جنگ نیوز
لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے جموں میں آچاریہ ابھینوگپت کے مجسمے کی نقاب کشائی، JKAACL کے نئے لوگو کی رونمائی، دو کتابوں کی اجرا اور فنکاروں و ادیبوں کے لئے فلاحی اسکیم کا افتتاح کیا۔
اس موقع پر منوج سنہا نے کہا کہ فنکار اور ادیب معاشرے کی اجتماعی یادداشت کے نگہبان ہیں اور جموں و کشمیر کی ثقافت اور ورثے کو نئی نسلوں تک منتقل کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تاریخی حقائق کو درست تناظر میں پیش کرنے اور تہذیبی ورثے کو محفوظ رکھنے کی ضرورت ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے آچاریہ ابھینوگپت کو فلسفی، شاعر، روحانی مفکر اور جمالیات کے ماہر کے طور پر خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی تعلیمات، بالخصوص کشمیر شیو ازم، پرتھیبیجنا فلسفہ، تنترالوکا اور نظریۂ رس، ہندوستانی فکری ورثے کا اہم حصہ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ فن انسان کے باطن کی بیداری کا ذریعہ ہے اور نوجوان نسل کو ابھینوگپت جیسے مفکرین کی علمی میراث سے روشناس کرانا ضروری ہے۔
اس موقع پر ڈاکٹر ویدہی تامن کی کتاب Abhinavagupt: The Voice of Eternal Shiva اور اکریتی شرما کی کتاب Raghunath Temple, Channi Parat: Hidden Heritage of Sunderbani کی رونمائی بھی کی گئی۔ منوج سنہا نے دونوں مصنفین کی تحقیقی کاوشوں کو جموں و کشمیر کے ثقافتی ورثے سے متعلق اہم علمی کام قرار دیا۔
تقریب میں اروند گپتا، برج موہن شرما، شکتی کمار پاٹھک، رمیش کمار، تیجندر سنگھ، ڈاکٹر راکیش منہاس، شروتی اوستھی اور ہروندر کور سمیت ادبی شخصیات اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے وابستہ افراد نے شرکت کی۔


