اقوام متحدہ کی 80ویں جنرل اسمبلی

اقوام متحدہ کی 80ویں جنرل اسمبلی کے انعقاد کے وقت دنیا ایک نہایت نازک مرحلے سے گزر رہی ہے۔ مختلف خطوں میں جاری جنگیں، انسانی المیے، مہاجرین کی بڑھتی ہوئی تعداد اور عالمی قیادت پر اعتماد میں کمی نے یہ سوال پیدا کر دیا ہے کہ کیا وہ ادارہ جو دوسری عالمی جنگ کے بعد عالمی امن قائم رکھنے کیلئے قائم کیا گیا تھا، اب صرف بیانات دینے اور تقریریں کرنے تک محدود ہو گیا ہے۔ عالمی سطح پر تنازعات کی پیچیدگی اور شدت میں اضافہ اقوام متحدہ کی کارکردگی کے حوالے سے سنجیدہ سوالات اٹھا رہا ہے۔
اقوام متحدہ کے منشور میں عالمی امن اور سلامتی کو برقرار رکھنے کی واضح ذمہ داری دی گئی ہے۔ لیکن آج کے بحران،یوکرین سے لے کر فلسطین، سوڈان اور میانمار تک یہ واضح کرتے ہیں کہ ادارہ اکثر محض بیان بازی یا رسمی اجلاسوں تک محدود رہتا ہے۔ جب جارحیت کے سامنے غیر جانبداری اختیار کی جاتی ہے یا خاموشی اختیار کی جاتی ہے، تو یہ نہ صرف متاثرین کے لیے مایوسی کا سبب بنتا ہے بلکہ ادارے کی ساکھ کو بھی نقصان پہنچاتا ہے۔ انسانی جانوں کی حفاظت اور معاشرتی استحکام کو نظر انداز کرنا اقوام متحدہ کے بنیادی مقصد کے خلاف ہے۔
اب وقت آ گیا ہے کہ اقوام متحدہ بیانات کی حد سے آگے بڑھ کر عملی اقدامات کرے۔ عالمی امن قائم رکھنے میں اس کا کردار صرف رسمی قراردادیں دینے تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ طاقتور ممالک کے سیاسی مفادات سے بالاتر ہو کر انسانی جانوں کی حفاظت اور بحران زدہ علاقوں میں فوری کارروائی پر توجہ دینی چاہیے۔ عالمی قیادت پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ یہ ثابت کرے کہ اقوام متحدہ واقعی وہ ادارہ ہے جس نے انسانی ہمدردی اور انصاف کے لیے اپنی بنیاد رکھی تھی۔
مشاہدہ کرنے اور بیانات دینے والا ادارہ بن کر رہ جانا اب نہ صرف انسانی جانوں کے نقصان کا سبب بن رہا ہے بلکہ عالمی برادری میں ادارے کی افادیت اور ساکھ بھی خطرے میں ہے۔ دنیا آج ایسی جغرافیائی، سیاسی اور معاشرتی پیچیدگیوں سے گزر رہی ہے جہاں چھوٹے سے چھوٹا فیصلہ انسانی زندگیوں کے لیے فیصلہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔ ایسے میں اقوام متحدہ کی غیر فعال موجودگی یا تاخیر میں فیصلہ عالمی امن کے لیے ایک خطرناک پیغام ہے۔
یہ وقت ہے کہ 80ویں جنرل اسمبلی اپنے حقیقی مقصد کو یاد کرے۔ یہ محض تقریریں کرنے یا عالمی منظرنامے پر اپنے آپ کو دکھانے کی تقریب نہیں ہے، بلکہ یہ ایک موقع ہے کہ دنیا کے سب ممالک کو یہ دکھایا جائے کہ عالمی ادارہ واقعی امن قائم رکھنے کے لیے سنجیدہ اور عملی اقدامات کر سکتا ہے۔ عالمی سطح پر انسانی زندگیوں کی حفاظت، مہاجرین کی فلاح اور معاشرتی استحکام کیلئے فوری اقدامات کیے جائیں، نہ کہ صرف مباحثوں اور بیانات کے ذریعے معاملے کی سنگینی پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی جائے۔
اگر اقوام متحدہ نے اس موقع کو ضائع کیا اور اپنی غیر فعال موجودگی کے ذریعے بحرانوں کی شدت کو بڑھنے دیا، تو یہ ادارہ عالمی سطح پر اپنی افادیت اور وقار کھو دے گا۔ اب وقت ہے کہ اقوام متحدہ اپنے منشور کی روح کے مطابق عمل کرے، عملی اقدامات کرے اور ثابت کرے کہ وہ دنیا کے امن کا حقیقی محافظ ہے۔ ورنہ اس کی اہمیت اور عالمی سطح پر اعتبار نہ صرف متاثر ہوگا بلکہ انسانی تاریخ اسے ایک ایسا ادارہ یاد رکھے گی جو صرف بیانات تک محدود رہ گیا۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

موسم کے متعلق جانکاری

14 جون۔  چند حصوں میں دیر سے دوپہر/شام تک...

جموں سرینگر قومی شاہراہ پر سڑک حادثے میں ہریانہ کے تین افراد ہلاک

سرینگر۔ جموں کے نگروٹا علاقے میں اتوار کی اولین ساعتوں...

مجبور مسکراہٹ

ماجد مجید کشمیر یونیورسٹی حسد ایک ایسی بیماری ہے کہ جب...

استاد کا پیشہ ایک قومی ذمہ داری ہے

محمد شبیر کھٹانہ تعلیم ہر بچے کا بنیادی اور آئینی...

عمر سرکار کے 19 ماہ: کامیابیاں یا ناکامیاں؟

رشید پروینؔ  سوپور 3 جون 2026 کو این سی کا ایک گرینڈ...

تازہ ترین خبریں

موسم کے متعلق جانکاری

14 جون۔  چند حصوں میں دیر سے دوپہر/شام تک...

جموں سرینگر قومی شاہراہ پر سڑک حادثے میں ہریانہ کے تین افراد ہلاک

سرینگر۔ جموں کے نگروٹا علاقے میں اتوار کی اولین ساعتوں...

مجبور مسکراہٹ

ماجد مجید کشمیر یونیورسٹی حسد ایک ایسی بیماری ہے کہ جب...

استاد کا پیشہ ایک قومی ذمہ داری ہے

محمد شبیر کھٹانہ تعلیم ہر بچے کا بنیادی اور آئینی...

عمر سرکار کے 19 ماہ: کامیابیاں یا ناکامیاں؟

رشید پروینؔ  سوپور 3 جون 2026 کو این سی کا ایک گرینڈ...

اقوام متحدہ کی 80ویں جنرل اسمبلی

اقوام متحدہ کی 80ویں جنرل اسمبلی کے انعقاد کے وقت دنیا ایک نہایت نازک مرحلے سے گزر رہی ہے۔ مختلف خطوں میں جاری جنگیں، انسانی المیے، مہاجرین کی بڑھتی ہوئی تعداد اور عالمی قیادت پر اعتماد میں کمی نے یہ سوال پیدا کر دیا ہے کہ کیا وہ ادارہ جو دوسری عالمی جنگ کے بعد عالمی امن قائم رکھنے کیلئے قائم کیا گیا تھا، اب صرف بیانات دینے اور تقریریں کرنے تک محدود ہو گیا ہے۔ عالمی سطح پر تنازعات کی پیچیدگی اور شدت میں اضافہ اقوام متحدہ کی کارکردگی کے حوالے سے سنجیدہ سوالات اٹھا رہا ہے۔
اقوام متحدہ کے منشور میں عالمی امن اور سلامتی کو برقرار رکھنے کی واضح ذمہ داری دی گئی ہے۔ لیکن آج کے بحران،یوکرین سے لے کر فلسطین، سوڈان اور میانمار تک یہ واضح کرتے ہیں کہ ادارہ اکثر محض بیان بازی یا رسمی اجلاسوں تک محدود رہتا ہے۔ جب جارحیت کے سامنے غیر جانبداری اختیار کی جاتی ہے یا خاموشی اختیار کی جاتی ہے، تو یہ نہ صرف متاثرین کے لیے مایوسی کا سبب بنتا ہے بلکہ ادارے کی ساکھ کو بھی نقصان پہنچاتا ہے۔ انسانی جانوں کی حفاظت اور معاشرتی استحکام کو نظر انداز کرنا اقوام متحدہ کے بنیادی مقصد کے خلاف ہے۔
اب وقت آ گیا ہے کہ اقوام متحدہ بیانات کی حد سے آگے بڑھ کر عملی اقدامات کرے۔ عالمی امن قائم رکھنے میں اس کا کردار صرف رسمی قراردادیں دینے تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ طاقتور ممالک کے سیاسی مفادات سے بالاتر ہو کر انسانی جانوں کی حفاظت اور بحران زدہ علاقوں میں فوری کارروائی پر توجہ دینی چاہیے۔ عالمی قیادت پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ یہ ثابت کرے کہ اقوام متحدہ واقعی وہ ادارہ ہے جس نے انسانی ہمدردی اور انصاف کے لیے اپنی بنیاد رکھی تھی۔
مشاہدہ کرنے اور بیانات دینے والا ادارہ بن کر رہ جانا اب نہ صرف انسانی جانوں کے نقصان کا سبب بن رہا ہے بلکہ عالمی برادری میں ادارے کی افادیت اور ساکھ بھی خطرے میں ہے۔ دنیا آج ایسی جغرافیائی، سیاسی اور معاشرتی پیچیدگیوں سے گزر رہی ہے جہاں چھوٹے سے چھوٹا فیصلہ انسانی زندگیوں کے لیے فیصلہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔ ایسے میں اقوام متحدہ کی غیر فعال موجودگی یا تاخیر میں فیصلہ عالمی امن کے لیے ایک خطرناک پیغام ہے۔
یہ وقت ہے کہ 80ویں جنرل اسمبلی اپنے حقیقی مقصد کو یاد کرے۔ یہ محض تقریریں کرنے یا عالمی منظرنامے پر اپنے آپ کو دکھانے کی تقریب نہیں ہے، بلکہ یہ ایک موقع ہے کہ دنیا کے سب ممالک کو یہ دکھایا جائے کہ عالمی ادارہ واقعی امن قائم رکھنے کے لیے سنجیدہ اور عملی اقدامات کر سکتا ہے۔ عالمی سطح پر انسانی زندگیوں کی حفاظت، مہاجرین کی فلاح اور معاشرتی استحکام کیلئے فوری اقدامات کیے جائیں، نہ کہ صرف مباحثوں اور بیانات کے ذریعے معاملے کی سنگینی پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی جائے۔
اگر اقوام متحدہ نے اس موقع کو ضائع کیا اور اپنی غیر فعال موجودگی کے ذریعے بحرانوں کی شدت کو بڑھنے دیا، تو یہ ادارہ عالمی سطح پر اپنی افادیت اور وقار کھو دے گا۔ اب وقت ہے کہ اقوام متحدہ اپنے منشور کی روح کے مطابق عمل کرے، عملی اقدامات کرے اور ثابت کرے کہ وہ دنیا کے امن کا حقیقی محافظ ہے۔ ورنہ اس کی اہمیت اور عالمی سطح پر اعتبار نہ صرف متاثر ہوگا بلکہ انسانی تاریخ اسے ایک ایسا ادارہ یاد رکھے گی جو صرف بیانات تک محدود رہ گیا۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں