سراج نقوی
سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس اور بابری مسجد تنازعہ کا فیصلہ سنانے والی پانچ رکنی بنچ کے رکن جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ نے ’نیوز لانڈری‘نام کی ایک ویب سائٹ کو دیے گئے انٹر ویو میں کہا ہے کہ،’’بابری مسجدکی تعمیر ہی ایک بنیادی بے حرمتی تھی۔‘‘چندر چوڑ کے ذریعے جو کچھ کہا گیا وہ اپنے آپ میں انصاف کی بے حرمتی کے مترادف ہے۔دراصل انٹر ویو لینے والے صحافی سری نواسن نے چندر چوڑ سے سوال کیا تھا کہ ،’’دلیل دی جاتی ہے کہ مسجد کے داخلی صحن پر تنازعہ اس لیے ہوا کیونکہ ہندوئوں نے غیر قانونی عمل جیسے (مسجد کی) بے حرمتی اور ہنگامہ آرائی کی،جبکہ مسلمانوں نے بیرون صحن میں ایسا کچھ نہیں کیا،اور انھوں نے مخالفت بھی نہیں کی۔۔۔۔۔۔یعنی یہ کہ انھوں نے لڑائی نہیں کی ۔جبکہ ہندوئوں نے کی۔‘‘اس سوال کے جواب میں چندر چوڑ نے جو کچھ کہا وہ دراصل ان کے ہندوتووادی موقف کے کھلے اظہار کے مترادف ہے،اور اس بات کا ثبوت کہ ایودھیا تنازعہ پر فیصلہ دینے والے ججوں کی ٹیم میں شامل کچھ جج کس نیت اور نظریے کو سامنے رکھ کر اس تنازعہ کی سماعت کر رہے تھے۔
سری نواسن کی بات کا جواب دیتے ہوئے چندر چوڈ نے کہا کہ ،’’جب آپ کہتے ہیںکہ ہندوئوں نے داخلی صحن کو ناپاک کر دیا،تو اس اصل ناپاکی(یا بے حرمتی)کو کیا کہیں؟ مسجد کی تعمیر ہی دراصل ناپاک کرنے والا عمل تھا،کیا آپ یہ سب بھول جاتے ہیں؟ کیا ہم تاریخ کو بھو ل جائیں؟‘‘مجھے نہیں معلوم چندر چوڑ کی تاریخ فہمی یا حصول تاریخ کے ذرائع کیا ہیں،لیکن غیر جانبدار تاریخ دانوں میں اس بات پر اتفاق ہے کہ ایودھیا تنازعہ ہندوتو ادیوں نے ایک خاص مقصد سے کھڑا کیا۔مورخین مانتے ہیں کہ بابر نے کسی مندر کا نہدام نہیں کیا جیسا کہ دعویٰ ہندوتووادی کرتے ہیں۔اس لیے جب چندر چوڑ یہ کہتے ہیں کہ ’کیا ہم تاریخ کو بھول جائیں تو وہ دراصل تاریخی حقائق سے زیادہ ’آستھا‘کو اپنی دلیل کی بنیاد بناتے ہیں۔حالانکہ ایودھیا تنازعہ پر فیصلہ سنانے والی بنچ نے اس تنازعے سے متعلق مسلمانوں کے دلائل کو بڑی حد تک تسلیم بھی کیا تھا اور مسجد انہدام کو غیر قانونی بھی بتایا تھا۔اسی لیے جب چندرچوڑمسجد کی تعمیر کے عمل کو ’’بے حرمتی‘‘ سے تعبیر کرتے ہیں تو دراصل وہ خود انصاف کی بے حرمتی کرنے والے ججوں میں شامل ہو جاتے ہیں۔دوسری اہم بات یہ کہ جب یہ ثابت ہے کہ مسجد کی تعمیر اس کی زمین کے نیچے موجود کسی مبینہ ڈھانچے پر چار سو سال بعد کی گئی تو وہ محکمہ آثار قدیمہ کی اس بے بنیاد تھیوری کی بھی حمایت کرتے ہیں کہ جسے غیر جانبدار مورخین رد کر چکے ہیں ،یعنی کوئی مندر توڑ کر مسجد بنائی گئی،اور جب مسجد کی تعمیر مندر توڑ کر نہیں کی گئی تو پھر بے حرمتی کا شگوفہ کیا معنی رکھتاہے؟ کیونکہ اس تنازعے پر سپریم کورٹ کا فیصلہ آچکا ہے اس لیے اس فیصلے سے باہر جاکر کسی طرح کے مباحثے کی کوئی گنجائش نہیں،لیکن چندر چوڑ نے تو خود اس بنچ کے فیصلے کے کئی نکات کی بالواسطہ نفی اپنے انٹر ویو میں کی ہے کہ جس بنچ میں وہ خود بھی شامل تھے۔ظاہر ہے اپنے انٹر ویو میں انھوں نے جن دلائل کا سہارا لیا وہ دراصل سنگھ اور ہندوتو وادیوں کے موقف کی ہی ترجمانی ہے اور یہ کام انھوں نے سپریم کورٹ کے اس معاملے میں پیش کیے گئے موقف کے کئی نکات کو نظر انداز کرکے کیا ہے۔
مثلاً جب ان سے سوال کیا گیا کہ مسجد کی تعمیر میں کی گئی ’تاریخی بے حرمتی‘ کیا مسجد انہدام کو جائز ٹھہراتی ہے تو یہ بھی کہاکہ’’بالکل نہیں،اور سپریم کورٹ کا فیصلہ ثبوتوں قانونی کسوٹیوں کی بنیاد پر لیا گیاہے۔‘‘ چندر چوڑنے اس الزام کو بھی مسترد کر دیاکہ اس معاملے میں فیصلہ ’آستھا‘ کی بنیاد پر لیا گیا ہے۔
اگر ہم چندر چوڑ کے مذکورہ دعوے کو رست مان لیں تو پھر سوال یہ ہے کہ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں جب یہ کہا تھا کہ محکمہ آثار قدیمہ کی رپورٹ کی بنیاد پر متازعہ زمین کی ملکیت کا فیصلہ نہیں ہو سکتا تو پھر کس بنیاد پر مسجد کے پیروکاروں کو اس زمین کا مالک نہیں مانا گیا۔یہ بات تو واضح ہے کہ کسی بھی حکومت نے زمین کی ملکیت پر اپنا دعویٰ پیش نہیں کیا تھا۔زمین کی ملکیت یا تو ہندوئوں کی تھی ،یا پھر مسلمانوں کی۔لیکن مندر کے پیروکاروں کے زمین کی ملکیت کے دعوے کو محکمہ آثار قدیمہ کی رپورٹ کے باوجود تسلیم نہیں کیاگیا۔یعنی معاملہ ’آستھا‘ کی بنیاد پر ہی طے کیا گیا۔دوسری اہم بات یہ کہ خود چندر چوڑ یہ کہہ چکے ہیں کہ انھیں اس معاملے میں’’ بھگوان کی طرف سے مارگ درشن‘‘ ملا۔اس بات کو انھوں نے انٹر ویو میں بھی د وہرایا۔سوال یہ ہے کہ کسی سیکولر جمہوری ریاست کے سپریم کورٹ کا جج آئین کے مارگ درشن کو چھوڑ کر بھگوان کے مارگ درشن پر فیصلہ دیکر کیا عدل و انصاف کو مذہب سے جوڑنے کی غلطی نہیں کرتا؟اگر عدالتوں کے فیصلوں میں بھگوان سے مارگ درشن کو ہی بنیاد بنایا جانے لگے تو پھر آئین کی ضرورت ہی کیا رہ جاتی ہے؟اس طرح کا موقف تو عدل کے بنیادی نظر یے کی ہی نفی کرتا ہے۔اس لیے کہ ایسی صورت میں ایک ہندو جج بھگوان سے مارگ درشن لیگا،ایک عیسائی یامسلمان جج اپنے اپنے عقیدے کے مطابق اس خالق کائنات سے راست ہدایت لینے کا دعویٰ کرنے لگیں گے،جسے وہ گوڈ یا اللہ کہتے ہیں۔ایک سیکولر آئین میں کوئی جج اپنا فیسلہ سناتے ہوئے اس طرح کے موقف کا اظہار کرتا ہے تو درحقیقت یہ اس کے مذہبی عقائد یا جذبات کی عکاسی تو ہو سکتی ہے لیکن اسے عدل کی کسوٹی تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔چندر چوڑ جب مسجد کی تعمیر کو ’’اصل بے حرمتی کا عمل‘‘ قرار دے رہے تھے تو انھوں نے یہ بھی کہا کہ یہ (یعنی مبینہ بے حرمتی)عمل ہندو فریق کے دعووں سے مطابقت رکھتا ہے۔چندر چوڑ کی یہ دلیل بہت واضح طور پر ان کے ہندوتووادی نظریات کی پول کھولتی ہے اور بنچ کے ممبر جج کے طور پر ان کے فیصلے پر ایک مرتبہ پھر سوالیہ نشان لگاتی ہے۔حالانکہ یہاں یہ واضح کرنا بھی ضروری ہے کہ اس تنازعہ پر اپنے جذبات ،عقیدے اور کئی اہم حقائق کا گلا گھونٹ کر مسلمان اپنے وعدے کے مطابق اسے تسلیم کر چکا ہے،اور سپریم کورٹ کے ذریعے ظاہر کیے گئے اس موقف کے باوجود تسلیم کر چکا ہے جس میں اس نے کہا تھا کہ محکمہ آثار قدیمہ کی رپورٹ سے مسجد کے نیچے مندر کے انہدام کی تصدیق نہیں ہوتی،اور جب کسی مندر کے انہدام کی تصدیق ہی نہیں ہوتی تو پھر مسجد کی تعمیر کا عمل کسی بھی اعتبار سے ’’بے حرمتی‘‘ کس طرح قرار پا سکتا ہے؟چندر چوڑ نے مسجد میں ہندو فریق کے ذریعے1949میں مورتیاں رکھے جانے کو بھی درست ٹھہہرایا۔یہ موقف بھی ان کے ہندوتو وادی نظریے کا ہی ثبوت ہے اور اس میں بھی ان کی ’آستھا‘ کی صاف جھلک نظر آتی ہے،جو انصاف کے تقاضوں کی بے حرمتی کرنے کے ان کے موقف کا ثبوت ہے۔بات صرف ایودھیا تنازعے میں ان کے مذکورہ موقف کے ہندوتو کے قریب ہونے کی نہیں ہے،بلکہ چندر چوڑ نے اپنے انٹر ویو میں وارانسی کے مندر مسجد تنازعے میں بھی سروے کی اجازت دینے کے فیصلے کا اس کے باوجود دفاع کیا کہ اس معاملے میں پارلیمنٹ پہلے ہی قانون بنا کر اس طرح کے نئے تنازعات پر پابندی لگا چکی ہے۔لیکن اسے کیا کہیے کہ چندر چوڑ جیسے لوگ عدل و انصاف کا مطلب ہندوئوں کی ’آستھا‘ کے بہانے مسلمانوں کے عقائد اور تاریخی حقائق کو مجروح کرنا ہی مان لیں۔
مجھے نہیں معلوم کہ چندر چوڑ کے ذریعے مذکورہ انٹر ویو میں ظاہر کیے گئے موقف کا اصل مقصد کیاہے، لیکن یہ بات بہرحال واضح ہے کہ ایودھیا تنازعے پر فیصلہ دینے والی بنچ کے سربراہ اور سابق چیف جسٹس رنجن گو گوئی کو ان کے ریٹائرمنٹ کے فوراً بعدمودی حکومت راجیہ سبھا کی رکنیت کے تحفے سے نواز چکی ہے،جب کہ جسٹس ایس عبد النظیر کو ریٹائرمنٹ کے صرف ایک ماہ بعد آندھر اپردیش کی گورنری سے نواز اجا چکا ہے۔بنچ کے تیسرے جج جسٹس اشوک بھوشن ریٹائرمنٹ کے تین ماہ بعد ہی ’نیشنل کمپنی لاء اپیلیٹ ٹربیونل‘کے چئیر مین مقرر کر دیے گئے تھے۔جبکہ جسٹس چندر چوڑ 9نومبر2024کو اپنے عہدے سے ریٹائر ہو چکے ہیں۔اس لیے یہ شک گزرتا ہے کہ کہیں موصوف اپنے انٹر ویو میں پیش کیے گئے موقف کے ذریعہ مودی حکومت کو اپنی ’خدمات‘ یاد دلاکر اس سے انصاف کشی کا انعام حاصل کرنے کی کوشش تو نہیں کر رہے ہیں؟


