طبی ضمیر کیلئےلمحۂ فکریہ

سرینگر کےلل دید اسپتال میں ایک نوجوان ڈاکٹر کی جانب سے ایک خاتون مریضہ کے آپریشن کی ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر ڈالنا صرف اخلاقی نہیں، پیشہ ورانہ لحاظ سے بھی سنگین جرم ہے۔
یہ واقعہ ہمارے طبی نظام میں بڑھتی بےحسی، غفلت اور غیر ذمہ داری کی واضح علامت ہے۔
مریض اور معالج کے درمیان رشتہ اعتماد پر قائم ہوتا ہے، اور جب اس اعتماد کو اس طرح پامال کیا جائے تو نہ صرف انفرادی بلکہ ادارہ جاتی سطح پر اصلاحات کی فوری ضرورت سامنے آتی ہے۔
بدقسمتی سے ایسے واقعات ملک کے دیگر حصوں میں بھی رپورٹ ہوتے رہے ہیں، جو اس بحران کی وسعت کو ظاہر کرتے ہیں۔
قوانین موجود ہیں، جیسے صارف تحفظ قانون اور بھارتیہ نیائے سنہیتا 2023، لیکن عدالتی کارروائیاں طویل اور پیچیدہ ہیں، جس کا فائدہ اکثر غفلت کرنے والوں کو ملتا ہے۔ اسی لیے فوری اور مؤثر تادیبی اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ طبی پیشہ ور اپنے فرائض کو سنجیدگی سے لیں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ میڈیکل کونسلز اور اسپتالوں میں شفاف مانیٹرنگ سسٹم قائم کیے جائیں۔ ڈاکٹروں کی اخلاقی تربیت کو نصاب کا حصہ بنایا جائے اور ہر اسپتال میں ایک فعال شکایتی سیل قائم ہو، جہاں مریض کی آواز سنی جائے۔ اگر آج ہم نے خاموشی اختیار کی، تو کل کسی اور کی عزت، جان یا اعتماد خطرے میں ہوگا۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

سرینگر میں حوض (ٹب) سے نامعلوم لاش برآمد

  سری نگر، 29 جولائی: وسطی کشمیر کے ضلع سری...

موسمیاتی تبدیلی :کشمیر میں قبل از وقت بادام کی فصل تیار

جنگ نیوز پلولامہ/ کشمیر میں اس سال بادام کی فصل...

مجوزعہ IFFJK کو عالمی سطح پر زبردست پذیرائی حاصل

  نیوز ڈیسک سری نگر/ جموں و کشمیر کے پہلے...

مرکز PoJK کے حالات پر آواز اٹھائے/ فاروق عبداللہ

جنگ نیوز سری نگر/نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ...

تازہ ترین خبریں

سرینگر میں حوض (ٹب) سے نامعلوم لاش برآمد

  سری نگر، 29 جولائی: وسطی کشمیر کے ضلع سری...

موسمیاتی تبدیلی :کشمیر میں قبل از وقت بادام کی فصل تیار

جنگ نیوز پلولامہ/ کشمیر میں اس سال بادام کی فصل...

مجوزعہ IFFJK کو عالمی سطح پر زبردست پذیرائی حاصل

  نیوز ڈیسک سری نگر/ جموں و کشمیر کے پہلے...

مرکز PoJK کے حالات پر آواز اٹھائے/ فاروق عبداللہ

جنگ نیوز سری نگر/نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ...

طبی ضمیر کیلئےلمحۂ فکریہ

سرینگر کےلل دید اسپتال میں ایک نوجوان ڈاکٹر کی جانب سے ایک خاتون مریضہ کے آپریشن کی ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر ڈالنا صرف اخلاقی نہیں، پیشہ ورانہ لحاظ سے بھی سنگین جرم ہے۔
یہ واقعہ ہمارے طبی نظام میں بڑھتی بےحسی، غفلت اور غیر ذمہ داری کی واضح علامت ہے۔
مریض اور معالج کے درمیان رشتہ اعتماد پر قائم ہوتا ہے، اور جب اس اعتماد کو اس طرح پامال کیا جائے تو نہ صرف انفرادی بلکہ ادارہ جاتی سطح پر اصلاحات کی فوری ضرورت سامنے آتی ہے۔
بدقسمتی سے ایسے واقعات ملک کے دیگر حصوں میں بھی رپورٹ ہوتے رہے ہیں، جو اس بحران کی وسعت کو ظاہر کرتے ہیں۔
قوانین موجود ہیں، جیسے صارف تحفظ قانون اور بھارتیہ نیائے سنہیتا 2023، لیکن عدالتی کارروائیاں طویل اور پیچیدہ ہیں، جس کا فائدہ اکثر غفلت کرنے والوں کو ملتا ہے۔ اسی لیے فوری اور مؤثر تادیبی اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ طبی پیشہ ور اپنے فرائض کو سنجیدگی سے لیں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ میڈیکل کونسلز اور اسپتالوں میں شفاف مانیٹرنگ سسٹم قائم کیے جائیں۔ ڈاکٹروں کی اخلاقی تربیت کو نصاب کا حصہ بنایا جائے اور ہر اسپتال میں ایک فعال شکایتی سیل قائم ہو، جہاں مریض کی آواز سنی جائے۔ اگر آج ہم نے خاموشی اختیار کی، تو کل کسی اور کی عزت، جان یا اعتماد خطرے میں ہوگا۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں