ہندو پاک جنگ ہمیشہ کشمیریوں کےلئے تختہ مشق بننے کا سبب


خان سحرش

جب بھی بھارت اور پاکستان کے درمیان سرحدی کشیدگی بڑھتی ہے، جب لائن آف کنٹرول پر گولہ باری شروع ہوتی ہے، یا جب جنگ کے بادل چھانے لگتے ہیں، تو سب سے پہلے اور سب سے زیادہ جو خطہ متاثر ہوتا ہے، وہ کشمیر ہے۔ یہاں کے عوام، چاہے وہ وادیٔ کشمیر میں ہوں یا لداخ و جموں کے سرحدی علاقوں میں، سب سے زیادہ خوف، محرومی اور تکلیف کا سامنا انہیں ہی کرنا پڑتا ہے۔
کشمیر: جنگوں کی صلیب پر لٹکی ایک وادی
تقسیمِ ہند کے وقت سے لے کر آج تک، کشمیر ایک متنازع علاقہ رہا ہے۔ بھارت اور پاکستان دونوں اس پر اپنے دعوے رکھتے ہیں، اور نتیجتاً کئی جنگیں، چھوٹے بڑے تصادم، اور سفارتی جھڑپیں ہو چکی ہیں۔ لیکن ان تمام کشیدگیوں میں سب سے زیادہ جس قوم نے قربانیاں دی ہیں، وہ کشمیری عوام ہیں۔
جنگ ہو یا جنگ کا خطرہ، سب سے پہلے اسکول بند ہوتے ہیں، بازار سنسان ہو جاتے ہیں، موبائل نیٹ ورک بند کر دیا جاتا ہے، انٹرنیٹ سروس معطل کی جاتی ہے، اور گھروں میں خوف کے سائے گہرے ہو جاتے ہیں۔ بچے تعلیم سے محروم، مزدور روزگار سے بے دخل، کسان کھیتوں سے دور، اور عام لوگ نفسیاتی دباؤ میں زندگی گزارتے ہیں۔
میڈیا کا کردار: اطلاع یا افواہ؟
حال ہی میں، جب 12 مئی کو بھارت اور پاکستان کے درمیان سرحد پر کشیدگی بڑھی اور میڈیا نے جنگ کے آغاز کی خبریں چلانا شروع کیں، تو پورے کشمیر میں ایک بار پھر خوف کی لہر دوڑ گئی۔ مقامی لوگوں نے راشن اکٹھا کرنا شروع کر دیا، بینکوں کے باہر قطاریں لگ گئیں، پیٹرول پمپوں پر ہجوم نظر آنے لگا۔ سوشل میڈیا پر طرح طرح کی افواہیں گردش کرنے لگیں، اور یہاں تک کہ یہ بھی کہا گیا کہ "دوسری کارگل شروع ہونے والی ہے”۔
سوال یہ ہے کہ کیا میڈیا کا کام سچائی پہنچانا ہے یا سنسنی پھیلانا؟ جب ہر چینل پر صرف ایک ہی بات کی جا رہی ہو کہ "بھارت جنگ کے لیے تیار ہے” یا "پاکستان نے میزائل نشانہ بنایا”، تو ایک عام کشمیری کے ذہن میں یہ خیال آنا فطری ہے کہ ایک اور آفت آنے والی ہے۔
بدقسمتی سے بھارتی اور پاکستانی میڈیا، خاص کر ٹی وی چینلز، جنگی ترانوں اور حب الوطنی کی آڑ میں افواہیں پھیلانے کا ذریعہ بن چکے ہیں۔ نہ کوئی تصدیق، نہ کوئی تحقیق — بس "بریکنگ نیوز” کی دوڑ میں حقائق کو مسخ کر کے پیش کرنا عام بات ہو چکی ہے۔
کشمیریوں کا نفسیاتی بوجھ
جنگ کے سائے میں پلنے والے بچے، نوجوان اور بزرگ ایک مستقل ذہنی دباؤ میں رہتے ہیں۔ وادی میں ہر بار جب جنگ کی بات ہوتی ہے، تو ماضی کی تلخ یادیں تازہ ہو جاتی ہیں — 1965، 1971، 1999 کی جنگیں، جن میں کشمیر نے سب سے زیادہ لاشیں اٹھائیں، سب سے زیادہ گھروں کی تباہی دیکھی، اور سب سے زیادہ اپنوں کو کھویا۔
ایک کشمیری بزرگ، غلام محمد بٹ، جو 1965 کی جنگ کے عینی شاہد ہیں، کہتے ہیں:
"ہم نے اپنے سامنے گولے گرتے دیکھے، بچوں کو چیختے دیکھا، عورتوں کو زخمی ہوتے دیکھا۔ اب ہر بار جب میڈیا جنگ کی خبر دیتا ہے، میرا دل کانپ اٹھتا ہے۔”
یہ صرف ایک فرد کی کہانی نہیں، بلکہ ہزاروں کشمیریوں کا درد ہے جو ہر ممکنہ جنگ کے اعلان سے پہلے ہی عذاب میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔
جنگ بندی: سکون کی ایک کرن
کچھ دن پہلے، جب بھارت اور پاکستان کے درمیان جنگ بندی معاہدہ ہوا، جس کے تحت لائن آف کنٹرول پر فائر بندی کا اعلان کیا گیا، تو اس معاہدے کے بعد کشمیریوں کو ایک طویل عرصے بعد سکون کی سانس لینا نصیب ہوئی۔ سرحدی علاقوں میں بچے دوبارہ اسکول جانے لگے، کسانوں نے کھیتوں میں کام شروع کیا، کاروبار بحال ہوا، اور شادی بیاہ جیسی سماجی تقریبات دوبارہ دیکھنے کو ملیں۔
ایک سرحدی قصبے کے مکین، اشفاق احمد، بتاتے ہیں:
"جنگ بندی سے پہلے ہم ہر روز شام کو سوچتے تھے کہ رات کو گولا نہ گرے۔ اب کم از کم یہ خوف نہیں ہوتا۔ یہ امن ہماری زندگی کے لیے بہت قیمتی ہے۔”
یہی امن جب خطرے میں آتا ہے، جب میڈیا پر ایک بار پھر جنگ کے نعرے بلند ہوتے ہیں، تو سب کچھ رک جاتا ہے۔
نوجوان نسل کا مستقبل: امن یا بدامنی؟
کشمیری نوجوانوں کی ایک پوری نسل ایسی ہے، جو صرف تشدد، ناکہ بندی، انٹرنیٹ بندش، اور خوف کے سائے میں پلی ہے۔ ان کے خواب، ان کی تعلیم، ان کے مواقع — سب کچھ بار بار قربان ہوتا ہے، بھارت پاکستان کے درمیان دشمنی پر۔
ایک طالبہ، سمیعہ جان، کہتی ہیں:
"جب جنگ کی بات آتی ہے، سب سے پہلے یونیورسٹیاں بند ہوتی ہیں۔ ہمارے امتحان ملتوی ہو جاتے ہیں، تعلیمی سال ضائع ہوتا ہے۔ آخر ہم کب تک دوسروں کی دشمنی کی قیمت چکاتے رہیں گے؟”
میڈیا کو ذمہ داری کا احساس کب ہوگا؟
میڈیا کی طاقت بے پناہ ہے، مگر یہ طاقت اگر غیر ذمہ دارانہ ہو جائے، تو افواہیں، خوف اور عدم استحکام پیدا کرتی ہے۔ جنگ کے حالات میں میڈیا کا فرض ہے کہ وہ حکومتوں سے تصدیق شدہ معلومات دے، عوام کو پُرامن رکھے، اور نفرت کے بجائے صبر و حکمت کا پیغام دے۔
پاکستانی میڈیا بھی اکثر بھارتی میڈیا کے مقابل جنگی ترانے چلانے لگتا ہے، اور مقابلہ "کس نے زیادہ جوش دکھایا” کا بن جاتا ہے۔ یہ روش ایک عام کشمیری کے لیے زہر بن چکی ہے۔
کشمیر کو سکون کب ملے گا؟
سوال یہ ہے کہ اگر دونوں ملکوں کی جنگ میں نقصان کشمیریوں کا ہوتا ہے، اگر ہر بار افواہیں وادی کو جلا ڈالتی ہیں، اگر جنگ بندی سے ہی امن آتا ہے، تو پھر بار بار جنگ کی بات کیوں؟ کیا دونوں ممالک کی قیادت کو یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ کشمیر کو امن کی سب سے زیادہ ضرورت ہے؟ کیا کشمیریوں کو بھی یہ حق حاصل نہیں کہ وہ ایک معمول کی زندگی گزار سکیں؟
نتیجہ: جنگ نہیں، بات چیت ہی حل ہے
آخرکار یہی کہنا ہوگا کہ بھارت اور پاکستان کو بار بار جنگ کے دہانے پر لا کھڑا کرنا نہ صرف خطے کے لیے خطرناک ہے بلکہ سب سے زیادہ نقصان کشمیری عوام کا ہے۔ میڈیا کو سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا، افواہیں روکنی ہوں گی، اور عوام کو سچائی سے باخبر کرنا ہوگا۔ جنگ بندی جیسے اقدامات کو مضبوط بنانے کی ضرورت ہے، تاکہ وادی میں پائیدار امن قائم ہو سکے۔
کشمیر کو اب مزید قربانی کا میدان نہ بنایا جائے۔ یہاں کے لوگ امن چاہتے ہیں، ترقی چاہتے ہیں، خوشیاں چاہتے ہیں — اور یہ سب کچھ صرف جنگ بندی اور باہمی بات چیت سے ہی ممکن ہے۔
زززز

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

پی- ڈی- پی صدر نے ایمس اونتی پورہ کی جلد تکمیل کا مطالبہ کیا،

سری نگر: پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر...

نارکو دہشت گردی کے خلاف عوامی تحریک اُبھر چکی ہے

جنگ نیوز ڈیسک سری نگر/لیفٹیننٹ گورنر شری منوج سنہا نے...

جموں میں ملک کے ساتویں علاقائی موسمیاتی مرکز کا افتتاح

جنگ نیوز مرکزی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی و ارضیاتی...

طنز و مزاح:’’ٹر‘‘ کی دنیا اور ہماری زندگی

طبیب احسن تابش’ ’ٹر‘‘دو حرفی لفظ ہے ۔آپ اس میں...

تازہ ترین خبریں

پی- ڈی- پی صدر نے ایمس اونتی پورہ کی جلد تکمیل کا مطالبہ کیا،

سری نگر: پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر...

نارکو دہشت گردی کے خلاف عوامی تحریک اُبھر چکی ہے

جنگ نیوز ڈیسک سری نگر/لیفٹیننٹ گورنر شری منوج سنہا نے...

جموں میں ملک کے ساتویں علاقائی موسمیاتی مرکز کا افتتاح

جنگ نیوز مرکزی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی و ارضیاتی...

طنز و مزاح:’’ٹر‘‘ کی دنیا اور ہماری زندگی

طبیب احسن تابش’ ’ٹر‘‘دو حرفی لفظ ہے ۔آپ اس میں...

ہندو پاک جنگ ہمیشہ کشمیریوں کےلئے تختہ مشق بننے کا سبب


خان سحرش

جب بھی بھارت اور پاکستان کے درمیان سرحدی کشیدگی بڑھتی ہے، جب لائن آف کنٹرول پر گولہ باری شروع ہوتی ہے، یا جب جنگ کے بادل چھانے لگتے ہیں، تو سب سے پہلے اور سب سے زیادہ جو خطہ متاثر ہوتا ہے، وہ کشمیر ہے۔ یہاں کے عوام، چاہے وہ وادیٔ کشمیر میں ہوں یا لداخ و جموں کے سرحدی علاقوں میں، سب سے زیادہ خوف، محرومی اور تکلیف کا سامنا انہیں ہی کرنا پڑتا ہے۔
کشمیر: جنگوں کی صلیب پر لٹکی ایک وادی
تقسیمِ ہند کے وقت سے لے کر آج تک، کشمیر ایک متنازع علاقہ رہا ہے۔ بھارت اور پاکستان دونوں اس پر اپنے دعوے رکھتے ہیں، اور نتیجتاً کئی جنگیں، چھوٹے بڑے تصادم، اور سفارتی جھڑپیں ہو چکی ہیں۔ لیکن ان تمام کشیدگیوں میں سب سے زیادہ جس قوم نے قربانیاں دی ہیں، وہ کشمیری عوام ہیں۔
جنگ ہو یا جنگ کا خطرہ، سب سے پہلے اسکول بند ہوتے ہیں، بازار سنسان ہو جاتے ہیں، موبائل نیٹ ورک بند کر دیا جاتا ہے، انٹرنیٹ سروس معطل کی جاتی ہے، اور گھروں میں خوف کے سائے گہرے ہو جاتے ہیں۔ بچے تعلیم سے محروم، مزدور روزگار سے بے دخل، کسان کھیتوں سے دور، اور عام لوگ نفسیاتی دباؤ میں زندگی گزارتے ہیں۔
میڈیا کا کردار: اطلاع یا افواہ؟
حال ہی میں، جب 12 مئی کو بھارت اور پاکستان کے درمیان سرحد پر کشیدگی بڑھی اور میڈیا نے جنگ کے آغاز کی خبریں چلانا شروع کیں، تو پورے کشمیر میں ایک بار پھر خوف کی لہر دوڑ گئی۔ مقامی لوگوں نے راشن اکٹھا کرنا شروع کر دیا، بینکوں کے باہر قطاریں لگ گئیں، پیٹرول پمپوں پر ہجوم نظر آنے لگا۔ سوشل میڈیا پر طرح طرح کی افواہیں گردش کرنے لگیں، اور یہاں تک کہ یہ بھی کہا گیا کہ "دوسری کارگل شروع ہونے والی ہے”۔
سوال یہ ہے کہ کیا میڈیا کا کام سچائی پہنچانا ہے یا سنسنی پھیلانا؟ جب ہر چینل پر صرف ایک ہی بات کی جا رہی ہو کہ "بھارت جنگ کے لیے تیار ہے” یا "پاکستان نے میزائل نشانہ بنایا”، تو ایک عام کشمیری کے ذہن میں یہ خیال آنا فطری ہے کہ ایک اور آفت آنے والی ہے۔
بدقسمتی سے بھارتی اور پاکستانی میڈیا، خاص کر ٹی وی چینلز، جنگی ترانوں اور حب الوطنی کی آڑ میں افواہیں پھیلانے کا ذریعہ بن چکے ہیں۔ نہ کوئی تصدیق، نہ کوئی تحقیق — بس "بریکنگ نیوز” کی دوڑ میں حقائق کو مسخ کر کے پیش کرنا عام بات ہو چکی ہے۔
کشمیریوں کا نفسیاتی بوجھ
جنگ کے سائے میں پلنے والے بچے، نوجوان اور بزرگ ایک مستقل ذہنی دباؤ میں رہتے ہیں۔ وادی میں ہر بار جب جنگ کی بات ہوتی ہے، تو ماضی کی تلخ یادیں تازہ ہو جاتی ہیں — 1965، 1971، 1999 کی جنگیں، جن میں کشمیر نے سب سے زیادہ لاشیں اٹھائیں، سب سے زیادہ گھروں کی تباہی دیکھی، اور سب سے زیادہ اپنوں کو کھویا۔
ایک کشمیری بزرگ، غلام محمد بٹ، جو 1965 کی جنگ کے عینی شاہد ہیں، کہتے ہیں:
"ہم نے اپنے سامنے گولے گرتے دیکھے، بچوں کو چیختے دیکھا، عورتوں کو زخمی ہوتے دیکھا۔ اب ہر بار جب میڈیا جنگ کی خبر دیتا ہے، میرا دل کانپ اٹھتا ہے۔”
یہ صرف ایک فرد کی کہانی نہیں، بلکہ ہزاروں کشمیریوں کا درد ہے جو ہر ممکنہ جنگ کے اعلان سے پہلے ہی عذاب میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔
جنگ بندی: سکون کی ایک کرن
کچھ دن پہلے، جب بھارت اور پاکستان کے درمیان جنگ بندی معاہدہ ہوا، جس کے تحت لائن آف کنٹرول پر فائر بندی کا اعلان کیا گیا، تو اس معاہدے کے بعد کشمیریوں کو ایک طویل عرصے بعد سکون کی سانس لینا نصیب ہوئی۔ سرحدی علاقوں میں بچے دوبارہ اسکول جانے لگے، کسانوں نے کھیتوں میں کام شروع کیا، کاروبار بحال ہوا، اور شادی بیاہ جیسی سماجی تقریبات دوبارہ دیکھنے کو ملیں۔
ایک سرحدی قصبے کے مکین، اشفاق احمد، بتاتے ہیں:
"جنگ بندی سے پہلے ہم ہر روز شام کو سوچتے تھے کہ رات کو گولا نہ گرے۔ اب کم از کم یہ خوف نہیں ہوتا۔ یہ امن ہماری زندگی کے لیے بہت قیمتی ہے۔”
یہی امن جب خطرے میں آتا ہے، جب میڈیا پر ایک بار پھر جنگ کے نعرے بلند ہوتے ہیں، تو سب کچھ رک جاتا ہے۔
نوجوان نسل کا مستقبل: امن یا بدامنی؟
کشمیری نوجوانوں کی ایک پوری نسل ایسی ہے، جو صرف تشدد، ناکہ بندی، انٹرنیٹ بندش، اور خوف کے سائے میں پلی ہے۔ ان کے خواب، ان کی تعلیم، ان کے مواقع — سب کچھ بار بار قربان ہوتا ہے، بھارت پاکستان کے درمیان دشمنی پر۔
ایک طالبہ، سمیعہ جان، کہتی ہیں:
"جب جنگ کی بات آتی ہے، سب سے پہلے یونیورسٹیاں بند ہوتی ہیں۔ ہمارے امتحان ملتوی ہو جاتے ہیں، تعلیمی سال ضائع ہوتا ہے۔ آخر ہم کب تک دوسروں کی دشمنی کی قیمت چکاتے رہیں گے؟”
میڈیا کو ذمہ داری کا احساس کب ہوگا؟
میڈیا کی طاقت بے پناہ ہے، مگر یہ طاقت اگر غیر ذمہ دارانہ ہو جائے، تو افواہیں، خوف اور عدم استحکام پیدا کرتی ہے۔ جنگ کے حالات میں میڈیا کا فرض ہے کہ وہ حکومتوں سے تصدیق شدہ معلومات دے، عوام کو پُرامن رکھے، اور نفرت کے بجائے صبر و حکمت کا پیغام دے۔
پاکستانی میڈیا بھی اکثر بھارتی میڈیا کے مقابل جنگی ترانے چلانے لگتا ہے، اور مقابلہ "کس نے زیادہ جوش دکھایا” کا بن جاتا ہے۔ یہ روش ایک عام کشمیری کے لیے زہر بن چکی ہے۔
کشمیر کو سکون کب ملے گا؟
سوال یہ ہے کہ اگر دونوں ملکوں کی جنگ میں نقصان کشمیریوں کا ہوتا ہے، اگر ہر بار افواہیں وادی کو جلا ڈالتی ہیں، اگر جنگ بندی سے ہی امن آتا ہے، تو پھر بار بار جنگ کی بات کیوں؟ کیا دونوں ممالک کی قیادت کو یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ کشمیر کو امن کی سب سے زیادہ ضرورت ہے؟ کیا کشمیریوں کو بھی یہ حق حاصل نہیں کہ وہ ایک معمول کی زندگی گزار سکیں؟
نتیجہ: جنگ نہیں، بات چیت ہی حل ہے
آخرکار یہی کہنا ہوگا کہ بھارت اور پاکستان کو بار بار جنگ کے دہانے پر لا کھڑا کرنا نہ صرف خطے کے لیے خطرناک ہے بلکہ سب سے زیادہ نقصان کشمیری عوام کا ہے۔ میڈیا کو سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا، افواہیں روکنی ہوں گی، اور عوام کو سچائی سے باخبر کرنا ہوگا۔ جنگ بندی جیسے اقدامات کو مضبوط بنانے کی ضرورت ہے، تاکہ وادی میں پائیدار امن قائم ہو سکے۔
کشمیر کو اب مزید قربانی کا میدان نہ بنایا جائے۔ یہاں کے لوگ امن چاہتے ہیں، ترقی چاہتے ہیں، خوشیاں چاہتے ہیں — اور یہ سب کچھ صرف جنگ بندی اور باہمی بات چیت سے ہی ممکن ہے۔
زززز

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں