بھارت اور پاکستان کے درمیان جنگ بندی معاہدے کا اعلان برصغیر کے عوام کے لئے ایک بڑی راحت کا باعث بنا ہے۔ ایک ایسا خطہ جو طویل عرصے سے بداعتمادی، جھڑپوں اور خونریزی کا شکار رہا ہے، وہاں جنگ بندی کی توثیق ایک خوش آئند اور نازک قدم ہے۔دہائیوں سے ہر تصادم نے نہ صرف قیمتی جانوں کا نقصان کیا ہے بلکہ علاقائی خوشحالی کی امیدوں کو بھی شدید دھچکا پہنچایا ہے۔ خصوصاً کشمیر کے عوام، جو اکثر محاذ آرائی کا سب سے بڑا نقصان اٹھاتے ہیں، برسوں سے امن کے متلاشی ہیں۔ اب ان کی آوازوں کو سنا جانا چاہیے جو اب تک گولیوں اور توپوں کے شور میں دب کر رہ جاتی تھیں۔
یہ جنگ بندی انہیں ایک بار پھر معمول کی زندگی کا خواب دیکھنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔لیکن تاریخ ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ صرف اعلانات سے امن قائم نہیں ہوتا۔ اس کے لئے مستقل سیاسی عزم، باہمی اعتماد اور عوامی سطح پر روابط ضروری ہیں۔ سفارتکاروں اور افواج نے پہلا قدم اٹھا لیا ہے، اب سیاسی قیادت کو چاہیے کہ اس پیش رفت کو مذاکرات، تجارت اور ثقافتی تبادلے کے ذریعے آگے بڑھائے۔ عوامی رابطوں، تعلیمی تبادلوں اور انسانی ہمدردی پر مبنی اقدامات کو فروغ دینا ناگزیر ہے تاکہ یہ جنگ بندی محض کاغذی معاہدہ نہ رہے بلکہ زمینی حقیقت بن جائے۔دونوں حکومتوں کو چاہیے کہ وہ اندرونی سیاسی دباؤ کے تحت اس نازک آغاز کو سبوتاژ نہ کریں۔
وقتی قومی جوش و جذبہ وقتی داد تو حاصل کر سکتا ہے، لیکن اصل قیادت وہ ہے جو اشتعال انگیزی کے بجائے امن کا راستہ چنے۔ میڈیا کا بھی اہم کردار ہے کہ وہ ذمہ داری کا مظاہرہ کرے، نفرت کو ہوا دینے کے بجائے عوام میں سمجھ بوجھ اور رواداری کو فروغ دے۔جب دنیا بھر میں جنگوں اور تصادمات کا بازار گرم ہے، بھارت اور پاکستان کے پاس موقع ہے کہ وہ یہ ثابت کریں کہ تاریخی دشمن بھی مکالمے اور برداشت کے ذریعے نئی راہیں نکال سکتے ہیں۔ آئیے اس جنگ بندی کو محض ایک وقتی باب نہ بننے دیں بلکہ اسے تعاون کے ایک نئے دور کی بنیاد بنائیں۔ہم یہ قرض ان سپاہیوں پر، ان کشمیری بچوں پر، ان ماؤں پر، اور ان بے شمار عام لوگوں پر چکاتے ہیں جو امن کے مستحق ہیں۔آئیے دعا کریں: امن دیرپا ہو۔


