ٹرمپ نے ایران پر ممکنہ حملوں کی اطلاعات کو مسترد کر دیا، کہا۔۔ انتظامی سطح پر بات چیت جاری

واشنگٹن ڈی سی:

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کے روز ایران کے خلاف ممکنہ نئے حملوں سے متعلق اطلاعات کو مسترد کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ تہران کے ساتھ "ورکنگ لیول” یعنی انتظامی سطح پر بات چیت جاری ہے اور واضح کیا کہ امریکہ تین نومبر کو ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے قبل ایران پر حملہ نہیں کرے گا۔

‘ٹروتھ سوشل’ پر ایک پوسٹ میں ٹرمپ نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں ایرانی بحری نقل و حمل پر عائد ناکہ بندی برقرار رہے گی۔ انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اس اہم بحری راستے سے تیل کی ریکارڈ مقدار گزر رہی ہے، جس میں سے کوئی بھی حصہ ایران سے نہیں آتا۔

امریکی صدر نے اس عزم کا اعادہ بھی کیا کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

 

انہوں نے اپنی پوسٹ میں کہا، "ہم اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ ورکنگ لیول پر بات چیت کر رہے ہیں۔ میں سب پر یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ اگرچہ ایران کی معاشی اور عسکری حالت بہت خراب ہے اور ناکہ بندی مکمل طور پر نافذ ہے، اس کے باوجود آبنائے ہرمز سے تیل کے بیرلز کی ریکارڈ تعداد گزر رہی ہے (صرف گزشتہ رات 22 ملین بیرل، جن میں سے ایک بھی بیرل ایران سے نہیں آیا اور نہ ہی ایران گیا!)، ہم تین نومبر کو ہونے والے امریکی وسط مدتی انتخابات سے قبل کسی بھی حال میں ایران پر حملہ نہیں کریں گے۔ ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہیں ہوں گے!

ٹرمپ کا یہ بیان ان اطلاعات کے ایک دن بعد سامنے آیا ہے جن میں کہا گیا تھا کہ پینٹاگون کو ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی کی تیاری کرنے کی ہدایت کی گئی ہے، جو ممکنہ طور پر وسط مدتی انتخابات سے قبل ہو سکتی ہے۔ ‘ایکسیس’ کی ایک رپورٹ کے مطابق، ٹرمپ نے ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی شروع کرنے کا حتمی فیصلہ نہیں کیا تھا، لیکن پینٹاگون کو ممکنہ نئے حملوں کی تیاری کی ہدایت دی گئی تھی۔

امریکی حکام کا حوالہ دیتے ہوئے ‘ایکسیس’ نے رپورٹ کیا کہ پینٹاگون نے چند روز قبل امریکی سینٹرل کمانڈ کو ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی کی تیاریاں مکمل کرنے کی ہدایت کی تھی۔ اس ہدایت میں کسی ممکنہ حملے کے لیے کوئی مخصوص تاریخ مقرر نہیں کی گئی تھی۔

اس رپورٹ میں مذکور امریکی اور اسرائیلی حکام نے کہا کہ نئی فوجی کارروائی امریکی وسط مدتی انتخابات (جو 3 نومبر کو ہونے والے ہیں) سے قبل اور ممکنہ طور پر اسرائیلی انتخابات سے بھی پہلے ہو سکتی ہے، جو اس سے ایک ہفتہ قبل منعقد ہونے والے ہیں۔ تاہم، ٹرمپ کے حالیہ بیان نے امریکی وسط مدتی انتخابات سے قبل حملے کے امکان کو مسترد کر دیا ہے اور اس بات کی نشاندہی کی ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں۔

دوسری جانب، ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے دن کے اوائل میں کہا کہ تہران اگلے چند دنوں میں امریکہ کی امن تجویز کا جواب دے گا۔ انہوں نے اشارہ دیا کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان بات چیت جاری ہے اور ثالثوں کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ ہو رہا ہے۔

ایران کے سرکاری میڈیا ‘اسلامک ریپبلک آف ایران براڈکاسٹنگ’ کے مطابق، عراقچی نے کہا، "مذاکرات کا عمل ابھی جاری ہے اور ثالثوں کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ کیا جا رہا ہے۔”

 

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

گُریز میں شینا زبان و ثقافت کی خوشبو، JKAACL کا شینا مشاعرہ و ثقافتی پروگرام

جنگ نیوز ڈیسک بانڈی پورہ، 8 اکتوبر: جموں و کشمیر...

کشمیر میں بچوں کے خلاف جرائم:2024 میں 308 مقدمات درج

جنگ نیوز+KNT سرینگر/نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کے اعداد و شمار...

کشمیر کی نئی پہچان: IUST کے 7 سائنس دان دنیا کے سرفہرست 2 فیصد محققین میں شامل

  جنگ نیوز ڈیسک اونتی پورہ،/ اسلامک یونیورسٹی آف سائنس اینڈ...

پدم شری معروف اداکار نانا پاٹیکرچل بسے

جنگ نیوز معروف اداکار نانا پاٹیکر جمعرات کی صبح گوا...

تازہ ترین خبریں

گُریز میں شینا زبان و ثقافت کی خوشبو، JKAACL کا شینا مشاعرہ و ثقافتی پروگرام

جنگ نیوز ڈیسک بانڈی پورہ، 8 اکتوبر: جموں و کشمیر...

کشمیر میں بچوں کے خلاف جرائم:2024 میں 308 مقدمات درج

جنگ نیوز+KNT سرینگر/نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کے اعداد و شمار...

کشمیر کی نئی پہچان: IUST کے 7 سائنس دان دنیا کے سرفہرست 2 فیصد محققین میں شامل

  جنگ نیوز ڈیسک اونتی پورہ،/ اسلامک یونیورسٹی آف سائنس اینڈ...

پدم شری معروف اداکار نانا پاٹیکرچل بسے

جنگ نیوز معروف اداکار نانا پاٹیکر جمعرات کی صبح گوا...

ٹرمپ نے ایران پر ممکنہ حملوں کی اطلاعات کو مسترد کر دیا، کہا۔۔ انتظامی سطح پر بات چیت جاری

واشنگٹن ڈی سی:

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کے روز ایران کے خلاف ممکنہ نئے حملوں سے متعلق اطلاعات کو مسترد کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ تہران کے ساتھ "ورکنگ لیول” یعنی انتظامی سطح پر بات چیت جاری ہے اور واضح کیا کہ امریکہ تین نومبر کو ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے قبل ایران پر حملہ نہیں کرے گا۔

‘ٹروتھ سوشل’ پر ایک پوسٹ میں ٹرمپ نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں ایرانی بحری نقل و حمل پر عائد ناکہ بندی برقرار رہے گی۔ انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اس اہم بحری راستے سے تیل کی ریکارڈ مقدار گزر رہی ہے، جس میں سے کوئی بھی حصہ ایران سے نہیں آتا۔

امریکی صدر نے اس عزم کا اعادہ بھی کیا کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

 

انہوں نے اپنی پوسٹ میں کہا، "ہم اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ ورکنگ لیول پر بات چیت کر رہے ہیں۔ میں سب پر یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ اگرچہ ایران کی معاشی اور عسکری حالت بہت خراب ہے اور ناکہ بندی مکمل طور پر نافذ ہے، اس کے باوجود آبنائے ہرمز سے تیل کے بیرلز کی ریکارڈ تعداد گزر رہی ہے (صرف گزشتہ رات 22 ملین بیرل، جن میں سے ایک بھی بیرل ایران سے نہیں آیا اور نہ ہی ایران گیا!)، ہم تین نومبر کو ہونے والے امریکی وسط مدتی انتخابات سے قبل کسی بھی حال میں ایران پر حملہ نہیں کریں گے۔ ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہیں ہوں گے!

ٹرمپ کا یہ بیان ان اطلاعات کے ایک دن بعد سامنے آیا ہے جن میں کہا گیا تھا کہ پینٹاگون کو ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی کی تیاری کرنے کی ہدایت کی گئی ہے، جو ممکنہ طور پر وسط مدتی انتخابات سے قبل ہو سکتی ہے۔ ‘ایکسیس’ کی ایک رپورٹ کے مطابق، ٹرمپ نے ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی شروع کرنے کا حتمی فیصلہ نہیں کیا تھا، لیکن پینٹاگون کو ممکنہ نئے حملوں کی تیاری کی ہدایت دی گئی تھی۔

امریکی حکام کا حوالہ دیتے ہوئے ‘ایکسیس’ نے رپورٹ کیا کہ پینٹاگون نے چند روز قبل امریکی سینٹرل کمانڈ کو ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی کی تیاریاں مکمل کرنے کی ہدایت کی تھی۔ اس ہدایت میں کسی ممکنہ حملے کے لیے کوئی مخصوص تاریخ مقرر نہیں کی گئی تھی۔

اس رپورٹ میں مذکور امریکی اور اسرائیلی حکام نے کہا کہ نئی فوجی کارروائی امریکی وسط مدتی انتخابات (جو 3 نومبر کو ہونے والے ہیں) سے قبل اور ممکنہ طور پر اسرائیلی انتخابات سے بھی پہلے ہو سکتی ہے، جو اس سے ایک ہفتہ قبل منعقد ہونے والے ہیں۔ تاہم، ٹرمپ کے حالیہ بیان نے امریکی وسط مدتی انتخابات سے قبل حملے کے امکان کو مسترد کر دیا ہے اور اس بات کی نشاندہی کی ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں۔

دوسری جانب، ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے دن کے اوائل میں کہا کہ تہران اگلے چند دنوں میں امریکہ کی امن تجویز کا جواب دے گا۔ انہوں نے اشارہ دیا کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان بات چیت جاری ہے اور ثالثوں کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ ہو رہا ہے۔

ایران کے سرکاری میڈیا ‘اسلامک ریپبلک آف ایران براڈکاسٹنگ’ کے مطابق، عراقچی نے کہا، "مذاکرات کا عمل ابھی جاری ہے اور ثالثوں کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ کیا جا رہا ہے۔”

 

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں