خطاطی اور ثقافتی ورثے کی نئی راہیں

جموں و کشمیر کی تہذیب و ثقافت ایک قدیم، متنوع اور گہرائیوں سے جُڑی ہوئی شناخت رکھتی ہے، جس میں زبان، ادب، فنون اور روحانی روایات ایک خاص مقام رکھتی ہیں۔ حال ہی میںلیفٹیننٹ گورنر کی جانب سے جموں و کشمیر اکیڈمی آف آرٹ، کلچر اینڈ لنگویجز (JKAACL) اور کشمیر یونیورسٹی کے اشتراک سے "گرو-ششیہ پرمپرا پروگرام” اور خطاطی کے کورسز کا اعلان نہایت خوش آئند اور دور اندیش قدم ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر کے اس اقدام کے تحت اب کشمیر یونیورسٹی اور JKAACL کی مشترکہ کوششوں سے چھ ماہ اور ایک سالہ سرٹیفکیٹ/ڈپلومہ کورسز کا آغاز ہونے جا رہا ہے، جن کا مرکز خطاطی ہوگا۔ یہ محض ایک تعلیمی منصوبہ نہیں، بلکہ ایک ثقافتی تحریک ہے جس کے ذریعے نوجوانوں کو اپنے اس روایتی ورثے سے جوڑا جائے گا جو وقت کے ساتھ فراموشی کی جانب جا رہا تھا۔
خطاطی صرف ایک فن نہیں بلکہ ایک روحانی اظہار ہے  جو صدیوں سے کشمیری معاشرت کا حصہ رہا ہے۔ درحقیقت، یہ وہ فن ہے جس نے مذہب، ادب اور فنون کے مابین ایک حسین پُل کا کردار ادا کیا ہے۔ اس کے ذریعے قرآنی آیات کی تزئین، شعری مجموعوں کی کتابت اور علمی متون کی آرائش ایک ایسی خوبصورتی کے ساتھ ہوتی رہی ہے، جو صرف نگاہوں کو ہی نہیں بلکہ دل کو بھی جکڑ لیتی ہے۔
یہ فیصلہ نہ صرف فن کی بحالی کے لیے اہم ہے، بلکہ بے روزگار نوجوانوں کے لیے ہنر اور روزگار کے نئے در بھی کھولے گا۔ کشمیر کے نوجوان آج جدت اور روایت کے بیچ الجھے کھڑے ہیں۔ ایسے میں اگر ان کے سامنے ایک ایسا تعلیمی راستہ رکھا جائے جس میں مہارت بھی ہو، شناخت بھی، اور امکانات بھی تو یہ واقعی ایک روشن مستقبل کی نوید ہے۔
ہم امید کرتے ہیں کہ یہ پروگرام محض خانہ پُری یا نمائش تک محدود نہیں رہے گا، بلکہ واقعی فن کی روح کو نوجوانوں میں منتقل کرے گا۔ حکومت، ادارے اور اساتذہ تینوں کو یہ بات یقینی بنانی ہوگی کہ تعلیم کے ساتھ وابستگی، معیار، اور موقع سب مہیا ہوں۔
یہ قدم اس بات کی علامت ہے کہ اگر حکمت، وژن اور عزم کے ساتھ روایت کی جانب لوٹنے کی کوشش کی جائے، تو نہ صرف فن بچتا ہے، بلکہ قوموں کی روح بھی تازہ ہوتی ہے۔ جموں و کشمیر کے نوجوانوں کے لیے یہ ایک دروازہ ہے — جس کے پار اپنے ماضی سے جڑنے اور مستقبل کو نکھارنے کا موقع موجود ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

سرینگر میں حوض (ٹب) سے نامعلوم لاش برآمد

  سری نگر، 29 جولائی: وسطی کشمیر کے ضلع سری...

موسمیاتی تبدیلی :کشمیر میں قبل از وقت بادام کی فصل تیار

جنگ نیوز پلولامہ/ کشمیر میں اس سال بادام کی فصل...

مجوزعہ IFFJK کو عالمی سطح پر زبردست پذیرائی حاصل

  نیوز ڈیسک سری نگر/ جموں و کشمیر کے پہلے...

مرکز PoJK کے حالات پر آواز اٹھائے/ فاروق عبداللہ

جنگ نیوز سری نگر/نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ...

تازہ ترین خبریں

سرینگر میں حوض (ٹب) سے نامعلوم لاش برآمد

  سری نگر، 29 جولائی: وسطی کشمیر کے ضلع سری...

موسمیاتی تبدیلی :کشمیر میں قبل از وقت بادام کی فصل تیار

جنگ نیوز پلولامہ/ کشمیر میں اس سال بادام کی فصل...

مجوزعہ IFFJK کو عالمی سطح پر زبردست پذیرائی حاصل

  نیوز ڈیسک سری نگر/ جموں و کشمیر کے پہلے...

مرکز PoJK کے حالات پر آواز اٹھائے/ فاروق عبداللہ

جنگ نیوز سری نگر/نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ...

خطاطی اور ثقافتی ورثے کی نئی راہیں

جموں و کشمیر کی تہذیب و ثقافت ایک قدیم، متنوع اور گہرائیوں سے جُڑی ہوئی شناخت رکھتی ہے، جس میں زبان، ادب، فنون اور روحانی روایات ایک خاص مقام رکھتی ہیں۔ حال ہی میںلیفٹیننٹ گورنر کی جانب سے جموں و کشمیر اکیڈمی آف آرٹ، کلچر اینڈ لنگویجز (JKAACL) اور کشمیر یونیورسٹی کے اشتراک سے "گرو-ششیہ پرمپرا پروگرام” اور خطاطی کے کورسز کا اعلان نہایت خوش آئند اور دور اندیش قدم ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر کے اس اقدام کے تحت اب کشمیر یونیورسٹی اور JKAACL کی مشترکہ کوششوں سے چھ ماہ اور ایک سالہ سرٹیفکیٹ/ڈپلومہ کورسز کا آغاز ہونے جا رہا ہے، جن کا مرکز خطاطی ہوگا۔ یہ محض ایک تعلیمی منصوبہ نہیں، بلکہ ایک ثقافتی تحریک ہے جس کے ذریعے نوجوانوں کو اپنے اس روایتی ورثے سے جوڑا جائے گا جو وقت کے ساتھ فراموشی کی جانب جا رہا تھا۔
خطاطی صرف ایک فن نہیں بلکہ ایک روحانی اظہار ہے  جو صدیوں سے کشمیری معاشرت کا حصہ رہا ہے۔ درحقیقت، یہ وہ فن ہے جس نے مذہب، ادب اور فنون کے مابین ایک حسین پُل کا کردار ادا کیا ہے۔ اس کے ذریعے قرآنی آیات کی تزئین، شعری مجموعوں کی کتابت اور علمی متون کی آرائش ایک ایسی خوبصورتی کے ساتھ ہوتی رہی ہے، جو صرف نگاہوں کو ہی نہیں بلکہ دل کو بھی جکڑ لیتی ہے۔
یہ فیصلہ نہ صرف فن کی بحالی کے لیے اہم ہے، بلکہ بے روزگار نوجوانوں کے لیے ہنر اور روزگار کے نئے در بھی کھولے گا۔ کشمیر کے نوجوان آج جدت اور روایت کے بیچ الجھے کھڑے ہیں۔ ایسے میں اگر ان کے سامنے ایک ایسا تعلیمی راستہ رکھا جائے جس میں مہارت بھی ہو، شناخت بھی، اور امکانات بھی تو یہ واقعی ایک روشن مستقبل کی نوید ہے۔
ہم امید کرتے ہیں کہ یہ پروگرام محض خانہ پُری یا نمائش تک محدود نہیں رہے گا، بلکہ واقعی فن کی روح کو نوجوانوں میں منتقل کرے گا۔ حکومت، ادارے اور اساتذہ تینوں کو یہ بات یقینی بنانی ہوگی کہ تعلیم کے ساتھ وابستگی، معیار، اور موقع سب مہیا ہوں۔
یہ قدم اس بات کی علامت ہے کہ اگر حکمت، وژن اور عزم کے ساتھ روایت کی جانب لوٹنے کی کوشش کی جائے، تو نہ صرف فن بچتا ہے، بلکہ قوموں کی روح بھی تازہ ہوتی ہے۔ جموں و کشمیر کے نوجوانوں کے لیے یہ ایک دروازہ ہے — جس کے پار اپنے ماضی سے جڑنے اور مستقبل کو نکھارنے کا موقع موجود ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں