دہشت کے سائےمیں یاتریوں کا اژدھام

پہلگام میں حالیہ دہشت گرد حملے نے اگرچہ وادی میں خوف و اضطراب کی فضا پیدا کی، لیکن اس کے باوجود امرناتھ گپھا کی یاترا میں عقیدت مندوں کی تعداد چار لاکھ سے تجاوز کر جانا ایک غیرمعمولی امر ہے۔ 28 روز کے اندر اتنی بڑی تعداد میں یاتریوں کی حاضری نہ صرف ان کی مذہبی وابستگی کی علامت ہے بلکہ کشمیر کی سماجی اور انتظامی صورتِ حال پر بھی کئی پہلوؤں سے روشنی ڈالتی ہے۔
یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ دہشت گردی کا بنیادی مقصد ہی عوام کو خوف زدہ کرنا اور معمولاتِ زندگی کو درہم برہم کرنا ہوتا ہے۔ لیکن جب ہزاروں افراد خطرات کے باوجود گپھا کی دشوار گزار یاترا پر نکل پڑیں تو یہ دہشت گردوں کے عزائم کی ناکامی کا اعلان بن جاتا ہے۔ رواں برس کا یاترا سیزن اسی طرح کے جذبۂ عقیدت اور امن پسندی کی ایک واضح علامت ہے، جس میں ہر عمر اور ہر خطے سے آئے زائرین نے اپنی حاضری درج کرائی۔
حکومتی سطح پر بھی اس یاترا کے محفوظ انعقاد کے لیے جو انتظامات کیے گئے، وہ قابلِ ذکر ہیں۔ سیکیورٹی فورسز کی ہمہ وقت موجودگی، طبی سہولیات، ٹریکنگ نظام، اور رضاکاروں کی مدد سے ایک ایسا نظم قائم کیا گیا جس نے زائرین کو حوصلہ دیا اور سفری سہولتوں میں بہتری لائی۔ اس موقع پر مقامی آبادی کا رویہ بھی مثبت اور معاون رہا، جس سے یہ ثابت ہوا کہ کشمیر کا معاشرہ مذہبی رواداری اور ہم آہنگی کی جڑوں سے جڑا ہوا ہے۔
یہ بھی اہم ہے کہ میڈیا اور سیاسی بیانیے اس واقعے کو صرف سیکیورٹی اور خطرات کی عینک سے نہ دیکھیں۔ یاترا میں اتنی بڑی تعداد میں زائرین کی شرکت دراصل اس امید اور عقیدت کی گواہی ہے جو خوف کے اندھیروں پر غالب آتی ہے۔ یہ اس پیغام کی بھی نمائندگی ہے کہ عام شہری دہشت گردی کے خلاف ریاست کے ساتھ کھڑے ہیں، اور وہ اپنی مذہبی آزادی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔
البتہ پہلگام جیسے حملے یہ یاد دہانی بھی ہیں کہ خطرہ پوری طرح ختم نہیں ہوا۔ امن کے دشمن عناصر اب بھی متحرک ہیں، اور ان کے خلاف مسلسل ہوشیاری، انٹیلی جنس نظام میں بہتری، اور عوامی تعاون کی ضرورت برقرار ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

لولاکی کامیابی اور برازیل کی منقسم سیاست

برازیل کے صدارتی انتخابات میں لوئز اناسیو لولا دا...

محبوبہ کانگریس کی ترجمان بن چکی ہے /انعام النبی

جنگ نیوز سری نگر/عوامی اتحاد پارٹی (AIP) کے چیف ترجمان...

ریلوے میں اسٹیشن ماسٹر کی 1265 اسامیاں مشتہر

جنگ نیوز بھارتی ریلوے نے مختلف ریلوے ریکروٹمنٹ بورڈز اور...

لیفٹیننٹ گورنر کادہشت گردی کیخلاف فول پروف حکمت عملی پر زور

نیوز ڈیسک سری نگر/لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہا نے آج لوک...

تازہ ترین خبریں

لولاکی کامیابی اور برازیل کی منقسم سیاست

برازیل کے صدارتی انتخابات میں لوئز اناسیو لولا دا...

محبوبہ کانگریس کی ترجمان بن چکی ہے /انعام النبی

جنگ نیوز سری نگر/عوامی اتحاد پارٹی (AIP) کے چیف ترجمان...

ریلوے میں اسٹیشن ماسٹر کی 1265 اسامیاں مشتہر

جنگ نیوز بھارتی ریلوے نے مختلف ریلوے ریکروٹمنٹ بورڈز اور...

لیفٹیننٹ گورنر کادہشت گردی کیخلاف فول پروف حکمت عملی پر زور

نیوز ڈیسک سری نگر/لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہا نے آج لوک...

دہشت کے سائےمیں یاتریوں کا اژدھام

پہلگام میں حالیہ دہشت گرد حملے نے اگرچہ وادی میں خوف و اضطراب کی فضا پیدا کی، لیکن اس کے باوجود امرناتھ گپھا کی یاترا میں عقیدت مندوں کی تعداد چار لاکھ سے تجاوز کر جانا ایک غیرمعمولی امر ہے۔ 28 روز کے اندر اتنی بڑی تعداد میں یاتریوں کی حاضری نہ صرف ان کی مذہبی وابستگی کی علامت ہے بلکہ کشمیر کی سماجی اور انتظامی صورتِ حال پر بھی کئی پہلوؤں سے روشنی ڈالتی ہے۔
یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ دہشت گردی کا بنیادی مقصد ہی عوام کو خوف زدہ کرنا اور معمولاتِ زندگی کو درہم برہم کرنا ہوتا ہے۔ لیکن جب ہزاروں افراد خطرات کے باوجود گپھا کی دشوار گزار یاترا پر نکل پڑیں تو یہ دہشت گردوں کے عزائم کی ناکامی کا اعلان بن جاتا ہے۔ رواں برس کا یاترا سیزن اسی طرح کے جذبۂ عقیدت اور امن پسندی کی ایک واضح علامت ہے، جس میں ہر عمر اور ہر خطے سے آئے زائرین نے اپنی حاضری درج کرائی۔
حکومتی سطح پر بھی اس یاترا کے محفوظ انعقاد کے لیے جو انتظامات کیے گئے، وہ قابلِ ذکر ہیں۔ سیکیورٹی فورسز کی ہمہ وقت موجودگی، طبی سہولیات، ٹریکنگ نظام، اور رضاکاروں کی مدد سے ایک ایسا نظم قائم کیا گیا جس نے زائرین کو حوصلہ دیا اور سفری سہولتوں میں بہتری لائی۔ اس موقع پر مقامی آبادی کا رویہ بھی مثبت اور معاون رہا، جس سے یہ ثابت ہوا کہ کشمیر کا معاشرہ مذہبی رواداری اور ہم آہنگی کی جڑوں سے جڑا ہوا ہے۔
یہ بھی اہم ہے کہ میڈیا اور سیاسی بیانیے اس واقعے کو صرف سیکیورٹی اور خطرات کی عینک سے نہ دیکھیں۔ یاترا میں اتنی بڑی تعداد میں زائرین کی شرکت دراصل اس امید اور عقیدت کی گواہی ہے جو خوف کے اندھیروں پر غالب آتی ہے۔ یہ اس پیغام کی بھی نمائندگی ہے کہ عام شہری دہشت گردی کے خلاف ریاست کے ساتھ کھڑے ہیں، اور وہ اپنی مذہبی آزادی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔
البتہ پہلگام جیسے حملے یہ یاد دہانی بھی ہیں کہ خطرہ پوری طرح ختم نہیں ہوا۔ امن کے دشمن عناصر اب بھی متحرک ہیں، اور ان کے خلاف مسلسل ہوشیاری، انٹیلی جنس نظام میں بہتری، اور عوامی تعاون کی ضرورت برقرار ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں