ہند و پاک جنگ کے دلدل میں !

جنوبی ایشیا کے یہ دو پڑوسی ممالک، بھارت اور پاکستان، جنہیں تاریخ نے کئی زخم دیے اور کئی مواقع بھی فراہم کیے، آج ایک بار پھر جنگ کے دلدل میں ہیں۔ حالیہ واقعات، جن میں سرحد پار حملے، دہشت گردی کے الزامات، اور فوجی کارروائیاں شامل ہیںنے دونوں ممالک کے تعلقات کو ایک نازک اور خطرناک موڑ پر لا کھڑا کیا ہے۔
موجودہ صورتحال کا سب سے خطرناک پہلو یہ ہے کہ دونوں ممالک کے پاس ایٹمی ہتھیار موجود ہیں۔ ایک معمولی غلطی یا اشتعال انگیزی پورے خطے کو ایسی تباہی سے دوچار کر سکتی ہے جس کے اثرات دہائیوں تک محسوس کیے جائیں گے۔ تاریخ گواہ ہے کہ 1947، 1965، 1971 اور 1999 کی جنگوں نے دونوں ملکوں کو شدید نقصان پہنچایا، لیکن کوئی دیرپا حل فراہم نہ کر سکیں۔
آج، بھارت اور پاکستان کو چاہیے کہ اپنی داخلی سیاسی مجبوریوں کو خطے کے امن پر فوقیت نہ دیں۔ جنگی جنون کو ہوا دینا وقتی طور پر عوام کی توجہ اندرونی مسائل سے ہٹا سکتا ہے، لیکن یہ پالیسی نہ پائیدار ہے نہ دانشمندانہ۔
عوام، جو روٹی، روزگار، تعلیم اور صحت جیسی بنیادی ضروریات کے لئے ترس رہے ہیں، جنگی حالات میں سب سے زیادہ نقصان اٹھاتے ہیں۔ ماضی کا تجربہ بتاتا ہے کہ ہر جنگ کے بعد غریبوں کی صف میں اضافہ ہوا اور ترقی کے خواب مزید دور ہوتے چلے گئے۔
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ دونوں ممالک دانشمندی، صبر، اور مکالمے کا راستہ اپنائیں۔ عالمی برادری کو بھی چاہیے کہ وہ جنوبی ایشیا میں تناؤ کم کرانے میں سنجیدہ کردار ادا کرے، بجائے اس کے کہ وہ محض مفادات کی خاطر خاموش تماشائی بنی رہے۔
اعتماد سازی کے اقدامات، مذاکرات کی بحالی، عوامی رابطے، اور ثقافتی تبادلے ہی وہ ذرائع ہیں جو دشمنی کی آگ کو ٹھنڈا کر سکتے ہیں۔
آخرکار، بھارت اور پاکستان کے عوام کو سوچنا ہوگا کہ جنگ کے شعلے بھڑکانے والے چند سیاستدانوں کی وقتی کامیابی کے بدلے، ان کے اپنے مستقبل اور نسلوں کے خواب راکھ نہ ہو جائیں۔ امن کی راہ دشوار ضرور ہے، لیکن جنگ کی راہ مکمل تباہی کی طرف لے جاتی ہے۔

 

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

مسکراہٹوں اور مایوسیوں کے بیچ جموں کشمیر کابینہ کی قوت میں اضافہ

لیفٹیننٹ گورنر نے چار نئے وزرا کو عہدے اور...

سفارت کاری ہی واحد راستہ

مغربی ایشیا میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور حوثی حملوں...

اردن کا شام پر حملہ

عمان، اردن: اردنی فضائیہ نے ایک بیان میں اعلان...

پولیس نے سرینگر کے خانِ یار میں 45 لاکھ روپے کی چوری کا کیس حل کر لیا

سرینگر، 27 اکتوبر پولیس نے منگل کے روز دعویٰ کیا...

کشمیری کسان ظفر احمد بٹ کو مشک بجی چاول کے تحفظ پر اعزاز

جنگ نیوز سرینگر/کشمیری کسان ظفر احمد بٹ کو نئی دہلی...

تازہ ترین خبریں

مسکراہٹوں اور مایوسیوں کے بیچ جموں کشمیر کابینہ کی قوت میں اضافہ

لیفٹیننٹ گورنر نے چار نئے وزرا کو عہدے اور...

سفارت کاری ہی واحد راستہ

مغربی ایشیا میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور حوثی حملوں...

اردن کا شام پر حملہ

عمان، اردن: اردنی فضائیہ نے ایک بیان میں اعلان...

پولیس نے سرینگر کے خانِ یار میں 45 لاکھ روپے کی چوری کا کیس حل کر لیا

سرینگر، 27 اکتوبر پولیس نے منگل کے روز دعویٰ کیا...

کشمیری کسان ظفر احمد بٹ کو مشک بجی چاول کے تحفظ پر اعزاز

جنگ نیوز سرینگر/کشمیری کسان ظفر احمد بٹ کو نئی دہلی...

ہند و پاک جنگ کے دلدل میں !

جنوبی ایشیا کے یہ دو پڑوسی ممالک، بھارت اور پاکستان، جنہیں تاریخ نے کئی زخم دیے اور کئی مواقع بھی فراہم کیے، آج ایک بار پھر جنگ کے دلدل میں ہیں۔ حالیہ واقعات، جن میں سرحد پار حملے، دہشت گردی کے الزامات، اور فوجی کارروائیاں شامل ہیںنے دونوں ممالک کے تعلقات کو ایک نازک اور خطرناک موڑ پر لا کھڑا کیا ہے۔
موجودہ صورتحال کا سب سے خطرناک پہلو یہ ہے کہ دونوں ممالک کے پاس ایٹمی ہتھیار موجود ہیں۔ ایک معمولی غلطی یا اشتعال انگیزی پورے خطے کو ایسی تباہی سے دوچار کر سکتی ہے جس کے اثرات دہائیوں تک محسوس کیے جائیں گے۔ تاریخ گواہ ہے کہ 1947، 1965، 1971 اور 1999 کی جنگوں نے دونوں ملکوں کو شدید نقصان پہنچایا، لیکن کوئی دیرپا حل فراہم نہ کر سکیں۔
آج، بھارت اور پاکستان کو چاہیے کہ اپنی داخلی سیاسی مجبوریوں کو خطے کے امن پر فوقیت نہ دیں۔ جنگی جنون کو ہوا دینا وقتی طور پر عوام کی توجہ اندرونی مسائل سے ہٹا سکتا ہے، لیکن یہ پالیسی نہ پائیدار ہے نہ دانشمندانہ۔
عوام، جو روٹی، روزگار، تعلیم اور صحت جیسی بنیادی ضروریات کے لئے ترس رہے ہیں، جنگی حالات میں سب سے زیادہ نقصان اٹھاتے ہیں۔ ماضی کا تجربہ بتاتا ہے کہ ہر جنگ کے بعد غریبوں کی صف میں اضافہ ہوا اور ترقی کے خواب مزید دور ہوتے چلے گئے۔
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ دونوں ممالک دانشمندی، صبر، اور مکالمے کا راستہ اپنائیں۔ عالمی برادری کو بھی چاہیے کہ وہ جنوبی ایشیا میں تناؤ کم کرانے میں سنجیدہ کردار ادا کرے، بجائے اس کے کہ وہ محض مفادات کی خاطر خاموش تماشائی بنی رہے۔
اعتماد سازی کے اقدامات، مذاکرات کی بحالی، عوامی رابطے، اور ثقافتی تبادلے ہی وہ ذرائع ہیں جو دشمنی کی آگ کو ٹھنڈا کر سکتے ہیں۔
آخرکار، بھارت اور پاکستان کے عوام کو سوچنا ہوگا کہ جنگ کے شعلے بھڑکانے والے چند سیاستدانوں کی وقتی کامیابی کے بدلے، ان کے اپنے مستقبل اور نسلوں کے خواب راکھ نہ ہو جائیں۔ امن کی راہ دشوار ضرور ہے، لیکن جنگ کی راہ مکمل تباہی کی طرف لے جاتی ہے۔

 

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں