جنگ نیوز ڈیسک
نئی دہلی/لداخ کے دیرینہ مطالبات کے حوالے سے مرکزی حکومت اور خطے کے نمائندوں کے درمیان جاری مذاکرات میں اہم پیش رفت کے آثار سامنے آئے ہیں۔ لداخ کے سابق رکن پارلیمنٹ تھپستن چھیوانگ اور سابق چیف ایگزیکٹو کونسلر (CEC) لہہ تاشی گیلسن نے 9 ستمبر کو منعقدہ ذیلی کمیٹی کے اجلاس کو مثبت، خوشگوار اور تعمیری قرار دیتے ہوئے کہا کہ بات چیت سازگار ماحول میں ہوئی اور حکومت نے لداخ کے اہم مسائل اور دیرینہ مطالبات پر نمائندوں کے ساتھ سنجیدہ مشاورت پر آمادگی ظاہر کی۔
نئی دہلی میں ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے دونوں رہنماؤں نے کہا کہ مذاکرات کے دوران حکومت کا رویہ حوصلہ افزا رہا اور اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ لداخ سے متعلق مسائل کا باہمی طور پر قابلِ قبول اور پائیدار حل تلاش کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ لداخ کے نمائندوں کی جانب سے پیش کیے گئے اہم مطالبات کو مناسب توجہ دی گئی اور بات چیت کا محور خطے کے عوام کی امنگوں اور مفادات کا تحفظ رہا۔
رہنماؤں کے مطابق اجلاس میں سب سے اہم پیش رفت لداخ میں مرکز کے زیر انتظام علاقے کی سطح پر قانون ساز اسمبلی کے قیام اور آئین کے آرٹیکل 371/K کے تحت مناسب آئینی تحفظات کی فراہمی سے متعلق حکومت کی یقین دہانی تھی۔
تھپستن چھیوانگ اور تاشی گیلسن نے کہا کہ ایسے آئینی تحفظات لداخ کی زمین اور روزگار کے مواقع کے تحفظ کے ساتھ ساتھ خطے کی منفرد ثقافتی شناخت، روایات اور نازک ماحولیاتی نظام کے تحفظ کے لئے انتہائی اہم ہوں گے۔
دونوں رہنماؤں نے اجلاس کے نتائج کو لداخ کے نمائندوں اور حکومت کے درمیان جاری مذاکرات میں ایک مثبت پیش رفت قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ تعمیری بات چیت اور حکومت کی جانب سے دی گئی یقین دہانیاں آئندہ مذاکرات اور ٹھوس اقدامات کی راہ ہموار کریں گی۔
انہوں نے حکومت کے مثبت ردعمل پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ اجلاس کے دوران کیے گئے وعدوں کو مقررہ مدت کے اندر عملی جامہ پہنایا جائے گا اور لداخ کے عوام کی جائز امنگوں کی تکمیل کی جانب مزید پیش رفت ہوگی۔


