
ڈاکٹر جہاں گیر حسن
۲۸؍ ستمبر ۲۰۲۵ ء کو دہلی یونیورسٹی کے وائس چانسلر جناب یوگیش اپنے ایک خطاب میں اربن نکسل کے خاتمے پرپوری طاقت و قوت سےبخوبی زور دیتے نظرآئے۔ لیکن کسی بھی جہت سے وہ ایک تعلیمی ادارہ کے ذمہ دارنگراں محسوس نہیں ہوتے۔ البتہ! اُن کے خطاب سےیہ ضرورواضح ہوتاہےکہ وہ دہلی یونیورسٹی کے وائس چانسلر کم اور حکومت ہند کے ترجمان ونمائندہ زیادہ معلوم ہوتےہیں۔ دوسرے لفظوں میں کہاجائے تو اُن کا خطاب بہرصورت ہرہندوستانی شہری کویہ سوچنے پر مجبورکردیتا ہے کہ کیادہلی یونیورسٹی واقعی وہی تعلیمی ادارہ ہے جس کی اپنی ایک ناقابل فراموش علمی و تعلیمی تاریخ ہے؟ سب سے پہلے تو موصوف اپنے خطاب کا آغاز ہی حکومت ہند کواُس عہدوپیمان پر مبارکباد دیتے ہوئے کرتے ہیںجس میں ۳۱؍مارچ ۲۰۲۶ء اربن نکسل کے خاتمے کی بات کہی گئی ہے۔ وائس چانسلر کے بموجب: اربن نکسل کا کوئی چہرہ نہیں ہوتا۔یہ یونیورسیٹیوں میں پروفیسر بھی ہوسکتا ہے، ڈاکٹربھی ہوسکتاہے اور ملازم بھی ہوسکتاہے۔نہ جانے کس روپ میں یہ مل جائے کچھ کہا نہیں جاسکتا ہے۔ مگریہ بات سمجھ سے باہرہے کہ وائس چانسلر کس اربن نکسل کے خاتمے کی بات کررہے ہیں؟ کیوں کہ جب وزیرداخلہ سے ۲۰۲۰ء میں اربن نکسل سے متعلق دریافت کیاگیا تواُن کی طرف سے یہ جواب آیاکہ ایسی کوئی جانکاری ہمارے پاس نہیں ہےکہ اربن نکسل کوئی چیز ہوتی ہے، یا یہ پنپتے ہیںیاپیدا ہوتے ہیںاور کیا کام کرتے ہیں۔ لیکن وائس چانسلر نے اپنے مثال میں جس نظریے کے حامل افراد کو اَربن نکسل کے طورپر پیش کیا ہے اُس سے اُن کا نظریہ آئینے کی طرح صاف ہوجاتا ہے کہ اُن کے فکاروخیالات کہاں سے مستفاد ہیں اور وہ کس ڈیوٹی پرتعینات ہیں؟ بحیثیت وائس چانسلر ڈیوٹی پر ہیںیا پھر حکومت و آرگنائزیشن کی ڈیوٹی پر؟ ایک عالمی یونیورسٹی کے وائس چانسلرکادوسری عالمی یونیورسٹی (جےاین یو) کےاِسٹوڈینٹس کو محض اِس بنیاد پر اربن نکسل بتاناکہ اُنھوں نے حکومت ہند کےخلاف تاریخی پروٹسٹ کا اہتمام کیاتھا اور اُس کی کمیاں اُجاگر کرنے کی کوششیں کی تھیں،تاکہ حکومت ہند اپنی اصلاح کرسکےاور کوئی ایسا قدم نہیں اُٹھاسکے جس سےکہ ملک وملت کا خسارہ ہواور آئین کی خلاف ورزی ہو۔اُنھوںنےدوسری مثال یہ پیش کی کہ جب میںڈی ٹی یو کا وائس چانسلر تھا توکچھ آزادپسندلڑکیاںجو ’پنجرہ توڑ‘ آرگنائزیشن چلاتی تھیں،میرے پاس آئیں اور لڑکوں کے برابر کیمپس سےباہر آنےجانے کےحقوق کامطالبہ کرنے لگیں اور آہستہ آہستہ اُن کاکردار یوںنمایاں ہواکہ جس کی زد ہم تو آئے ہی، اُن کے والدین بھی اُن سے محفوظ نہیں رہ سکے، اور یہی لڑکیاں جنھیں نہ ملک وملت کا خیال رہتاہے اورنہ والدین وسرپرستان کے احترام کا کچھ شدھ بدھ۔لیکن بڑی حیرانی تب ہوتی ہے جب یہی ’پنجرہ توڑ‘لڑکیاں’سی اے‘ کے خلاف پروٹسٹ میں سب سےآگے رہتی ہیں۔ اُس کے فاؤنڈر دیونگنا کالیتااور نتاشا نروال دونوں ۲۰۲۰ء میںیوپی اے کے تحت گرفتار ہوتی ہیں ۔دہلی فساد میں بھی اُن کا نام آتاہے۔ یہ بھی اربن نکسل کا ایک روپ ہے۔ایک تیسری مثال یہ پیش کی کہ ۲۰۱۸ء میںگورے گاؤں کے اندر کاسٹ کو لےکر جوفساد ہو برپاہوا،اُس میں مہاراشٹر پولیس نے کئی جرنلسٹ، اساتذہ اور دیگر لوگوں کو گرفتار کیا۔ دہلی یونیورسٹی تک بھی اُس کی آنچ پہنچی۔ نہ جانے کتنے تعلیمی ماہرین اُس کے شکار ہوئے،مثلاً شوبھا سنگھ ، رونا ویلسن، آنند، گوتم، نولکھاوغیرہ ۔ اِن سب پر ماؤوادی جماعت سے تعلق رکھنے کا الزام لگاکہ اُنھوں نے حکومت و ملک کے خلاف لوگوں کو بھڑکانے اور تحریک چھیڑنے کا جرم کیا۔اُسی طرح پاپولر فرنٹ آف انڈیا ایک آرگنائزیشن جو کبھی دہلی یونیورسیٹی میںبھی یہ سرگرم رہی ہے اور’سی اے‘ کے خلاف احتجاج میںنمایاںکردار ادا کیا ۔ اِن تمام آرگنائزیشن اور افراد کا نام لینے کے بعد وائس چانسلر اپنے مخاطب جوباتیںکہتے ہیں وہ ہرمحب وطن کے ہوش اُڑادیتےہیں۔وہ کہتے ہیں کہ یہ تمام آرگنائزیشن اور یہ اِس طرح کے تمام لوگ اربن نکسل ہیں۔ اُن کی باتوں میںنہ آؤ۔ اُن کی معصومیت سے دھوکہ نہ کھاؤ۔اُن کی دلیلوں پردھیان نہ دو۔ یاد رکھوکہ یہ لوگ ملک وقوم کے بھلے کے ساتھ سمجھوتہ کیے بیٹھے ہیں۔یہ خود سپردگی نہیں کریں گے۔ اِن سے خودسپردگی کی اُمید رکھنا نادانی سے سواکچھ نہیں ہے۔ اِن کو صرف کچلنا ہوگا، اور مثال میں مشہورشاعرہری اوم پوارکی نظم سناتے ہیں،جس کا مفہوم یہ ہےکہ اِس زمین پر قاتل بندقوں نے کچھ اچھانہیں کیاہےاوردنیا میں کہیں بھی آتنک واد نے خودسپردگی نہیں کی ہے۔ یہ لوگ صرف کچلے جانے کے لائق ہیںاوراُن سے نپٹنےکےلیےدوسرا کوئی راستہ نہیں۔عہدوپیمان اورٹھان لینے کے بعددُنیا کی پرواہ نہیں کرنا چاہیے۔اندازہ کیجیے کہ کس انداز سے خون خرابے کی تعلیم دی جارہی ہے؟
سوال پیدا ہوتا ہےکہ ایک قومی تعلیمی ادارے کے وائس چانسلر کا یہ نظریہ ایک عالمی ادارے کو کس طرف جارہاہے؟ جس شخص کوتعلیمی ترقی اور ادارتی ترقی پر فوکس رکھنا تھا اُس نے اپنے پورے خطاب میں کہیںبھول سے بھی تعلیمی ترقی اور ادارتی ترقی پر کچھ نہیں کہا۔ جن اساتذہ اور جن ملازمین کو پیغام دینا چاہیے کہ تعلیمی معاملات میں ادنی سی کوتاہی اور معمولی سی سستی کےلیے بھی کوئی جگہ نہیں ہے۔ اس کے برعکس اپنے اساتذہ واصحاب کو نظریاتی جنگ میں جھونک رہے ہیں،بلکہ مرنے مارنے کی تحریک و ترغیب بھی دے رہے ہیں۔ ایک ایسے وائس چانسلر سے اوراُمید بھی کیا کی جاسکتی ہے جو وویک اگنی ہوتری جیسے نفرت آمیز نظریے پرفلم بنانے والے کا پرستار اور فالورہو۔ جو ایسے فلم میکر کا سپوٹرہو جس کی فلمیں ملک وملت کو جوڑنے کی بجائے توڑنے کافریضہ انجام دیتی ہیں۔جو ڈیموکریٹک کے نام پرنفرت انگیز فلموں کی یونیورسٹیوں میں اسکریننگ کا حمایتی ہواور باشندگان ہند کے حقوق کی باتیں کرنے والے کو ملک وملت کے حق میں غیرمفید سمجھتا ہواور اُنھیں اربن نکسل قراردیتا ہو۔ دہلی یونیورسٹی کے وائس چانسلر نے جس اہمیت کے ساتھ حکومت ہند، وزیراعظم اوروویک اگنی ہوتری کا ذکرکیا اُس سے اُن کی تنگ نظری اور جانبداری و تعصب کو بخوبی محسوس کیا جاسکتا ہے۔اُن کے۲۴-۲۵؍ منٹ کے خطاب میںکہیں بھی کسی تعلیمی ایکسپرٹ کا نام سننے کو نہیں ملتا ہےاور نہ ہی پیار ومحبت سے اصلاح وسدھار کی بات ملتی ہے۔ایک وائس چانسلر کایہ رجحان کسی بھی نہج سے ملک وقوم کے حق میں نہیں۔
بہرحال یہ قابل غورپہلوہےکہ ایک ایسے ملک و سماج میں جہاں کے تعلیمی ادارے اُخوت ومروت اور پیارومحبت کے مراکز ہیں اورجہاں ہمیشہ عدم تشدد کو اَولیت حاصل رہی ہے،بلکہ آج بھی پوری دنیاہندوستان کی عدم تشدد پالیسی کواپنانے میں یقین رکھتی ہے۔حدتویہ ہے کہ عدم تشدد کی راہ پر چلتے ہوئے بڑے بڑے عالمی لیڈروں نے دنیاپر اپنا سکہ بھی جمایا ہے اور فتحیابی بھی حاصل کی ہے۔اِس سلسلےمیں مارٹن لوتھر کنگ جونیئر (امریکہ)اورنیلسن منڈیلا (جنوبی افریقہ)کا نام نمایاں ہے۔علاوہ ازیں ماضی میںامریکی سیزر شاویز نےکسانوں کے حقوق کی بازیابی کےلیے عدم تشدد کے اصولوں کو اَپنایا۔لیچ ویلیسا(پولینڈ)’سولیڈیرٹی تحریک‘ کے ذریعے کمیونسٹ سسٹم کے خلاف عدم تشدد پرمبنی مزاحمت کی۔ دلائی لاما (تبّت)نے عدم تشدد کے فلسفے کو تبّتی عوام کی آزادی کےلیے اختیارکیا۔سرحدی گاندھی خان عبدالغفار خان نے ’خدائی خدمتگار تحریک‘ کے ذریعے عدم تشدد پر مبنی جدوجہد اختیار کی۔ لیکن افسوس کہ دنیاکو عدم تشدد کا نظریہ پیش کرنے والے گاندھی کے ملک میں آج تشدد کی باتیں ہورہی ہیںاوروہ بھی اُن مراکزسےجہاں عدم تشدد کے درس دیے جاتےہیں،اور حیران کن بات یہ ہےکہ یہ سب کچھ تعلیم و تعلّم کے نام پر ہورہا ہےاور اِس کی حمایت بھی تعلیم یافتہ افرادکررہے ہیں۔
ززز


