اختر جمال عثمانی
2 اکتوبر 1869 کو مہاتما گاندھی کی پیدائش ہوئی۔ اگرچہ وہ بیسویں صدی کے ہندوستان کی عظیم ترین شخصیت تھے لیکن اپنی انسانی عظمت کے حوالے سے وہ سارے عالم کے لیے نشاںِ راہ ہیں۔ وہ امن کے علم بردار تھے اور انہوں نے آزادی کی جنگ بھی امن کے اصولوں پر لڑی۔ دنیا کی تاریخ میں یہ پہلی جنگ تھی جو امن کو ہتھیار بنا کر لڑی گئی۔ دنیا حیرت زدہ رہ گئی اور اہنسا کے فلسفے نے عالمی پذیرائی حاصل کی۔ کتنی حیرت اور افسوس کا مقام ہے کہ آج ان کے مخالفین ان کی اہنسا کو بزدلی سے تعبیر کرتے ہیں۔
انہوں نے اپنے قول و عمل اور اصولوں کی پابندی سے نہ صرف ہندوستان کی تقدیر بدل دی بلکہ ان کی وجہ سے دوسرے غلام ملکوں میں بھی آزادی کے لیے تڑپ پیدا ہوئی اور ایشیا و افریقہ کے درجنوں ممالک کچھ ہی عرصے میں آزاد ہو گئے۔ آج بھی ان کے فلسفے پر عمل کر کے ہی ملک میں عدم برداشت اور تشدد کے ماحول پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ مہاتما گاندھی شروع سے انسانی ہمدردی، مساوات اور عالمی بھائی چارے کے قائل تھے۔
بیرسٹر ہو کر ہندوستان واپس لوٹنے کے بعد انہوں نے وکالت شروع کی لیکن خاطر خواہ کامیابی نہیں ملی۔ خوش قسمتی سے انہیں ایک معاملے میں بحیثیت وکیل جنوبی افریقہ جانا پڑا۔ وہاں انہوں نے رنگ و نسل کا امتیاز دیکھا بلکہ انہیں ٹرین سے زبردستی اتارے جانے کا تلخ تجربہ بھی ہوا۔ انہوں نے وہاں رہنے والے ہندوستانی مزدوروں کو متحد کیا اور ہندوستانیوں پر عائد ٹیکس اور ان کی عزتِ نفس مجروح کرنے والے قوانین کے خلاف مہم چلائی۔ وہاں چلائی گئی سول نافرمانی کی تحریک کی وجہ سے انہیں قید و بند کی صعوبتیں بھی برداشت کرنا پڑیں لیکن ان کی تحریک کا زور بڑھتا چلا گیا۔ آخرکار انگریزوں کے تشدد پر گاندھی جی کے عدم تشدد کی فتح ہوئی۔
ان کی اس کامیابی سے انہیں عالمگیر شہرت حاصل ہوئی۔ اس کے بعد وہ ہندوستان واپس آگئے۔ یہاں آ کر انہوں نے ہندوستان کو قریب سے دیکھنے کے لیے پورے ملک کا سفر کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس سفر نے انہیں ہندوستان کے عوام کی غربت کی صحیح تصویر دکھائی۔ گاندھی جی نے انگریزی حکومت کے خلاف تحریک شروع کی اور جلد ہی ان کی تحریک سارے ملک میں پھیل گئی۔ گاندھی جی کو کچھ ہی دنوں میں سارے ہندوستان میں بے پناہ مقبولیت حاصل ہوگئی۔ کانگریس پارٹی جو کبھی صرف امیروں کی پارٹی کہلاتی تھی گاندھی جی کی وجہ سے عوام کی پارٹی بن گئی۔
اب انہوں نے انگریزوں سے ملک کی آزادی کے لیے تحریک چلانے کا فیصلہ کیا۔ اس کے لیے انہوں نے ’ستیاگرہ‘ کو ہتھیار بنایا۔ انہوں نے سچ کو زندگی کا اصول بنا لیا اور کبھی کوئی مصلحت ان کے اصولوں کے آڑے نہ آ سکی۔ آزادی کی جنگ کے ساتھ ساتھ بے انصافی اور سماجی نابرابری کے خلاف بھی ان کی جنگ جاری رہی۔ چھوا چھوت کے خلاف انہوں نے زبردست مہم چلائی۔ اس لعنت کو ختم کرنے کے لیے وہ لگاتار کوشاں رہے۔ اس کے لیے انہوں نے اچھوت سمجھے جانے والے طبقے کے لوگوں کے ساتھ کھانا بھی کھایا اور ان کے لیے مندروں کے دروازے کھولے جانے کی وکالت کی۔
ایک جگہ انہوں نے کہا: ’’ذات پات کا نظام جیسا کہ ہم سمجھتے ہیں وقت کے تقاضے کے خلاف ہے۔ اگر ہندوازم اور ہندوستان کو زندہ رہنا ہے اور دن بہ دن ترقی کرنا ہے تو اسے ختم ہو جانا ہی چاہیے۔‘‘ انہوں نے ڈاکٹر امبیڈکر اور اعلیٰ طبقات کے درمیان ثالثی کے فرائض بھی انجام دیے اور اس طرح مستقبل کے ایک بڑے فتنے کا سدباب کر دیا۔ تحریک خلافت میں شامل ہو کر نہ صرف انہوں نے مسلمانوں کا دل جیتا بلکہ آزادی کی تحریک کو وسعت بھی دی۔ مسلمانوں کی بہت بڑی تعداد نے انہیں اپنا پیشوا مانا اور ساورکر اور جناح کے دو قومی نظریے کو ٹھکراتے ہوئے تقسیم کی مخالفت کی اور اپنے وطن میں رہنے کا فیصلہ کیا۔
گاندھی جی کے دل میں مساوات اور فلاح کا جذبہ کسی ایک مذہب یا کسی ایک ملک تک محدود نہ تھا بلکہ پورے عالم کے لیے تھا۔ تقسیم کا سانحہ قیامت سے کم نہ تھا۔ نفرت نے شمالی ہندوستان میں آگ لگا رکھی تھی۔ صدیوں سے ساتھ رہنے والے ایک دوسرے کے خون کے پیاسے بن چکے تھے۔ آزادی کے دن بھی وہ دہلی، جہاں جشن منایا جا رہا تھا، سے بہت دور بہار کے نواکھالی علاقے میں تھے اور ہندو مسلم فساد کو رکوانے کی کوشش کر رہے تھے۔ دہلی اور مغربی ہندوستان کے بہت سے علاقوں میں فساد پھوٹ پڑے تھے۔ ان حالات سے وہ بہت دل برداشتہ تھے۔ وہ بار بار امن کی اپیل کر رہے تھے لیکن جن کے لیے گاندھی جی کے منھ سے نکلی ہوئی معمولی سی بات بھی فرض کی حیثیت رکھتی تھی اور اسے پورا کرنا لازم سمجھتے تھے، ان پر آج گاندھی جی کی اپیلوں اور التجاؤں کا کوئی اثر نہ تھا۔
حالانکہ فرقہ پرست جماعتوں اور متعصب لوگوں کا اثر و رسوخ پہلے بہت کم تھا لیکن ملک کی تقسیم نے اسے اچانک بڑھنے کا موقع فراہم کر دیا تھا۔ انہوں نے عوام کو گاندھی جی سے بددل کرنے کے لیے ان کے خلاف پروپیگنڈہ شروع کر دیا۔ انہیں مسلمانوں کا حامی اور ہندوؤں کا مخالف قرار دیا گیا۔ ملک کی تقسیم کا مجرم بھی کہا گیا اور پاکستان کا ہمدرد بتایا گیا۔ یہ الزام آج بھی تواتر کے ساتھ دہرائے جا رہے ہیں۔ اس کے نتائج خطرناک ہی نکلنے تھے۔ فرقہ پرستوں کی نفرت یہاں تک پہنچی کہ ایک بار ان پر بم بھی پھینکا گیا۔ نفرت کے اس طوفان نے ان کے مخالفین کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیتیں سلب کر لی تھیں۔
آخرکار 30 جنوری 1948 کو جدوجہدِ آزادی کے عظیم رہنما اور عدم تشدد کے علم بردار مہاتما گاندھی کو ہندو انتہا پسند ناتھورام گوڈسے نے گولی مار کر قتل کر دیا۔ اس حملے سے پہلے بھی کئی بار انہیں قتل کرنے کی کوششیں کی جا چکی تھیں۔ گاندھی جی کے قتل کے بعد گوڈسے پر مقدمہ چلا، پھانسی کی سزا سنائی گئی اور دے بھی دی گئی۔ لیکن جس ذہنیت سے متاثر ہو کر گوڈسے نے قتل کیا تھا وہ پھلتی پھولتی رہی اور ایک نہایت تناور شکل اختیار کر گئی۔ گوڈسے کا تعلق پہلے آر ایس ایس سے تھا بعد میں ہندو مہا سبھا سے جڑاؤ ہوا۔
مہاتما گاندھی کے قتل کے بعد وزیر داخلہ سردار پٹیل نے آر ایس ایس پر پابندی لگا دی تھی۔ ان کا کہنا تھا: ’’گاندھی کے قتل کے لیے وہ فرقہ وارانہ زہر ذمہ دار ہے جسے پورے ملک میں پھیلایا گیا ہے۔‘‘ حالانکہ ملک کے طول و عرض میں غم و غصہ کی زبردست لہر دیکھتے ہوئے آر ایس ایس نے صفائی دی کہ ناتھورام گوڈسے کافی پہلے آر ایس ایس چھوڑ چکا تھا اور مہاتما گاندھی کے قتل کے وقت وہ آر ایس ایس کا ممبر نہیں تھا۔
شروع میں اس ذہنیت کے لوگ محدود تعداد میں تھے اور سیاست میں بھی حاشیے پر تھے۔ وجہ صاف تھی، آزادی کی جدوجہد میں نہ تو انہیں کوئی دلچسپی تھی نہ ان کا کوئی کردار تھا۔ لیکن مہاتما گاندھی کے قتل کے بعد بھی فرقہ پرست طاقتوں پر سنجیدگی کے ساتھ کبھی کوئی بندش نہیں لگائی گئی اور انہوں نے اپنی سیاست میں مذہب کا سہارا لے کر عوام کی بڑی تعداد کو اپنا ہمنوا بنا لیا۔ سیاسی طاقت میں لگاتار اضافہ ہوتا رہا۔
یوں تو فرقہ پرست ذہنیت کے کچھ لوگ گوڈسے کے حامی شروع سے رہے ہیں لیکن پچھلے کچھ سالوں سے اس حمایت میں لگاتار اضافہ ہوتا رہا ہے۔ کبھی اس کا مجسمہ لگایا جاتا ہے، کبھی اس کا مندر بنا کر اس کی پوجا کی جاتی ہے۔ مہاتما گاندھی کے قتل کو جائز ٹھہرانے کے لیے جو دلائل برسہا برس تک سرگوشیوں میں دیے جاتے رہے وہی دلائل اب بہ بانگ دہل دیے جا رہے ہیں۔ جس ناتھورام گوڈسے پر لعنت بھیجی جاتی رہی تھی، کھلے عام اس کی حمایت کے بارے میں بولنے کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا، اس کی حمایت میں بڑے بڑے پروگرام منعقد کیے جا رہے ہیں۔ ان پروگراموں میں گوڈسے کی عظمت کے گیت گائے جاتے ہیں اور گاندھی پر لعن طعن کی جاتی ہے۔
اگرچہ آزادی کی جنگ قومی یکجہتی سے عبارت تھی اور یہ طویل جنگ ہندوؤں اور مسلمانوں نے شانہ بشانہ لڑی۔ فرقہ پرستوں کی آنکھوں میں یہ اتحاد ہمیشہ کانٹے کی طرح کھٹکتا رہا اور انہوں نے ہی تقسیم کے بیج بوئے۔ اس کے بعد آج یہ نوبت ہے کہ فرقہ پرست قومی یکجہتی اور اتحاد کی تاریخ مٹا دینا چاہتے ہیں اور موجودہ اور آنے والی نسلوں کے لیے نفرت اور تعصب پر مبنی ایک نئی تاریخ لکھنا چاہتے ہیں۔ گاندھی جی کو لے کر جھوٹ اتنی روانی سے بولا جا رہا ہے کہ لوگ بھی جھوٹ کو سچ ماننے لگے ہیں۔
جس نظریے کے لوگ آج حکومت میں ہیں ان میں سے بہت سے لوگوں کی آستھا گوڈسے میں ہے، گاندھی میں نہیں۔ ساری دنیا میں گاندھی کے احترام سے مجبور ہو کر دل پر جبر کرتے ہوئے انہیں گاندھی جی کو رسمی تعظیم دینی پڑتی ہے۔ سیاسی ایجنڈے کے تحت جس طرح تاریخ کو توڑنے مروڑنے اور اپنے نظریات کے مطابق نئے سرے سے لکھنے کی کوشش جاری ہے اور لاکھوں لوگ ٹویٹر پر ’گوڈسے ہمارا ہیرو ہے‘ جیسے جملے ٹرینڈ کرا رہے ہیں اور گاندھی کی تضحیک اور توہین کرتے ہوئے کروڑوں میسج سوشل میڈیا پر آ رہے ہیں اور ان کی اصل زندگی فراموش کی جا رہی ہے تو آج ان کے لیے یہی کہا جا سکتا ہے:
کبھی جو حاصلِ منجملۂ حسنِ بہاراں تھے
چمن میں آج کل متروک ان کی داستان تک ہے


