بے ضمیر ڈاکٹروں کیخلاف مہم ۔۔!

جموں و کشمیر حکومت کی جانب سے چھ ڈاکٹروں پر نجی پریکٹس اور غیر اخلاقی ریفرل سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے الزام میں پابندی عائد کرنا ایک خوش آئند اور قابلِ تقلید قدم ہے۔ ان ڈاکٹروں پر الزام ہے کہ وہ دورانِ ڈیوٹی نجی مریضوں کا علاج کر رہے تھے اور انہیں جان بوجھ کر ایسے نجی اسپتالوں کی طرف ریفر کر رہے تھے جو سرکاری طور پر پینل میں شامل ہیں، تاکہ انہیں ذاتی مفاد حاصل ہو سکے۔ یہ عمل نہ صرف ڈاکٹری پیشے کی اخلاقی بنیادوں سے انحراف ہے بلکہ مریضوں کے اعتماد کے ساتھ کھلا دھوکہ بھی ہے۔
  عوام کی صحت کے ساتھ اس طرح کا کھیل کسی صورت برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ جب ایک ڈاکٹر سرکاری تنخواہ لے کر بھی اپنے فرائض سے غفلت برتے، اسپتال میں موجود نہ ہو، اور مریضوں کو نجی اسپتالوں کی طرف ریفر کرے تو یہ کرپشن کی ایک ایسی شکل ہے جو نادیدہ مگر سنگین نتائج رکھتی ہے۔ یہ عمل نہ صرف غریب مریضوں پر مالی بوجھ بڑھاتا ہے بلکہ سرکاری نظامِ صحت کی ساکھ کو بھی نقصان پہنچاتا ہے۔
حکومت نے ان ڈاکٹروں کے خلاف فوری کارروائی کر کے ایک مضبوط پیغام دیا ہے کہ سرکاری تنخواہ لینے والا عملہ اگر اپنے فرائض سے انحراف کرے گا تو اس کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے گا۔
یہ قدم بظاہر چھوٹا ہو سکتا ہے، لیکن اس کی علامتی اہمیت بہت بڑی ہے۔ یہ نہ صرف دیگر ڈاکٹروں کے لیے ایک تنبیہ ہے بلکہ عوام کو بھی یہ یقین دلاتا ہے کہ حکومت نظامِ صحت کو صاف اور شفاف بنانے میں سنجیدہ ہے۔
ہم امید کرتے ہیں کہ حکومت اس عمل کو مستقل بنیادوں پر جاری رکھے گی، اور طبی نظام کو نہ صرف کرپشن سے پاک کرے گی بلکہ ایسے مخلص ڈاکٹروں کی حوصلہ افزائی بھی کرے گی جو واقعی عوامی خدمت کو اپنا مشن بنائے ہوئے ہیں۔ یہی ایک صحت مند، بااعتماد اور جوابدہ نظام کی طرف پہلا قدم ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

سرینگر میں حوض (ٹب) سے نامعلوم لاش برآمد

  سری نگر، 29 جولائی: وسطی کشمیر کے ضلع سری...

موسمیاتی تبدیلی :کشمیر میں قبل از وقت بادام کی فصل تیار

جنگ نیوز پلولامہ/ کشمیر میں اس سال بادام کی فصل...

مجوزعہ IFFJK کو عالمی سطح پر زبردست پذیرائی حاصل

  نیوز ڈیسک سری نگر/ جموں و کشمیر کے پہلے...

مرکز PoJK کے حالات پر آواز اٹھائے/ فاروق عبداللہ

جنگ نیوز سری نگر/نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ...

تازہ ترین خبریں

سرینگر میں حوض (ٹب) سے نامعلوم لاش برآمد

  سری نگر، 29 جولائی: وسطی کشمیر کے ضلع سری...

موسمیاتی تبدیلی :کشمیر میں قبل از وقت بادام کی فصل تیار

جنگ نیوز پلولامہ/ کشمیر میں اس سال بادام کی فصل...

مجوزعہ IFFJK کو عالمی سطح پر زبردست پذیرائی حاصل

  نیوز ڈیسک سری نگر/ جموں و کشمیر کے پہلے...

مرکز PoJK کے حالات پر آواز اٹھائے/ فاروق عبداللہ

جنگ نیوز سری نگر/نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ...

بے ضمیر ڈاکٹروں کیخلاف مہم ۔۔!

جموں و کشمیر حکومت کی جانب سے چھ ڈاکٹروں پر نجی پریکٹس اور غیر اخلاقی ریفرل سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے الزام میں پابندی عائد کرنا ایک خوش آئند اور قابلِ تقلید قدم ہے۔ ان ڈاکٹروں پر الزام ہے کہ وہ دورانِ ڈیوٹی نجی مریضوں کا علاج کر رہے تھے اور انہیں جان بوجھ کر ایسے نجی اسپتالوں کی طرف ریفر کر رہے تھے جو سرکاری طور پر پینل میں شامل ہیں، تاکہ انہیں ذاتی مفاد حاصل ہو سکے۔ یہ عمل نہ صرف ڈاکٹری پیشے کی اخلاقی بنیادوں سے انحراف ہے بلکہ مریضوں کے اعتماد کے ساتھ کھلا دھوکہ بھی ہے۔
  عوام کی صحت کے ساتھ اس طرح کا کھیل کسی صورت برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ جب ایک ڈاکٹر سرکاری تنخواہ لے کر بھی اپنے فرائض سے غفلت برتے، اسپتال میں موجود نہ ہو، اور مریضوں کو نجی اسپتالوں کی طرف ریفر کرے تو یہ کرپشن کی ایک ایسی شکل ہے جو نادیدہ مگر سنگین نتائج رکھتی ہے۔ یہ عمل نہ صرف غریب مریضوں پر مالی بوجھ بڑھاتا ہے بلکہ سرکاری نظامِ صحت کی ساکھ کو بھی نقصان پہنچاتا ہے۔
حکومت نے ان ڈاکٹروں کے خلاف فوری کارروائی کر کے ایک مضبوط پیغام دیا ہے کہ سرکاری تنخواہ لینے والا عملہ اگر اپنے فرائض سے انحراف کرے گا تو اس کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے گا۔
یہ قدم بظاہر چھوٹا ہو سکتا ہے، لیکن اس کی علامتی اہمیت بہت بڑی ہے۔ یہ نہ صرف دیگر ڈاکٹروں کے لیے ایک تنبیہ ہے بلکہ عوام کو بھی یہ یقین دلاتا ہے کہ حکومت نظامِ صحت کو صاف اور شفاف بنانے میں سنجیدہ ہے۔
ہم امید کرتے ہیں کہ حکومت اس عمل کو مستقل بنیادوں پر جاری رکھے گی، اور طبی نظام کو نہ صرف کرپشن سے پاک کرے گی بلکہ ایسے مخلص ڈاکٹروں کی حوصلہ افزائی بھی کرے گی جو واقعی عوامی خدمت کو اپنا مشن بنائے ہوئے ہیں۔ یہی ایک صحت مند، بااعتماد اور جوابدہ نظام کی طرف پہلا قدم ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں