نوجوان نسل سوشل میڈیا کی نذر !


خورشید ریشی

کسی بھی قوم کی تعمیر و ترقی میں نوجوان اہم رول ادا کرتے ہیں اور ان کی محنت اور لگن سے زمانے میں انقلاب برپا ہو جاتے ہیں اور قوم کی تقدیر بدلنے میں دیر نہیں لگتی اور جس قوم کے نوجوانوں میں خود اعتمادی اور کچھ کرنے کی چاہ موجود ہو اس قوم کا عروج لازمی ہے اور اس قوم پر زوال کے بادل منڈلاتے ہوئے کم نظر آتے ہیں اور شاعر مشرق علامہ اقبال جوانوں کو حوصلہ بخشتے ہوئے فرماتے ہیں
عقاب روح جب بیدار ہوتی ہے جوانوں میں
نظر آتی ہے ان کو اپنی منزل آسمانوں میں
مگر جب ہم اپنے سماج میں نظر دوڑاتے ہیں تو ہمارے نوجوان کا حال کیا ہم سب جانتے ہیں اور زیادہ تر نوجوان کی تعداد ایسی ہے جو راہ راست سے بھٹک چکے ہیں اور جو اپنی زندگی کے حساس اور قیمتی لمحات سوشل میڈیا پر ایسے کاموں میں صرف کرتے ہوئے نظر آتے ہیں جن سے نہ انکو اور نہ سماج کو کوئی فائدہ ہے ۔سوشل میڈیا پر انکی صبح کا آغاز اور شام کا اختتام ہو جاتا ہے۔فیس بک واٹسیپ،انسٹاگرام اور یو ٹیوب پر ایک تو اپنا ایسا مواد اپ لوڈ کرتے ہیں جسے ان کو کچھ فائدہ حاصل نہیں ہوتا اور اس پر ستم ظریفی یہ کہ ایسے غیر معیاری مواد کو دیکھ دیکھ کر اپنا قیمتی وقت ضائع کرنے کے ساتھ ساتھ ان دوسرے نوجوانوں کی بھی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔
راتوں رات بغیر محنت اور مشقت کے کروڑ پتی بننے کی آڈ میں ڈریم الیون اور دوسری آن لائن گیموں میں لاکھوں روپے کے نقصان سے انکی زندگی اجیرن بن جاتی ہے اور یہاں سے منشیات کا دخل ان کی زندگیوں میں شروع ہو جاتا ہے اور ان کی زندگی اس موڈ پر پہنچ جاتی ہے جہاں سے واپس آنا مشکل ہی نہیں نا ممکن ہے۔انہی نوجوانوں کی حالت دیکھ کر شاید علامہ اقبال اپنی مشہور نظم خطاب بہ جوانانِ اسلام رقمطراز کرنے پر مجبور ہو گئے۔
کبھی اے نوجوان مسلم تدبر بھی کیا تو نے
وہ کیا گردوں تھا تو جس کا ہے اک ٹوٹا ہوا تارا
تجھے اس قوم نے پالا ہے آغوش محبت میں
کچل ڈالا تھا جس نے پاوں میں تاج سردار
تجھے آبا سے اپنی کوئی نسبت ہو نہیں سکتی
کہ تو گفتار، وہ کردار،تو ثابت،وہ سیارا
گنوا دی ہم نے جو اسلاف سے میراث پائی تھی
ثریا سے زمین پر آسماں نے ہم کو دے مارا
مگر وہ علم کے موتی کتابیں اپنے آبا کی
جو دیکھے ان کو یورپ میں تو دل ہوتا ہے سی پارا
علامہ اقبال بھی چاہتے تھے کہ نوجوان قوم کی تعمیر و ترقی میں کلیدی رول ادا کریں اور اپنے اسلاف کے بارے میں جانیں انہوں کیسے کیسے کارہائے نمایاں کن مشکل حالات میں انجام دیئے ہیں لیکن ایسا تبھی ممکن ہوتا جب ہمارے نوجوان سوشل میڈیا سے دوری اختیار کرتے ہوئے کتب بینی اور اخبار بینی میں گزارتے تب جا کر انہیں اپنے اسلافوں کی زندگیوں کے بارے میں جانکاری حاصل ہوتی اور جب یہی نوجوان علامہ اقبال، ڈاکٹر ذاکر حسین، شیکسپیئر،ابوالکلام آزاد اور ڈاکٹر رادھا کرشن کے لٹریچر کا مطالعہ کرتے تو انکے اندر ایک نئی سوچ اور تحریک جنم لیتی مگر سوشل میڈیا کی لت نے ہمارے نوجوانوں کو دوسری چیزوں کا رخ کرنے کے قابل ہی کہاں رکھا ہے اور یہ روز بہ روز اس کی زنجیروں میں قید ہوتے جا رہے ہیں اور یہ میٹھا زہر انکی زندگیوں کو برباد کرکے ہی چھوڑ دیتا ہے۔
مگر اس کا دوسرا پہلو یہ بھی ہے کہ والدین نے اپنے بچوں کے ساتھ وقت گزارنا چھوڑ دیا ہے اور نوجوانوں کو سوشل میڈیا کی نذر کرنے میں والدین بھی اپنا رول بخوبی غیر محسوس انداز میں نبھا رہے ہیں کیونکہ بچوں کی تربیت میں والدین کا رول سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے اور ان پر شروعات میں قدغن لگانے کے بجائے انہیں کھلی چھوٹ دی جا رہی ہیں رات دن بچے کن سرگرمیوں میں وقت گزارتے ہیں والدین کو اس کے بارے میں کوئی علم نہیں ن انہیں اتنی فرصت ملتی ہے کہ وہ اس بارے میں اپنے بچوں سے دریافت کریں اور ان سے پوچھیں کہ ان کے دوست کون ہیں کن کن سے ان کا میل ملاپ ہے یہ پیسے کن کن چیزوں پر خرچ کرتے ہیں انکا وقت کن کن کاموں میں گزرتا ہے۔اگر والدین ان سب چیزوں کا شروع سے ہی اہتمام کرتے تو آج ہمارے نوجوان جس لت میں گرفتار ہو گئے ہیں انکی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہوتی اور ان کاموں کی طرف رخ کرنے سے پہلے ایک نوجوان سو نہیں ہزار بار سوچتا کہ ایسا کرنے پر میں اپنے والدین کو کیا جواب دوں مگر والدین کی بے تحاشا آزادی نے انہیں ان کاموں کی طرف مائل ہونے کا موقع فراہم کیا لہذا والدین پر یہ بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے بچوں کی تمام سرگرمیوں پر نظر رکھیں اور ان کے ساتھ وقت گزاریں انہیں اچھی عادتیں ڈالنے کی ترغیب دیں اور خود ان کے اندر خود اعتمادی کا جذبہ پیدا کریں انہیں اخلاقی اقدار کے حوالے سے کہانیاں سنایئں انکے اندر سماج کی تعمیر و ترقی میں کلیدی رول ادا کرنے کی چاہت پیدا کریں اور سب سے بڑی بات یہ کہ انہیں ایک اچھا انسان بنانے میں اہم کردار ادا کریں تب جا کر ہم یہ امید لگا سکتے ہیں کہ ہماری قوم کا مستقبل روشن ہے کیونکہ ہمارے نوجوانوں کے اندر شرافت،دیانت داری اور صداقت کے ساتھ ساتھ قوم کی خدمت کرنے کا جذبہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے اور بقول علامہ اقبال
اس قوم کو شمشیر کی حاجت نہیں رہتی
ہو جس کے جوانوں کی خودی صورت فولاد
شاہین کبھی پرواز سے تھک کر نہیں گرتا
پُر دم ہے اگر تُو،تو نہیں خطرہ اُفتاد
ززز

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

نارکو دہشت گردی کے خلاف عوامی تحریک اُبھر چکی ہے

جنگ نیوز ڈیسک سری نگر/لیفٹیننٹ گورنر شری منوج سنہا نے...

جموں میں ملک کے ساتویں علاقائی موسمیاتی مرکز کا افتتاح

جنگ نیوز مرکزی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی و ارضیاتی...

طنز و مزاح:’’ٹر‘‘ کی دنیا اور ہماری زندگی

طبیب احسن تابش’ ’ٹر‘‘دو حرفی لفظ ہے ۔آپ اس میں...

تازہ ترین خبریں

نارکو دہشت گردی کے خلاف عوامی تحریک اُبھر چکی ہے

جنگ نیوز ڈیسک سری نگر/لیفٹیننٹ گورنر شری منوج سنہا نے...

جموں میں ملک کے ساتویں علاقائی موسمیاتی مرکز کا افتتاح

جنگ نیوز مرکزی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی و ارضیاتی...

طنز و مزاح:’’ٹر‘‘ کی دنیا اور ہماری زندگی

طبیب احسن تابش’ ’ٹر‘‘دو حرفی لفظ ہے ۔آپ اس میں...

نوجوان نسل سوشل میڈیا کی نذر !


خورشید ریشی

کسی بھی قوم کی تعمیر و ترقی میں نوجوان اہم رول ادا کرتے ہیں اور ان کی محنت اور لگن سے زمانے میں انقلاب برپا ہو جاتے ہیں اور قوم کی تقدیر بدلنے میں دیر نہیں لگتی اور جس قوم کے نوجوانوں میں خود اعتمادی اور کچھ کرنے کی چاہ موجود ہو اس قوم کا عروج لازمی ہے اور اس قوم پر زوال کے بادل منڈلاتے ہوئے کم نظر آتے ہیں اور شاعر مشرق علامہ اقبال جوانوں کو حوصلہ بخشتے ہوئے فرماتے ہیں
عقاب روح جب بیدار ہوتی ہے جوانوں میں
نظر آتی ہے ان کو اپنی منزل آسمانوں میں
مگر جب ہم اپنے سماج میں نظر دوڑاتے ہیں تو ہمارے نوجوان کا حال کیا ہم سب جانتے ہیں اور زیادہ تر نوجوان کی تعداد ایسی ہے جو راہ راست سے بھٹک چکے ہیں اور جو اپنی زندگی کے حساس اور قیمتی لمحات سوشل میڈیا پر ایسے کاموں میں صرف کرتے ہوئے نظر آتے ہیں جن سے نہ انکو اور نہ سماج کو کوئی فائدہ ہے ۔سوشل میڈیا پر انکی صبح کا آغاز اور شام کا اختتام ہو جاتا ہے۔فیس بک واٹسیپ،انسٹاگرام اور یو ٹیوب پر ایک تو اپنا ایسا مواد اپ لوڈ کرتے ہیں جسے ان کو کچھ فائدہ حاصل نہیں ہوتا اور اس پر ستم ظریفی یہ کہ ایسے غیر معیاری مواد کو دیکھ دیکھ کر اپنا قیمتی وقت ضائع کرنے کے ساتھ ساتھ ان دوسرے نوجوانوں کی بھی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔
راتوں رات بغیر محنت اور مشقت کے کروڑ پتی بننے کی آڈ میں ڈریم الیون اور دوسری آن لائن گیموں میں لاکھوں روپے کے نقصان سے انکی زندگی اجیرن بن جاتی ہے اور یہاں سے منشیات کا دخل ان کی زندگیوں میں شروع ہو جاتا ہے اور ان کی زندگی اس موڈ پر پہنچ جاتی ہے جہاں سے واپس آنا مشکل ہی نہیں نا ممکن ہے۔انہی نوجوانوں کی حالت دیکھ کر شاید علامہ اقبال اپنی مشہور نظم خطاب بہ جوانانِ اسلام رقمطراز کرنے پر مجبور ہو گئے۔
کبھی اے نوجوان مسلم تدبر بھی کیا تو نے
وہ کیا گردوں تھا تو جس کا ہے اک ٹوٹا ہوا تارا
تجھے اس قوم نے پالا ہے آغوش محبت میں
کچل ڈالا تھا جس نے پاوں میں تاج سردار
تجھے آبا سے اپنی کوئی نسبت ہو نہیں سکتی
کہ تو گفتار، وہ کردار،تو ثابت،وہ سیارا
گنوا دی ہم نے جو اسلاف سے میراث پائی تھی
ثریا سے زمین پر آسماں نے ہم کو دے مارا
مگر وہ علم کے موتی کتابیں اپنے آبا کی
جو دیکھے ان کو یورپ میں تو دل ہوتا ہے سی پارا
علامہ اقبال بھی چاہتے تھے کہ نوجوان قوم کی تعمیر و ترقی میں کلیدی رول ادا کریں اور اپنے اسلاف کے بارے میں جانیں انہوں کیسے کیسے کارہائے نمایاں کن مشکل حالات میں انجام دیئے ہیں لیکن ایسا تبھی ممکن ہوتا جب ہمارے نوجوان سوشل میڈیا سے دوری اختیار کرتے ہوئے کتب بینی اور اخبار بینی میں گزارتے تب جا کر انہیں اپنے اسلافوں کی زندگیوں کے بارے میں جانکاری حاصل ہوتی اور جب یہی نوجوان علامہ اقبال، ڈاکٹر ذاکر حسین، شیکسپیئر،ابوالکلام آزاد اور ڈاکٹر رادھا کرشن کے لٹریچر کا مطالعہ کرتے تو انکے اندر ایک نئی سوچ اور تحریک جنم لیتی مگر سوشل میڈیا کی لت نے ہمارے نوجوانوں کو دوسری چیزوں کا رخ کرنے کے قابل ہی کہاں رکھا ہے اور یہ روز بہ روز اس کی زنجیروں میں قید ہوتے جا رہے ہیں اور یہ میٹھا زہر انکی زندگیوں کو برباد کرکے ہی چھوڑ دیتا ہے۔
مگر اس کا دوسرا پہلو یہ بھی ہے کہ والدین نے اپنے بچوں کے ساتھ وقت گزارنا چھوڑ دیا ہے اور نوجوانوں کو سوشل میڈیا کی نذر کرنے میں والدین بھی اپنا رول بخوبی غیر محسوس انداز میں نبھا رہے ہیں کیونکہ بچوں کی تربیت میں والدین کا رول سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے اور ان پر شروعات میں قدغن لگانے کے بجائے انہیں کھلی چھوٹ دی جا رہی ہیں رات دن بچے کن سرگرمیوں میں وقت گزارتے ہیں والدین کو اس کے بارے میں کوئی علم نہیں ن انہیں اتنی فرصت ملتی ہے کہ وہ اس بارے میں اپنے بچوں سے دریافت کریں اور ان سے پوچھیں کہ ان کے دوست کون ہیں کن کن سے ان کا میل ملاپ ہے یہ پیسے کن کن چیزوں پر خرچ کرتے ہیں انکا وقت کن کن کاموں میں گزرتا ہے۔اگر والدین ان سب چیزوں کا شروع سے ہی اہتمام کرتے تو آج ہمارے نوجوان جس لت میں گرفتار ہو گئے ہیں انکی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہوتی اور ان کاموں کی طرف رخ کرنے سے پہلے ایک نوجوان سو نہیں ہزار بار سوچتا کہ ایسا کرنے پر میں اپنے والدین کو کیا جواب دوں مگر والدین کی بے تحاشا آزادی نے انہیں ان کاموں کی طرف مائل ہونے کا موقع فراہم کیا لہذا والدین پر یہ بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے بچوں کی تمام سرگرمیوں پر نظر رکھیں اور ان کے ساتھ وقت گزاریں انہیں اچھی عادتیں ڈالنے کی ترغیب دیں اور خود ان کے اندر خود اعتمادی کا جذبہ پیدا کریں انہیں اخلاقی اقدار کے حوالے سے کہانیاں سنایئں انکے اندر سماج کی تعمیر و ترقی میں کلیدی رول ادا کرنے کی چاہت پیدا کریں اور سب سے بڑی بات یہ کہ انہیں ایک اچھا انسان بنانے میں اہم کردار ادا کریں تب جا کر ہم یہ امید لگا سکتے ہیں کہ ہماری قوم کا مستقبل روشن ہے کیونکہ ہمارے نوجوانوں کے اندر شرافت،دیانت داری اور صداقت کے ساتھ ساتھ قوم کی خدمت کرنے کا جذبہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے اور بقول علامہ اقبال
اس قوم کو شمشیر کی حاجت نہیں رہتی
ہو جس کے جوانوں کی خودی صورت فولاد
شاہین کبھی پرواز سے تھک کر نہیں گرتا
پُر دم ہے اگر تُو،تو نہیں خطرہ اُفتاد
ززز

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں