ہنر سکھانے والے، خود بے سہارا

پیشہ ورانہ تعلیم (ووکیشنل ایجوکیشن) کا خواب 2016 میں ایک مرکزی اسکیم کے تحت شروع ہوا تھا، جس کا مقصد طلبہ کو عملی مہارتیں سکھا کر انہیں خودکفیل بنانا تھا۔ مگر جن ہاتھوں سے یہ خواب پروان چڑھ رہا ہے، وہی ہاتھ آج بے یار و مددگار ہیں۔
جموں و کشمیر کے ہائر سیکنڈری اسکولوں میں تعینات ووکیشنل ٹیچرز 2016 سے آج تک بغیر کسی تنخواہ میں اضافہ، تبادلے کی سہولت یا پالیسی کے کام کر رہے ہیں۔ ان کی ماہانہ تنخواہ آج بھی صرف 20000 روپے ہے۔ بیشتر اساتذہ اپنے ضلع سے باہر تعینات ہیں، اور سارا معاوضہ سفر کی نذر ہو جاتا ہے۔ کئی کو اسکولوں میں غیر تدریسی عملے سے بھی کم عزت دی جاتی ہے۔
یہ محض انتظامی غفلت نہیں بلکہ اخلاقی ناکامی ہے۔ جو اساتذہ نئی نسل کو خود کفالت سکھا رہے ہیں، وہ خود روز مرّہ اخراجات، مہنگائی اور ذہنی دباؤ کی چکی میں پس رہے ہیں۔ عمر کی حد پار کرچکے کئی اساتذہ اب مستقل ملازمت کے مواقع سے بھی محروم ہیں۔
ان کا مطالبہ واضح ہے: عزت، پالیسی، اور روزگار کا تحفظ۔ حکومت اگر واقعی اس تعلیمی انقلاب کو کامیاب بنانا چاہتی ہے تو ووکیشنل اساتذہ کے حقوق کو فوری تسلیم کرے۔
کیونکہ ایک ہنرمند بھارت تبھی بنے گا، جب ہنر سکھانے والے خود محرومی کا شکار نہ ہوں۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

موسمیاتی تبدیلی :کشمیر میں قبل از وقت بادام کی فصل تیار

جنگ نیوز پلولامہ/ کشمیر میں اس سال بادام کی فصل...

مجوزعہ IFFJK کو عالمی سطح پر زبردست پذیرائی حاصل

  نیوز ڈیسک سری نگر/ جموں و کشمیر کے پہلے...

مرکز PoJK کے حالات پر آواز اٹھائے/ فاروق عبداللہ

جنگ نیوز سری نگر/نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ...

امتحانی پرچہ لیک روکنے کا ترمیمی بل لوک سبھا سے منظور

جنگ نیوز نئی دہلی/لوک سبھا نے بدھ کے روز شدید...

تازہ ترین خبریں

موسمیاتی تبدیلی :کشمیر میں قبل از وقت بادام کی فصل تیار

جنگ نیوز پلولامہ/ کشمیر میں اس سال بادام کی فصل...

مجوزعہ IFFJK کو عالمی سطح پر زبردست پذیرائی حاصل

  نیوز ڈیسک سری نگر/ جموں و کشمیر کے پہلے...

مرکز PoJK کے حالات پر آواز اٹھائے/ فاروق عبداللہ

جنگ نیوز سری نگر/نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ...

امتحانی پرچہ لیک روکنے کا ترمیمی بل لوک سبھا سے منظور

جنگ نیوز نئی دہلی/لوک سبھا نے بدھ کے روز شدید...

ہنر سکھانے والے، خود بے سہارا

پیشہ ورانہ تعلیم (ووکیشنل ایجوکیشن) کا خواب 2016 میں ایک مرکزی اسکیم کے تحت شروع ہوا تھا، جس کا مقصد طلبہ کو عملی مہارتیں سکھا کر انہیں خودکفیل بنانا تھا۔ مگر جن ہاتھوں سے یہ خواب پروان چڑھ رہا ہے، وہی ہاتھ آج بے یار و مددگار ہیں۔
جموں و کشمیر کے ہائر سیکنڈری اسکولوں میں تعینات ووکیشنل ٹیچرز 2016 سے آج تک بغیر کسی تنخواہ میں اضافہ، تبادلے کی سہولت یا پالیسی کے کام کر رہے ہیں۔ ان کی ماہانہ تنخواہ آج بھی صرف 20000 روپے ہے۔ بیشتر اساتذہ اپنے ضلع سے باہر تعینات ہیں، اور سارا معاوضہ سفر کی نذر ہو جاتا ہے۔ کئی کو اسکولوں میں غیر تدریسی عملے سے بھی کم عزت دی جاتی ہے۔
یہ محض انتظامی غفلت نہیں بلکہ اخلاقی ناکامی ہے۔ جو اساتذہ نئی نسل کو خود کفالت سکھا رہے ہیں، وہ خود روز مرّہ اخراجات، مہنگائی اور ذہنی دباؤ کی چکی میں پس رہے ہیں۔ عمر کی حد پار کرچکے کئی اساتذہ اب مستقل ملازمت کے مواقع سے بھی محروم ہیں۔
ان کا مطالبہ واضح ہے: عزت، پالیسی، اور روزگار کا تحفظ۔ حکومت اگر واقعی اس تعلیمی انقلاب کو کامیاب بنانا چاہتی ہے تو ووکیشنل اساتذہ کے حقوق کو فوری تسلیم کرے۔
کیونکہ ایک ہنرمند بھارت تبھی بنے گا، جب ہنر سکھانے والے خود محرومی کا شکار نہ ہوں۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں