
جان اسپینسر
ایگزیکٹو ڈائریکٹر
اربن وارفیئر انسٹی ٹیوٹ
بھارت نے آپریشن سندور کو مکمل طور پر ختم نہیں کیا۔ اب جو کچھ موجود ہے وہ کارروائیوں میں ایک حساس وقفہ ہے- کچھ اسے جنگ بندی کہہ سکتے ہیں، لیکن فوجی رہنماؤں نے جان بوجھ کر اس لفظ سے گریز کیا ہے۔ جنگی نقطہ نظر سے، یہ محض ایک وقفہ نہیں ہے؛یہ ایک غیر معمولی اور غیر واضح فوجی فتح کے بعد ایک اسٹریٹجک وقفہ ہے۔
صرف چار دن کی فوجی کارروائی کے بعد، یہ اپنے مقصد کے اعتبار سے نتیجہ خیز ہے: بھارت نے زبردست فتح حاصل کی۔ آپریشن سندور نے اپنے اسٹریٹجک اہداف کو پورا کیا اور اس سے بھی آگےبڑھ گیا – دہشت گردی کے بنیادی ڈھانچوں کو تباہ کرنا، فوجی برتری کا مظاہرہ کرنا، رخنہ اندازیوں کو دوور کیا اور قومی سلامتی کے نئے نظریے کو اپنایا ۔ یہ کوئی علامتی طاقت نہیں تھی۔ یہ فیصلہ کن طاقت تھی، جس کا واضح طور پر استعمال کیا گیا ۔
بھارت پر حملہ ہوا۔ 22 اپریل 2025 کو جموں و کشمیر کے پہلگام میں 26 بھارتی شہریوں کا قتل عام کیا گیا جن میں زیادہ تر ہندو سیاح تھے۔ پاکستان میں قائم لشکر طیبہ (ایل ای ٹی) کی ایک شاخ، مزاحمتی محاذ (ٹی آر ایف) نے اس کی ذمہ داری قبول کی۔ جیسا کہ کئی دہائیوں سے ہوتا رہا ہے، اس گروپ کو پاکستان کی انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کی پشت پناہی حاصل رہی ہے۔
لیکن گزشتہ حملوں کے برعکس اس بار بھارت نے انتظار نہیں کیا۔ اس نے بین الاقوامی ثالثی کی اپیل نہیں کی اور نہ ہی سفارتی بیان جاری کیا۔ اس نے جنگی طیارے بھیجے۔
بھارت نے 7 مئی کو آپریشن سندور شروع کیا، جو بروقت ،فوری اور درست طریقے سے مربوط فوجی ہم تھی۔ بھارتی فضائیہ نے پاکستان کے اندر دہشت گردی کے نو بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا، جن میں جیش محمد اور لشکر طیبہ کے ہیڈکوارٹر اور ٹھکانے شامل ہیں۔ پیغام واضح تھا: پاکستانی سرزمین سے شروع ہونے والے دہشت گردانہ حملوں کو اب جنگی کارروائیوں کے طور پر دیکھا جائے گا۔
وزیر اعظم نریندر مودی نے نئے نظریے کو ناقابل تردید قرار دیا: ‘‘بھارت کسی بھی جوہری بلیک میلنگ کو برداشت نہیں کرے گا۔ بھارت جوہری بلیک میلنگ کو ڈھال بنا کر تیار ہونے والے دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر درستگی کے ساتھ اور فیصلہ کن حملہ کرے گا۔’’
انتقامی کارروائی سے زیادہ، یہ ایک نئے اسٹریٹجک نظریے کی شروعات تھی ۔ جیسا کہ مودی نے کہا، ‘‘دہشت گردی اور مذاکرات ساتھ- ساتھ نہیں چل سکتے۔ پانی اور خون ایک ساتھ نہیں بہہ سکتے۔’’
آپریشن سندور کو سمجھے بوجھے مراحل کے ساتھ انجام دیا گیا:
• 7 مئی: پاکستانی علاقوں میں اندر تک گھس کر نو درست حملے کیے گئے۔ اہداف میں بہاولپور، مریدکے، مظفرآباد اور دیگر جگہوں پر دہشت گردی کے اہم تربیتی کیمپ اور لاجسٹک ٹھکانے شامل تھے۔
• 8 مئی: پاکستان نے بھارت کی مغربی ریاستوں میں بڑے پیمانے پر ڈرون سے سلسلے وار جوابی کارروائی کی۔ بھارت کے کثیر جہتی دفائی دفاعی نیٹ ورک – جو کہ اسرائیلی اور روسی نظاموں کے ذریعہ گھریلو طور پر بنایا اور تیار کیا گیا ہے- نے تقریباً سبھی کو ناکام بنادیا ۔
• 9 مئی: بھارت نے چھ پاکستانی فوجی ایئربیسز اور یو اے وی کوآرڈینیشن مراکز پر اضافی حملے کئے۔
• 10 مئی: ایک عارضی جنگ بندی کا اعلان کیا گیا۔ بھارت نے اسے جنگ بندی نہیں کہا۔ بھارتی فوج نے اسے ‘‘فائرنگ کو روکنے’’ کا نام دیا – ایک معنی خیز لیکن سمجھا بوجھا انتخاب جس نے صورتحال پر اس کے اسٹریٹجک کنٹرول کو تقویت بخشی۔
یہ صرف حکمت عملی کی کامیابی نہیں تھی۔ یہ لائیو فائر کے تحت نظریاتی عمل آوری تھی۔
حاصل ہوئے اسٹریٹجک اثرات ۔
1. ایک نئی سرخ لکیر کھینچی گئی- اور نافذ کی گئی۔
پاکستانی سرزمین سے دہشت گردانہ حملوں کا مقابلہ اب فوجی طاقت سے کیا جائے گا۔ یہ دھمکی نہیں ہے۔ یہ ایک نظیر ہے۔
2. فوجی برتری کا مظاہرہ
بھارت نے اپنی مرضی سے پاکستان میں کسی بھی ہدف-دہشت گردی کے مقامات، ڈرون کوآرڈینیشن کے مراکز، حتی کہ ایئر بیس تک کو نشانہ بنانے کی اپنی صلاحیت کا مظاہرہ کیا۔ اس دوران پاکستان بھارت کے اندر ایک بھی دفاعی علاقے میں گھسنے میں ناکام رہا۔ یہ برابری نہیں ہے۔ یہ زبردست برتری ہے۔ اور اسی طرح حقیقی برتری قائم ہوتی ہے۔
3. برتری ثابت کرنا
بھارت نے زبردست جوابی کارروائی کی لیکن مکمل جنگ سے باز آ گیا۔ کنٹرول شدہ فوجی کارروائی نے ایک واضح برتری کا اشارہ دیا: بھارت جواب دے گا اور رفتار پر بھی اس کا کنٹرول ہے۔
4. اسٹریٹجک آزادی پر زور
بھارت نے بین الاقوامی ثالثی کے بغیر اس بحران سے نمٹا۔ اس نے خودمختار ذرائع کا استعمال کرتے ہوئے خودمختار شرائط پر نظریے کو نافذ کیا۔
آپریشن سندور قبضے یا حکومت کی تبدیلی کے لیے نہیں تھا۔ یہ مخصوص مقاصد کے لیے محدود جنگ تھی۔ بھارت پر بحث کرنے والے ناقدین کو اس نقطہ کو نہیں بھولنا چاہئے۔ اسٹریٹجک کامیابی تباہی کے پیمانے کے بارے میں نہیں ہے – یہ مطلوبہ سیاسی اثر حاصل کرنے کے بارے میں ہے۔
بھارت انتقام کے لیے نہیں لڑ رہا تھا۔ وہ برتری کے لیے لڑ رہا تھا۔ اور اس نے اسے حاصل کیا۔
بھارت کا تحمل اس کی کمزوری نہیں بلکہ پختگی ہے۔ اس کارروائی سےدشمن کو قیمت چکانی پڑی ، حدیں دوبارہ متعین کی گئیں اور اپنےفوجی غلبے کو برقرار رکھا۔ بھارت نے صرف حملے کا جواب نہیں دیا۔ اس نے اسٹریٹجک مساوات کو بدل دیا۔
ایک ایسے دور میں جہاں بہت سی جدید جنگیں کھلے عام قبضہ کرنے یا سیاسی الجھنوں میں بدل جاتی ہیں، آپریشن سندور اس سے الگ رہا۔ یہ نظم و ضبط کی فوجی حکمت عملی کا ایک مظاہرہ تھا: واضح اہداف، ہم آہنگ طریقے اور ذرائع، اور غیر متوقع فوجی کارروائی کا سامنا کرنے کے لیے نظریے پر عمل درآمد۔ بھارت نے ایک دھچکا برداشت کیا، اپنے مقصد کی وضاحت کی، اور اسے حاصل کیا-یہ سب ایک مقررہ وقت کے اندر اندر کیا گیا۔
آپریشن سندھور میں طاقت کا استعمال زبردست لیکن کنٹرول میں تھا –جو درست ، فیصلہ کن اور بغیر کسی ہچکچاہٹ کے رہا۔ جدید جنگ میں اس طرح کی مثال کم ہی ملے گی۔ ایک ایسے دور میں جس کی تعریف ‘‘ہمیشہ کی جنگوں’’ اور اسٹریٹجک سمت کے بغیر تشدد کے سلسلے سے ہوتی ہے، سندور ان سے سے الگ رہا۔ یہ محدود جنگ کا ایک ماڈل پیش کرتا ہے جس میں واضح طور پر متعین انجام، مماثل طریقے اور ذرائع ہیں، اور ایک ایسی ریاست جس نے کبھی بھی پہل کو ترک نہیں کیا۔
سال 2008 کے بھارت نے حملوں کو برداشت کیا اور انتظار کیا۔ یہ بھارت جوابی وار کرتا ہے- جو فوری، درست اور واضح ہوتا ہے۔
مودی کا نظریہ، بھارت کی گھریلو دفاعی صنعت کو آگے بڑھانا، اور اس کی مسلح افواج کی پیشہ ورانہ مہارت، سب کچھ اس بات کا اشارہ ہے کہ ملک اب آخری جنگ کی تیاری نہیں کر رہا ہے۔ یہ اگلے کی تیاری کر رہا ہے۔
آپریشن میں تعطل آپریشن سندور کا خاتمہ نہیں ہے۔ یہ ایک وقفہ ہے۔ بھارت نے پہل پر عمل کیا۔ اگر دوبارہ اکسایا گیا تو پھر حملہ کرے گا۔
اس سے برتری بحال ہوئی۔ یہ ایک نیا نظریہ سامنے آیا ہے۔ اور ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کی لعنت کا سامنا کرنے والے تمام ممالک کو اس کا مطالعہ کرنا چاہیے۔
آپریشن سندور ایک جدید جنگ تھی- جو عالمی توجہ کے ساتھ، اور ایک محدود مقصدی فریم ورک کے اندر جوہری طاقت کے سائے میں لڑی گئی اور ہر وہ قدم جو اٹھایا گیا، یہ ایک سٹریٹجک کامیابی تھی- اور ایک فیصلہ کن بھارت کی فتح تھی۔(پی آئی بی)


