جموں و کشمیر کی کابینہ نےلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کو یہ سفارش کی ہے کہ قانون ساز اسمبلی کا اجلاس 13 اکتوبر کو طلب کیا جائے۔ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی صدارت میں ہونے والی کابینہ میٹنگ میں یہ فیصلہ اتفاق رائے سے لیا گیا، جس میں تمام وزراء نے شرکت کی۔ یہ فیصلہ بظاہر محض ایک انتظامی کارروائی ہے، لیکن اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ اس اجلاس کو کتنا بامقصد اور نتیجہ خیز بنایا جا سکے گا۔اسمبلی جمہوری نظام کی اساس ہے، جہاں عوام کے منتخب نمائندے اپنی آواز بلند کرتے ہیں اور ریاستی پالیسی کا رخ متعین کرتے ہیں۔ لہٰذا اس اجلاس میں محض رسماً تقاریر کرنے یا ایک دوسرے پر الزامات لگانے کے بجائے اصل عوامی مسائل پر توجہ دینا وقت کی ضرورت ہے۔ اطلاعات کے مطابق نیشنل کانفرنس ریاستی درجے کی بحالی کے سوال پر زور دے گی، جبکہ بھارتیہ جنتا پارٹی حالیہ تباہ کن سیلاب کے اثرات اور امدادی اقدامات کے بارے میں بحث چھیڑے گی۔ ساتھ ہی پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت ایک رکن اسمبلی کے خلاف کارروائی پر بھی گرمجوش بحث متوقع ہے۔ یہ تمام موضوعات یقیناً اہم ہیں، لیکن ان کی بنیاد پر سیاست چمکانے کے بجائے عوامی مفاد کو مقدم رکھنا ناگزیر ہے۔
ریاست کے عوام آج بے شمار مشکلات کا شکار ہیں۔ روزگار، تعلیم، صحت، بنیادی ڈھانچے جیسے مسائل ان کے لئے فوری توجہ چاہتے ہیں۔ اسمبلی کے اجلاس کو موقع بنایا جانا چاہیے کہ حکومت اور حزبِ اختلاف مل بیٹھ کر ایسے اقدامات تجویز کریں جن سے عام شہری کو راحت ملے۔ اگر یہ اجلاس محض سیاسی نعرہ بازی یا ذاتی مفادات کے ایجنڈے تک محدود رہا تو یہ عوامی توقعات سے روگردانی ہوگی۔
اسمبلی اجلاس بامعنی ہونا لازمی
اسمبلی اجلاس بامعنی ہونا لازمی
جموں و کشمیر کی کابینہ نےلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کو یہ سفارش کی ہے کہ قانون ساز اسمبلی کا اجلاس 13 اکتوبر کو طلب کیا جائے۔ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی صدارت میں ہونے والی کابینہ میٹنگ میں یہ فیصلہ اتفاق رائے سے لیا گیا، جس میں تمام وزراء نے شرکت کی۔ یہ فیصلہ بظاہر محض ایک انتظامی کارروائی ہے، لیکن اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ اس اجلاس کو کتنا بامقصد اور نتیجہ خیز بنایا جا سکے گا۔اسمبلی جمہوری نظام کی اساس ہے، جہاں عوام کے منتخب نمائندے اپنی آواز بلند کرتے ہیں اور ریاستی پالیسی کا رخ متعین کرتے ہیں۔ لہٰذا اس اجلاس میں محض رسماً تقاریر کرنے یا ایک دوسرے پر الزامات لگانے کے بجائے اصل عوامی مسائل پر توجہ دینا وقت کی ضرورت ہے۔ اطلاعات کے مطابق نیشنل کانفرنس ریاستی درجے کی بحالی کے سوال پر زور دے گی، جبکہ بھارتیہ جنتا پارٹی حالیہ تباہ کن سیلاب کے اثرات اور امدادی اقدامات کے بارے میں بحث چھیڑے گی۔ ساتھ ہی پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت ایک رکن اسمبلی کے خلاف کارروائی پر بھی گرمجوش بحث متوقع ہے۔ یہ تمام موضوعات یقیناً اہم ہیں، لیکن ان کی بنیاد پر سیاست چمکانے کے بجائے عوامی مفاد کو مقدم رکھنا ناگزیر ہے۔
ریاست کے عوام آج بے شمار مشکلات کا شکار ہیں۔ روزگار، تعلیم، صحت، بنیادی ڈھانچے جیسے مسائل ان کے لئے فوری توجہ چاہتے ہیں۔ اسمبلی کے اجلاس کو موقع بنایا جانا چاہیے کہ حکومت اور حزبِ اختلاف مل بیٹھ کر ایسے اقدامات تجویز کریں جن سے عام شہری کو راحت ملے۔ اگر یہ اجلاس محض سیاسی نعرہ بازی یا ذاتی مفادات کے ایجنڈے تک محدود رہا تو یہ عوامی توقعات سے روگردانی ہوگی۔


