جموں و کشمیر میں سڑک حادثات میں تیزی سے اضافہ اور ان میں نوجوانوں کا کردار اب ایک سنگین مسئلہ بن چکا ہے۔ تیز رفتاری، اسٹنٹ بازی اور لاپرواہی نے اس المیہ کو جنم دیا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق جنوری تا جون 2024 کے دوران 2,864 حادثات پیش آئے، جن میں 417 افراد جاں بحق اور 3894 زخمی ہوئے۔ ریاست کی آبادی کا تقریباً 29 فیصد نوجوانوں پر مشتمل ہے، جو اس بحران کی شدت کو مزید بڑھا دیتا ہے۔
یہ صرف حادثات کا مسئلہ نہیں، بلکہ آن لائن جوا اور بیٹنگ ایک اور تباہ کن رجحان بن چکا ہے۔ یہ لت ذہنی، جذباتی اور معاشی سطح پر خاندانوں کو برباد کر رہی ہے۔ لاکھوں روپے کے نقصان نے نوجوانوں کو مایوسی، ذہنی دباؤ اور خودکشی جیسے خطرناک راستوں کی طرف دھکیل دیا ہے۔ اس کا بڑا خطرہ یہ ہے کہ جوا اب موبائل اور انٹرنیٹ کے ذریعے خفیہ طور پر ہر جگہ کھیلا جا سکتا ہے۔
نشہ ایک اور مہلک رجحان ہے جس نے نہ صرف جانیں لی ہیں بلکہ کئی خاندان مالی بربادی، سماجی شرمندگی اور تنہائی کا شکار ہوئے ہیں۔ نشے کے عادی نوجوان جائیداد بیچ کر، قرض لے کر اور بالآخر خودکشی کر کے معاشرے کو ہلا کر رکھ دیتے ہیں۔ کئی منگنیاں اور شادیاں اس عادت کی وجہ سے ٹوٹ چکی ہیں۔
ان مسائل کا اثر تعلیمی میدان میں بھی ظاہر ہو رہا ہے۔ کئی نوجوان تعلیم چھوڑ کر جیلوں یا گمنامی کی زندگی میں جا چکے ہیں۔ اس المیے پر قابو پانے کے لیے تعلیمی، خاندانی اور معاشرتی پس منظر کا ازسرِنو جائزہ ناگزیر ہے۔
یقیناً، تعلیمی ادارے اس بحران کے خلاف صف اول کا کردار ادا کر سکتے ہیں، لیکن صرف تقاریر اور سیمنار کافی نہیں۔ والدین، اساتذہ، علما، میڈیا اور قانون نافذ کرنے والے ادارے سب کو مل کر متحرک ہونا ہوگا۔
معاشرہ تبھی مضبوط بنتا ہے جب ہر فرد اپنی ذمہ داری ادا کرے۔ والدین کو محض “فون بند کرو” کہنے کے بجائے نئی نسل کی نفسیات کو سمجھتے ہوئے تربیت کرنا ہوگی۔
اسکولوں میں سماجی شعور بطور نصاب متعارف کروانا ضروری ہے تاکہ نوجوان محض تعلیم یافتہ نہیں، حساس اور ذمہ دار شہری بنیں۔ حکومت کو بھی روزگار کے مواقع اور انٹرن شپ کے مواقع پیدا کرنے پر سنجیدگی سے کام کرنا ہوگا۔
آخر میں، ہمیں ماننا ہوگا کہ سڑک حادثات، نشہ اور جوا جیسے مسائل قابلِ تدارک ہیں، بشرطیکہ ہم سب اجتماعی عزم اور ہمدردی کے ساتھ میدان میں اتریں۔ صرف حکومت پر بوجھ ڈالنا کافی نہیں، بلکہ ہر فرد کو اس جدوجہد کا حصہ بننا ہوگا۔
حادثات، جوا، نشہ اور بے ربط معاشرہ
حادثات، جوا، نشہ اور بے ربط معاشرہ
جموں و کشمیر میں سڑک حادثات میں تیزی سے اضافہ اور ان میں نوجوانوں کا کردار اب ایک سنگین مسئلہ بن چکا ہے۔ تیز رفتاری، اسٹنٹ بازی اور لاپرواہی نے اس المیہ کو جنم دیا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق جنوری تا جون 2024 کے دوران 2,864 حادثات پیش آئے، جن میں 417 افراد جاں بحق اور 3894 زخمی ہوئے۔ ریاست کی آبادی کا تقریباً 29 فیصد نوجوانوں پر مشتمل ہے، جو اس بحران کی شدت کو مزید بڑھا دیتا ہے۔
یہ صرف حادثات کا مسئلہ نہیں، بلکہ آن لائن جوا اور بیٹنگ ایک اور تباہ کن رجحان بن چکا ہے۔ یہ لت ذہنی، جذباتی اور معاشی سطح پر خاندانوں کو برباد کر رہی ہے۔ لاکھوں روپے کے نقصان نے نوجوانوں کو مایوسی، ذہنی دباؤ اور خودکشی جیسے خطرناک راستوں کی طرف دھکیل دیا ہے۔ اس کا بڑا خطرہ یہ ہے کہ جوا اب موبائل اور انٹرنیٹ کے ذریعے خفیہ طور پر ہر جگہ کھیلا جا سکتا ہے۔
نشہ ایک اور مہلک رجحان ہے جس نے نہ صرف جانیں لی ہیں بلکہ کئی خاندان مالی بربادی، سماجی شرمندگی اور تنہائی کا شکار ہوئے ہیں۔ نشے کے عادی نوجوان جائیداد بیچ کر، قرض لے کر اور بالآخر خودکشی کر کے معاشرے کو ہلا کر رکھ دیتے ہیں۔ کئی منگنیاں اور شادیاں اس عادت کی وجہ سے ٹوٹ چکی ہیں۔
ان مسائل کا اثر تعلیمی میدان میں بھی ظاہر ہو رہا ہے۔ کئی نوجوان تعلیم چھوڑ کر جیلوں یا گمنامی کی زندگی میں جا چکے ہیں۔ اس المیے پر قابو پانے کے لیے تعلیمی، خاندانی اور معاشرتی پس منظر کا ازسرِنو جائزہ ناگزیر ہے۔
یقیناً، تعلیمی ادارے اس بحران کے خلاف صف اول کا کردار ادا کر سکتے ہیں، لیکن صرف تقاریر اور سیمنار کافی نہیں۔ والدین، اساتذہ، علما، میڈیا اور قانون نافذ کرنے والے ادارے سب کو مل کر متحرک ہونا ہوگا۔
معاشرہ تبھی مضبوط بنتا ہے جب ہر فرد اپنی ذمہ داری ادا کرے۔ والدین کو محض “فون بند کرو” کہنے کے بجائے نئی نسل کی نفسیات کو سمجھتے ہوئے تربیت کرنا ہوگی۔
اسکولوں میں سماجی شعور بطور نصاب متعارف کروانا ضروری ہے تاکہ نوجوان محض تعلیم یافتہ نہیں، حساس اور ذمہ دار شہری بنیں۔ حکومت کو بھی روزگار کے مواقع اور انٹرن شپ کے مواقع پیدا کرنے پر سنجیدگی سے کام کرنا ہوگا۔
آخر میں، ہمیں ماننا ہوگا کہ سڑک حادثات، نشہ اور جوا جیسے مسائل قابلِ تدارک ہیں، بشرطیکہ ہم سب اجتماعی عزم اور ہمدردی کے ساتھ میدان میں اتریں۔ صرف حکومت پر بوجھ ڈالنا کافی نہیں، بلکہ ہر فرد کو اس جدوجہد کا حصہ بننا ہوگا۔


