل سورنکوٹ کے...

گھریلو ایل پی جی کی قیمت میں 29 روپے فی 14.2 کلوگرام سلنڈر کا اضافہ

نئی دہلی 7 جون: گھریلو کھانا پکانے والی گیس ایل...

شاعری

شیخ افلاق حسین سیمانی وہ بات اب تجھ میں باقی...

شاعری

جاوید قسیم شعر گوئی کی ہی پہچان سے سب جانتے...

ہم اور ہمارے شعرا

ہلال بخاری 
معلم محکمہ تعلیم جموں و کشمیر 
کشمیر ہمیشہ سے ادب و فنون کی زرخیز سرزمین رہی ہے۔ یہاں کے پہاڑ، جھیلیں، وادیاں، اور روحانی فضا نے صدیوں سے شاعری کو جنم دیا ہے۔ یہ مٹی نہ صرف حسن و فطرت کی شاعر ہے بلکہ درد و جذب کے احساس سے بھی معمور ہے۔ اسی مٹی نے لل دید، رسول میر، مہجور اور عبدل احد آزاد جیسے شعرا کو پیدا کیا جنہوں نے کشمیر کی روح کو لفظوں میں ڈھالا۔ مگر آج جب ہم اپنے دور کی شاعری کا منظرنامہ دیکھتے ہیں تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہم واقعی اس عظیم روایت کے وارث ہیں یا محض اس کے نام کے دعوے دار؟
آج کے کشمیر میں ایسا لگتا ہے کہ ہر گھر سے شاعر پیدا ہو رہا ہے۔ سوشل میڈیا کے اس دور میں ہر شخص شعر کہنے کی کوشش کر رہا ہے — چاہے وہ فنِ شاعری کے اسرار و رموز سے واقف ہو یا نہ ہو۔ اگرچہ یہ رجحان بظاہر ادب سے دلچسپی کی علامت ہے، مگر گہرائی میں دیکھا جائے تو صورتحال اتنی خوش آئند نہیں۔ ہماری اکثریت کی شاعری نقل، تکرار اور نقالی کا شکار ہے۔ وہی پرانے مضامین، وہی جذبات، وہی الفاظ، بس چہروں اور زبانوں کا فرق ہے۔
شاعری وہ فن ہے جو ندرتِ خیال، تازگیِ بیان اور احساس کی سچائی کا تقاضا کرتا ہے۔ مگر افسوس کہ آج کی بیشتر شاعری میں ان میں سے کوئی وصف ناپید ہے۔ زیادہ تر نوآموز شعرا وہی خیالات دہرا رہے ہیں جو پہلے کئی بار کہے جا چکے ہیں۔ اگر پرانے خیالات کو نئے زاویے سے بیان کیا جائے تو یہ تخلیق ہے، مگر جب نہ خیال نیا ہو نہ انداز، تو پھر ایسی شاعری کا مقصد صرف خودنمائی رہ جاتا ہے۔
آج کے شعری منظرنامے کا ایک بڑا المیہ یہ بھی ہے کہ عشقِ مجازی اور عشقِ حقیقی کا فرق مٹ چکا ہے۔ ہر دوسرا شاعر چند مبہم اشعار کے ذریعے اپنی صوفیانہ بصیرت ثابت کرنا چاہتا ہے۔ عشق، جو کبھی روح کی گہرائیوں سے اٹھنے والا پاک جذبہ تھا، اب محض الفاظ کا کھیل بن گیا ہے۔ یہ صورت حال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ہماری شاعری نے روحانی صداقت کے بجائے ظاہری نمائش کا لبادہ اوڑھ لیا ہے۔
یقیناً یہ کہنا درست نہ ہوگا کہ سارے شاعر سطحی ہیں۔ آج بھی ایسے اہلِ قلم موجود ہیں جن کے اشعار میں فکر کی روشنی، فلسفے کی گہرائی، اور نفسیاتی مشاہدے کی باریکی پائی جاتی ہے۔ کچھ شعرا اپنے کلام میں حسنِ بیان، موسیقیت اور زبان کی تازگی برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ مگر ان کی تعداد انگلیوں پر گنی جا سکتی ہے۔ اکثریت ایسے شعرا پر مشتمل ہے جو محض مشاعروں اور شہرت کے لیے شعر کہتے ہیں۔ ان کا مقصد داد حاصل کرنا ہے، نہ کہ قاری کے دل میں کوئی کیفیت پیدا کرنا۔ یہ “پبلسٹی شاعری” کا رجحان ہمارے ادبی معیار کے لیے ایک خطرناک علامت بنتا جا رہا ہے۔
المیہ یہ بھی ہے کہ بہت سے شعرا نے ضخیم مجموعے تحریر کیے ہیں، مگر انہیں پڑھنے والا کوئی نہیں۔ ان کی کتابیں اشاعت کے چند ہفتے بعد ہی گرد میں اَٹ جاتی ہیں۔ یہ محض شعرا کا نقصان نہیں، بلکہ پورے معاشرتی ذوق کا زوال ہے۔ جب شاعری محض مشاعروں یا سوشل میڈیا کی پوسٹوں تک محدود رہ جائے تو قاری کے دل تک نہیں پہنچ سکتی۔ نتیجتاً نئی نسل میں شاعری پڑھنے کا شوق تیزی سے کم ہو رہا ہے۔ وہ نسل جو کبھی میر، غالب، فیض اور مہجور سے رہنمائی لیتی تھی، اب شاعری کو سنجیدہ مطالعے کے قابل نہیں سمجھتی۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ ہماری ادبی انجمنیں، مشاعرے اور ثقافتی تنظیمیں بھی اس زوال کی ذمہ دار ہیں۔ ان اداروں نے معیار کے بجائے تعلقات کو اہمیت دی ہے۔ جس کے نتیجے میں اوسط درجے کے شاعر نمایاں ہو گئے ہیں جبکہ حقیقی فنکار گمنامی میں دب گئے۔ یہ روش اگر نہ بدلی گئی تو آنے والے وقتوں میں شاعری محض ایک رسمی مشغلہ بن کر رہ جائے گی، جو دل کو نہیں بلکہ انا کو مطمئن کرتی ہے۔
اب ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنی شاعری کے مقصد کو از سرِ نو سمجھیں۔ شاعر کا کام محض قافیہ اور ردیف باندھنا نہیں، بلکہ معاشرتی شعور کو جگانا، انسان کے اندر کے احساسات کو زبان دینا اور وقت کے دکھوں کو بیان کرنا ہے۔ شاعری وہ چراغ ہے جو قوموں کے ضمیر کو روشن کرتا ہے۔ اگر اس چراغ میں سچائی کا تیل ختم ہو جائے تو وہ روشنی نہیں دیتا، محض دھواں پھیلاتا ہے۔
ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے شعرا کو مطالعے، مشاہدے اور خود تنقیدی کی راہ پر لگائیں۔ نئی نسل کے لکھنے والوں کو چاہیے کہ وہ محض شہرت کے بجائے علم و فکر کی بنیاد پر لکھیں۔ اگر ہم نے اپنی شاعری کو دوبارہ خلوص، ندرت اور حقیقت کے رنگ میں ڈھال لیا تو وہ دن دور نہیں جب کشمیر کی وادی ایک بار پھر اپنے شعری وقار کو واپس پائے گی۔
کشمیر کی فضا میں آج بھی لفظوں کی خوشبو باقی ہے، بس ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے اندر سے اس خوشبو کو محسوس کریں، اسے نقالی کی گرد سے پاک کریں اور اسے وہ رنگ دیں جو صرف سچائی، درد اور محبت سے پیدا ہوتا ہے۔ تبھی ہماری شاعری پھر سے وہی اثر پیدا کرے گی جو کبھی ہمارے بزرگ شعرا کے کلام میں ہوتا تھا  ایک ایسا اثر جو دل کو چھو جائے، اور روح کو جگا دے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں