عالمی یوم امن کا تقاضیٰ

ہر سال 21 ستمبر کو یومِ امن عالم ہمیں انسانیت کے اُس خواب کی یاد دلاتا ہے جس میں دنیا ظلم، تشدد اور جنگوں سے پاک ہو۔ لیکن اس برس جب ہم یہ دن مناتے ہیں تو ہمارے سامنے آج کے خونچکاں حقائق کھڑے ہیں—فلسطین محاصرے اور مظالم میں گھرا ہوا ہے، یوکرین اور روس ایک تباہ کن جنگ میں مصروف ہیں، اور مشرقِ وسطیٰ مسلسل بدامنی کے بوجھ تلے کراہ رہا ہے۔ یہ سب ہمیں بتاتے ہیں کہ امن محض ایک سفارتی نعرہ نہیں بلکہ کروڑوں انسانوں کی زندگی کا چھینا ہوا سہارا ہے۔
اصل اور پائیدار امن دل کے سکون اور انسان کے باطن کی ہم آہنگی سے شروع ہوتا ہے۔ اگر افراد صبر، برداشت، ہمدردی اور انصاف کی عادات اپنے اندر پروان نہ چڑھائیں تو دنیا کے کسی بھی امن معاہدے کو دیرپا ہونا ناممکن ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ میدانِ جنگ اور گلی کوچوں میں پھیلنے والا تشدد اکثر ہمارے اپنے دلوں میں بھڑکتی ہوئی آگ کا عکس ہوتا ہے۔آج کی دنیا صرف سرحدوں سے منقسم نہیں بلکہ نفرت، بداعتمادی اور غصے کے زہر سے بھی بٹی ہوئی ہے۔ سوشل میڈیا کی محاذ آرائی اور سیاسی پروپیگنڈے نے ذاتی تعلقات تک کو کمزور کر دیا ہے۔ اسی لئے اندرونی سکون اور ذہنی ہم آہنگی کا پیغام آج عالمگیر اہمیت اختیار کر چکا ہے۔ اگر ہم بندوقوں کو خاموش کرنا چاہتے ہیں تو سب سے پہلے اپنے دل و دماغ کے شور کو خاموش کرنا ہوگا۔
فلسطین کے عوام کے لئے امن کا مطلب ہے آزادی، عزت اور بے خوف زندگی کا حق۔ یوکرین اور روس کے متاثرہ خاندانوں کے لئے امن تباہی کے خاتمے اور نئی زندگی کی تعمیر کا نام ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کے لئے امن استحکام، انصاف اور فرقہ وارانہ کشمکش سے نجات کا تقاضا کرتا ہے۔ مگر دنیا کے ہر شخص کے لئے امن کی شروعات ایک ذاتی فیصلہ ہے—زیادہ سننے کا، کم الجھنے کا، زیادہ معاف کرنے کا، کم نفرت کرنے کا، زیادہ سمجھنے کا اور کم الزام دینے کا۔
یومِ امن عالم کوئی رسمی دن نہیں ہونا چاہیے بلکہ ایک عملی پکار ہے۔ یہ عالمی رہنماؤں سے تقاضا کرتا ہے کہ طاقت پر انصاف کو ترجیح دیں، غلبے پر مکالمے کو فوقیت دیں اور سیاست پر انسانیت کو مقدم رکھیں۔ اسی طرح یہ ہم سب سے، بطور عام شہری، یہ تقاضا کرتا ہے کہ اپنی روزمرہ زندگی میں سکون، نرمی اور شفقت کو اپنائیں۔ امن کوئی ایسی سوغات نہیں جو دوسروں سے مانگی جائے، یہ ایک ذمہ داری ہے جو ہم سب پر عائد ہوتی ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

سونے کی قیمتوں میں کمی

سرینگر: ایف ایکس اسٹریٹ (FXStreet) کے مرتب کردہ اعداد و...

محکمہ موسمیات کی بھاری بارش اور فلیش فلڈ کے خطرے کی پیش گوئی

سرینگر: محکمہ موسمیات کی جانب سے بھاری بارش، بالائی کیچمنٹ...

چار منزلہ عمارت منہدم، 9 افراد ہلاک، متعدد کے ملبے میں دبے ہونے کا خدشہ

  مہاراشٹر کے بھیونڈی میں جمعہ کو چار منزلہ عمارت...

سرینگر میں ’’کمیونیکیشن لاسٹ‘‘ کی تقریبِ رونمائی منعقد

جنگ نیوز ڈیسک سرینگر، 30 جولائی: سرینگر میں مرزا محمد...

عمر عبداللہ حکومت نے 2016 کی مظلوم انشا ءمشتاق کے خواب کو حقیقت کا روپ دے دیا

جنگ نیوز ڈیسک سنہ 2016 کے پُرآشوب حالات میں پیلٹ...

تازہ ترین خبریں

سونے کی قیمتوں میں کمی

سرینگر: ایف ایکس اسٹریٹ (FXStreet) کے مرتب کردہ اعداد و...

محکمہ موسمیات کی بھاری بارش اور فلیش فلڈ کے خطرے کی پیش گوئی

سرینگر: محکمہ موسمیات کی جانب سے بھاری بارش، بالائی کیچمنٹ...

چار منزلہ عمارت منہدم، 9 افراد ہلاک، متعدد کے ملبے میں دبے ہونے کا خدشہ

  مہاراشٹر کے بھیونڈی میں جمعہ کو چار منزلہ عمارت...

سرینگر میں ’’کمیونیکیشن لاسٹ‘‘ کی تقریبِ رونمائی منعقد

جنگ نیوز ڈیسک سرینگر، 30 جولائی: سرینگر میں مرزا محمد...

عمر عبداللہ حکومت نے 2016 کی مظلوم انشا ءمشتاق کے خواب کو حقیقت کا روپ دے دیا

جنگ نیوز ڈیسک سنہ 2016 کے پُرآشوب حالات میں پیلٹ...

عالمی یوم امن کا تقاضیٰ

ہر سال 21 ستمبر کو یومِ امن عالم ہمیں انسانیت کے اُس خواب کی یاد دلاتا ہے جس میں دنیا ظلم، تشدد اور جنگوں سے پاک ہو۔ لیکن اس برس جب ہم یہ دن مناتے ہیں تو ہمارے سامنے آج کے خونچکاں حقائق کھڑے ہیں—فلسطین محاصرے اور مظالم میں گھرا ہوا ہے، یوکرین اور روس ایک تباہ کن جنگ میں مصروف ہیں، اور مشرقِ وسطیٰ مسلسل بدامنی کے بوجھ تلے کراہ رہا ہے۔ یہ سب ہمیں بتاتے ہیں کہ امن محض ایک سفارتی نعرہ نہیں بلکہ کروڑوں انسانوں کی زندگی کا چھینا ہوا سہارا ہے۔
اصل اور پائیدار امن دل کے سکون اور انسان کے باطن کی ہم آہنگی سے شروع ہوتا ہے۔ اگر افراد صبر، برداشت، ہمدردی اور انصاف کی عادات اپنے اندر پروان نہ چڑھائیں تو دنیا کے کسی بھی امن معاہدے کو دیرپا ہونا ناممکن ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ میدانِ جنگ اور گلی کوچوں میں پھیلنے والا تشدد اکثر ہمارے اپنے دلوں میں بھڑکتی ہوئی آگ کا عکس ہوتا ہے۔آج کی دنیا صرف سرحدوں سے منقسم نہیں بلکہ نفرت، بداعتمادی اور غصے کے زہر سے بھی بٹی ہوئی ہے۔ سوشل میڈیا کی محاذ آرائی اور سیاسی پروپیگنڈے نے ذاتی تعلقات تک کو کمزور کر دیا ہے۔ اسی لئے اندرونی سکون اور ذہنی ہم آہنگی کا پیغام آج عالمگیر اہمیت اختیار کر چکا ہے۔ اگر ہم بندوقوں کو خاموش کرنا چاہتے ہیں تو سب سے پہلے اپنے دل و دماغ کے شور کو خاموش کرنا ہوگا۔
فلسطین کے عوام کے لئے امن کا مطلب ہے آزادی، عزت اور بے خوف زندگی کا حق۔ یوکرین اور روس کے متاثرہ خاندانوں کے لئے امن تباہی کے خاتمے اور نئی زندگی کی تعمیر کا نام ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کے لئے امن استحکام، انصاف اور فرقہ وارانہ کشمکش سے نجات کا تقاضا کرتا ہے۔ مگر دنیا کے ہر شخص کے لئے امن کی شروعات ایک ذاتی فیصلہ ہے—زیادہ سننے کا، کم الجھنے کا، زیادہ معاف کرنے کا، کم نفرت کرنے کا، زیادہ سمجھنے کا اور کم الزام دینے کا۔
یومِ امن عالم کوئی رسمی دن نہیں ہونا چاہیے بلکہ ایک عملی پکار ہے۔ یہ عالمی رہنماؤں سے تقاضا کرتا ہے کہ طاقت پر انصاف کو ترجیح دیں، غلبے پر مکالمے کو فوقیت دیں اور سیاست پر انسانیت کو مقدم رکھیں۔ اسی طرح یہ ہم سب سے، بطور عام شہری، یہ تقاضا کرتا ہے کہ اپنی روزمرہ زندگی میں سکون، نرمی اور شفقت کو اپنائیں۔ امن کوئی ایسی سوغات نہیں جو دوسروں سے مانگی جائے، یہ ایک ذمہ داری ہے جو ہم سب پر عائد ہوتی ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں