کشمیر میں گوشت کی قلت؟

وادیٔ کشمیر میں شادیوں کا روایتی سیزن اپنے جوبن پر ہے۔ گھروں میں خوشیوں کی چہل پہل، اور دعوتوں کی تیاریاں اپنے عروج پر۔ مگر ان سب کے بیچ ایک خاموش بحران نے سر اُٹھایا ہے ۔گوشت کی قلت۔ یہ وہ بحران ہے جس نے نہ صرف گھریلو صارفین کو، بلکہ کیٹررز اور وازہ برادری کو بھی شدید پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے۔
کشمیر میں گوشت نہ صرف ایک بنیادی خوراک ہے بلکہ تہذیبی و ثقافتی حوالوں سے بھی اس کی اہمیت مسلم ہے، خاص طور پر شادی بیاہ کے مواقع پر۔ مگر اس بار اس روایتی اہتمام کو ایک سنگین رکاوٹ کا سامنا ہے۔ کشمیر ہول سیل مٹن ڈیلرز ایسوسی ایشن کے جنرل سیکریٹری مہراج الدین گنائی کے مطابق، وادی میں گوشت کی سپلائی تقریباً بند ہو چکی ہے۔ اس کی وجوہات بین الریاستی ٹرانسپورٹ کے مسائل شامل ہے۔
یہ صورت حال محض کاروباری طبقے کا مسئلہ نہیں، بلکہ عام لوگوں کے کھانے پینے، رسم و رواج، اور روزمرہ زندگی پر براہ راست اثر انداز ہو رہی ہے۔ گنائی صاحب کے بقول، "یہ ہڑتال نہیں، مگر ایک جمود کی کیفیت ضرور ہے۔” اس جمود کا نتیجہ یہ ہے کہ وادی بھر میں گوشت نایاب ہوتا جا رہا ہے، اور جو دستیاب ہے وہ ناقابلِ خرید داموں پر فروخت ہو رہا ہے۔
یہ بحران ہمیں ایک بنیادی سوال کی طرف لے جاتا ہے: کیا ہماری اقتصادی اور تجارتی پالیسیاں مقامی ضرورتوں سے ہم آہنگ ہیں؟ کیا حکومتی سطح پر ایسے حساس اوقات میں پیشگی منصوبہ بندی موجود ہے؟ اگر نہیں، تو یہ محض انتظامی غفلت نہیں بلکہ ایک اجتماعی کوتاہی ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت فوری طور پر اس معاملے کا نوٹس لے۔ مٹن ڈیلرز، ٹرانسپورٹروں، اور حکومتی نمائندوں کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے ایک واضح، منصفانہ اور قابلِ عمل پالیسی مرتب کی جائے تاکہ نہ صرف شادیوں کا موسم خوشگوار گزرے بلکہ عام شہریوں کو بھی بنیادی خوراک سے محروم نہ ہونا پڑے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

لولاکی کامیابی اور برازیل کی منقسم سیاست

برازیل کے صدارتی انتخابات میں لوئز اناسیو لولا دا...

محبوبہ کانگریس کی ترجمان بن چکی ہے /انعام النبی

جنگ نیوز سری نگر/عوامی اتحاد پارٹی (AIP) کے چیف ترجمان...

ریلوے میں اسٹیشن ماسٹر کی 1265 اسامیاں مشتہر

جنگ نیوز بھارتی ریلوے نے مختلف ریلوے ریکروٹمنٹ بورڈز اور...

لیفٹیننٹ گورنر کادہشت گردی کیخلاف فول پروف حکمت عملی پر زور

نیوز ڈیسک سری نگر/لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہا نے آج لوک...

تازہ ترین خبریں

لولاکی کامیابی اور برازیل کی منقسم سیاست

برازیل کے صدارتی انتخابات میں لوئز اناسیو لولا دا...

محبوبہ کانگریس کی ترجمان بن چکی ہے /انعام النبی

جنگ نیوز سری نگر/عوامی اتحاد پارٹی (AIP) کے چیف ترجمان...

ریلوے میں اسٹیشن ماسٹر کی 1265 اسامیاں مشتہر

جنگ نیوز بھارتی ریلوے نے مختلف ریلوے ریکروٹمنٹ بورڈز اور...

لیفٹیننٹ گورنر کادہشت گردی کیخلاف فول پروف حکمت عملی پر زور

نیوز ڈیسک سری نگر/لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہا نے آج لوک...

کشمیر میں گوشت کی قلت؟

وادیٔ کشمیر میں شادیوں کا روایتی سیزن اپنے جوبن پر ہے۔ گھروں میں خوشیوں کی چہل پہل، اور دعوتوں کی تیاریاں اپنے عروج پر۔ مگر ان سب کے بیچ ایک خاموش بحران نے سر اُٹھایا ہے ۔گوشت کی قلت۔ یہ وہ بحران ہے جس نے نہ صرف گھریلو صارفین کو، بلکہ کیٹررز اور وازہ برادری کو بھی شدید پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے۔
کشمیر میں گوشت نہ صرف ایک بنیادی خوراک ہے بلکہ تہذیبی و ثقافتی حوالوں سے بھی اس کی اہمیت مسلم ہے، خاص طور پر شادی بیاہ کے مواقع پر۔ مگر اس بار اس روایتی اہتمام کو ایک سنگین رکاوٹ کا سامنا ہے۔ کشمیر ہول سیل مٹن ڈیلرز ایسوسی ایشن کے جنرل سیکریٹری مہراج الدین گنائی کے مطابق، وادی میں گوشت کی سپلائی تقریباً بند ہو چکی ہے۔ اس کی وجوہات بین الریاستی ٹرانسپورٹ کے مسائل شامل ہے۔
یہ صورت حال محض کاروباری طبقے کا مسئلہ نہیں، بلکہ عام لوگوں کے کھانے پینے، رسم و رواج، اور روزمرہ زندگی پر براہ راست اثر انداز ہو رہی ہے۔ گنائی صاحب کے بقول، "یہ ہڑتال نہیں، مگر ایک جمود کی کیفیت ضرور ہے۔” اس جمود کا نتیجہ یہ ہے کہ وادی بھر میں گوشت نایاب ہوتا جا رہا ہے، اور جو دستیاب ہے وہ ناقابلِ خرید داموں پر فروخت ہو رہا ہے۔
یہ بحران ہمیں ایک بنیادی سوال کی طرف لے جاتا ہے: کیا ہماری اقتصادی اور تجارتی پالیسیاں مقامی ضرورتوں سے ہم آہنگ ہیں؟ کیا حکومتی سطح پر ایسے حساس اوقات میں پیشگی منصوبہ بندی موجود ہے؟ اگر نہیں، تو یہ محض انتظامی غفلت نہیں بلکہ ایک اجتماعی کوتاہی ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت فوری طور پر اس معاملے کا نوٹس لے۔ مٹن ڈیلرز، ٹرانسپورٹروں، اور حکومتی نمائندوں کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے ایک واضح، منصفانہ اور قابلِ عمل پالیسی مرتب کی جائے تاکہ نہ صرف شادیوں کا موسم خوشگوار گزرے بلکہ عام شہریوں کو بھی بنیادی خوراک سے محروم نہ ہونا پڑے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں