حالیہ دنوں میں کشمیر میں ایک افسوسناک رجحان دیکھنے میں آیا ہے۔ بیرونِ کشمیر خاص طور پر جموں سے آئے یوٹیوبرز جنہیں زمینی حقائق کا کوئی تجربہ یا مقامی ثقافت کی سمجھ نہیں، وادی میں ڈیرے ڈالے بیٹھے ہیں۔ یہ افراد حساس معاملات پر بلا سوچے سمجھے تبصرے کرتے ہیں، جس سے سماجی و سیاسی مسائل جنم لے سکتے ہیں۔سب سے تشویش ناک بات یہ ہے کہ یہ لوگ ویوز اور شہرت کے لالچ میں بچوں اور ذہنی معذور افراد کے جذبات کا استحصال کر رہے ہیں۔
ان کی معصوم باتوں کو ویڈیو میں شامل کرکے انہیں مذاق بنایا جا رہا ہے، جو نہ صرف غیر اخلاقی بلکہ بے حسی کی انتہا ہے۔یہ عمل محض بدتمیزی نہیں بلکہ ایک نئی قسم کی "ڈیجیٹل نوآبادیات” (Digital Colonization) ہے، جہاں باہر کے لوگ کشمیریوں کی آواز، احساسات اور سچائی کو نظرانداز کرتے ہوئے اپنی مرضی کی کہانی گھڑتے ہیں۔ ایسے رویوں کے خلاف کشمیری عوام، دانشور، صحافی اور سول سوسائٹی کو متحد ہو کر آواز بلند کرنی چاہیے۔ایسے افراد کشمیر کی نمائندگی نہیں کرتے—یہ صرف اپنے یوٹیوب چینلز، انسٹاگرام فالوورز اور سوشل میڈیا لائکس کے لیے وادی کے زخموں کو بازار میں نیلام کرتے ہیں۔ یہ لوگ کشمیر کے درد کو سننے نہیں آتے بلکہ اسے بیچنے آتے ہیں۔
کشمیری عوام کو ایسے عناصر کے خلاف آواز بلند کرنی چاہیے۔ ہمیں اجتماعی طور پر ایسے غیر ذمہ دار اور غیر سنجیدہ "کانٹینٹ کریئیٹرز” کا بائیکاٹ کرنا ہوگا، جو وادی کو صرف اپنے کیمرے کا منظر سمجھتے ہیں۔ کشمیر کو سنجیدہ، باشعور اور باعزت نمائندگی درکار ہے—نہ کہ ایسے جھوٹی شہرت کے بھوکے عناصر کی، جو صرف سستی تفریح کے لیے ہماری شناخت اور درد کا مذاق اڑاتے ہیں۔


