کینسر مریضوں کو بڑی راحت، 70 فیصد تک سستی ہوں گی ادویات، حکومت کا بڑا فیصلہ

کینسر کا علاج صرف مریض کی صحت کا امتحان نہیں ہوتا، بلکہ کئی بار یہ پورے خاندان کی جمع پونجی بھی ختم کر دیتا ہے۔ اسپتالوں کے چکر، طبی جانچ اور علاج کے اخراجات کے درمیان مہنگی دوائیں خریدنا بھی ایک بڑا مسئلہ بن جاتا ہے۔ ایسے میں مرکزی حکومت کی جانب سے کینسر کی دواؤں کی قیمتیں کم کرنے کے لیے اٹھایا گیا قدم لاکھوں مریضوں اور ان کے اہلِ خانہ کے لیے راحت کی امید لے کر آیا ہے۔

حکومت کے ادویات کی قیمتوں کے نگران ادارے، نیشنل فارماسیوٹیکل پرائسنگ اتھارٹی یعنی NPPA نے کینسر کی بعض دواؤں پر تجارتی منافع کی شرح کو زیادہ سے زیادہ 30 فیصد تک محدود کرنے کی تجویز کو منظوری دے دی ہے۔ اندازہ ہے کہ اس اقدام سے کئی دواؤں کی قیمتوں میں 20 سے 70 فیصد تک کمی آ سکتی ہے۔ حکومت کے مطابق، اس سے مریضوں کو ہر سال تقریباً 2,500 کروڑ روپے کی بچت ہو سکتی ہے۔

تاہم، فی الحال کینسر کی تمام دواؤں کی قیمتوں میں بیک وقت کمی نہیں کی جائے گی۔ یہ فیصلہ صرف ان دواؤں پر لاگو ہوگا جنہیں حکومت کی جانب سے تیار کی جانے والی حتمی فہرست میں شامل کیا جائے گا۔ ان میں ایسی دوائیں شامل ہیں جن کی قیمتوں پر فی الحال حکومت کی جانب سے مقرر کردہ حد لاگو نہیں ہوتی۔ ماہرین کی ایک کمیٹی طے کرے گی کہ کن دواؤں کو اس ضابطے کے دائرے میں لایا جائے۔ اس کے بعد NPPA باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کرے گا اور قیمتوں میں کمی کا عمل شروع ہوگا۔

اس ضابطے کے دائرے میں برانڈڈ اور جنیرک دواؤں کے علاوہ ملک میں تیار ہونے والی اور بیرونِ ملک سے درآمد کی جانے والی دوائیں بھی شامل ہو سکتی ہیں۔ حکومت کا مقصد کینسر کے علاج پر آنے والے اخراجات کم کرنا اور دواؤں کی قیمتوں کے تعین میں شفافیت لانا ہے۔

کینسر کی دواؤں پر خرچ کتنا کم ہو سکتا ہے؟

NPPA کے اندازے کے مطابق، اس فیصلے سے دواؤں کی زیادہ سے زیادہ خوردہ قیمت، یعنی MRP، میں 20 سے 70 فیصد تک کمی آ سکتی ہے۔ تاہم، ہر دوا کی قیمت میں یکساں کمی نہیں ہوگی۔ اس کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ فی الحال دوا کی قیمت میں کمپنی سے لے کر تھوک اور خوردہ فروخت کنندگان تک کتنا تجارتی منافع شامل کیا جاتا ہے۔ حکومت نے اندازہ لگایا ہے کہ اس اقدام سے مریضوں کو ہر سال تقریباً 2,500 کروڑ روپے کی بچت ہو سکتی ہے۔ ہندوستان میں کینسر کی دواؤں کی سالانہ مارکیٹ تقریباً 12,500 کروڑ روپے کی بتائی جاتی ہے، جس میں غیر شیڈول شدہ دواؤں کا بڑا حصہ ہے۔

تجارتی منافع کی شرح کیا ہوتی ہے؟

جب کوئی دوا تیار کرنے والی کمپنی سے نکل کر تقسیم کار اور پھر دکان دار کے ذریعے مریض تک پہنچتی ہے تو اس پورے چین میں مختلف سطحوں پر منافع شامل کیا جاتا ہے۔ اسی منافع کو تجارتی مارجن کہا جاتا ہے۔ NPPA کی میٹنگ کی تفصیلات کے مطابق، غیر شیڈول شدہ کینسر کی دواؤں میں اوسط تجارتی منافع کی شرح تقریباً 170 فیصد تک پائی گئی ہے۔ بعض معاملات میں یہ شرح 700 فیصد تک ہونے کا اندازہ ہے۔ نئی تجویز کا مقصد اسی غیر معمولی طور پر زیادہ منافع پر قابو پانا ہے۔ اس کے تحت تجارتی منافع کی شرح کو زیادہ سے زیادہ خوردہ قیمت (MRP) کے 30 فیصد تک محدود کیا جائے گا۔

ماہرین کی کمیٹی طے کرے گی کہ کن دواؤں پر فیصلہ لاگو ہوگا

ادویات کی قیمتوں کے نگران ادارے نے اس تجویز کو اصولی منظوری دے دی ہے۔ اب ماہرین کی ایک کمیٹی ان کینسر کی دواؤں کی فہرست تیار کرے گی جن پر نیا ضابطہ لاگو ہوگا۔ محکمۂ ادویات نے وزارتِ صحت سے کہا ہے کہ ڈائریکٹوریٹ جنرل آف ہیلتھ سروسز یعنی DGHS کے تحت ایک کمیٹی تشکیل دی جائے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

گُریز میں شینا زبان و ثقافت کی خوشبو، JKAACL کا شینا مشاعرہ و ثقافتی پروگرام

جنگ نیوز ڈیسک بانڈی پورہ، 8 اکتوبر: جموں و کشمیر...

کشمیر میں بچوں کے خلاف جرائم:2024 میں 308 مقدمات درج

جنگ نیوز+KNT سرینگر/نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کے اعداد و شمار...

کشمیر کی نئی پہچان: IUST کے 7 سائنس دان دنیا کے سرفہرست 2 فیصد محققین میں شامل

  جنگ نیوز ڈیسک اونتی پورہ،/ اسلامک یونیورسٹی آف سائنس اینڈ...

پدم شری معروف اداکار نانا پاٹیکرچل بسے

جنگ نیوز معروف اداکار نانا پاٹیکر جمعرات کی صبح گوا...

تازہ ترین خبریں

گُریز میں شینا زبان و ثقافت کی خوشبو، JKAACL کا شینا مشاعرہ و ثقافتی پروگرام

جنگ نیوز ڈیسک بانڈی پورہ، 8 اکتوبر: جموں و کشمیر...

کشمیر میں بچوں کے خلاف جرائم:2024 میں 308 مقدمات درج

جنگ نیوز+KNT سرینگر/نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کے اعداد و شمار...

کشمیر کی نئی پہچان: IUST کے 7 سائنس دان دنیا کے سرفہرست 2 فیصد محققین میں شامل

  جنگ نیوز ڈیسک اونتی پورہ،/ اسلامک یونیورسٹی آف سائنس اینڈ...

پدم شری معروف اداکار نانا پاٹیکرچل بسے

جنگ نیوز معروف اداکار نانا پاٹیکر جمعرات کی صبح گوا...

کینسر مریضوں کو بڑی راحت، 70 فیصد تک سستی ہوں گی ادویات، حکومت کا بڑا فیصلہ

کینسر کا علاج صرف مریض کی صحت کا امتحان نہیں ہوتا، بلکہ کئی بار یہ پورے خاندان کی جمع پونجی بھی ختم کر دیتا ہے۔ اسپتالوں کے چکر، طبی جانچ اور علاج کے اخراجات کے درمیان مہنگی دوائیں خریدنا بھی ایک بڑا مسئلہ بن جاتا ہے۔ ایسے میں مرکزی حکومت کی جانب سے کینسر کی دواؤں کی قیمتیں کم کرنے کے لیے اٹھایا گیا قدم لاکھوں مریضوں اور ان کے اہلِ خانہ کے لیے راحت کی امید لے کر آیا ہے۔

حکومت کے ادویات کی قیمتوں کے نگران ادارے، نیشنل فارماسیوٹیکل پرائسنگ اتھارٹی یعنی NPPA نے کینسر کی بعض دواؤں پر تجارتی منافع کی شرح کو زیادہ سے زیادہ 30 فیصد تک محدود کرنے کی تجویز کو منظوری دے دی ہے۔ اندازہ ہے کہ اس اقدام سے کئی دواؤں کی قیمتوں میں 20 سے 70 فیصد تک کمی آ سکتی ہے۔ حکومت کے مطابق، اس سے مریضوں کو ہر سال تقریباً 2,500 کروڑ روپے کی بچت ہو سکتی ہے۔

تاہم، فی الحال کینسر کی تمام دواؤں کی قیمتوں میں بیک وقت کمی نہیں کی جائے گی۔ یہ فیصلہ صرف ان دواؤں پر لاگو ہوگا جنہیں حکومت کی جانب سے تیار کی جانے والی حتمی فہرست میں شامل کیا جائے گا۔ ان میں ایسی دوائیں شامل ہیں جن کی قیمتوں پر فی الحال حکومت کی جانب سے مقرر کردہ حد لاگو نہیں ہوتی۔ ماہرین کی ایک کمیٹی طے کرے گی کہ کن دواؤں کو اس ضابطے کے دائرے میں لایا جائے۔ اس کے بعد NPPA باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کرے گا اور قیمتوں میں کمی کا عمل شروع ہوگا۔

اس ضابطے کے دائرے میں برانڈڈ اور جنیرک دواؤں کے علاوہ ملک میں تیار ہونے والی اور بیرونِ ملک سے درآمد کی جانے والی دوائیں بھی شامل ہو سکتی ہیں۔ حکومت کا مقصد کینسر کے علاج پر آنے والے اخراجات کم کرنا اور دواؤں کی قیمتوں کے تعین میں شفافیت لانا ہے۔

کینسر کی دواؤں پر خرچ کتنا کم ہو سکتا ہے؟

NPPA کے اندازے کے مطابق، اس فیصلے سے دواؤں کی زیادہ سے زیادہ خوردہ قیمت، یعنی MRP، میں 20 سے 70 فیصد تک کمی آ سکتی ہے۔ تاہم، ہر دوا کی قیمت میں یکساں کمی نہیں ہوگی۔ اس کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ فی الحال دوا کی قیمت میں کمپنی سے لے کر تھوک اور خوردہ فروخت کنندگان تک کتنا تجارتی منافع شامل کیا جاتا ہے۔ حکومت نے اندازہ لگایا ہے کہ اس اقدام سے مریضوں کو ہر سال تقریباً 2,500 کروڑ روپے کی بچت ہو سکتی ہے۔ ہندوستان میں کینسر کی دواؤں کی سالانہ مارکیٹ تقریباً 12,500 کروڑ روپے کی بتائی جاتی ہے، جس میں غیر شیڈول شدہ دواؤں کا بڑا حصہ ہے۔

تجارتی منافع کی شرح کیا ہوتی ہے؟

جب کوئی دوا تیار کرنے والی کمپنی سے نکل کر تقسیم کار اور پھر دکان دار کے ذریعے مریض تک پہنچتی ہے تو اس پورے چین میں مختلف سطحوں پر منافع شامل کیا جاتا ہے۔ اسی منافع کو تجارتی مارجن کہا جاتا ہے۔ NPPA کی میٹنگ کی تفصیلات کے مطابق، غیر شیڈول شدہ کینسر کی دواؤں میں اوسط تجارتی منافع کی شرح تقریباً 170 فیصد تک پائی گئی ہے۔ بعض معاملات میں یہ شرح 700 فیصد تک ہونے کا اندازہ ہے۔ نئی تجویز کا مقصد اسی غیر معمولی طور پر زیادہ منافع پر قابو پانا ہے۔ اس کے تحت تجارتی منافع کی شرح کو زیادہ سے زیادہ خوردہ قیمت (MRP) کے 30 فیصد تک محدود کیا جائے گا۔

ماہرین کی کمیٹی طے کرے گی کہ کن دواؤں پر فیصلہ لاگو ہوگا

ادویات کی قیمتوں کے نگران ادارے نے اس تجویز کو اصولی منظوری دے دی ہے۔ اب ماہرین کی ایک کمیٹی ان کینسر کی دواؤں کی فہرست تیار کرے گی جن پر نیا ضابطہ لاگو ہوگا۔ محکمۂ ادویات نے وزارتِ صحت سے کہا ہے کہ ڈائریکٹوریٹ جنرل آف ہیلتھ سروسز یعنی DGHS کے تحت ایک کمیٹی تشکیل دی جائے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں