ہند کے مظلوم مسلمانوں کے گنہگار کون؟

ابراہیم آتش

تاریخ کی یہ تلخ حقیقت ہے کہ ہندوستانی مسلمانوں کو تقسیم کیا گیا۔ تقسیم کی وجوہات بتائی جاتی ہیں۔ ملک میں ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان مذہبی شدت پسندی کا وقوع پذیر ہونا، جنگِ آزادی میں ہندو، مسلمان اور سکھوں نے حصہ لیا۔ جنگِ آزادی میں جہاں مسلم لیگ کا نام آتا ہے وہیں پر کانگریس کا نام بھی آتا ہے۔ کیا کانگریس کے کسی اجلاس میں یہ اعلان کیا گیا کہ اس ملک میں دو قومی نظریہ نہیں چل سکتا؟ جب ہم تاریخ پر نظر ڈالتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ کانگریس نے کبھی اس طرح نہیں کہا۔ اس کے برعکس مسلم لیگ کی جانب سے پاکستان کا مطالبہ ہمیں نظر آتا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ ملک میں شدت پسندی کی شروعات ہو چکی تھی، مگر وہ تمام دائیں بازو کی جماعتوں کی جانب سے ہو رہی تھی۔ اگر کہا جائے تو دائیں بازو کی جماعتوں کو جگانے والے مسلمان ہی تھے۔
1919 میں ہندوستان میں تحریکِ خلافت شروع ہوئی جس کا مقصد ترکی میں سلطنتِ عثمانیہ کو بچانا تھا۔ تحریکِ خلافت کو شروع کرنے والے محمد علی اور شوکت علی تھے، جس کو بعد میں کانگریس کی بھی تائید حاصل ہوئی۔ عثمانیہ سلطنت کو بچا نہ سکے اور کمال پاشا وہاں کے صدر بن گئے۔ ادھر کانگریس کے مسلمانوں کو اور کانگریس کو احساس ہوا کہ مسلمانوں میں دو جماعتیں بن رہی ہیں جس کا نقصان کانگریس کو بھی ہو رہا تھا۔ اس لیے کانگریس نے اس تحریک کو ختم کرنے کو کہا۔ 1924 میں تحریکِ خلافت ختم ہو گئی۔
علامہ اقبال کی ابتدائی تعلیمی اور خاندانی پس منظر نے ان کے اندر مذہبی گہرے اثرات چھوڑے تھے۔ انہوں نے غالباً 1897 میں ایم اے کیا۔ 1897 سے 1905 کے اقبال میں حب الوطنی کا جذبہ سرشار نظر آتا ہے۔ اس وقت ان کا لکھا گیا ترانہ ’’سارے جہاں سے اچھا ہندوستان ہمارا‘‘، ’’ہم بلبلیں ہیں اس کی وہ گلستان ہمارا‘‘ آج بھی ہندوستان میں مقبولِ عام ہے۔ انہوں نے اس وقت کچھ ایسے اشعار بھی کہے جو بعد میں ان کی شاعری کے ذریعہ ان اشعار کی نفی ظاہر کرتے ہیں۔ وہ اشعار ’’ایک شوالہ‘‘ کے نام سے لکھے گئے تھے:
’’سچ کہہ دوں اے برہمن اگر تو برا نہ مانے :: تیرے صنم کدے کے بت ہو گئے پرانے‘‘
اسی میں ایک شعر اس طرح ہے:
’’پتھر کی مورتوں میں تو سمجھا خدا ہے :: خاکِ وطن کا ہر ذرہ مجھ کو دیوتا ہے‘‘
اس کے بعد وہ انگلستان میں تین سال رہے۔ 1908 میں واپس ہندوستان آئے۔ اب علامہ اقبال میں تبدیلی آ چکی تھی۔ ’’مسلماں کو مسلماں کر دیا مغرب نے‘‘۔ پہلے جو حب الوطنی اقبال میں نظر آتی تھی وہ جذبہ اب مذہبِ اسلام کی طرف راغب ہو گیا تھا۔ اس کی وجوہات تاریخ سے یہی ملتی ہیں کہ سلطنتِ عثمانیہ ختم ہو چکی تھی اور انگریزوں کا تسلط پوری دنیا پر قائم ہو چکا تھا اور ہندوستان میں ہندو شدت پسندی ابھر رہی تھی۔ بنکم چندر چٹرجی نے اس وقت ’’وندماترَم‘‘ کے ذریعہ ہندوؤں میں وطن پرستی کا پیغام دیا اور اس کے ساتھ اسلام کے لیے یہ ایک چیلنج تھا کیونکہ مسلمان عبادت صرف اللہ کی کرتے ہیں، وہ کسی زمین کو اپنی ماں تصور نہیں کرتے۔ یہاں مسلمانوں کے نظریات سے ٹکرانے اور ایمان کو کمزور کرنے کی کوشش کی گئی۔
اس کے بعد راجہ رام موہن رائے نے ہندو سماج میں انقلاب لایا۔ برہمو سماج کے نام سے ادارہ قائم کیا۔ اس کے بعد تیسری تحریک شروع ہوئی جس کا نام آریہ سماج تھا۔ دیانند سرسوتی نے اس تحریک کو شروع کیا اور ہندوؤں میں بہت پذیرائی ہوئی۔ انہوں نے کھل کر کہا ’’ہندوستان صرف ہندوؤں کا ہے، یہاں مسلمانوں کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے، یہاں کے مسلمان ہندو بن جائیں یا یہاں سے نکل جائیں‘‘۔ اس کے تحت ہندو مہاسبھا بنی اور اس کے ساتھ ہی آر ایس ایس کا 1925 میں وجود ہوا۔
ہندو شدت پسندوں کی جانب سے راجستھان اور میوات کے علاقوں میں مسلمانوں کو ہندو بنایا جا رہا تھا اور اسی کے جواب میں مولانا الیاس رحمۃ اللہ علیہ نے میوات سے تبلیغی تحریک شروع کی، جس کے ذریعہ مسلمانوں کو دینِ اسلام سے جوڑا جائے۔ اس تحریک کا مقصد مسلمانوں کو مسجدوں سے جوڑنا تھا اور دوسروں کو مسجدوں میں لانا تھا۔ اس جماعت کی چھ بنیادی باتیں تھیں: دیہاتوں کو جاؤ، چنے گُڑ لے کر جاؤ، کسی کا کھانا نہ کھاؤ، اپنا کھانا کھاؤ، کوئی تنخواہ نہیں ہے، اور دین کی تبلیغ کرو۔ دراصل یہ تحریک اس شدھی تحریک کے جواب میں تھی جو مسلمانوں کو ہندو بنانے کی کوشش میں چل رہی تھی، جس کے ذریعہ میوات میں بہت سے مسلمانوں کو ہندو بنایا گیا تھا۔
علامہ اقبال نے نفیِ وطنیت اس طرح کی:
’’اس دور میں مئے اور ہیں، جام اور ہیں جم اور :: ساقی نے بنا کی روشِ ستم اور
تہذیب کے آذر نے تراشوائے صنم اور :: مسلم نے بھی تعمیر کیا اپنا حرم اور
ان تازہ خداؤں میں سب سے بڑا وطن ہے :: جو پیرہن اس کا ہے مذہب اس کا کفن ہے‘‘
وہی شخص جو کہہ رہا تھا ’’خاکِ وطن کا ہر ذرہ مجھ کو دیوتا ہے‘‘ آج وہی شخص وطن کو بُت قرار دے کر اس کا قلع قمع کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
’’یہ بُت تراشِ تہذیبِ نوی ہے :: غارت کرے کاشانۂ دینِ نبوی ہے
بازو تیرا توحید کی قوت سے قوی ہے :: اسلام تیرا دیس ہے، تو مصطفوی ہے‘‘
محمد علی جناح ہندوستان کی سیاست سے مایوس ہو کر 1930 میں انگلستان چلے گئے۔ محمد اکرام صاحب اس وقت انگلستان گئے تھے۔ انہوں نے محمد علی جناح سے پوچھا کہ آپ ہندوستان چھوڑ کر کیوں آگئے؟ ہندوستانی مسلمانوں کو آپ کی رہنمائی کی ضرورت ہے۔ محمد علی جناح نے اکرام صاحب کو جو جواب دیا وہ نوٹ کرنے کے قابل ہے: ’’ہندوستان میں میرے 22 سال کی محنت سے کچھ حاصل نہیں ہوا۔ ملک کے ہندو ناقابلِ اصلاح ہیں، اور جو مسلمان مجھ سے بات کرتے ہیں وہ رات میں انگریزوں کو بتا دیتے ہیں۔ میں ایسی قوم کی رہنمائی کیسے کروں؟‘‘
مسلم لیگ کا ایک سورج انگلستان میں غروب ہو چکا تھا اور دوسرا سورج طلوع ہو رہا تھا، وہ سورج علامہ اقبال تھے۔ علامہ اقبال نے 1930 کے مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس میں ایک الگ مسلم ریاست کا مطالبہ رکھا۔ وہ مسلم لیگ کے صدر تھے، اس لیے اس بات کو اہمیت دی جانی چاہئے۔ ہندوستان میں آزادی سے پہلے سب سے پہلے مسلم ریاست کی آواز علامہ اقبال نے ہی اٹھائی تھی، اور اس آواز کو اٹھانے کا مقصد ایک ایسی ریاست قائم کرنا تھا جو اسلامی نہج پر ہو، جس کے ذریعہ مسلمانوں کے تمام مسائل اجتہاد کے ذریعہ حل کرنے میں سہولت ہو۔
در اصل علامہ اقبال کا یہ خطبہ مسلم لیگ کے لیے جوش بھرنے کا تھا جس سے توانائی ملی۔ اب تک مسلم لیگ صرف خواص کے لیے تھی، یعنی نوابوں، نواب زادوں، دولت مندوں اور زمینداروں تک محدود تھی، وہ اب عوامی مسلم لیگ بن گئی۔ علامہ اقبال جب انگلستان گئے، وہاں انہوں نے محمد علی جناح سے کئی ملاقاتیں کیں اور ان ملاقاتوں کا اثر یہ ہوا کہ محمد علی جناح کا ذہن بدل گیا اور وہ 1934 میں انگلستان سے ہندوستان واپس آ گئے۔ انہیں اسی سال مسلم لیگ کا تاحیات صدر بنا دیا گیا۔
1936 میں ملک میں انتخابات ہوئے جس میں کانگریس کو بھاری جیت حاصل ہوئی۔ مسلم لیگ ابھی سنبھلی بھی نہیں تھی، اس لیے بری طرح شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ کانگریس کے دور میں جس طرح سے مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک کیا گیا، جس طرح مسلمانوں کے حقوق کو پامال کیا گیا، جس طرح مسلمانوں کو دبایا گیا، اس کو دیکھتے ہوئے 1937 سے 1947 تک دس سال مسلسل محمد علی جناح مسلمانوں کے لیے قائد کی حیثیت سے مسلمانوں کے دلوں میں دھڑکتے رہے۔ محمد علی جناح ان دس سالوں میں صرف ’’اسلام، اسلام، اسلامی قانون، اسلامی نظام، اسلامی تہذیب‘‘ کا نعرہ بلند کرتے رہے اور محمد علی جناح ’’قائداعظم‘‘ بن گئے۔
نظریۂ پاکستان، اسلام، اسلام کا احیاء، خلافتِ راشدہ — یہ سب قائداعظم تک پہنچانے والے علامہ اقبال ہی تھے۔ قائداعظم نے بھی اس پر عمل کیا۔ 19 اپریل 1938 کو علامہ اقبال کا انتقال ہوا۔ 21 اپریل کو کلکتہ میں فلسطین کے لیے ایک جلسہ منعقد ہوا تھا۔ اس جلسہ کو علامہ اقبال کے تعزیتی جلسے میں بدلا گیا۔ محمد علی جناح نے علامہ اقبال کے بارے میں کہا:
’’علامہ اقبال اکیلے ایسے شاعر تھے جن کا کوئی مقابلہ نہیں کر سکتا۔ علامہ اقبال مستقبل کے حالات کو بخوبی پڑھ لیتے تھے اور میرے لیے ذاتی طور پر ایک اچھے دوست تھے۔ وہ ایک فلاسفر تھے۔ میرے اندر کی ایمانی حرارت کو انہوں نے جگایا۔ میرے لیے رہنما تھے۔‘‘
محمد علی جناح غیر معمولی شخصیت کے حامل تھے۔ اپنے دور کے بہت مشہور وکیل تھے۔ وہ لفاظی کرنے والے نہیں تھے۔ پھر اس کے بعد جب 1940 میں اقبال ڈے منایا گیا تو اس وقت محمد علی جناح نے کہا: ’’اگر اسلامی حکومت بنتی ہے اور اس وقت مجھے پیشکش کی جاتی ہے کہ اسلامی حکومت کا سربراہ بننا پسند کریں گے یا اقبال کا کلام لینا پسند کریں گے تو میں اقبال کا کلام لینا پسند کروں گا۔‘‘
ہندوستان کے مظلوم مسلمانوں کے اصل مجرم پاکستان کے مسلمان ہیں۔ نہ صرف ہندوستان کے مظلومین کے بلکہ تقسیمِ ہند کے دوران لاکھوں مسلمانوں کی موت کے ذمہ دار بھی پاکستان کے مسلمان ہی ہیں۔ ہندوستان کے مسلمانوں نے پاکستان بنا کر فرضِ کفایہ ادا کر دیا۔ مولانا ابوالکلام آزاد اور جمعیت العلماء نے تقسیمِ ہند کی سخت مخالفت کی تھی۔ مولانا آزاد کوئی معمولی شخص نہیں تھے، وہ مدبر، مفکرِ اسلام، مفسرِ قرآن تھے۔
اس وقت محمد علی جناح سے کہا تھا: ’’آپ ہندوستان کے مسلمانوں کو دو حصوں میں نہیں بلکہ تین حصوں میں تقسیم کر رہے ہیں۔‘‘ مولانا آزاد نے اس وقت کہا تھا: ’’پاکستان 25 سال بھی متحد نہیں رہ سکے گا‘‘ اور ان کی یہ بات بالکل سچ ثابت ہوئی۔ ساڑھے چوبیس سال میں پاکستان ٹوٹ گیا۔
آزادی سے پہلے ملک میں جو فسادات ہوتے تھے ان کی نوعیت اور ردِ عمل مختلف ہوتا تھا۔ جہاں بھی فسادات ہوئے وہاں ملک سے مسلمان پہنچ جاتے تھے جس کی مثالیں ہمیں ملتی ہیں۔ بہار کے فساد میں پنجاب اور سندھ سے مسلمان آئے تھے۔ کانپور کی مسجد 1905 میں شہید ہوئی تھی، پورے ہندوستان سے مسلمان وہاں پہنچے تھے۔ ابوالکلام آزاد نے اس وقت بالکل سچ کہا تھا: ’’آپ صرف پاکستان نہیں بنا رہے ہیں بلکہ ہندوستان کے مسلمانوں کو تین حصوں میں تقسیم کر رہے ہیں۔‘‘
آج وہ بات بالکل سچ ثابت ہوئی۔ آج اگر ہندوستان میں 25 کروڑ مسلمانوں کے ساتھ مزید 50 کروڑ مسلمان ہوتے تو آج مسلمانوں کو ملک میں یہ دن دیکھنے کو نہ ملتے۔ مولانا ابوالکلام آزاد تقسیم کے بعد جو فسادات ہوئے اس سے بہت افسردہ تھے۔ انہوں نے دہلی کی جامع مسجد میں ہندوستانی مسلمانوں کے ایک جلسے سے خطاب کیا۔ اس تقریر کے ایک ایک لفظ سے درد مندی کا اظہار ہوتا ہے:
’’عزیزو! ستارے ٹوٹ گئے تو کیا، سورج تو چمک رہا ہے، اس سے کرنیں مانگ لو اور اندھیری راہوں میں بچھا دو جہاں اجالے کی سخت ضرورت ہے۔ آؤ عہد کریں کہ یہ ملک ہمارا ہے، ہم اس کے لیے ہیں اور اس کی تقدیر کے بنیادی فیصلے ہماری آواز کے بغیر ادھورے ہی رہیں گے۔‘‘
جمعیت العلماء کے مولانا حسین احمد مدنی نے بھی پاکستان بنانے کی مخالفت کی تھی۔ مولانا ابوالکلام آزاد اور مولانا حسین احمد مدنی کی شخصیت پر کوئی انگلی نہیں اٹھا سکتا۔ وہ متقی و پرہیزگار ہونے کے ساتھ قرآن کو اچھی طرح سمجھتے تھے۔
ملک کی تقسیم کے بعد جب حسین احمد مدنی دھابیل، گجرات میں ایک مدرسے کے جلسے میں شرکت فرما تھے، ان سے سوال کیا گیا کہ پاکستان کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ مولانا حسین احمد مدنی نے بڑا حکیمانہ جواب دیا:
’’مسجد بننے سے پہلے اس پر بحث ہو سکتی ہے کہ مسجد بنانا ضروری ہے یا نہیں۔ اگر قریب میں مسجد ہے تو پھر ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بنانے کی کیا ضرورت ہے؟ اور مسجد پر بحث ہو سکتی ہے کہ مسجد کس طرح بنانی چاہئے۔ جب مسجد بن کر تیار ہو تو اس پر بحث کی کوئی گنجائش نہیں رہتی۔ اس کے بعد مسجد کو آباد کرنے کی فکر کرنی چاہئے۔‘‘
اور پھر وہ جب پاکستان میں ایک جلسے سے خطاب کے لیے پہنچے تھے جہاں دیوبند کے دو ہزار طلبہ سے خطاب کرنا تھا، انہوں نے وہاں بھی وہی بات کہی: ’’آپ اس ملک کی ترقی اور فلاح کے لیے محنت کریں۔‘‘ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان بننے سے پہلے اختلافات ضرور تھے مگر جب پاکستان بن گیا تو وہ اختلافات ختم ہوئے اور پاکستان کی بہتری کے لیے دعا کی۔ یہ تھا ہمارے علماء کا طرزِ عمل۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ مسلمانوں کے لیے اپنے دلوں میں کس قدر ہمدردی اور محبت کا جذبہ رکھتے تھے۔
میں آخر میں دو باتوں کا ذکر کرنا چاہوں گا۔ پہلی بات یہ کہ ڈاکٹر اسرار احمد، پاکستان کے عالمِ دین، جنہوں نے ہندوستانی مسلمانوں کے تعلق سے یہ بات کہی: مسیح علیہ السلام کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ’’ہندوستان میں جو ظلم مسلمانوں پر ہو رہا ہے وہ پاکستان کی وجہ سے ہو رہا ہے۔‘‘ اور وہ یہ محسوس کرتے ہیں کہ جب بھی وہ کھانا کھا رہے ہوتے ہیں، انہیں محسوس ہوتا ہے کہ وہ ہندوستانی مسلمانوں کا گوشت کھا رہے ہیں، اور جب کچھ پیتے ہیں تو محسوس ہوتا ہے کہ وہ ہندوستانی مسلمانوں کا خون پی رہے ہیں۔ یہ بات تو سمجھ میں آتی ہے، ان کی ایمانی حمیت کو ظاہر کرتی ہے، مگر وہیں پر علامہ اقبال اور محمد علی جناح کو صحیح قرار دیتے ہیں، جبکہ وہ خود کہتے ہیں کہ پاکستان کے وجود میں آنے کی وجہ علامہ اقبال ہی ہیں۔
دوسری بات یہ کہ محمد علی جناح نے علامہ اقبال کے تعلق سے کئی خوبیوں کے ساتھ یہ خوبی بھی بیان کی تھی کہ علامہ اقبال مستقبل کے بارے میں اچھا فہم رکھتے تھے۔ تب تو یہ بات کیونکر غلط ثابت ہوئی؟ پاکستان جس مقصد کے لیے بنا تھا آج تک وہ مقصد پورا نہیں ہوا۔ وہ ملک آج بھی دنیا کے سامنے ایک اچھی جمہوریت نہیں دے سکا۔ اسلامی نظام نافذ کرنے کے لیے بنایا گیا پاکستان آج بھی پورے ملک میں غیر اسلامی نظام پر قائم ہے۔ بے پردگی، فحاشی، عریانیت، رشوت، لوٹ کھسوٹ، بے ایمانی عروج پر ہے۔
پاکستان دنیا کا پہلا ملک ہے جو اسلام کے نام پر بنا، بڑے ہی افسوس کی بات ہے کہ آج تک اسلامی ملک نہیں بن سکا۔ اسلام سے غداری کی، جس مقصد کے لیے بنا تھا 75 سال میں بھی وہ مقصد پورا نہیں ہوا۔ تقسیمِ ہند سے پہلے مسلمان طاقتور تھے مگر صرف علامہ اقبال اور محمد علی جناح کو ہندوؤں کے خوف نے تقسیم کی دہلیز پر پہنچا دیا۔ کاش پاکستان بنانے والے وہ افراد ہندوستان میں رہتے ہوئے اس ملک کی دیگر قوموں کے ساتھ، دلتوں، پچھڑوں اور سکھوں کے ساتھ مل کر اس ملک کی سیاست میں حصہ لیتے، اور اس کے ساتھ اس ملک کی ترقی میں اپنا کردار ادا کرتے، اور ساتھ میں اسلام کی دعوت دیتے، یقیناً ہندوستان کی تصویر بدل چکی ہوتی۔ معاشی اعتبار سے، سیاسی اعتبار سے، سماجی اعتبار سے، اخلاقی اعتبار سے مسلمانوں کا کوئی ثانی نہیں ہوتا۔ نہ صرف ہندوستان بلکہ ہندوستانی مسلمانوں کی شناخت بھی عالمی سطح پر تمام مسلم ملکوں سے عمدہ ہوتی۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

بفلیاز پونچھ میں آگ لگنے سے 13 دکانیں جل کر خاکستر

پونچھ 7 جون: پونچھ ضلع کی تحصیل سورنکوٹ کے...

گھریلو ایل پی جی کی قیمت میں 29 روپے فی 14.2 کلوگرام سلنڈر کا اضافہ

نئی دہلی 7 جون: گھریلو کھانا پکانے والی گیس ایل...

شاعری

شیخ افلاق حسین سیمانی وہ بات اب تجھ میں باقی...

شاعری

جاوید قسیم شعر گوئی کی ہی پہچان سے سب جانتے...

دہلیز

راشیدہ یاسمین سارہ جب ہنستی تھی تو یوں محسوس ہوتا...

تازہ ترین خبریں

بفلیاز پونچھ میں آگ لگنے سے 13 دکانیں جل کر خاکستر

پونچھ 7 جون: پونچھ ضلع کی تحصیل سورنکوٹ کے...

گھریلو ایل پی جی کی قیمت میں 29 روپے فی 14.2 کلوگرام سلنڈر کا اضافہ

نئی دہلی 7 جون: گھریلو کھانا پکانے والی گیس ایل...

شاعری

شیخ افلاق حسین سیمانی وہ بات اب تجھ میں باقی...

شاعری

جاوید قسیم شعر گوئی کی ہی پہچان سے سب جانتے...

دہلیز

راشیدہ یاسمین سارہ جب ہنستی تھی تو یوں محسوس ہوتا...

ہند کے مظلوم مسلمانوں کے گنہگار کون؟

ابراہیم آتش

تاریخ کی یہ تلخ حقیقت ہے کہ ہندوستانی مسلمانوں کو تقسیم کیا گیا۔ تقسیم کی وجوہات بتائی جاتی ہیں۔ ملک میں ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان مذہبی شدت پسندی کا وقوع پذیر ہونا، جنگِ آزادی میں ہندو، مسلمان اور سکھوں نے حصہ لیا۔ جنگِ آزادی میں جہاں مسلم لیگ کا نام آتا ہے وہیں پر کانگریس کا نام بھی آتا ہے۔ کیا کانگریس کے کسی اجلاس میں یہ اعلان کیا گیا کہ اس ملک میں دو قومی نظریہ نہیں چل سکتا؟ جب ہم تاریخ پر نظر ڈالتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ کانگریس نے کبھی اس طرح نہیں کہا۔ اس کے برعکس مسلم لیگ کی جانب سے پاکستان کا مطالبہ ہمیں نظر آتا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ ملک میں شدت پسندی کی شروعات ہو چکی تھی، مگر وہ تمام دائیں بازو کی جماعتوں کی جانب سے ہو رہی تھی۔ اگر کہا جائے تو دائیں بازو کی جماعتوں کو جگانے والے مسلمان ہی تھے۔
1919 میں ہندوستان میں تحریکِ خلافت شروع ہوئی جس کا مقصد ترکی میں سلطنتِ عثمانیہ کو بچانا تھا۔ تحریکِ خلافت کو شروع کرنے والے محمد علی اور شوکت علی تھے، جس کو بعد میں کانگریس کی بھی تائید حاصل ہوئی۔ عثمانیہ سلطنت کو بچا نہ سکے اور کمال پاشا وہاں کے صدر بن گئے۔ ادھر کانگریس کے مسلمانوں کو اور کانگریس کو احساس ہوا کہ مسلمانوں میں دو جماعتیں بن رہی ہیں جس کا نقصان کانگریس کو بھی ہو رہا تھا۔ اس لیے کانگریس نے اس تحریک کو ختم کرنے کو کہا۔ 1924 میں تحریکِ خلافت ختم ہو گئی۔
علامہ اقبال کی ابتدائی تعلیمی اور خاندانی پس منظر نے ان کے اندر مذہبی گہرے اثرات چھوڑے تھے۔ انہوں نے غالباً 1897 میں ایم اے کیا۔ 1897 سے 1905 کے اقبال میں حب الوطنی کا جذبہ سرشار نظر آتا ہے۔ اس وقت ان کا لکھا گیا ترانہ ’’سارے جہاں سے اچھا ہندوستان ہمارا‘‘، ’’ہم بلبلیں ہیں اس کی وہ گلستان ہمارا‘‘ آج بھی ہندوستان میں مقبولِ عام ہے۔ انہوں نے اس وقت کچھ ایسے اشعار بھی کہے جو بعد میں ان کی شاعری کے ذریعہ ان اشعار کی نفی ظاہر کرتے ہیں۔ وہ اشعار ’’ایک شوالہ‘‘ کے نام سے لکھے گئے تھے:
’’سچ کہہ دوں اے برہمن اگر تو برا نہ مانے :: تیرے صنم کدے کے بت ہو گئے پرانے‘‘
اسی میں ایک شعر اس طرح ہے:
’’پتھر کی مورتوں میں تو سمجھا خدا ہے :: خاکِ وطن کا ہر ذرہ مجھ کو دیوتا ہے‘‘
اس کے بعد وہ انگلستان میں تین سال رہے۔ 1908 میں واپس ہندوستان آئے۔ اب علامہ اقبال میں تبدیلی آ چکی تھی۔ ’’مسلماں کو مسلماں کر دیا مغرب نے‘‘۔ پہلے جو حب الوطنی اقبال میں نظر آتی تھی وہ جذبہ اب مذہبِ اسلام کی طرف راغب ہو گیا تھا۔ اس کی وجوہات تاریخ سے یہی ملتی ہیں کہ سلطنتِ عثمانیہ ختم ہو چکی تھی اور انگریزوں کا تسلط پوری دنیا پر قائم ہو چکا تھا اور ہندوستان میں ہندو شدت پسندی ابھر رہی تھی۔ بنکم چندر چٹرجی نے اس وقت ’’وندماترَم‘‘ کے ذریعہ ہندوؤں میں وطن پرستی کا پیغام دیا اور اس کے ساتھ اسلام کے لیے یہ ایک چیلنج تھا کیونکہ مسلمان عبادت صرف اللہ کی کرتے ہیں، وہ کسی زمین کو اپنی ماں تصور نہیں کرتے۔ یہاں مسلمانوں کے نظریات سے ٹکرانے اور ایمان کو کمزور کرنے کی کوشش کی گئی۔
اس کے بعد راجہ رام موہن رائے نے ہندو سماج میں انقلاب لایا۔ برہمو سماج کے نام سے ادارہ قائم کیا۔ اس کے بعد تیسری تحریک شروع ہوئی جس کا نام آریہ سماج تھا۔ دیانند سرسوتی نے اس تحریک کو شروع کیا اور ہندوؤں میں بہت پذیرائی ہوئی۔ انہوں نے کھل کر کہا ’’ہندوستان صرف ہندوؤں کا ہے، یہاں مسلمانوں کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے، یہاں کے مسلمان ہندو بن جائیں یا یہاں سے نکل جائیں‘‘۔ اس کے تحت ہندو مہاسبھا بنی اور اس کے ساتھ ہی آر ایس ایس کا 1925 میں وجود ہوا۔
ہندو شدت پسندوں کی جانب سے راجستھان اور میوات کے علاقوں میں مسلمانوں کو ہندو بنایا جا رہا تھا اور اسی کے جواب میں مولانا الیاس رحمۃ اللہ علیہ نے میوات سے تبلیغی تحریک شروع کی، جس کے ذریعہ مسلمانوں کو دینِ اسلام سے جوڑا جائے۔ اس تحریک کا مقصد مسلمانوں کو مسجدوں سے جوڑنا تھا اور دوسروں کو مسجدوں میں لانا تھا۔ اس جماعت کی چھ بنیادی باتیں تھیں: دیہاتوں کو جاؤ، چنے گُڑ لے کر جاؤ، کسی کا کھانا نہ کھاؤ، اپنا کھانا کھاؤ، کوئی تنخواہ نہیں ہے، اور دین کی تبلیغ کرو۔ دراصل یہ تحریک اس شدھی تحریک کے جواب میں تھی جو مسلمانوں کو ہندو بنانے کی کوشش میں چل رہی تھی، جس کے ذریعہ میوات میں بہت سے مسلمانوں کو ہندو بنایا گیا تھا۔
علامہ اقبال نے نفیِ وطنیت اس طرح کی:
’’اس دور میں مئے اور ہیں، جام اور ہیں جم اور :: ساقی نے بنا کی روشِ ستم اور
تہذیب کے آذر نے تراشوائے صنم اور :: مسلم نے بھی تعمیر کیا اپنا حرم اور
ان تازہ خداؤں میں سب سے بڑا وطن ہے :: جو پیرہن اس کا ہے مذہب اس کا کفن ہے‘‘
وہی شخص جو کہہ رہا تھا ’’خاکِ وطن کا ہر ذرہ مجھ کو دیوتا ہے‘‘ آج وہی شخص وطن کو بُت قرار دے کر اس کا قلع قمع کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
’’یہ بُت تراشِ تہذیبِ نوی ہے :: غارت کرے کاشانۂ دینِ نبوی ہے
بازو تیرا توحید کی قوت سے قوی ہے :: اسلام تیرا دیس ہے، تو مصطفوی ہے‘‘
محمد علی جناح ہندوستان کی سیاست سے مایوس ہو کر 1930 میں انگلستان چلے گئے۔ محمد اکرام صاحب اس وقت انگلستان گئے تھے۔ انہوں نے محمد علی جناح سے پوچھا کہ آپ ہندوستان چھوڑ کر کیوں آگئے؟ ہندوستانی مسلمانوں کو آپ کی رہنمائی کی ضرورت ہے۔ محمد علی جناح نے اکرام صاحب کو جو جواب دیا وہ نوٹ کرنے کے قابل ہے: ’’ہندوستان میں میرے 22 سال کی محنت سے کچھ حاصل نہیں ہوا۔ ملک کے ہندو ناقابلِ اصلاح ہیں، اور جو مسلمان مجھ سے بات کرتے ہیں وہ رات میں انگریزوں کو بتا دیتے ہیں۔ میں ایسی قوم کی رہنمائی کیسے کروں؟‘‘
مسلم لیگ کا ایک سورج انگلستان میں غروب ہو چکا تھا اور دوسرا سورج طلوع ہو رہا تھا، وہ سورج علامہ اقبال تھے۔ علامہ اقبال نے 1930 کے مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس میں ایک الگ مسلم ریاست کا مطالبہ رکھا۔ وہ مسلم لیگ کے صدر تھے، اس لیے اس بات کو اہمیت دی جانی چاہئے۔ ہندوستان میں آزادی سے پہلے سب سے پہلے مسلم ریاست کی آواز علامہ اقبال نے ہی اٹھائی تھی، اور اس آواز کو اٹھانے کا مقصد ایک ایسی ریاست قائم کرنا تھا جو اسلامی نہج پر ہو، جس کے ذریعہ مسلمانوں کے تمام مسائل اجتہاد کے ذریعہ حل کرنے میں سہولت ہو۔
در اصل علامہ اقبال کا یہ خطبہ مسلم لیگ کے لیے جوش بھرنے کا تھا جس سے توانائی ملی۔ اب تک مسلم لیگ صرف خواص کے لیے تھی، یعنی نوابوں، نواب زادوں، دولت مندوں اور زمینداروں تک محدود تھی، وہ اب عوامی مسلم لیگ بن گئی۔ علامہ اقبال جب انگلستان گئے، وہاں انہوں نے محمد علی جناح سے کئی ملاقاتیں کیں اور ان ملاقاتوں کا اثر یہ ہوا کہ محمد علی جناح کا ذہن بدل گیا اور وہ 1934 میں انگلستان سے ہندوستان واپس آ گئے۔ انہیں اسی سال مسلم لیگ کا تاحیات صدر بنا دیا گیا۔
1936 میں ملک میں انتخابات ہوئے جس میں کانگریس کو بھاری جیت حاصل ہوئی۔ مسلم لیگ ابھی سنبھلی بھی نہیں تھی، اس لیے بری طرح شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ کانگریس کے دور میں جس طرح سے مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک کیا گیا، جس طرح مسلمانوں کے حقوق کو پامال کیا گیا، جس طرح مسلمانوں کو دبایا گیا، اس کو دیکھتے ہوئے 1937 سے 1947 تک دس سال مسلسل محمد علی جناح مسلمانوں کے لیے قائد کی حیثیت سے مسلمانوں کے دلوں میں دھڑکتے رہے۔ محمد علی جناح ان دس سالوں میں صرف ’’اسلام، اسلام، اسلامی قانون، اسلامی نظام، اسلامی تہذیب‘‘ کا نعرہ بلند کرتے رہے اور محمد علی جناح ’’قائداعظم‘‘ بن گئے۔
نظریۂ پاکستان، اسلام، اسلام کا احیاء، خلافتِ راشدہ — یہ سب قائداعظم تک پہنچانے والے علامہ اقبال ہی تھے۔ قائداعظم نے بھی اس پر عمل کیا۔ 19 اپریل 1938 کو علامہ اقبال کا انتقال ہوا۔ 21 اپریل کو کلکتہ میں فلسطین کے لیے ایک جلسہ منعقد ہوا تھا۔ اس جلسہ کو علامہ اقبال کے تعزیتی جلسے میں بدلا گیا۔ محمد علی جناح نے علامہ اقبال کے بارے میں کہا:
’’علامہ اقبال اکیلے ایسے شاعر تھے جن کا کوئی مقابلہ نہیں کر سکتا۔ علامہ اقبال مستقبل کے حالات کو بخوبی پڑھ لیتے تھے اور میرے لیے ذاتی طور پر ایک اچھے دوست تھے۔ وہ ایک فلاسفر تھے۔ میرے اندر کی ایمانی حرارت کو انہوں نے جگایا۔ میرے لیے رہنما تھے۔‘‘
محمد علی جناح غیر معمولی شخصیت کے حامل تھے۔ اپنے دور کے بہت مشہور وکیل تھے۔ وہ لفاظی کرنے والے نہیں تھے۔ پھر اس کے بعد جب 1940 میں اقبال ڈے منایا گیا تو اس وقت محمد علی جناح نے کہا: ’’اگر اسلامی حکومت بنتی ہے اور اس وقت مجھے پیشکش کی جاتی ہے کہ اسلامی حکومت کا سربراہ بننا پسند کریں گے یا اقبال کا کلام لینا پسند کریں گے تو میں اقبال کا کلام لینا پسند کروں گا۔‘‘
ہندوستان کے مظلوم مسلمانوں کے اصل مجرم پاکستان کے مسلمان ہیں۔ نہ صرف ہندوستان کے مظلومین کے بلکہ تقسیمِ ہند کے دوران لاکھوں مسلمانوں کی موت کے ذمہ دار بھی پاکستان کے مسلمان ہی ہیں۔ ہندوستان کے مسلمانوں نے پاکستان بنا کر فرضِ کفایہ ادا کر دیا۔ مولانا ابوالکلام آزاد اور جمعیت العلماء نے تقسیمِ ہند کی سخت مخالفت کی تھی۔ مولانا آزاد کوئی معمولی شخص نہیں تھے، وہ مدبر، مفکرِ اسلام، مفسرِ قرآن تھے۔
اس وقت محمد علی جناح سے کہا تھا: ’’آپ ہندوستان کے مسلمانوں کو دو حصوں میں نہیں بلکہ تین حصوں میں تقسیم کر رہے ہیں۔‘‘ مولانا آزاد نے اس وقت کہا تھا: ’’پاکستان 25 سال بھی متحد نہیں رہ سکے گا‘‘ اور ان کی یہ بات بالکل سچ ثابت ہوئی۔ ساڑھے چوبیس سال میں پاکستان ٹوٹ گیا۔
آزادی سے پہلے ملک میں جو فسادات ہوتے تھے ان کی نوعیت اور ردِ عمل مختلف ہوتا تھا۔ جہاں بھی فسادات ہوئے وہاں ملک سے مسلمان پہنچ جاتے تھے جس کی مثالیں ہمیں ملتی ہیں۔ بہار کے فساد میں پنجاب اور سندھ سے مسلمان آئے تھے۔ کانپور کی مسجد 1905 میں شہید ہوئی تھی، پورے ہندوستان سے مسلمان وہاں پہنچے تھے۔ ابوالکلام آزاد نے اس وقت بالکل سچ کہا تھا: ’’آپ صرف پاکستان نہیں بنا رہے ہیں بلکہ ہندوستان کے مسلمانوں کو تین حصوں میں تقسیم کر رہے ہیں۔‘‘
آج وہ بات بالکل سچ ثابت ہوئی۔ آج اگر ہندوستان میں 25 کروڑ مسلمانوں کے ساتھ مزید 50 کروڑ مسلمان ہوتے تو آج مسلمانوں کو ملک میں یہ دن دیکھنے کو نہ ملتے۔ مولانا ابوالکلام آزاد تقسیم کے بعد جو فسادات ہوئے اس سے بہت افسردہ تھے۔ انہوں نے دہلی کی جامع مسجد میں ہندوستانی مسلمانوں کے ایک جلسے سے خطاب کیا۔ اس تقریر کے ایک ایک لفظ سے درد مندی کا اظہار ہوتا ہے:
’’عزیزو! ستارے ٹوٹ گئے تو کیا، سورج تو چمک رہا ہے، اس سے کرنیں مانگ لو اور اندھیری راہوں میں بچھا دو جہاں اجالے کی سخت ضرورت ہے۔ آؤ عہد کریں کہ یہ ملک ہمارا ہے، ہم اس کے لیے ہیں اور اس کی تقدیر کے بنیادی فیصلے ہماری آواز کے بغیر ادھورے ہی رہیں گے۔‘‘
جمعیت العلماء کے مولانا حسین احمد مدنی نے بھی پاکستان بنانے کی مخالفت کی تھی۔ مولانا ابوالکلام آزاد اور مولانا حسین احمد مدنی کی شخصیت پر کوئی انگلی نہیں اٹھا سکتا۔ وہ متقی و پرہیزگار ہونے کے ساتھ قرآن کو اچھی طرح سمجھتے تھے۔
ملک کی تقسیم کے بعد جب حسین احمد مدنی دھابیل، گجرات میں ایک مدرسے کے جلسے میں شرکت فرما تھے، ان سے سوال کیا گیا کہ پاکستان کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ مولانا حسین احمد مدنی نے بڑا حکیمانہ جواب دیا:
’’مسجد بننے سے پہلے اس پر بحث ہو سکتی ہے کہ مسجد بنانا ضروری ہے یا نہیں۔ اگر قریب میں مسجد ہے تو پھر ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بنانے کی کیا ضرورت ہے؟ اور مسجد پر بحث ہو سکتی ہے کہ مسجد کس طرح بنانی چاہئے۔ جب مسجد بن کر تیار ہو تو اس پر بحث کی کوئی گنجائش نہیں رہتی۔ اس کے بعد مسجد کو آباد کرنے کی فکر کرنی چاہئے۔‘‘
اور پھر وہ جب پاکستان میں ایک جلسے سے خطاب کے لیے پہنچے تھے جہاں دیوبند کے دو ہزار طلبہ سے خطاب کرنا تھا، انہوں نے وہاں بھی وہی بات کہی: ’’آپ اس ملک کی ترقی اور فلاح کے لیے محنت کریں۔‘‘ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان بننے سے پہلے اختلافات ضرور تھے مگر جب پاکستان بن گیا تو وہ اختلافات ختم ہوئے اور پاکستان کی بہتری کے لیے دعا کی۔ یہ تھا ہمارے علماء کا طرزِ عمل۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ مسلمانوں کے لیے اپنے دلوں میں کس قدر ہمدردی اور محبت کا جذبہ رکھتے تھے۔
میں آخر میں دو باتوں کا ذکر کرنا چاہوں گا۔ پہلی بات یہ کہ ڈاکٹر اسرار احمد، پاکستان کے عالمِ دین، جنہوں نے ہندوستانی مسلمانوں کے تعلق سے یہ بات کہی: مسیح علیہ السلام کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ’’ہندوستان میں جو ظلم مسلمانوں پر ہو رہا ہے وہ پاکستان کی وجہ سے ہو رہا ہے۔‘‘ اور وہ یہ محسوس کرتے ہیں کہ جب بھی وہ کھانا کھا رہے ہوتے ہیں، انہیں محسوس ہوتا ہے کہ وہ ہندوستانی مسلمانوں کا گوشت کھا رہے ہیں، اور جب کچھ پیتے ہیں تو محسوس ہوتا ہے کہ وہ ہندوستانی مسلمانوں کا خون پی رہے ہیں۔ یہ بات تو سمجھ میں آتی ہے، ان کی ایمانی حمیت کو ظاہر کرتی ہے، مگر وہیں پر علامہ اقبال اور محمد علی جناح کو صحیح قرار دیتے ہیں، جبکہ وہ خود کہتے ہیں کہ پاکستان کے وجود میں آنے کی وجہ علامہ اقبال ہی ہیں۔
دوسری بات یہ کہ محمد علی جناح نے علامہ اقبال کے تعلق سے کئی خوبیوں کے ساتھ یہ خوبی بھی بیان کی تھی کہ علامہ اقبال مستقبل کے بارے میں اچھا فہم رکھتے تھے۔ تب تو یہ بات کیونکر غلط ثابت ہوئی؟ پاکستان جس مقصد کے لیے بنا تھا آج تک وہ مقصد پورا نہیں ہوا۔ وہ ملک آج بھی دنیا کے سامنے ایک اچھی جمہوریت نہیں دے سکا۔ اسلامی نظام نافذ کرنے کے لیے بنایا گیا پاکستان آج بھی پورے ملک میں غیر اسلامی نظام پر قائم ہے۔ بے پردگی، فحاشی، عریانیت، رشوت، لوٹ کھسوٹ، بے ایمانی عروج پر ہے۔
پاکستان دنیا کا پہلا ملک ہے جو اسلام کے نام پر بنا، بڑے ہی افسوس کی بات ہے کہ آج تک اسلامی ملک نہیں بن سکا۔ اسلام سے غداری کی، جس مقصد کے لیے بنا تھا 75 سال میں بھی وہ مقصد پورا نہیں ہوا۔ تقسیمِ ہند سے پہلے مسلمان طاقتور تھے مگر صرف علامہ اقبال اور محمد علی جناح کو ہندوؤں کے خوف نے تقسیم کی دہلیز پر پہنچا دیا۔ کاش پاکستان بنانے والے وہ افراد ہندوستان میں رہتے ہوئے اس ملک کی دیگر قوموں کے ساتھ، دلتوں، پچھڑوں اور سکھوں کے ساتھ مل کر اس ملک کی سیاست میں حصہ لیتے، اور اس کے ساتھ اس ملک کی ترقی میں اپنا کردار ادا کرتے، اور ساتھ میں اسلام کی دعوت دیتے، یقیناً ہندوستان کی تصویر بدل چکی ہوتی۔ معاشی اعتبار سے، سیاسی اعتبار سے، سماجی اعتبار سے، اخلاقی اعتبار سے مسلمانوں کا کوئی ثانی نہیں ہوتا۔ نہ صرف ہندوستان بلکہ ہندوستانی مسلمانوں کی شناخت بھی عالمی سطح پر تمام مسلم ملکوں سے عمدہ ہوتی۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں