کشمیر کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی سمجھی جانے والی باغبانی کے شعبے کے لیے جمعہ کا دن تاریخ ساز ثابت ہوا، جب پہلی بار وادیٔ کشمیر سے سیبوں کی کھیپ بذریعہ ریل جموں ریلوے اسٹیشن تک کامیابی کے ساتھ پہنچائی گئی۔ یہ ترقی محض ایک علامتی پیش رفت نہیں بلکہ اُن ہزاروں کسانوں اور باغبانوں کے لیے امید کی کرن ہے جو برسوں سے ٹرانسپورٹ کے مسائل، قومی شاہراہ کی بندشوں اور بھاری اخراجات کے سبب نقصان اٹھاتے آئے ہیں۔
سیب جیسی نازک اور جلد خراب ہونے والی پیداوار کے لیے تیز، سستا اور قابلِ اعتماد ذریعۂ ترسیل ہمیشہ سے ایک بنیادی ضرورت رہی ہے۔ ریلوے کے ذریعے رسائی سے نہ صرف وقت کی بچت ہوگی بلکہ کسانوں کو بہتر منڈیوں تک بروقت رسائی بھی میسر آئے گی۔ اس اقدام سے اُن روایتی مسائل میں بڑی حد تک کمی آئے گی جنہوں نے ماضی میں کشمیری باغبانی کو نقصان پہنچایا ہے۔
یہ پہلا تجربہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر حکومت سنجیدہ ہو تو وادی کے کسانوں کے خواب حقیقت کا روپ دھار سکتے ہیں۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ یہ سلسلہ محض ایک کھیپ تک محدود نہ رہے بلکہ مستقل پالیسی کی شکل اختیار کرے۔ مزید ٹرینیں چلائی جائیں، نہ صرف جموں بلکہ دہلی، ممبئی اور دیگر بڑے شہروں تک براہِ راست پھل پہنچانے کا انتظام کیا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ کولڈ اسٹوریج ویگن اور مؤثر تقسیماتی نظام بھی لازمی بنایا جائے تاکہ سیب عالمی معیار کے مطابق اپنی تازگی برقرار رکھ سکیں۔
یہ قدم اس حقیقت کو بھی اجاگر کرتا ہے کہ ترقی وہی ہے جو عوام کی اصل ضروریات سے جڑی ہو۔ کشمیر کے لیے باغبانی صرف روزگار نہیں بلکہ ثقافت اور شناخت بھی ہے۔ اگر اس شعبے کو پائیدار سہولیات فراہم کی جائیں تو دیہی خاندانوں کو معاشی استحکام اور نوجوانوں کو روزگار کے نئے مواقع میسر آئیں گے۔
تاہم سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ یہ کوششیں وقتی نہ ہوں بلکہ مستقل بنیادوں پر جاری رہیں۔ پہلی کھیپ ایک آغاز ہے، لیکن اصل کامیابی اس وقت ہوگی جب یہ نظام روزمرہ کی حقیقت بن جائے۔ اگر اس موقع کو سنبھال کر آگے بڑھایا گیا تو یہ اقدام کشمیر کی باغبانی کو نئی زندگی بخش سکتا ہے اور وادی کے سیب کو قومی ہی نہیں بین الاقوامی سطح پر ایک مضبوط برانڈ بنا سکتا ہے۔


