سعودی عرب پر تنقید جاہلیت کی علامت!

ریاض سے ایک تاریخی اعلان میں، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ 600 ارب ڈالر کے معاشی شراکت داری منصوبے کا انکشاف کیا، جسے وائٹ ہاؤس نے "تاریخی اور انقلابی” قرار دیا ہے۔

یہ معاہدہ صدر ٹرمپ کی "امریکہ فرسٹ” تجارتی اور سرمایہ کاری حکمتِ عملی کا ایک اہم ستون ہے اور واشنگٹن و ریاض کے درمیان ایک نئے اسٹریٹجک دور کا آغاز ہے۔ یہ شراکت داری مصنوعی ذہانت، دفاع، توانائی، انفراسٹرکچر اور صحت جیسے کلیدی شعبوں پر محیط ہے۔

یہ معاہدہ صرف اقتصادی تعاون کا معاملہ نہیں بلکہ ایک وسیع تر عالمی حقیقت کو تسلیم کرنے کا مظہر ہے۔ یہ دونوں ممالک کی بدلتی ہوئی ترجیحات اور ایک دوسرے پر بڑھتے اعتماد کا ثبوت ہے۔ان افراد کے لیے جو سعودی عرب کو اس معاہدے پر تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں، یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ہر خودمختار ملک کو اپنے قومی مفادات کے تحفظ کا مکمل حق حاصل ہے۔

دنیا بھر میں دفاعی تیاری، معاشی ترقی اور ٹیکنالوجی میں خود انحصاری ریاستی پالیسیوں کے لازمی جزو بن چکے ہیں۔مذہب، فرقہ یا ذات پات جیسے عوامل کو اس طرح کے اسٹریٹجک فیصلوں سے الگ رکھنا چاہیے۔ اقوام اپنے مفاد، استحکام اور سلامتی کے لئے فیصلے کرتی ہیں، نہ کہ جذباتی وابستگیوں کے تحت۔یہ معاہدہ دنیا کی بدلتی حقیقتوں کا عکس ہے، جہاں عملی سوچ اور قومی مفاد جذبات پر غالب آ چکے ہیں۔ ایسے میں امریکہ اور سعودی عرب کی یہ شراکت داری نہ صرف درست ہے، بلکہ وقت کی اہم ضرورت بھی ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

پی- ڈی- پی صدر نے ایمس اونتی پورہ کی جلد تکمیل کا مطالبہ کیا،

سری نگر: پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر...

نارکو دہشت گردی کے خلاف عوامی تحریک اُبھر چکی ہے

جنگ نیوز ڈیسک سری نگر/لیفٹیننٹ گورنر شری منوج سنہا نے...

جموں میں ملک کے ساتویں علاقائی موسمیاتی مرکز کا افتتاح

جنگ نیوز مرکزی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی و ارضیاتی...

طنز و مزاح:’’ٹر‘‘ کی دنیا اور ہماری زندگی

طبیب احسن تابش’ ’ٹر‘‘دو حرفی لفظ ہے ۔آپ اس میں...

تازہ ترین خبریں

پی- ڈی- پی صدر نے ایمس اونتی پورہ کی جلد تکمیل کا مطالبہ کیا،

سری نگر: پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر...

نارکو دہشت گردی کے خلاف عوامی تحریک اُبھر چکی ہے

جنگ نیوز ڈیسک سری نگر/لیفٹیننٹ گورنر شری منوج سنہا نے...

جموں میں ملک کے ساتویں علاقائی موسمیاتی مرکز کا افتتاح

جنگ نیوز مرکزی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی و ارضیاتی...

طنز و مزاح:’’ٹر‘‘ کی دنیا اور ہماری زندگی

طبیب احسن تابش’ ’ٹر‘‘دو حرفی لفظ ہے ۔آپ اس میں...

سعودی عرب پر تنقید جاہلیت کی علامت!

ریاض سے ایک تاریخی اعلان میں، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ 600 ارب ڈالر کے معاشی شراکت داری منصوبے کا انکشاف کیا، جسے وائٹ ہاؤس نے "تاریخی اور انقلابی” قرار دیا ہے۔

یہ معاہدہ صدر ٹرمپ کی "امریکہ فرسٹ” تجارتی اور سرمایہ کاری حکمتِ عملی کا ایک اہم ستون ہے اور واشنگٹن و ریاض کے درمیان ایک نئے اسٹریٹجک دور کا آغاز ہے۔ یہ شراکت داری مصنوعی ذہانت، دفاع، توانائی، انفراسٹرکچر اور صحت جیسے کلیدی شعبوں پر محیط ہے۔

یہ معاہدہ صرف اقتصادی تعاون کا معاملہ نہیں بلکہ ایک وسیع تر عالمی حقیقت کو تسلیم کرنے کا مظہر ہے۔ یہ دونوں ممالک کی بدلتی ہوئی ترجیحات اور ایک دوسرے پر بڑھتے اعتماد کا ثبوت ہے۔ان افراد کے لیے جو سعودی عرب کو اس معاہدے پر تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں، یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ہر خودمختار ملک کو اپنے قومی مفادات کے تحفظ کا مکمل حق حاصل ہے۔

دنیا بھر میں دفاعی تیاری، معاشی ترقی اور ٹیکنالوجی میں خود انحصاری ریاستی پالیسیوں کے لازمی جزو بن چکے ہیں۔مذہب، فرقہ یا ذات پات جیسے عوامل کو اس طرح کے اسٹریٹجک فیصلوں سے الگ رکھنا چاہیے۔ اقوام اپنے مفاد، استحکام اور سلامتی کے لئے فیصلے کرتی ہیں، نہ کہ جذباتی وابستگیوں کے تحت۔یہ معاہدہ دنیا کی بدلتی حقیقتوں کا عکس ہے، جہاں عملی سوچ اور قومی مفاد جذبات پر غالب آ چکے ہیں۔ ایسے میں امریکہ اور سعودی عرب کی یہ شراکت داری نہ صرف درست ہے، بلکہ وقت کی اہم ضرورت بھی ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں