غزل-میر شہریارؔ

میر شہریارؔ
رک گئے یا ٹھہر گئے ہوں گے
کون جانے کدھر گئے ہوں گے
جن دِوانوں کو ڈھونڈتی ہے صبا
وہ سرِ شام مر گئے ہوں گے
اس نظر سے یوں چھلکی ہوگی شراب
سارے پیمانے بھر گئے ہوں گے
ہاتھ سے ہاتھ چھوٹا ہوگا پھر
خواب سارے بکھر گئے ہوں گے
وہ بھی شاید سنور گئی ہوگی
ہم بھی شاید سنور گئے ہوں گے
چند باتوں کو چند تہمتوں کو
لوگ افسانہ کر گئے ہوں گے
آج اس نے رکھا ہے ماتھے پہ ہاتھ
زخم تو سارے بھر گئے ہوں گے
چھڑ گئے ہوں گے شوق کی دیوار
پھر اترنے سے ڈر گئے ہوں گے
باتوں کے پاسدار تھے ہم سب
آخرش سب مکر گئے ہوں گے
گر گئی ہوگی زندگی کی چھت
کتنے معصوم مر گئے ہوں گے
وہ چمن سے گزر گئے ہوں گے
گل گریباں کتر گئے ہوں گے
اس خرابے میں آ کے آخر ہم
خاک سے خاک تر گئے ہوں گے
موت کی مہربانی سے پہلے
ہم کئی بار مر گئے ہوں گے

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

ہنڈواڑہ میں ’’My Youth My Pride‘‘ ووشو اور کبڈی چیمپئن شپ کا آغاز

  جنگ نیوز ڈیسک کپواڑہ، 28 جولائی: جموں و کشمیر سپورٹس...

احتجاج، جمہوریت اور ریاستی ردعمل

حیات اندرابی پلوامہ، کشمیر دنیا کی جدید جمہوریتوں میں عوامی احتجاج...

امریکہ-اسرائیل تعلقات اور مشرقی وسطیٰ کا نیا منظرنامہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین...

محکمہ موسمیات کی تازہ پیشنگوئی

  اگلے 2 سے 4 گھنٹوں کے دوران جنوبی کشمیر...

زلزلے کے شدید جھٹکے، شدت 7.1 ریکارڈ، سونامی کی وارننگ جاری

ٹوکیو: جاپان کے جنوبی جزیرے کیوشو میں منگل کے روز...

تازہ ترین خبریں

ہنڈواڑہ میں ’’My Youth My Pride‘‘ ووشو اور کبڈی چیمپئن شپ کا آغاز

  جنگ نیوز ڈیسک کپواڑہ، 28 جولائی: جموں و کشمیر سپورٹس...

احتجاج، جمہوریت اور ریاستی ردعمل

حیات اندرابی پلوامہ، کشمیر دنیا کی جدید جمہوریتوں میں عوامی احتجاج...

امریکہ-اسرائیل تعلقات اور مشرقی وسطیٰ کا نیا منظرنامہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین...

محکمہ موسمیات کی تازہ پیشنگوئی

  اگلے 2 سے 4 گھنٹوں کے دوران جنوبی کشمیر...

زلزلے کے شدید جھٹکے، شدت 7.1 ریکارڈ، سونامی کی وارننگ جاری

ٹوکیو: جاپان کے جنوبی جزیرے کیوشو میں منگل کے روز...

غزل-میر شہریارؔ

میر شہریارؔ
رک گئے یا ٹھہر گئے ہوں گے
کون جانے کدھر گئے ہوں گے
جن دِوانوں کو ڈھونڈتی ہے صبا
وہ سرِ شام مر گئے ہوں گے
اس نظر سے یوں چھلکی ہوگی شراب
سارے پیمانے بھر گئے ہوں گے
ہاتھ سے ہاتھ چھوٹا ہوگا پھر
خواب سارے بکھر گئے ہوں گے
وہ بھی شاید سنور گئی ہوگی
ہم بھی شاید سنور گئے ہوں گے
چند باتوں کو چند تہمتوں کو
لوگ افسانہ کر گئے ہوں گے
آج اس نے رکھا ہے ماتھے پہ ہاتھ
زخم تو سارے بھر گئے ہوں گے
چھڑ گئے ہوں گے شوق کی دیوار
پھر اترنے سے ڈر گئے ہوں گے
باتوں کے پاسدار تھے ہم سب
آخرش سب مکر گئے ہوں گے
گر گئی ہوگی زندگی کی چھت
کتنے معصوم مر گئے ہوں گے
وہ چمن سے گزر گئے ہوں گے
گل گریباں کتر گئے ہوں گے
اس خرابے میں آ کے آخر ہم
خاک سے خاک تر گئے ہوں گے
موت کی مہربانی سے پہلے
ہم کئی بار مر گئے ہوں گے

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں