کاغذوں پر خواندہ کشمیر؟ ULLAS کی کامیابی کا جشن اور زمینی حقیقت کا سوال

 

تجمل قادری

جس وقت ہم یہ خبر سنتے ہیں کہ جموں و کشمیر 43.98فیصد شرحِ خواندگی کے ساتھ “مکمل خواندہ” یونین ٹیریٹری بن گیا ہے، تو یقیناً ہر کشمیری کا سر فخر سے بلند ہونا چاہیے۔ تعلیم کسی بھی معاشرے کی سب سے بڑی طاقت ہے۔ لیکن جشن کے شور میں ایک سوال دب جانا بھی خطرناک ہے
کیا واقعی کشمیر کے ان بالغ افراد کو پڑھایا گیا تھا جنہیں اُلّاس کے تحت خواندہ قرار دیا گیا؟ یہ سوال کسی فرد، افسر یا حکومت کے خلاف الزام نہیں، بلکہ سرکاری دعوے کی زمینی تصدیق کا سوال ہے۔ ULLAS یعنی Understanding of Lifelong Learning for All in Society دراصل بالغوں کی تعلیم کا پروگرام ہے، جسے مالی سال 2022-23 سے 2026-27 تک نافذ کیا جا رہا ہے۔ اس کا باقاعدہ ULLAS موبائل ایپ 29 جولائی 2023 کو لانچ کیا گیا تھا۔ اس پروگرام کا مقصد 15 سال اور اس سے زیادہ عمر کے ان افراد کو تعلیم دینا ہے جو کسی وجہ سے رسمی اسکولی تعلیم سے محروم رہ گئے۔ اس کے لئے پورے ملک کے لئے پانچ سال میں90.1037کروڑ روپے کا مالیاتی خاکہ مقرر کیا گیا ہے، جس میں 700 کروڑ مرکزی حصہ اور 90.337کروڑ ریاستی حصہ ہے۔ جموں و کشمیر کے لئے مرکز اور UT کا حصہ 90:10 کے تناسب سے ہے۔ یعنی یہ کوئی معمولی مہم نہیں تھی۔ اس کے پیچھے سرکاری منصوبہ، بجٹ، تربیت یافتہ رضاکار، سیکھنے والے، مراکز، تعلیمی مواد اور امتحانات کا پورا نظام ہونا چاہیے تھا۔ اور پھر آتی ہے کشمیر کی حیران کن کہانی۔
4 اگست 2026 کو سرکاری طور پر بتایا گیا کہ جموں و کشمیر میں 180317 غیر خواندہ افراد کی نشاندہی کی گئی، جن میں سے 178680 افراد نے کامیابی حاصل کی، یعنی09.99فیصد۔ اسی بنیاد پر جموں و کشمیر کو مکمل خواندہ قرار دیے جانے کی خبر سامنے آئی۔ لیکن چند ہی ہفتوں بعد 4 ستمبر کو وزیرِ تعلیم نے جموں و کشمیر کی خواندگی کی شرح 98.43 فیصد بتاتے ہوئے اسے مکمل خواندہ یونین ٹیریٹری قرار دیا۔ سوال یہ نہیں کہ09.99فیصد درست ہے یا 43.98فیصد۔
اصل سوال یہ ہے کہ ان اعداد کے پیچھے زمین پر ہوا کیا؟ سرکاری تصور کے مطابق ULLAS میں رضاکار اساتذہ کو تربیت دی جاتی ہے، سیکھنے والوں کی نشاندہی ہوتی ہے، انہیں بنیادی خواندگی اور عددی صلاحیتیں سکھائی جاتی ہیں، اور پھر FLNAT کے ذریعے ان کی صلاحیت کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ حکومت خود کہتی ہے کہ پروگرام volunteerism اور hybrid mode کے ذریعے چلایا جاتا ہے۔ لیکن کشمیر کے مختلف علاقوں سے زمینی سطح پر ایک بالکل مختلف تصویر سامنے آنے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔ اگر واقعی بالغ افراد کے لئے باقاعدہ کلاسیں منعقد نہیں ہوئیں، اگر کوئی واضح teaching schedule نہیں تھا، اگر learners کی باقاعدہ حاضری نہیں لی گئی، اگر تدریسی سرگرمیاں صرف فائلوں تک محدود رہیں، تو پھر ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے کہ جن لوگوں کو پڑھایا ہی نہیں گیا، وہ امتحان میں کامیاب کیسے ہوئے؟ یہ سوال اس لئے بھی اہم ہے کہ کسی شخص کو امتحانی مرکز تک پہنچا دینا اور اسے تعلیم دینا دو بالکل مختلف چیزیں ہیں۔
ایک طرف کاغذ پر volunteer teacher موجود ہو سکتا ہے۔ دوسری طرف حقیقی دنیا میں شاید کوئی کلاس ہی نہ ہوئی ہو۔ ایک طرف learner کا نام رجسٹر میں درج ہو سکتا ہے۔دوسری طرف وہ شخص شاید کبھی کسی کلاس میں بیٹھا ہی نہ ہو۔ ایک طرف امتحان منعقد ہو سکتا ہے۔ دوسری طرف یہ سوال باقی رہتا ہے کہ امتحان سے پہلے تعلیم کہاں دی گئی؟ یہی وہ مقام ہے جہاں جشن سے زیادہ تحقیق کی ضرورت ہے۔
اگر حکومت کہتی ہے کہ لاکھوں بالغ افراد نے تعلیم حاصل کی، تو پھر ہر ضلع، ہر مرکز اور ہر learner کے بارے میں بنیادی ریکارڈ موجود ہونا چاہیے:
کلاس کب ہوئی؟ کہاں ہوئی؟ کس نے پڑھایا؟ کتنے دن پڑھایا؟ کون سے learners آئے؟ ان کی حاضری کہاں ؟Teaching schedule کہاں ہے؟ Volunteer teacher نے کتنے learners کو پڑھایا کلاس کے لئے جگہ کون سی تھی؟ کون سا تعلیمی مواد استعمال ہوا۔ FLNAT سے پہلے کتنی تدریسی نشستیں ہوئیں؟
اور سب سے اہم۔ کیا کسی آزاد یا محکمانہ ٹیم نے یہ تصدیق کی کہ جن افراد کو امتحان میں کامیاب قرار دیا گیا، انہیں واقعی پروگرام کے تحت تعلیم بھی دی گئی تھی؟ یہ سوالات اس لئے نہیں کہ کامیابی کو کم تر دکھایا جائے۔ بلکہ اس لئے کہ اگر واقعی کشمیر نے بالغوں کو خواندہ بنایا ہے تو اس کامیابی کو دنیا کے سامنے مزید مضبوط ثبوت کے ساتھ پیش کیا جانا چاہیے۔ اور اگر زمینی حقیقت کاغذی دعوے سے مختلف ہے، تو پھر اس کا اعتراف بھی ضروری ہے۔ کیونکہ تعلیم صرف ایک سرٹیفکیٹ کا نام نہیں۔
تعلیم انسان کے ہاتھ میں کتاب دینے، اس کے ذہن میں سوال پیدا کرنے اور اسے اپنی زندگی کے فیصلے خود کرنے کے قابل بنانے کا نام ہے۔ اگر کسی بوڑھی ماں نے پہلی بار اپنا نام لکھنا سیکھا ہے، تو یہ ایک تاریخی کامیابی ہے۔اگر کسی مزدور نے پہلی مرتبہ دکان کا حساب خود پڑھ لیا ہے، تو یہ انقلاب ہے۔اگر کسی دیہی عورت نے دوا کی پرچی پڑھنا سیکھ لی ہے، تو یہ حقیقی خواندگی ہے۔لیکن اگر صرف ایک امتحانی نتیجہ حاصل کیا گیا اور اس کے پیچھے حقیقی تدریس موجود نہیں تھی، تو پھر ہمیں خود سے پوچھنا ہوگا ہم نے لوگوں کو خواندہ بنایا ہے یا صرف اعداد و شمار کو۔ اور یہی وہ سوال ہے جس کا جواب کشمیر کے عوام کو ملنا چاہیے۔ سرکار اگر اس کامیابی پر فخر کرتی ہے تو اسے چاہیے کہ وہ ضلع وار، مرکز وار اور learner وار اعداد و شمار، تدریسی ریکارڈ، رضاکاروں کی تفصیل، امتحانی ریکارڈ اور ULLAS پر خرچ ہونے والے فنڈز عوام کے سامنے رکھے۔کیونکہ43.98فیصد کا دعویٰ جتنا بڑا ہے، اس کے ثبوت کی ذمہ داری بھی اتنی ہی بڑی ہے۔
اور آخر میں ایک سوال جو شاید سب سے زیادہ اہم ہے۔ اگر واقعی کشمیر کے بالغ غیر خواندہ افراد کو پڑھایا گیا تھا، تو ان کلاسوں کی آواز کشمیر کے گاؤں، محلے اور بستیوں میں کیوں سنائی نہیں دی؟ یہ سوال کسی جشن کو روکنے کے لئے نہیں۔ یہ سوال اس لئے ہے کہ اگر کامیابی حقیقی ہے تو اسے شک سے نہیں، ثبوت سے تاریخ کا حصہ بنایا جائے۔کشمیر کو کاغذوں پر نہیں، حقیقت میں خواندہ دیکھنا ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

میرواعظ سمیت دیگر مذہبی رہنماؤں کی ایرانی صدر سے ملاقات

جنگ نیوز نئی دہلی: ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے مذہبی...

فلم فیسٹول IFFJKکی کامیابی میں DIPR کی ٹیم ورک نمایاں

جنگ نیوز سری نگر/جموں و کشمیر میں پہلی مرتبہ منعقد...

لشکر کی تین نکاتی حکمت عملی:جموںکشمیر میں انسدادِ دہشت گردی کارروائیاں تیز

    جنگ نیوز نئی دہلی/سکیورٹی اداروں نے جموں و کشمیر میں...

وزیراعظم مودی نےBRICS بزنس فورم سے خطاب کے دوران تجارتی رکاوٹیں دور کرنے کی تجویزپیش کی

  جنگ نیوز ڈیسک نئی دہلی/وزیراعظم نریندر مودی نے کہا ہے...

جموں کشمیر بینک ڈیجیٹل تبدیلی پربہترین بینک ایوارڈسے سرفراز

  جنگ نیوز سرینگر/جے اینڈ کے بینک نے ممبئی میں منعقدہ...

تازہ ترین خبریں

میرواعظ سمیت دیگر مذہبی رہنماؤں کی ایرانی صدر سے ملاقات

جنگ نیوز نئی دہلی: ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے مذہبی...

فلم فیسٹول IFFJKکی کامیابی میں DIPR کی ٹیم ورک نمایاں

جنگ نیوز سری نگر/جموں و کشمیر میں پہلی مرتبہ منعقد...

لشکر کی تین نکاتی حکمت عملی:جموںکشمیر میں انسدادِ دہشت گردی کارروائیاں تیز

    جنگ نیوز نئی دہلی/سکیورٹی اداروں نے جموں و کشمیر میں...

وزیراعظم مودی نےBRICS بزنس فورم سے خطاب کے دوران تجارتی رکاوٹیں دور کرنے کی تجویزپیش کی

  جنگ نیوز ڈیسک نئی دہلی/وزیراعظم نریندر مودی نے کہا ہے...

جموں کشمیر بینک ڈیجیٹل تبدیلی پربہترین بینک ایوارڈسے سرفراز

  جنگ نیوز سرینگر/جے اینڈ کے بینک نے ممبئی میں منعقدہ...

کاغذوں پر خواندہ کشمیر؟ ULLAS کی کامیابی کا جشن اور زمینی حقیقت کا سوال

 

تجمل قادری

جس وقت ہم یہ خبر سنتے ہیں کہ جموں و کشمیر 43.98فیصد شرحِ خواندگی کے ساتھ “مکمل خواندہ” یونین ٹیریٹری بن گیا ہے، تو یقیناً ہر کشمیری کا سر فخر سے بلند ہونا چاہیے۔ تعلیم کسی بھی معاشرے کی سب سے بڑی طاقت ہے۔ لیکن جشن کے شور میں ایک سوال دب جانا بھی خطرناک ہے
کیا واقعی کشمیر کے ان بالغ افراد کو پڑھایا گیا تھا جنہیں اُلّاس کے تحت خواندہ قرار دیا گیا؟ یہ سوال کسی فرد، افسر یا حکومت کے خلاف الزام نہیں، بلکہ سرکاری دعوے کی زمینی تصدیق کا سوال ہے۔ ULLAS یعنی Understanding of Lifelong Learning for All in Society دراصل بالغوں کی تعلیم کا پروگرام ہے، جسے مالی سال 2022-23 سے 2026-27 تک نافذ کیا جا رہا ہے۔ اس کا باقاعدہ ULLAS موبائل ایپ 29 جولائی 2023 کو لانچ کیا گیا تھا۔ اس پروگرام کا مقصد 15 سال اور اس سے زیادہ عمر کے ان افراد کو تعلیم دینا ہے جو کسی وجہ سے رسمی اسکولی تعلیم سے محروم رہ گئے۔ اس کے لئے پورے ملک کے لئے پانچ سال میں90.1037کروڑ روپے کا مالیاتی خاکہ مقرر کیا گیا ہے، جس میں 700 کروڑ مرکزی حصہ اور 90.337کروڑ ریاستی حصہ ہے۔ جموں و کشمیر کے لئے مرکز اور UT کا حصہ 90:10 کے تناسب سے ہے۔ یعنی یہ کوئی معمولی مہم نہیں تھی۔ اس کے پیچھے سرکاری منصوبہ، بجٹ، تربیت یافتہ رضاکار، سیکھنے والے، مراکز، تعلیمی مواد اور امتحانات کا پورا نظام ہونا چاہیے تھا۔ اور پھر آتی ہے کشمیر کی حیران کن کہانی۔
4 اگست 2026 کو سرکاری طور پر بتایا گیا کہ جموں و کشمیر میں 180317 غیر خواندہ افراد کی نشاندہی کی گئی، جن میں سے 178680 افراد نے کامیابی حاصل کی، یعنی09.99فیصد۔ اسی بنیاد پر جموں و کشمیر کو مکمل خواندہ قرار دیے جانے کی خبر سامنے آئی۔ لیکن چند ہی ہفتوں بعد 4 ستمبر کو وزیرِ تعلیم نے جموں و کشمیر کی خواندگی کی شرح 98.43 فیصد بتاتے ہوئے اسے مکمل خواندہ یونین ٹیریٹری قرار دیا۔ سوال یہ نہیں کہ09.99فیصد درست ہے یا 43.98فیصد۔
اصل سوال یہ ہے کہ ان اعداد کے پیچھے زمین پر ہوا کیا؟ سرکاری تصور کے مطابق ULLAS میں رضاکار اساتذہ کو تربیت دی جاتی ہے، سیکھنے والوں کی نشاندہی ہوتی ہے، انہیں بنیادی خواندگی اور عددی صلاحیتیں سکھائی جاتی ہیں، اور پھر FLNAT کے ذریعے ان کی صلاحیت کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ حکومت خود کہتی ہے کہ پروگرام volunteerism اور hybrid mode کے ذریعے چلایا جاتا ہے۔ لیکن کشمیر کے مختلف علاقوں سے زمینی سطح پر ایک بالکل مختلف تصویر سامنے آنے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔ اگر واقعی بالغ افراد کے لئے باقاعدہ کلاسیں منعقد نہیں ہوئیں، اگر کوئی واضح teaching schedule نہیں تھا، اگر learners کی باقاعدہ حاضری نہیں لی گئی، اگر تدریسی سرگرمیاں صرف فائلوں تک محدود رہیں، تو پھر ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے کہ جن لوگوں کو پڑھایا ہی نہیں گیا، وہ امتحان میں کامیاب کیسے ہوئے؟ یہ سوال اس لئے بھی اہم ہے کہ کسی شخص کو امتحانی مرکز تک پہنچا دینا اور اسے تعلیم دینا دو بالکل مختلف چیزیں ہیں۔
ایک طرف کاغذ پر volunteer teacher موجود ہو سکتا ہے۔ دوسری طرف حقیقی دنیا میں شاید کوئی کلاس ہی نہ ہوئی ہو۔ ایک طرف learner کا نام رجسٹر میں درج ہو سکتا ہے۔دوسری طرف وہ شخص شاید کبھی کسی کلاس میں بیٹھا ہی نہ ہو۔ ایک طرف امتحان منعقد ہو سکتا ہے۔ دوسری طرف یہ سوال باقی رہتا ہے کہ امتحان سے پہلے تعلیم کہاں دی گئی؟ یہی وہ مقام ہے جہاں جشن سے زیادہ تحقیق کی ضرورت ہے۔
اگر حکومت کہتی ہے کہ لاکھوں بالغ افراد نے تعلیم حاصل کی، تو پھر ہر ضلع، ہر مرکز اور ہر learner کے بارے میں بنیادی ریکارڈ موجود ہونا چاہیے:
کلاس کب ہوئی؟ کہاں ہوئی؟ کس نے پڑھایا؟ کتنے دن پڑھایا؟ کون سے learners آئے؟ ان کی حاضری کہاں ؟Teaching schedule کہاں ہے؟ Volunteer teacher نے کتنے learners کو پڑھایا کلاس کے لئے جگہ کون سی تھی؟ کون سا تعلیمی مواد استعمال ہوا۔ FLNAT سے پہلے کتنی تدریسی نشستیں ہوئیں؟
اور سب سے اہم۔ کیا کسی آزاد یا محکمانہ ٹیم نے یہ تصدیق کی کہ جن افراد کو امتحان میں کامیاب قرار دیا گیا، انہیں واقعی پروگرام کے تحت تعلیم بھی دی گئی تھی؟ یہ سوالات اس لئے نہیں کہ کامیابی کو کم تر دکھایا جائے۔ بلکہ اس لئے کہ اگر واقعی کشمیر نے بالغوں کو خواندہ بنایا ہے تو اس کامیابی کو دنیا کے سامنے مزید مضبوط ثبوت کے ساتھ پیش کیا جانا چاہیے۔ اور اگر زمینی حقیقت کاغذی دعوے سے مختلف ہے، تو پھر اس کا اعتراف بھی ضروری ہے۔ کیونکہ تعلیم صرف ایک سرٹیفکیٹ کا نام نہیں۔
تعلیم انسان کے ہاتھ میں کتاب دینے، اس کے ذہن میں سوال پیدا کرنے اور اسے اپنی زندگی کے فیصلے خود کرنے کے قابل بنانے کا نام ہے۔ اگر کسی بوڑھی ماں نے پہلی بار اپنا نام لکھنا سیکھا ہے، تو یہ ایک تاریخی کامیابی ہے۔اگر کسی مزدور نے پہلی مرتبہ دکان کا حساب خود پڑھ لیا ہے، تو یہ انقلاب ہے۔اگر کسی دیہی عورت نے دوا کی پرچی پڑھنا سیکھ لی ہے، تو یہ حقیقی خواندگی ہے۔لیکن اگر صرف ایک امتحانی نتیجہ حاصل کیا گیا اور اس کے پیچھے حقیقی تدریس موجود نہیں تھی، تو پھر ہمیں خود سے پوچھنا ہوگا ہم نے لوگوں کو خواندہ بنایا ہے یا صرف اعداد و شمار کو۔ اور یہی وہ سوال ہے جس کا جواب کشمیر کے عوام کو ملنا چاہیے۔ سرکار اگر اس کامیابی پر فخر کرتی ہے تو اسے چاہیے کہ وہ ضلع وار، مرکز وار اور learner وار اعداد و شمار، تدریسی ریکارڈ، رضاکاروں کی تفصیل، امتحانی ریکارڈ اور ULLAS پر خرچ ہونے والے فنڈز عوام کے سامنے رکھے۔کیونکہ43.98فیصد کا دعویٰ جتنا بڑا ہے، اس کے ثبوت کی ذمہ داری بھی اتنی ہی بڑی ہے۔
اور آخر میں ایک سوال جو شاید سب سے زیادہ اہم ہے۔ اگر واقعی کشمیر کے بالغ غیر خواندہ افراد کو پڑھایا گیا تھا، تو ان کلاسوں کی آواز کشمیر کے گاؤں، محلے اور بستیوں میں کیوں سنائی نہیں دی؟ یہ سوال کسی جشن کو روکنے کے لئے نہیں۔ یہ سوال اس لئے ہے کہ اگر کامیابی حقیقی ہے تو اسے شک سے نہیں، ثبوت سے تاریخ کا حصہ بنایا جائے۔کشمیر کو کاغذوں پر نہیں، حقیقت میں خواندہ دیکھنا ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں