سرحدوں پر بگڑتی صورتحال

جموں و کشمیر کی سرحدوں پر اس وقت جو حالات پیدا ہو چکے ہیں، وہ نہایت تشویشناک ہیں۔ لائن آف کنٹرول (ایل او سی) اور بین الاقوامی سرحدوں پر گولہ باری، ڈرون حملے اور مسلسل کشیدگی نے نہ صرف دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید بگاڑ دیا ہے بلکہ خطے کے امن کو بھی خطرے میں ڈال دیا ہے۔ پہلگام دہشت گردانہ واقعے کے بعد بھارتی فوج کی جوابی کارروائی نے واضح کر دیا ہے کہ اب دہشت گردی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ تاہم، اس بڑھتی ہوئی کشیدگی کے سائے میں عام شہریوں کی جان و مال کو لاحق خطرات میں بے پناہ اضافہ ہو گیا ہے۔
پاکستان کی جانب سے میزائل اور ڈرون حملے بھارتی علاقوں پر کیے جا رہے ہیں، جن کا بھارتی فضائی دفاعی نظام کامیابی سے جواب دے رہا ہے۔
جموں، سانبہ، راجستھان اور پنجاب کے کئی شہروں میں بلیک آؤٹ نافذ کر دیا گیا ہے تاکہ عوامی تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔ تاہم، اس صورتحال نے عام لوگوں میں خوف و ہراس کی فضا پیدا کر دی ہے۔ سائرن بجنے، بجلی منقطع ہونے اور مواصلاتی نیٹ ورک میں رکاوٹ نے معمولات زندگی کو متاثر کیا ہے۔
اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ بھارت اپنی دفاعی صلاحیتوں کو مزید مستحکم کرے اور ساتھ ہی دنیا کو باور کرائے کہ وہ امن کا خواہاں ہے لیکن اپنی خودمختاری اور شہریوں کی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ اقوام متحدہ اور عالمی طاقتوں کو چاہیے کہ وہ پاکستان پر دباؤ ڈالیں تاکہ وہ اپنی سرزمین کو دہشت گردانہ سرگرمیوں کے لیے استعمال ہونے سے روکے۔
جہاں ایک طرف بھارتی مسلح افواج نے اپنی پیشہ ورانہ مہارت سے دشمن کے حملوں کو ناکام بنایا ہے، وہیں دوسری طرف ہمیں اپنے اندرونی اتحاد اور سیاسی استحکام کو بھی مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔ میڈیا، سیاسی قیادت اور عوام کو چاہیے کہ وہ افواہوں سے دور رہ کر، یکجہتی کا مظاہرہ کریں اور قومی سلامتی کے اداروں پر مکمل اعتماد رکھیں۔
سرحدوں پر بڑھتی ہوئی کشیدگی کسی بھی وقت بڑے تصادم میں تبدیل ہو سکتی ہے، اس لیے سفارتی محاذ پر بھی مستعدی سے کام لینے کی ضرورت ہے۔ طاقت اور تدبر کا متوازن استعمال ہی ہمیں اس نازک دوراہے پر کامیابی کی طرف لے جا سکتا ہے۔
ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ جنگ کبھی بھی مسائل کا حل نہیں ہوتی۔ امن کی خواہش کے ساتھ مضبوط دفاعی تیاری ہی حقیقی حکمت عملی ہے۔ بھارت کو چاہیے کہ وہ ہر محاذ پر چوکسی اور حکمت عملی کے ساتھ اپنی سرزمین اور شہریوں کی حفاظت یقینی بنائے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

میرواعظ سمیت دیگر مذہبی رہنماؤں کی ایرانی صدر سے ملاقات

جنگ نیوز نئی دہلی: ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے مذہبی...

فلم فیسٹول IFFJKکی کامیابی میں DIPR کی ٹیم ورک نمایاں

جنگ نیوز سری نگر/جموں و کشمیر میں پہلی مرتبہ منعقد...

لشکر کی تین نکاتی حکمت عملی:جموںکشمیر میں انسدادِ دہشت گردی کارروائیاں تیز

    جنگ نیوز نئی دہلی/سکیورٹی اداروں نے جموں و کشمیر میں...

وزیراعظم مودی نےBRICS بزنس فورم سے خطاب کے دوران تجارتی رکاوٹیں دور کرنے کی تجویزپیش کی

  جنگ نیوز ڈیسک نئی دہلی/وزیراعظم نریندر مودی نے کہا ہے...

جموں کشمیر بینک ڈیجیٹل تبدیلی پربہترین بینک ایوارڈسے سرفراز

  جنگ نیوز سرینگر/جے اینڈ کے بینک نے ممبئی میں منعقدہ...

تازہ ترین خبریں

میرواعظ سمیت دیگر مذہبی رہنماؤں کی ایرانی صدر سے ملاقات

جنگ نیوز نئی دہلی: ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے مذہبی...

فلم فیسٹول IFFJKکی کامیابی میں DIPR کی ٹیم ورک نمایاں

جنگ نیوز سری نگر/جموں و کشمیر میں پہلی مرتبہ منعقد...

لشکر کی تین نکاتی حکمت عملی:جموںکشمیر میں انسدادِ دہشت گردی کارروائیاں تیز

    جنگ نیوز نئی دہلی/سکیورٹی اداروں نے جموں و کشمیر میں...

وزیراعظم مودی نےBRICS بزنس فورم سے خطاب کے دوران تجارتی رکاوٹیں دور کرنے کی تجویزپیش کی

  جنگ نیوز ڈیسک نئی دہلی/وزیراعظم نریندر مودی نے کہا ہے...

جموں کشمیر بینک ڈیجیٹل تبدیلی پربہترین بینک ایوارڈسے سرفراز

  جنگ نیوز سرینگر/جے اینڈ کے بینک نے ممبئی میں منعقدہ...

سرحدوں پر بگڑتی صورتحال

جموں و کشمیر کی سرحدوں پر اس وقت جو حالات پیدا ہو چکے ہیں، وہ نہایت تشویشناک ہیں۔ لائن آف کنٹرول (ایل او سی) اور بین الاقوامی سرحدوں پر گولہ باری، ڈرون حملے اور مسلسل کشیدگی نے نہ صرف دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید بگاڑ دیا ہے بلکہ خطے کے امن کو بھی خطرے میں ڈال دیا ہے۔ پہلگام دہشت گردانہ واقعے کے بعد بھارتی فوج کی جوابی کارروائی نے واضح کر دیا ہے کہ اب دہشت گردی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ تاہم، اس بڑھتی ہوئی کشیدگی کے سائے میں عام شہریوں کی جان و مال کو لاحق خطرات میں بے پناہ اضافہ ہو گیا ہے۔
پاکستان کی جانب سے میزائل اور ڈرون حملے بھارتی علاقوں پر کیے جا رہے ہیں، جن کا بھارتی فضائی دفاعی نظام کامیابی سے جواب دے رہا ہے۔
جموں، سانبہ، راجستھان اور پنجاب کے کئی شہروں میں بلیک آؤٹ نافذ کر دیا گیا ہے تاکہ عوامی تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔ تاہم، اس صورتحال نے عام لوگوں میں خوف و ہراس کی فضا پیدا کر دی ہے۔ سائرن بجنے، بجلی منقطع ہونے اور مواصلاتی نیٹ ورک میں رکاوٹ نے معمولات زندگی کو متاثر کیا ہے۔
اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ بھارت اپنی دفاعی صلاحیتوں کو مزید مستحکم کرے اور ساتھ ہی دنیا کو باور کرائے کہ وہ امن کا خواہاں ہے لیکن اپنی خودمختاری اور شہریوں کی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ اقوام متحدہ اور عالمی طاقتوں کو چاہیے کہ وہ پاکستان پر دباؤ ڈالیں تاکہ وہ اپنی سرزمین کو دہشت گردانہ سرگرمیوں کے لیے استعمال ہونے سے روکے۔
جہاں ایک طرف بھارتی مسلح افواج نے اپنی پیشہ ورانہ مہارت سے دشمن کے حملوں کو ناکام بنایا ہے، وہیں دوسری طرف ہمیں اپنے اندرونی اتحاد اور سیاسی استحکام کو بھی مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔ میڈیا، سیاسی قیادت اور عوام کو چاہیے کہ وہ افواہوں سے دور رہ کر، یکجہتی کا مظاہرہ کریں اور قومی سلامتی کے اداروں پر مکمل اعتماد رکھیں۔
سرحدوں پر بڑھتی ہوئی کشیدگی کسی بھی وقت بڑے تصادم میں تبدیل ہو سکتی ہے، اس لیے سفارتی محاذ پر بھی مستعدی سے کام لینے کی ضرورت ہے۔ طاقت اور تدبر کا متوازن استعمال ہی ہمیں اس نازک دوراہے پر کامیابی کی طرف لے جا سکتا ہے۔
ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ جنگ کبھی بھی مسائل کا حل نہیں ہوتی۔ امن کی خواہش کے ساتھ مضبوط دفاعی تیاری ہی حقیقی حکمت عملی ہے۔ بھارت کو چاہیے کہ وہ ہر محاذ پر چوکسی اور حکمت عملی کے ساتھ اپنی سرزمین اور شہریوں کی حفاظت یقینی بنائے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں