جنگ بندی میں امریکہ کا رول

2025 میں جب بھارت اور پاکستان ایک مرتبہ پھر کھلے تصادم کی دہلیز پر پہنچے، تو دنیا کو 2021 کے اس خاموش لیکن اہم لمحے کی یاد آئی جب دونوں ممالک نے لائن آف کنٹرول پر سیزفائر کا اعلان کیا تھا۔ اس سیزفائر کا پسِ منظر آج کے حالات میں اور بھی اہم ہو گیا ہے۔
خاص طور پر جب ہم یہ جانتے ہیں کہ اس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا غیر معمولی اور پس پردہ کردار تھا۔2021 میں ڈونلڈ ٹرمپ کے آخری ایام میں، بھارت اور پاکستان نے ایک اچانک لیکن تاریخی جنگ بندی پر اتفاق کیا تھا۔ اس وقت عالمی برادری نے اسے ایک "سرپرائز” قرار دیا۔
اگرچہ سرکاری طور پر دونوں ممالک نے اسے اپنی داخلی حکمت عملی اور بیک چینل سفارت کاری کا نتیجہ بتایا، لیکن حقیقت یہ تھی کہ ٹرمپ انتظامیہ نے خاموشی سے دونوں فریقین پر دباؤ ڈالا تھا۔ ٹرمپ، جو عموماً جارحانہ بیانات کے لئے جانے جاتے تھے، نے جنوبی ایشیا میں استحکام کو اپنی افغان پالیسی کی کامیابی کے لئے ناگزیر سمجھا تھا۔
اسی لئے، امریکہ نے سفارتی اور عسکری ذرائع سے بھارت اور پاکستان کو تناؤ کم کرنے پر آمادہ کیا تھا۔بدقسمتی سے2025میں جو جنگ چھڑ گئی، وہ اس سیزفائر کی نازک بنیادوں پر بنی ہوئی عمارت کے گرنے کی ایک افسوسناک مثال ہے۔ پلوامہ اور پھر پاہلگام جیسے دہشت گرد حملے اور اس کے جواب میں بھارت کا آپریشن سندور ، سب کچھ اس سمت بڑھتے آثار تھے کہ جب تک بنیادوں کو مضبوط نہیں کیا جائے، وقتی سیزفائر زیادہ دیر قائم نہیں رہ سکتے۔
ٹرمپ کے دور میں ہونے والا سیزفائر ایک قیمتی موقع تھا ایک ایسا موقع جس میں اگر اعتماد کی عمارت کو آگے بڑھایا جاتا، مستقل مذاکرات کی راہیں کھولی جاتیں، اور عوامی بیانیے کو دشمنی کے بجائے مفاہمت کی طرف موڑا جاتا، تو شاید آج ہم ایک نئی جنگ کے زخم نہ سہہ رہے ہوتے۔
افسوس کہ دونوں ممالک نے اس سیزفائر کو ایک وقتی آرام سمجھا، نہ کہ ایک بڑے امن عمل کی بنیاد۔آج جب کشمیر میں دوبارہ خون بہہ رہا ہے اور ایل او سی پر گولہ باری معمول بن چکی ہے، ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ 2021 کی سیزفائر محض ایک سیاسی چال نہیں تھی، بلکہ جنوبی ایشیا کے لئے ایک نایاب سفارتی کامیابی تھی۔ ٹرمپ کا کردار جتنا بھی غیر روایتی یا متنازعہ ہو ایک سبق تھا کہ بڑی قوتیں جب سنجیدگی سے پسِ پردہ سہولت کاری کریں، تو دشمنی میں بھی تھوڑی سی مہلت ممکن ہو سکتی ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

پی- ڈی- پی صدر نے ایمس اونتی پورہ کی جلد تکمیل کا مطالبہ کیا،

سری نگر: پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر...

نارکو دہشت گردی کے خلاف عوامی تحریک اُبھر چکی ہے

جنگ نیوز ڈیسک سری نگر/لیفٹیننٹ گورنر شری منوج سنہا نے...

جموں میں ملک کے ساتویں علاقائی موسمیاتی مرکز کا افتتاح

جنگ نیوز مرکزی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی و ارضیاتی...

طنز و مزاح:’’ٹر‘‘ کی دنیا اور ہماری زندگی

طبیب احسن تابش’ ’ٹر‘‘دو حرفی لفظ ہے ۔آپ اس میں...

تازہ ترین خبریں

پی- ڈی- پی صدر نے ایمس اونتی پورہ کی جلد تکمیل کا مطالبہ کیا،

سری نگر: پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر...

نارکو دہشت گردی کے خلاف عوامی تحریک اُبھر چکی ہے

جنگ نیوز ڈیسک سری نگر/لیفٹیننٹ گورنر شری منوج سنہا نے...

جموں میں ملک کے ساتویں علاقائی موسمیاتی مرکز کا افتتاح

جنگ نیوز مرکزی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی و ارضیاتی...

طنز و مزاح:’’ٹر‘‘ کی دنیا اور ہماری زندگی

طبیب احسن تابش’ ’ٹر‘‘دو حرفی لفظ ہے ۔آپ اس میں...

جنگ بندی میں امریکہ کا رول

2025 میں جب بھارت اور پاکستان ایک مرتبہ پھر کھلے تصادم کی دہلیز پر پہنچے، تو دنیا کو 2021 کے اس خاموش لیکن اہم لمحے کی یاد آئی جب دونوں ممالک نے لائن آف کنٹرول پر سیزفائر کا اعلان کیا تھا۔ اس سیزفائر کا پسِ منظر آج کے حالات میں اور بھی اہم ہو گیا ہے۔
خاص طور پر جب ہم یہ جانتے ہیں کہ اس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا غیر معمولی اور پس پردہ کردار تھا۔2021 میں ڈونلڈ ٹرمپ کے آخری ایام میں، بھارت اور پاکستان نے ایک اچانک لیکن تاریخی جنگ بندی پر اتفاق کیا تھا۔ اس وقت عالمی برادری نے اسے ایک "سرپرائز” قرار دیا۔
اگرچہ سرکاری طور پر دونوں ممالک نے اسے اپنی داخلی حکمت عملی اور بیک چینل سفارت کاری کا نتیجہ بتایا، لیکن حقیقت یہ تھی کہ ٹرمپ انتظامیہ نے خاموشی سے دونوں فریقین پر دباؤ ڈالا تھا۔ ٹرمپ، جو عموماً جارحانہ بیانات کے لئے جانے جاتے تھے، نے جنوبی ایشیا میں استحکام کو اپنی افغان پالیسی کی کامیابی کے لئے ناگزیر سمجھا تھا۔
اسی لئے، امریکہ نے سفارتی اور عسکری ذرائع سے بھارت اور پاکستان کو تناؤ کم کرنے پر آمادہ کیا تھا۔بدقسمتی سے2025میں جو جنگ چھڑ گئی، وہ اس سیزفائر کی نازک بنیادوں پر بنی ہوئی عمارت کے گرنے کی ایک افسوسناک مثال ہے۔ پلوامہ اور پھر پاہلگام جیسے دہشت گرد حملے اور اس کے جواب میں بھارت کا آپریشن سندور ، سب کچھ اس سمت بڑھتے آثار تھے کہ جب تک بنیادوں کو مضبوط نہیں کیا جائے، وقتی سیزفائر زیادہ دیر قائم نہیں رہ سکتے۔
ٹرمپ کے دور میں ہونے والا سیزفائر ایک قیمتی موقع تھا ایک ایسا موقع جس میں اگر اعتماد کی عمارت کو آگے بڑھایا جاتا، مستقل مذاکرات کی راہیں کھولی جاتیں، اور عوامی بیانیے کو دشمنی کے بجائے مفاہمت کی طرف موڑا جاتا، تو شاید آج ہم ایک نئی جنگ کے زخم نہ سہہ رہے ہوتے۔
افسوس کہ دونوں ممالک نے اس سیزفائر کو ایک وقتی آرام سمجھا، نہ کہ ایک بڑے امن عمل کی بنیاد۔آج جب کشمیر میں دوبارہ خون بہہ رہا ہے اور ایل او سی پر گولہ باری معمول بن چکی ہے، ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ 2021 کی سیزفائر محض ایک سیاسی چال نہیں تھی، بلکہ جنوبی ایشیا کے لئے ایک نایاب سفارتی کامیابی تھی۔ ٹرمپ کا کردار جتنا بھی غیر روایتی یا متنازعہ ہو ایک سبق تھا کہ بڑی قوتیں جب سنجیدگی سے پسِ پردہ سہولت کاری کریں، تو دشمنی میں بھی تھوڑی سی مہلت ممکن ہو سکتی ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں