مسلم دنیا میں فرقہ واریت پر ہونے والی گفتگو کا مرکز اکثر شیعہ سنی اختلاف بن جاتا ہے۔ لیکن جنوبی ایشیا کے تناظر میںسچائی یہ ہے کہ زیادہ گہرے اور روزمرہ کے سطح پر محسوس ہونے والے اختلافات دراصل سنی مسلک کے اندر موجود ہیں بالخصوص ان مکاتبِ فکر کے درمیان جوریاست اترپردیش کی سرزمین سے ابھرےجیسے بریلوی اور دیوبندی اس کے علاوہ وہابی بھی۔
یہ اختلافات محض فکری یا علمی نوعیت کے نہیں ہیں، بلکہ ہمارے محلوں، مساجد، اور گلی کوچوں میں جیتی جاگتی شکل میں موجود ہیں۔ کئی جگہوں پر ایک ہی محلے یا گاؤں میں دو یا تین مساجد دیکھی جاسکتی ہیں، جن کا قیام اس لیے ہوا کہ وہ مختلف فرقوں یا مسلکوں کی نمائندگی کریں۔ یہ تقسیم محض علامتی نہیں بلکہ ادارہ جاتی اور منظم صورت اختیار کر چکی ہے، اور ہماری اجتماعی زندگی میں گہرائی سے پیوست ہو چکی ہے۔
یہ اس وقت اور بھی افسوسناک ہو جاتا ہے جب ہم دیکھتے ہیں کہ مسلم دنیا کو عالمی سطح پر سیاسی، سماجی، اور تہذیبی چیلنجز کا سامنا ہے۔ اس کے باوجود ہم "وحدتِ امت” کے نعرے تو بلند کرتے ہیں، مگر ہمارا عمل اس کے برعکس ہوتا ہے۔ ہماری وحدت محض کتابوں، اخبارات کے صفحات ، فیس بک کی پوسٹ اور خطابات تک محدود ہے، جبکہ زمینی حقیقت یہ ہے کہ ہم ایک دوسرے کو شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، اور معمولی فقہی اختلافات پر ایک دوسرے کی امامت اور اسلامیت پر سوال اٹھا دیتے ہیں۔
مساجدجو کہ روحانی تربیت کے مراکز ہونے چاہئیں، اکثر فرقہ وارانہ شناخت کے قلعے بن چکی ہیں۔ نہ صرف نماز، بلکہ تعلیم، صدقات، اور حتیٰ کہ سیاسی رجحانات بھی انہی مسلکی لائنوں پر تقسیم ہو چکے ہیں۔
اگر ہم واقعی اتحاد چاہتے ہیں، تو ہمیں سب سے پہلے خود احتسابی سے آغاز کرنا ہوگا۔ ہمیں تسلیم کرنا ہوگا کہ ہم نے دین کے نام پر اپنی مسلکی دیواروں کو مضبوط کیا ہے۔ اصل اتحاد اس وقت ممکن ہوگا جب ہم مشترکہ عبادت گاہیں قائم کریں، مسلکی تنوع کو وسعتِ قلب سے قبول کریں، اور امت کی مجموعی بھلائی کو اپنی انفرادی و فرقہ وارانہ ترجیحات پر ترجیح دیں۔
ایک علامتی مگر بامعنی ہدف یہ ہو سکتا ہے کہ ہر ضلع میں زیادہ سے زیادہ دو یا تین مشترکہ جمعہ کی نمازیں قائم ہوں، جن میں ہر مکتبِ فکر کے مسلمان بلا تفریق شریک ہوں۔ یہ بات آج کے ماحول میں بعید از قیاس لگ سکتی ہے، لیکن اگر ہم اس سمت میں سوچنا بھی شروع نہ کریں، تو ہمارے درمیان کی یہ خلیجیں مزید گہری ہوتی چلی جائیں گی۔
یاد رکھیں،اتحاد کوئی آسمانی تحفہ نہیں، بلکہ ایک اجتماعی جدوجہد ہے ،جو شعور، قربانی، اور اخلاص کا تقاضا کرتی ہے۔ جب تک ہم ہر مسلکی دیوار کو دل کی دیوار سے گرائیں گے نہیں، تب تک امت کا حقیقی اتحاد ایک خواب ہی رہے گا۔بقول اقبالؔ
یوں تو سیّد بھی ہو، مرزا بھی ہو، افغان بھی ہو
تم سبھی کچھ ہو، بتاؤ تو مسلمان بھی ہو!
ززززز


