حال ہی میں راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (RSS) کے سربراہ موہن بھاگوت نے یہ بیان دیا کہ "رہنماؤں کو 75 سال کی عمر کے بعد خود پیچھے ہٹ جانا چاہیے”۔ بظاہر یہ ایک عمومی رائے تھی، لیکن سیاسی فضا میں اس بیان نے ہلچل مچا دی۔ حزبِ اختلاف کی جماعتوں نے اسے وزیر اعظم نریندر مودی—جو ستمبر میں 75 برس کے ہو رہے ہیں—کے لیے ایک علامتی اشارہ سمجھا۔ خود بی جے پی نے اس معاملے پر خاموشی اختیار کر رکھی ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا واقعی سیاسی رہنماؤں کے لیے کوئی عمر کی حد ہونی چاہیے؟
عمر کی بنیاد پر سیاسی ریٹائرمنٹ کی حمایت کرنے والوں کا کہنا ہے کہ تیز رفتار دور میں، قیادت کا نوجوان، متحرک اور جدید رجحانات سے واقف ہونا ضروری ہے۔ ایک نوجوان قوم میں، جہاں 65 فیصد سے زیادہ آبادی 35 سال سے کم عمر کی ہے، وہاں ایسے رہنما درکار ہیں جو نئی نسل کے مسائل کو بہتر طور پر سمجھ سکیں۔
لیکن اس کے برعکس یہ دلیل بھی دی جاتی ہے کہ تجربہ، تدبر اور سیاسی فہم اکثر عمر کے ساتھ آتی ہے۔ اگر کسی عمر رسیدہ رہنما میں توانائی، وژن اور صحت موجود ہو، اور عوام اسے منتخب کرتے رہیں، تو عمر بذاتِ خود قیادت کے لیے رکاوٹ کیوں بنے؟ جمہوری نظام میں فیصلہ ووٹر کے ہاتھ میں ہوتا ہے، نہ کہ کسی طے شدہ عمر کی حد میں۔
دنیا بھر میں اس معاملے پر کوئی متفقہ معیار موجود نہیں۔ امریکہ میں صدر جو بائیڈن 81 سال کی عمر میں دوبارہ انتخاب لڑ رہے ہیں۔ وہیں، نیوزی لینڈ اور فن لینڈ جیسے ممالک میں نوجوان قیادت نے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کر کے نئی مثالیں قائم کی ہیں۔ یعنی عمر بذاتِ خود نہ قابلیت کی ضمانت ہے، نہ ناکامی کی۔
75 سال کی عمر کوئی قطعی حد نہیں، لیکن قیادت کو وقت پر پیچھے ہٹنے کی روایت ضرور قائم کرنی چاہیے تاکہ نظام میں تازگی، تنوع اور ارتقاء ممکن ہو۔ موہن بھاگوت کے بیان نے محض مودی یا بی جے پی ہی نہیں، بلکہ تمام سیاسی جماعتوں کو خود احتسابی کا موقع فراہم کیا ہے۔ قیادت صرف اقتدار سے چمٹے رہنے کا نام نہیں، بلکہ وقتِ مناسب پر راہ چھوڑ دینا بھی ایک سیاسی بصیرت اور جمہوری ذمہ داری ہے۔
کیا 75 سال کی عمر میں ریٹائر ہو جانا چاہیے؟
کیا 75 سال کی عمر میں ریٹائر ہو جانا چاہیے؟
حال ہی میں راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (RSS) کے سربراہ موہن بھاگوت نے یہ بیان دیا کہ "رہنماؤں کو 75 سال کی عمر کے بعد خود پیچھے ہٹ جانا چاہیے”۔ بظاہر یہ ایک عمومی رائے تھی، لیکن سیاسی فضا میں اس بیان نے ہلچل مچا دی۔ حزبِ اختلاف کی جماعتوں نے اسے وزیر اعظم نریندر مودی—جو ستمبر میں 75 برس کے ہو رہے ہیں—کے لیے ایک علامتی اشارہ سمجھا۔ خود بی جے پی نے اس معاملے پر خاموشی اختیار کر رکھی ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا واقعی سیاسی رہنماؤں کے لیے کوئی عمر کی حد ہونی چاہیے؟
عمر کی بنیاد پر سیاسی ریٹائرمنٹ کی حمایت کرنے والوں کا کہنا ہے کہ تیز رفتار دور میں، قیادت کا نوجوان، متحرک اور جدید رجحانات سے واقف ہونا ضروری ہے۔ ایک نوجوان قوم میں، جہاں 65 فیصد سے زیادہ آبادی 35 سال سے کم عمر کی ہے، وہاں ایسے رہنما درکار ہیں جو نئی نسل کے مسائل کو بہتر طور پر سمجھ سکیں۔
لیکن اس کے برعکس یہ دلیل بھی دی جاتی ہے کہ تجربہ، تدبر اور سیاسی فہم اکثر عمر کے ساتھ آتی ہے۔ اگر کسی عمر رسیدہ رہنما میں توانائی، وژن اور صحت موجود ہو، اور عوام اسے منتخب کرتے رہیں، تو عمر بذاتِ خود قیادت کے لیے رکاوٹ کیوں بنے؟ جمہوری نظام میں فیصلہ ووٹر کے ہاتھ میں ہوتا ہے، نہ کہ کسی طے شدہ عمر کی حد میں۔
دنیا بھر میں اس معاملے پر کوئی متفقہ معیار موجود نہیں۔ امریکہ میں صدر جو بائیڈن 81 سال کی عمر میں دوبارہ انتخاب لڑ رہے ہیں۔ وہیں، نیوزی لینڈ اور فن لینڈ جیسے ممالک میں نوجوان قیادت نے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کر کے نئی مثالیں قائم کی ہیں۔ یعنی عمر بذاتِ خود نہ قابلیت کی ضمانت ہے، نہ ناکامی کی۔
75 سال کی عمر کوئی قطعی حد نہیں، لیکن قیادت کو وقت پر پیچھے ہٹنے کی روایت ضرور قائم کرنی چاہیے تاکہ نظام میں تازگی، تنوع اور ارتقاء ممکن ہو۔ موہن بھاگوت کے بیان نے محض مودی یا بی جے پی ہی نہیں، بلکہ تمام سیاسی جماعتوں کو خود احتسابی کا موقع فراہم کیا ہے۔ قیادت صرف اقتدار سے چمٹے رہنے کا نام نہیں، بلکہ وقتِ مناسب پر راہ چھوڑ دینا بھی ایک سیاسی بصیرت اور جمہوری ذمہ داری ہے۔


