مسلمانوں میں حکمت کا فقدان؟

ابراہیم آتش
پیغمبر ﷺ اسلام کی صفات میں سے ایک صفت یہ ہے کہ آپ ﷺ صاحبِ حکمت تھے اور لوگوں کو حکیمانہ روش اختیار کرنے کی تلقین فرماتے تھے۔ اس سلسلے میں بہت سے اقوال حدیث کی کتابوں میں آئے ہیں۔ مثال کے طور پر حضرت ابن عباسؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے سینے سے لگایا اور کہا کہ "اے اللہ! اس کو حکمت عطا فرما”۔ اسی طرح اور بہت سی روایتیں ہیں جن سے حکمت کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے۔ مثلاً رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ "کیا ہی اچھی ہے وہ مجلس جس میں حکمت کی بات کی جائے”۔ اسی طرح آپ ﷺ نے فرمایا کہ "حکمت سے زیادہ افضل کوئی تحفہ نہیں ہے”۔
حکمت کی اہمیت اتنی زیادہ ہے کہ اس بابت یہ تعلیم دی گئی کہ دوسری قوموں میں اگر کوئی حکمت کی چیز ملے تو اسے لینے سے دریغ نہیں کرنا چاہئے۔ بعض روایتوں میں حکمت کی اہمیت عبادت سے بھی زیادہ بتائی گئی ہے۔ چنانچہ ترمذی اور ابن ماجہ میں روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "ایک فقیہ شیطان پر ہزار عابدوں سے زیادہ بھاری ہے”۔
پیغمبر اسلام ﷺ کی پوری زندگی حکمت کی مثالوں سے بھری پڑی ہے۔ نبوت کی ذمہ داریوں کو ادا کرنے کے لئے آپ نے ہر موقع اور ہر مرحلے پر حکمت کا طریقہ اختیار فرمایا۔ اس سلسلے میں آپ ﷺ کی زندگی سے چند مثالیں پیش کی جاتی ہیں۔
پیغمبر اسلام ﷺ ہجرت کر کے مدینہ آئے تو یہاں عبداللہ بن اُبی آپ کا شدید مخالف بن گیا۔ اگرچہ اس نے اسلام قبول کر لیا تھا مگر حسد کے جذبے کے تحت وہ آپ کا بدترین دشمن رہا۔ آپ کی توہین کرنا، سب و شتم کرنا اور آپ کے خلاف بری باتیں پھیلانا اس کا سب سے بڑا مشغلہ بن گیا۔ یہ کہنا صحیح ہوگا کہ وہ سب سے بڑا شاتمِ رسول تھا۔ حضرت عمر فاروقؓ نے رسول اللہ ﷺ سے کہا کہ مجھے اجازت دیجئے کہ میں اس کا قتل کر دوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: "اسے چھوڑ دو، لوگ یہ نہ کہیں کہ محمد اپنے ساتھیوں کو قتل کرتے ہیں”۔ اس واقعے سے پیغمبر اسلام ﷺ کا ایک خاص اسوہ معلوم ہوتا ہے، وہ یہ کہ توہین کو برداشت کر لو کیونکہ اگر تم نے برداشت نہ کیا تو اس سے بھی بڑی برائی سامنے آئے گی اور وہ خدا کے دین کی بدنامی ہوگی۔
پیغمبر اسلام ﷺ تقریباً تیرہ سال مکہ میں رہے۔ یہاں کی اکثریت آپ کی مخالف بنی رہی۔ انھوں نے ہر طرح آپ کو ستایا، تاہم آپ کی دعوتی جدوجہد کے نتیجے میں تقریباً دو سو مرد و عورت اسلام میں داخل ہوگئے۔ یہ لوگ بار بار آپ سے کہتے رہے کہ ہم ظلم کے خلاف جہاد کریں گے، مگر آپ ﷺ ہمیشہ انھیں تلقین کرتے رہے۔ مثلاً حضرت عمر فاروقؓ نے قریش کے مظالم کے خلاف جہاد کی اجازت مانگی تو آپ ﷺ نے فرمایا: "یا عمر! انا قلیل” یعنی "اے عمر! ہم تھوڑے ہیں”۔ مکی دور کے آخر میں مدینہ کے تقریباً دو سو آدمی اسلام میں داخل ہوئے۔ انھیں جب معلوم ہوا کہ مکہ کے لوگ آپ کو اور آپ کے اصحاب کو ظلم و زیادتی کا نشانہ بنا رہے ہیں تو انھوں نے بھی کہا کہ ہمیں ان ظالموں کے خلاف لڑنے کی اجازت دیجئے۔ مگر ان سے بھی آپ ﷺ نے یہی فرمایا کہ "صبر کرو، کیونکہ مجھے قتال کی اجازت نہیں دی گئی”۔
پیغمبر اسلام ﷺ نے ہر قسم کے ظلم و زیادتی کے باوجود تقریباً پندرہ سال تک یکطرفہ طور پر صبر کیا۔ اس کے بعد پہلی بار آپ ﷺ نے غزوہ بدر کے موقع پر اپنے اصحاب کو لے کر دشمنوں کے مقابلے کے لئے نکلے۔ یہ بھی آپ نے اسی وقت کیا جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ وعدہ آگیا کہ آسمان سے فرشتے تمہاری مدد کے لئے آئیں گے۔ پیغمبر اسلام ﷺ کا طریقہ یہ نہیں تھا کہ جب بھی کوئی آپ پر ظلم کرے تو فوراً اس کے خلاف کارروائی شروع کر دی جائے۔ آپ ﷺ کی سنت یہ ہے کہ ظلم کے باوجود صبر و اعراض کا طریقہ اختیار کیا جائے اور عملی اقدام اس وقت کیا جائے جب اس کا نتیجہ خیز ہونا یقینی ہو۔
فتح مکہ کے بعد عرب میں وہ دور آیا جس کو تاریخ میں "عام الوفود” کہا جاتا ہے۔ عرب کے قبائل مدینہ آ کر اسلام قبول کرنے لگے۔ ان میں سے ایک قبیلہ ثقیف بھی تھا جو طائف سے آیا تھا۔ یہ لوگ مدینہ آئے تو انھوں نے ایک انوکھی شرط رکھی۔ انھوں نے کہا کہ ہم اسلام تو قبول کریں گے لیکن نہ زکوٰۃ دیں گے اور نہ جہاد کریں گے۔ یہ ایک نازک مسئلہ تھا۔ عام لوگ اس قسم کے اسلام کو قبول کرنے کے لئے تیار نہ تھے۔ لیکن پیغمبر اسلام ﷺ نے حال سے اوپر اٹھ کر مستقبل کو دیکھا۔ آپ ﷺ نے اپنی بصیرت کے تحت یہ سمجھا کہ یہ لوگ جب اسلام میں داخل ہو کر مسلم معاشرے کا حصہ بن جائیں گے تو خود ہی وہ سب کچھ کرنے لگیں گے۔ چنانچہ آپ ﷺ نے ان کی شرطیں مانتے ہوئے انھیں اسلام میں داخل کر لیا۔ لوگوں کے اشکال کو رفع کرنے کے لئے آپ ﷺ نے فرمایا: "جب وہ اسلام قبول کر لیں گے تو اس کے بعد زکوٰۃ بھی دیں گے اور جہاد بھی کریں گے”۔
پیغمبر اسلام ﷺ کے اس اسوہ سے ایک عظیم حکمت معلوم ہوتی ہے۔ یہ حکمت ایک لفظ میں "مستقبل بینی” ہے۔ انسان کوئی پتھر نہیں جو تاثیر کو قبول نہ کرے۔ انسان ہمیشہ بدلتا رہتا ہے۔ انسان کے حال پر اس کے مستقبل کو قیاس کیا جا سکتا ہے۔ آدمی سے معاملہ کرتے وقت ہمیشہ اس حقیقت کو سامنے رکھنا چاہئے۔ فوری تبدیلی پر اصرار سے ضد پیدا ہوتی ہے۔ اس کے برعکس اگر وسعتِ ظرف کا طریقہ اختیار کیا جائے تو انسان مستقبل میں وہی بن جائے گا جیسا کہ حال میں ہم اسے دیکھنا چاہتے ہیں۔
یہ تمام مثالیں حکمتِ پیغمبر ﷺ کی تھیں جس کی بدولت بہت ہی کم وقت میں اسلام عرب سے نکل کر دنیا کے بیشتر حصوں میں پھیل گیا۔ مگر بعد کے دور میں کچھ علماء حکمت اور داعی کی ذمہ داری کو شاید سمجھ نہ سکے جس کی وجہ سے نہ صرف مسلمانوں کا نقصان ہو رہا ہے بلکہ دنیا میں بسنے والے تمام انسانوں کا عظیم اور ناقابلِ تلافی نقصان ہو رہا ہے، جس کو ایک مثال سے سمجھا جا سکتا ہے۔
جس زمانے میں روسی قوم بت پرستی کا شکار تھی، شہنشاہ روس ولادی میر نے مذاہب کی تحقیق کے نام پر ایک اجلاس طلب کیا۔ اس میں تمام علماء اسلام کو بلایا گیا۔ جو صاحب اس غرض کے لئے قازان سے تشریف لائے تھے، انھوں نے اسلام کے تمام عقائد میں سے یہ مسئلہ منتخب کیا کہ اسلام میں سور کا گوشت بالکل حرام ہے۔ مورخین لکھتے ہیں کہ شہنشاہ روس ولادی میر (956-1015) اسلام کی طرف مائل تھا اور چاہتا تھا کہ اپنی تمام قوم کے لئے مذہب اسلام کا انتخاب کرے۔ لیکن قازانی عالم نے شریعت اسلام کے تمام احکام میں سے صرف اس مسئلہ کو پیش کر کے اس قدر زور دیا کہ شہنشاہ غصے میں آکر ان کو نکال دیا اور عیسائی مذہب قبول کر لیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ روس کے چھ کروڑ آدمی عیسائی ہو گئے۔
بظاہر یہ غفلت بڑی عجیب معلوم ہوتی ہے، مگر اس سے زیادہ عجیب بات یہ ہے کہ یہ غفلت آج بھی جاری ہے۔ قازان کے عالم کی غلطی یہ تھی کہ انھوں نے مدعو سے غیر حکیمانہ گفتگو کی، جس کی وجہ سے وہ بدک گیا۔ آج کے مسلمانوں کی غلطی بھی یہی ہے کہ وہ اپنی مدعو قوموں سے بے فائدہ مقابلہ آرائی جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ اسلام کے مخاطبین کے دل اسلام کے بارے میں سخت ہوگئے ہیں۔ مسلمانوں کی ذمہ داری یہ تھی کہ وہ خدا کے بندوں کو خدا کے دین کی طرف بلاتے، مگر اس کے برعکس وہ یہ کر رہے ہیں کہ اپنے لادینی جھگڑوں سے لوگوں کو اسلام سے بدکائے ہوئے ہیں۔ یہ موجودہ دور کے مسلمانوں کا سب سے بڑا جرم ہے۔ دنیا کی قوموں کو دینِ حق سے قریب کرنا تو درکنار، وہ انھیں دینِ حق سے دور کر رہے ہیں۔ اس جرم کے ساتھ مسلمان کبھی خدا کی مدد کے مستحق نہیں ہو سکتے۔
ززز

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

جموں کشمیر میں شادی کی تقریب کے دوران مکان گرنے سے 20 زخمی

سری نگر: جموں و کشمیر کے ضلع ریاسی کی تحصیل...

بفلیاز پونچھ میں آگ لگنے سے 13 دکانیں جل کر خاکستر

پونچھ 7 جون: پونچھ ضلع کی تحصیل سورنکوٹ کے...

گھریلو ایل پی جی کی قیمت میں 29 روپے فی 14.2 کلوگرام سلنڈر کا اضافہ

نئی دہلی 7 جون: گھریلو کھانا پکانے والی گیس ایل...

شاعری

شیخ افلاق حسین سیمانی وہ بات اب تجھ میں باقی...

تازہ ترین خبریں

جموں کشمیر میں شادی کی تقریب کے دوران مکان گرنے سے 20 زخمی

سری نگر: جموں و کشمیر کے ضلع ریاسی کی تحصیل...

بفلیاز پونچھ میں آگ لگنے سے 13 دکانیں جل کر خاکستر

پونچھ 7 جون: پونچھ ضلع کی تحصیل سورنکوٹ کے...

گھریلو ایل پی جی کی قیمت میں 29 روپے فی 14.2 کلوگرام سلنڈر کا اضافہ

نئی دہلی 7 جون: گھریلو کھانا پکانے والی گیس ایل...

شاعری

شیخ افلاق حسین سیمانی وہ بات اب تجھ میں باقی...

مسلمانوں میں حکمت کا فقدان؟

ابراہیم آتش
پیغمبر ﷺ اسلام کی صفات میں سے ایک صفت یہ ہے کہ آپ ﷺ صاحبِ حکمت تھے اور لوگوں کو حکیمانہ روش اختیار کرنے کی تلقین فرماتے تھے۔ اس سلسلے میں بہت سے اقوال حدیث کی کتابوں میں آئے ہیں۔ مثال کے طور پر حضرت ابن عباسؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے سینے سے لگایا اور کہا کہ "اے اللہ! اس کو حکمت عطا فرما”۔ اسی طرح اور بہت سی روایتیں ہیں جن سے حکمت کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے۔ مثلاً رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ "کیا ہی اچھی ہے وہ مجلس جس میں حکمت کی بات کی جائے”۔ اسی طرح آپ ﷺ نے فرمایا کہ "حکمت سے زیادہ افضل کوئی تحفہ نہیں ہے”۔
حکمت کی اہمیت اتنی زیادہ ہے کہ اس بابت یہ تعلیم دی گئی کہ دوسری قوموں میں اگر کوئی حکمت کی چیز ملے تو اسے لینے سے دریغ نہیں کرنا چاہئے۔ بعض روایتوں میں حکمت کی اہمیت عبادت سے بھی زیادہ بتائی گئی ہے۔ چنانچہ ترمذی اور ابن ماجہ میں روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "ایک فقیہ شیطان پر ہزار عابدوں سے زیادہ بھاری ہے”۔
پیغمبر اسلام ﷺ کی پوری زندگی حکمت کی مثالوں سے بھری پڑی ہے۔ نبوت کی ذمہ داریوں کو ادا کرنے کے لئے آپ نے ہر موقع اور ہر مرحلے پر حکمت کا طریقہ اختیار فرمایا۔ اس سلسلے میں آپ ﷺ کی زندگی سے چند مثالیں پیش کی جاتی ہیں۔
پیغمبر اسلام ﷺ ہجرت کر کے مدینہ آئے تو یہاں عبداللہ بن اُبی آپ کا شدید مخالف بن گیا۔ اگرچہ اس نے اسلام قبول کر لیا تھا مگر حسد کے جذبے کے تحت وہ آپ کا بدترین دشمن رہا۔ آپ کی توہین کرنا، سب و شتم کرنا اور آپ کے خلاف بری باتیں پھیلانا اس کا سب سے بڑا مشغلہ بن گیا۔ یہ کہنا صحیح ہوگا کہ وہ سب سے بڑا شاتمِ رسول تھا۔ حضرت عمر فاروقؓ نے رسول اللہ ﷺ سے کہا کہ مجھے اجازت دیجئے کہ میں اس کا قتل کر دوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: "اسے چھوڑ دو، لوگ یہ نہ کہیں کہ محمد اپنے ساتھیوں کو قتل کرتے ہیں”۔ اس واقعے سے پیغمبر اسلام ﷺ کا ایک خاص اسوہ معلوم ہوتا ہے، وہ یہ کہ توہین کو برداشت کر لو کیونکہ اگر تم نے برداشت نہ کیا تو اس سے بھی بڑی برائی سامنے آئے گی اور وہ خدا کے دین کی بدنامی ہوگی۔
پیغمبر اسلام ﷺ تقریباً تیرہ سال مکہ میں رہے۔ یہاں کی اکثریت آپ کی مخالف بنی رہی۔ انھوں نے ہر طرح آپ کو ستایا، تاہم آپ کی دعوتی جدوجہد کے نتیجے میں تقریباً دو سو مرد و عورت اسلام میں داخل ہوگئے۔ یہ لوگ بار بار آپ سے کہتے رہے کہ ہم ظلم کے خلاف جہاد کریں گے، مگر آپ ﷺ ہمیشہ انھیں تلقین کرتے رہے۔ مثلاً حضرت عمر فاروقؓ نے قریش کے مظالم کے خلاف جہاد کی اجازت مانگی تو آپ ﷺ نے فرمایا: "یا عمر! انا قلیل” یعنی "اے عمر! ہم تھوڑے ہیں”۔ مکی دور کے آخر میں مدینہ کے تقریباً دو سو آدمی اسلام میں داخل ہوئے۔ انھیں جب معلوم ہوا کہ مکہ کے لوگ آپ کو اور آپ کے اصحاب کو ظلم و زیادتی کا نشانہ بنا رہے ہیں تو انھوں نے بھی کہا کہ ہمیں ان ظالموں کے خلاف لڑنے کی اجازت دیجئے۔ مگر ان سے بھی آپ ﷺ نے یہی فرمایا کہ "صبر کرو، کیونکہ مجھے قتال کی اجازت نہیں دی گئی”۔
پیغمبر اسلام ﷺ نے ہر قسم کے ظلم و زیادتی کے باوجود تقریباً پندرہ سال تک یکطرفہ طور پر صبر کیا۔ اس کے بعد پہلی بار آپ ﷺ نے غزوہ بدر کے موقع پر اپنے اصحاب کو لے کر دشمنوں کے مقابلے کے لئے نکلے۔ یہ بھی آپ نے اسی وقت کیا جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ وعدہ آگیا کہ آسمان سے فرشتے تمہاری مدد کے لئے آئیں گے۔ پیغمبر اسلام ﷺ کا طریقہ یہ نہیں تھا کہ جب بھی کوئی آپ پر ظلم کرے تو فوراً اس کے خلاف کارروائی شروع کر دی جائے۔ آپ ﷺ کی سنت یہ ہے کہ ظلم کے باوجود صبر و اعراض کا طریقہ اختیار کیا جائے اور عملی اقدام اس وقت کیا جائے جب اس کا نتیجہ خیز ہونا یقینی ہو۔
فتح مکہ کے بعد عرب میں وہ دور آیا جس کو تاریخ میں "عام الوفود” کہا جاتا ہے۔ عرب کے قبائل مدینہ آ کر اسلام قبول کرنے لگے۔ ان میں سے ایک قبیلہ ثقیف بھی تھا جو طائف سے آیا تھا۔ یہ لوگ مدینہ آئے تو انھوں نے ایک انوکھی شرط رکھی۔ انھوں نے کہا کہ ہم اسلام تو قبول کریں گے لیکن نہ زکوٰۃ دیں گے اور نہ جہاد کریں گے۔ یہ ایک نازک مسئلہ تھا۔ عام لوگ اس قسم کے اسلام کو قبول کرنے کے لئے تیار نہ تھے۔ لیکن پیغمبر اسلام ﷺ نے حال سے اوپر اٹھ کر مستقبل کو دیکھا۔ آپ ﷺ نے اپنی بصیرت کے تحت یہ سمجھا کہ یہ لوگ جب اسلام میں داخل ہو کر مسلم معاشرے کا حصہ بن جائیں گے تو خود ہی وہ سب کچھ کرنے لگیں گے۔ چنانچہ آپ ﷺ نے ان کی شرطیں مانتے ہوئے انھیں اسلام میں داخل کر لیا۔ لوگوں کے اشکال کو رفع کرنے کے لئے آپ ﷺ نے فرمایا: "جب وہ اسلام قبول کر لیں گے تو اس کے بعد زکوٰۃ بھی دیں گے اور جہاد بھی کریں گے”۔
پیغمبر اسلام ﷺ کے اس اسوہ سے ایک عظیم حکمت معلوم ہوتی ہے۔ یہ حکمت ایک لفظ میں "مستقبل بینی” ہے۔ انسان کوئی پتھر نہیں جو تاثیر کو قبول نہ کرے۔ انسان ہمیشہ بدلتا رہتا ہے۔ انسان کے حال پر اس کے مستقبل کو قیاس کیا جا سکتا ہے۔ آدمی سے معاملہ کرتے وقت ہمیشہ اس حقیقت کو سامنے رکھنا چاہئے۔ فوری تبدیلی پر اصرار سے ضد پیدا ہوتی ہے۔ اس کے برعکس اگر وسعتِ ظرف کا طریقہ اختیار کیا جائے تو انسان مستقبل میں وہی بن جائے گا جیسا کہ حال میں ہم اسے دیکھنا چاہتے ہیں۔
یہ تمام مثالیں حکمتِ پیغمبر ﷺ کی تھیں جس کی بدولت بہت ہی کم وقت میں اسلام عرب سے نکل کر دنیا کے بیشتر حصوں میں پھیل گیا۔ مگر بعد کے دور میں کچھ علماء حکمت اور داعی کی ذمہ داری کو شاید سمجھ نہ سکے جس کی وجہ سے نہ صرف مسلمانوں کا نقصان ہو رہا ہے بلکہ دنیا میں بسنے والے تمام انسانوں کا عظیم اور ناقابلِ تلافی نقصان ہو رہا ہے، جس کو ایک مثال سے سمجھا جا سکتا ہے۔
جس زمانے میں روسی قوم بت پرستی کا شکار تھی، شہنشاہ روس ولادی میر نے مذاہب کی تحقیق کے نام پر ایک اجلاس طلب کیا۔ اس میں تمام علماء اسلام کو بلایا گیا۔ جو صاحب اس غرض کے لئے قازان سے تشریف لائے تھے، انھوں نے اسلام کے تمام عقائد میں سے یہ مسئلہ منتخب کیا کہ اسلام میں سور کا گوشت بالکل حرام ہے۔ مورخین لکھتے ہیں کہ شہنشاہ روس ولادی میر (956-1015) اسلام کی طرف مائل تھا اور چاہتا تھا کہ اپنی تمام قوم کے لئے مذہب اسلام کا انتخاب کرے۔ لیکن قازانی عالم نے شریعت اسلام کے تمام احکام میں سے صرف اس مسئلہ کو پیش کر کے اس قدر زور دیا کہ شہنشاہ غصے میں آکر ان کو نکال دیا اور عیسائی مذہب قبول کر لیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ روس کے چھ کروڑ آدمی عیسائی ہو گئے۔
بظاہر یہ غفلت بڑی عجیب معلوم ہوتی ہے، مگر اس سے زیادہ عجیب بات یہ ہے کہ یہ غفلت آج بھی جاری ہے۔ قازان کے عالم کی غلطی یہ تھی کہ انھوں نے مدعو سے غیر حکیمانہ گفتگو کی، جس کی وجہ سے وہ بدک گیا۔ آج کے مسلمانوں کی غلطی بھی یہی ہے کہ وہ اپنی مدعو قوموں سے بے فائدہ مقابلہ آرائی جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ اسلام کے مخاطبین کے دل اسلام کے بارے میں سخت ہوگئے ہیں۔ مسلمانوں کی ذمہ داری یہ تھی کہ وہ خدا کے بندوں کو خدا کے دین کی طرف بلاتے، مگر اس کے برعکس وہ یہ کر رہے ہیں کہ اپنے لادینی جھگڑوں سے لوگوں کو اسلام سے بدکائے ہوئے ہیں۔ یہ موجودہ دور کے مسلمانوں کا سب سے بڑا جرم ہے۔ دنیا کی قوموں کو دینِ حق سے قریب کرنا تو درکنار، وہ انھیں دینِ حق سے دور کر رہے ہیں۔ اس جرم کے ساتھ مسلمان کبھی خدا کی مدد کے مستحق نہیں ہو سکتے۔
ززز

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں