قلم ہمارے ہاتھ میں ہے یا AI کے؟

 

 

فہیم اختر

لندن

کبھی زمانہ تھا کہ لکھنے والے کے پاس قلم، کاغذ، ایک لغت اور چند کتابیں ہوتی تھیں۔ کسی لفظ کا مطلب معلوم کرنا ہو تو لغت کھولی جاتی، کسی واقعے کی تصدیق کرنی ہو تو کتابوں کی ورق گردانی ہوتی اور کسی مضمون کے لئے مواد درکار ہو تو کئی دن تحقیق میں گزر جاتے۔پھر کمپیوٹر آیا، انٹرنیٹ آیا، گوگل آیا اور اب مصنوعی ذہانت یعنی (AI-Artificial Intelligence) آگئی۔دراصل مصنوعی ذہانت (AI) کمپیوٹر ز اور مشینوں کو انسانی تعلیم، فہم، مسئلہ حل کرنے، فیصلہ سازی،تخلیقی صلاحیتوں اور خود مختاری کی نقل کرنے کے قابل بناتی ہے۔
اب صورتحال یہ ہے کہ لکھنے والے کو صرف یہ بتانا پڑتا ہے کہ ”مجھے فلاں موضوع پر ایک اچھا مضمون چاہیے“ اور چند لمحوں بعد اسکرین پر ایسا مضمون موجود ہوتا ہے کہ مصنف خود بھی حیران رہ جائے کہ یہ میں نے لکھا ہے یا کسی اور نے!اور شاید یہی آج کے ادبی منظرنامے کا سب سے دلچسپ اور پریشان کن سوال ہے:کیا ہمارے نئے لکھنے والے AI کا استعمال کر رہے ہیں یا AI ان کی جگہ لکھ رہی ہے؟یہ سوال معمولی نہیں۔ اس کے اندر آنے والے ادب کا ایک پورا منظرنامہ چھپا ہوا ہے۔
مصنوعی ذہانت بذاتِ خود کوئی بری چیز نہیں۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ انسانی زندگی کو آسان بنانے والی جدید ترین ٹیکنالوجیز میں سے ایک ہے۔AIچند لمحوں میں ہزاروں صفحات کے مواد کو دیکھ سکتی ہے، معلومات کو ترتیب دے سکتی ہے، پیچیدہ موضوعات کو آسان زبان میں سمجھا سکتی ہے، ترجمہ کر سکتی ہے، املا درست کر سکتی ہے اور ایک منتشر خیال کو باقاعدہ خاکے میں تبدیل کر سکتی ہے۔ایک لکھنے والے کے لئے تو یہ کسی ایسے ذہین معاون کی طرح ہے جو دن رات دستیاب ہے اور جسے چاہے بھی نہیں چاہیے!لیکن ہر سہولت ایک امتحان بھی ہوتی ہے۔سوال یہ نہیں کہ AI ہمارے لئے کیا کر سکتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ ہم اس سے کیا کروا رہے ہیں؟اگر ہم AI سے معلومات حاصل کرتے ہیں، اپنے خیالات کو ترتیب دیتے ہیں، اپنی تحریر کی اصلاح کرواتے ہیں اور پھر اپنی سوچ، تجربے اور مشاہدے کی بنیاد پر اسے مکمل کرتے ہیں تو یہ ایک مفید ٹیکنالوجی ہے۔لیکن اگر ہم نے اپنا موضوع بھی AI کو دے دیا، خیال بھی اس سے لیا، مواد بھی اسی کا، جملے بھی اسی کے اور آخر میں صرف اپنا نام لگا دیا تو پھر ہمیں یہ سوچنا ہوگا کہ اس تحریر میں ہمارا حصہ آخر کتنا ہے؟
نام ہمارا، قلم AI کا!یہ صورت حال ذرا مضحکہ خیز بھی ہے اور افسوس ناک بھی۔نئے لکھنے والے اور تیار شدہ ادب مجھے سب سے زیادہ تشویش نئے لکھنے والوں کے حوالے سے ہے۔نیا لکھنے والا دراصل ایک زیرِ تعمیر عمارت کی مانند ہوتا ہے۔ اس کے اندر امکانات بہت ہوتے ہیں، مگر ابھی بنیاد مضبوط نہیں ہوئی ہوتی۔وہ غلطیاں کرتا ہے،جملے توڑتا ہے،دوبارہ لکھتا ہے۔اپنے شعر سے خود ناراض ہوتا ہے۔کسی بزرگ شاعر سے اصلاح لیتا ہے۔کسی استاد سے ڈانٹ کھاتا ہے۔اور کبھی ایک معمولی سا جملہ لکھنے میں پورا دن گزار دیتا ہے۔یہیمشقت اسے لکھنے والا بناتی ہے۔اگر وہ ہر بار اپنی مشکل کا حل AI سے حاصل کر لے تو اس کی تحریر شاید جلد خوب صورت ہوجائے، مگر اس کی اپنی تخلیقی عضلات کیسے مضبوط ہوں گے؟ہم نے اگر لکھنے کی تکلیف ہی ختم کردی تو کہیں ایسا نہ ہو کہ لکھنے کی صلاحیت بھی ختم ہوجائے۔
ایک نوجوان شاعر اگر ہر غزل AI سے لکھوائے گا تو شاید اس کے پاس اشعار کی کمی نہ رہے، مگر ایک دن جب موبائل کی بیٹری ختم ہوجائے گی تو ممکن ہے شاعر بھی ختم ہوجائے!یہ مذاق نہیں، ایک سنجیدہ ادبی مسئلہ ہے۔ادب صرف الفاظ کا کھیل نہیں،AIخوب صورت زبان پیدا کرسکتی ہے۔ لیکن ادب صرف خوب صورت زبان کا نام نہیں۔ادب میں زندگی شامل ہوتی ہے۔ایک ماں کی موت کا دکھ، ایک باپ کی خاموشی، پہلی محبت کی بے قراری، ہجرت کا کرب، غربت کی اذیت، تنہائی کی رات، دوست کی جدائی، شہر کی گلیاں، بچپن کی یادیں،یہ سب ادیب کے اندر سے نکلتے ہیں۔AIان سب پر ہزاروں صفحات لکھ سکتی ہے، لیکن جس شخص نے یہ سب جھیلا ہو، اس کے تجربے کی جگہ محض الفاظ نہیں لے سکتے۔ایک مشین بارش پر ایک خوب صورت پیراگراف لکھ سکتی ہے، لیکن جس شخص نے برسوں بعد اپنے آبائی شہر میں بارش دیکھی ہو، اس کے لئے وہ بارش صرف موسم نہیں ہوتی،وہ یاد ہوتی ہے اور ادب یاد، احساس اور تجربے سے جنم لیتا ہے۔
لیکن AI کو دشمن بھی نہ بنائیں۔یہاں ایک بات واضح کرنا ضروری ہے۔ہمیں AI کو ادب کا دشمن قرار دینے کی بھی ضرورت نہیں۔اگر کوئی لکھنے والا AI سے پوچھتا ہے کہ کسی موضوع پر کن پہلوؤں سے غور کیا جاسکتا ہے، اسے چند حوالہ جاتی نکات ملتے ہیں، اپنی تحریر کی زبان بہتر کرواتا ہے، املا درست کرتا ہے یا اپنے مضمون کا ابتدائی خاکہ بناتا ہے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔آخر ایک ادیب صدیوں سے دوسروں کی کتابیں پڑھ کر ہی تو لکھتا آیا ہے۔کتاب سے معلومات لینا چوری نہیں۔لغت سے لفظ دیکھنا چوری نہیں۔استاد سے اصلاح لینا چوری نہیں۔تو AI سے مدد لینا بھی بذاتِ خود کوئی جرم نہیں۔اصل مسئلہ دیانت داری کا ہے۔اگر AI آپ کی معاون ہے تو ٹھیک ہے۔اگر AI آپ کی مصنف ہے اور آپ صرف دستخط کرنے والے ہیں تو معاملہ گڑبڑ ہے۔کیونکہ مشین بھی غلطی کرتی ہے۔
ایک اور خطرناک غلط فہمی یہ ہے کہ AI چونکہ مشین ہے اس لئے وہ غلط نہیں ہوسکتی۔حقیقت اس کے برعکس ہے۔AI کبھی کبھی بڑے اعتماد کے ساتھ ایسی بات بھی بتا دیتی ہے جو حقیقت میں موجود ہی نہیں ہوتی۔حوالہ ایسا دے سکتی ہے جس کا کوئی وجود نہ ہو۔شخصیت کے بارے میں غلط معلومات فراہم کرسکتی ہے۔اور کبھی ایک غلط بات کو اتنے خوب صورت انداز میں پیش کرتی ہے کہ قاری کو شک بھی نہیں ہوتا۔یہاں مصنف کی ذمہ داری پہلے سے کہیں بڑھ جاتی ہے۔AI سے معلومات لینا آسان ہے، معلومات کی تصدیق کرنا اب بھی انسان کا کام ہے۔خصوصاً اردو ادب میں یہ ذمہ داری بہت اہم ہے، کیونکہ ہمارے ادبی حلقوں میں پہلے ہی کئی ایسی روایات موجود ہیں جہاں حوالہ کم اور ”سنا ہے“ زیادہ ہوتا ہے۔اب اگر ”سنا ہے“ کے ساتھ AI بھی شامل ہوگئی تو خدا خیر کرے!
تو کیاAI تعصب سے پاک ہے؟یہ بھی کہا جاتا ہے کہ AI انسانوں کے مقابلے میں غیر جانب دار ہے۔یہ بات بھی مکمل طور پردرست نہیں ہے۔اگر AI کو متعصبانہ یا ناقص ڈیٹا سے تربیت دی جائے تو اس کے نتائج بھی متعصبانہ ہوسکتے ہیں۔یعنی مشین کے پاس اپنا تعصب شاید نہ ہو، لیکن انسان کا تعصب اس کے ڈیٹا میں داخل ہوسکتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ AI کے نتائج کو بھی تنقیدی نظر سے دیکھنا ضروری ہے۔
ادب میں تو یہ احتیاط اور بھی اہم ہے، کیونکہ ادیب کا کام صرف معلومات اکٹھی کرنا نہیں بلکہ ان معلومات پر غور کرنا اور اپنا نقطہ نظر قائم کرنا بھی ہے۔اصل خطرہ ملازمت نہیں، انسانی صلاحیت ہے۔AI کے بارے میں سب سے زیادہ بات ملازمتوں کے ختم ہونے کی ہوتی ہے۔یقیناً بہت سے شعبوں میں کچھ کام خودکار ہوں گے اور بعض ملازمتوں کی نوعیت تبدیل ہوگی۔لیکن میرے نزدیک اس سے بھی بڑا خطرہ یہ ہے کہ کہیں انسان اپنی سوچنے کی صلاحیت کو استعمال کرنا ہی نہ چھوڑ دے۔اگر مشین ہمارے لئے حساب کرے، مشین ہمارے لئے ترجمہ کرے، مشین ہمارے لئے تحقیق کرے، مشین ہمارے لئے فیصلہ کرے اور آخر میں مشین ہمارے لئے لکھے بھی، تو پھر انسان کے پاس باقی کیا بچے گا؟شاید صرف یہ کام کہ وہ کہے:”AI صاحب! ذرا میرا نام بھی نیچے لکھ دینا۔“
پھرقلم کا مالک کون ہے؟یہ سچ ہے کہ ٹیکنالوجی کو روکنا ممکن نہیں ہے۔AI آچکی ہے، اس سے مزید ترقی بھی ہورہی ہے اور اب یہ ہماری زندگی کا پہلے سے زیادہ حصہ بن چکی ہے۔ہم اسے روک بھی نہیں سکتے ہیں اور شاید راسے وکنا بھی نہیں چاہیے۔ہمیں صرف یہ طے کرنا ہے کہ ہم اس کے ساتھ اپنا تعلق کس طرح قائم کرتے ہیں۔ایک ادیب AI سے مدد لے سکتا ہے، لیکن اپنی تخلیقی شناخت اس کے حوالے نہیں کر سکتا۔وہ اس سے سوال کرسکتا ہے، مگر ہر جواب قبول نہیں کرسکتا۔وہ اس سے خاکہ لے سکتا ہے، مگر تحریر میں اپنا تجربہ شامل نہیں کر سکتا ہے۔وہ زبان سنوار سکتا ہے، مگر اپنی آواز نہیں بدلے گا۔کیونکہ آخرکار ادب کی اصل قدر اس بات میں نہیں کہ تحریر کتنی شاندار ہے۔اصل سوال یہ ہے کہ اس تحریر میں لکھنے والا کتنا موجود ہے؟ممکن ہے آنے والے زمانے میں AI ہماری کتابوں کے مسودے تیار کرے، ہمارے مضامین کے خاکے بنائے، ہماری زبان درست کرے اور ہمارے خیالات کو ترتیب دے۔یہ سب خوش آئند بھی ہوسکتا ہے۔لیکن ہمیں ایک لکیر ضرور کھینچنی ہوگی۔AI سے قلم کو مدد ملے، قلم AI کے حوالے نہ ہو۔کیونکہ جب تک قلم ہمارے ہاتھ میں ہے، ہم لکھنے والے ہیں۔
جس دن قلم بھی مشین کے ہاتھ میں چلا گیا، اس دن شاید ہمارے نام سے کتابیں تو شائع ہوتی رہیں گی، کالم بھی چھپتے رہیں گے، شعر بھی داد حاصل کرتے رہیں گے۔مگر ان سب کے پیچھے ایک سوال مسلسل ہمارا پیچھا کرے گا:”یہ لکھا کس نے ہے؟“اور شاید اس سوال کا جواب دینے کے لئے ہمیں اپنے دستخط سے زیادہ اپنی آواز کی ضرورت پڑے گی۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

میرواعظ سمیت دیگر مذہبی رہنماؤں کی ایرانی صدر سے ملاقات

جنگ نیوز نئی دہلی: ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے مذہبی...

فلم فیسٹول IFFJKکی کامیابی میں DIPR کی ٹیم ورک نمایاں

جنگ نیوز سری نگر/جموں و کشمیر میں پہلی مرتبہ منعقد...

لشکر کی تین نکاتی حکمت عملی:جموںکشمیر میں انسدادِ دہشت گردی کارروائیاں تیز

    جنگ نیوز نئی دہلی/سکیورٹی اداروں نے جموں و کشمیر میں...

وزیراعظم مودی نےBRICS بزنس فورم سے خطاب کے دوران تجارتی رکاوٹیں دور کرنے کی تجویزپیش کی

  جنگ نیوز ڈیسک نئی دہلی/وزیراعظم نریندر مودی نے کہا ہے...

جموں کشمیر بینک ڈیجیٹل تبدیلی پربہترین بینک ایوارڈسے سرفراز

  جنگ نیوز سرینگر/جے اینڈ کے بینک نے ممبئی میں منعقدہ...

تازہ ترین خبریں

میرواعظ سمیت دیگر مذہبی رہنماؤں کی ایرانی صدر سے ملاقات

جنگ نیوز نئی دہلی: ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے مذہبی...

فلم فیسٹول IFFJKکی کامیابی میں DIPR کی ٹیم ورک نمایاں

جنگ نیوز سری نگر/جموں و کشمیر میں پہلی مرتبہ منعقد...

لشکر کی تین نکاتی حکمت عملی:جموںکشمیر میں انسدادِ دہشت گردی کارروائیاں تیز

    جنگ نیوز نئی دہلی/سکیورٹی اداروں نے جموں و کشمیر میں...

وزیراعظم مودی نےBRICS بزنس فورم سے خطاب کے دوران تجارتی رکاوٹیں دور کرنے کی تجویزپیش کی

  جنگ نیوز ڈیسک نئی دہلی/وزیراعظم نریندر مودی نے کہا ہے...

جموں کشمیر بینک ڈیجیٹل تبدیلی پربہترین بینک ایوارڈسے سرفراز

  جنگ نیوز سرینگر/جے اینڈ کے بینک نے ممبئی میں منعقدہ...

قلم ہمارے ہاتھ میں ہے یا AI کے؟

 

 

فہیم اختر

لندن

کبھی زمانہ تھا کہ لکھنے والے کے پاس قلم، کاغذ، ایک لغت اور چند کتابیں ہوتی تھیں۔ کسی لفظ کا مطلب معلوم کرنا ہو تو لغت کھولی جاتی، کسی واقعے کی تصدیق کرنی ہو تو کتابوں کی ورق گردانی ہوتی اور کسی مضمون کے لئے مواد درکار ہو تو کئی دن تحقیق میں گزر جاتے۔پھر کمپیوٹر آیا، انٹرنیٹ آیا، گوگل آیا اور اب مصنوعی ذہانت یعنی (AI-Artificial Intelligence) آگئی۔دراصل مصنوعی ذہانت (AI) کمپیوٹر ز اور مشینوں کو انسانی تعلیم، فہم، مسئلہ حل کرنے، فیصلہ سازی،تخلیقی صلاحیتوں اور خود مختاری کی نقل کرنے کے قابل بناتی ہے۔
اب صورتحال یہ ہے کہ لکھنے والے کو صرف یہ بتانا پڑتا ہے کہ ”مجھے فلاں موضوع پر ایک اچھا مضمون چاہیے“ اور چند لمحوں بعد اسکرین پر ایسا مضمون موجود ہوتا ہے کہ مصنف خود بھی حیران رہ جائے کہ یہ میں نے لکھا ہے یا کسی اور نے!اور شاید یہی آج کے ادبی منظرنامے کا سب سے دلچسپ اور پریشان کن سوال ہے:کیا ہمارے نئے لکھنے والے AI کا استعمال کر رہے ہیں یا AI ان کی جگہ لکھ رہی ہے؟یہ سوال معمولی نہیں۔ اس کے اندر آنے والے ادب کا ایک پورا منظرنامہ چھپا ہوا ہے۔
مصنوعی ذہانت بذاتِ خود کوئی بری چیز نہیں۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ انسانی زندگی کو آسان بنانے والی جدید ترین ٹیکنالوجیز میں سے ایک ہے۔AIچند لمحوں میں ہزاروں صفحات کے مواد کو دیکھ سکتی ہے، معلومات کو ترتیب دے سکتی ہے، پیچیدہ موضوعات کو آسان زبان میں سمجھا سکتی ہے، ترجمہ کر سکتی ہے، املا درست کر سکتی ہے اور ایک منتشر خیال کو باقاعدہ خاکے میں تبدیل کر سکتی ہے۔ایک لکھنے والے کے لئے تو یہ کسی ایسے ذہین معاون کی طرح ہے جو دن رات دستیاب ہے اور جسے چاہے بھی نہیں چاہیے!لیکن ہر سہولت ایک امتحان بھی ہوتی ہے۔سوال یہ نہیں کہ AI ہمارے لئے کیا کر سکتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ ہم اس سے کیا کروا رہے ہیں؟اگر ہم AI سے معلومات حاصل کرتے ہیں، اپنے خیالات کو ترتیب دیتے ہیں، اپنی تحریر کی اصلاح کرواتے ہیں اور پھر اپنی سوچ، تجربے اور مشاہدے کی بنیاد پر اسے مکمل کرتے ہیں تو یہ ایک مفید ٹیکنالوجی ہے۔لیکن اگر ہم نے اپنا موضوع بھی AI کو دے دیا، خیال بھی اس سے لیا، مواد بھی اسی کا، جملے بھی اسی کے اور آخر میں صرف اپنا نام لگا دیا تو پھر ہمیں یہ سوچنا ہوگا کہ اس تحریر میں ہمارا حصہ آخر کتنا ہے؟
نام ہمارا، قلم AI کا!یہ صورت حال ذرا مضحکہ خیز بھی ہے اور افسوس ناک بھی۔نئے لکھنے والے اور تیار شدہ ادب مجھے سب سے زیادہ تشویش نئے لکھنے والوں کے حوالے سے ہے۔نیا لکھنے والا دراصل ایک زیرِ تعمیر عمارت کی مانند ہوتا ہے۔ اس کے اندر امکانات بہت ہوتے ہیں، مگر ابھی بنیاد مضبوط نہیں ہوئی ہوتی۔وہ غلطیاں کرتا ہے،جملے توڑتا ہے،دوبارہ لکھتا ہے۔اپنے شعر سے خود ناراض ہوتا ہے۔کسی بزرگ شاعر سے اصلاح لیتا ہے۔کسی استاد سے ڈانٹ کھاتا ہے۔اور کبھی ایک معمولی سا جملہ لکھنے میں پورا دن گزار دیتا ہے۔یہیمشقت اسے لکھنے والا بناتی ہے۔اگر وہ ہر بار اپنی مشکل کا حل AI سے حاصل کر لے تو اس کی تحریر شاید جلد خوب صورت ہوجائے، مگر اس کی اپنی تخلیقی عضلات کیسے مضبوط ہوں گے؟ہم نے اگر لکھنے کی تکلیف ہی ختم کردی تو کہیں ایسا نہ ہو کہ لکھنے کی صلاحیت بھی ختم ہوجائے۔
ایک نوجوان شاعر اگر ہر غزل AI سے لکھوائے گا تو شاید اس کے پاس اشعار کی کمی نہ رہے، مگر ایک دن جب موبائل کی بیٹری ختم ہوجائے گی تو ممکن ہے شاعر بھی ختم ہوجائے!یہ مذاق نہیں، ایک سنجیدہ ادبی مسئلہ ہے۔ادب صرف الفاظ کا کھیل نہیں،AIخوب صورت زبان پیدا کرسکتی ہے۔ لیکن ادب صرف خوب صورت زبان کا نام نہیں۔ادب میں زندگی شامل ہوتی ہے۔ایک ماں کی موت کا دکھ، ایک باپ کی خاموشی، پہلی محبت کی بے قراری، ہجرت کا کرب، غربت کی اذیت، تنہائی کی رات، دوست کی جدائی، شہر کی گلیاں، بچپن کی یادیں،یہ سب ادیب کے اندر سے نکلتے ہیں۔AIان سب پر ہزاروں صفحات لکھ سکتی ہے، لیکن جس شخص نے یہ سب جھیلا ہو، اس کے تجربے کی جگہ محض الفاظ نہیں لے سکتے۔ایک مشین بارش پر ایک خوب صورت پیراگراف لکھ سکتی ہے، لیکن جس شخص نے برسوں بعد اپنے آبائی شہر میں بارش دیکھی ہو، اس کے لئے وہ بارش صرف موسم نہیں ہوتی،وہ یاد ہوتی ہے اور ادب یاد، احساس اور تجربے سے جنم لیتا ہے۔
لیکن AI کو دشمن بھی نہ بنائیں۔یہاں ایک بات واضح کرنا ضروری ہے۔ہمیں AI کو ادب کا دشمن قرار دینے کی بھی ضرورت نہیں۔اگر کوئی لکھنے والا AI سے پوچھتا ہے کہ کسی موضوع پر کن پہلوؤں سے غور کیا جاسکتا ہے، اسے چند حوالہ جاتی نکات ملتے ہیں، اپنی تحریر کی زبان بہتر کرواتا ہے، املا درست کرتا ہے یا اپنے مضمون کا ابتدائی خاکہ بناتا ہے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔آخر ایک ادیب صدیوں سے دوسروں کی کتابیں پڑھ کر ہی تو لکھتا آیا ہے۔کتاب سے معلومات لینا چوری نہیں۔لغت سے لفظ دیکھنا چوری نہیں۔استاد سے اصلاح لینا چوری نہیں۔تو AI سے مدد لینا بھی بذاتِ خود کوئی جرم نہیں۔اصل مسئلہ دیانت داری کا ہے۔اگر AI آپ کی معاون ہے تو ٹھیک ہے۔اگر AI آپ کی مصنف ہے اور آپ صرف دستخط کرنے والے ہیں تو معاملہ گڑبڑ ہے۔کیونکہ مشین بھی غلطی کرتی ہے۔
ایک اور خطرناک غلط فہمی یہ ہے کہ AI چونکہ مشین ہے اس لئے وہ غلط نہیں ہوسکتی۔حقیقت اس کے برعکس ہے۔AI کبھی کبھی بڑے اعتماد کے ساتھ ایسی بات بھی بتا دیتی ہے جو حقیقت میں موجود ہی نہیں ہوتی۔حوالہ ایسا دے سکتی ہے جس کا کوئی وجود نہ ہو۔شخصیت کے بارے میں غلط معلومات فراہم کرسکتی ہے۔اور کبھی ایک غلط بات کو اتنے خوب صورت انداز میں پیش کرتی ہے کہ قاری کو شک بھی نہیں ہوتا۔یہاں مصنف کی ذمہ داری پہلے سے کہیں بڑھ جاتی ہے۔AI سے معلومات لینا آسان ہے، معلومات کی تصدیق کرنا اب بھی انسان کا کام ہے۔خصوصاً اردو ادب میں یہ ذمہ داری بہت اہم ہے، کیونکہ ہمارے ادبی حلقوں میں پہلے ہی کئی ایسی روایات موجود ہیں جہاں حوالہ کم اور ”سنا ہے“ زیادہ ہوتا ہے۔اب اگر ”سنا ہے“ کے ساتھ AI بھی شامل ہوگئی تو خدا خیر کرے!
تو کیاAI تعصب سے پاک ہے؟یہ بھی کہا جاتا ہے کہ AI انسانوں کے مقابلے میں غیر جانب دار ہے۔یہ بات بھی مکمل طور پردرست نہیں ہے۔اگر AI کو متعصبانہ یا ناقص ڈیٹا سے تربیت دی جائے تو اس کے نتائج بھی متعصبانہ ہوسکتے ہیں۔یعنی مشین کے پاس اپنا تعصب شاید نہ ہو، لیکن انسان کا تعصب اس کے ڈیٹا میں داخل ہوسکتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ AI کے نتائج کو بھی تنقیدی نظر سے دیکھنا ضروری ہے۔
ادب میں تو یہ احتیاط اور بھی اہم ہے، کیونکہ ادیب کا کام صرف معلومات اکٹھی کرنا نہیں بلکہ ان معلومات پر غور کرنا اور اپنا نقطہ نظر قائم کرنا بھی ہے۔اصل خطرہ ملازمت نہیں، انسانی صلاحیت ہے۔AI کے بارے میں سب سے زیادہ بات ملازمتوں کے ختم ہونے کی ہوتی ہے۔یقیناً بہت سے شعبوں میں کچھ کام خودکار ہوں گے اور بعض ملازمتوں کی نوعیت تبدیل ہوگی۔لیکن میرے نزدیک اس سے بھی بڑا خطرہ یہ ہے کہ کہیں انسان اپنی سوچنے کی صلاحیت کو استعمال کرنا ہی نہ چھوڑ دے۔اگر مشین ہمارے لئے حساب کرے، مشین ہمارے لئے ترجمہ کرے، مشین ہمارے لئے تحقیق کرے، مشین ہمارے لئے فیصلہ کرے اور آخر میں مشین ہمارے لئے لکھے بھی، تو پھر انسان کے پاس باقی کیا بچے گا؟شاید صرف یہ کام کہ وہ کہے:”AI صاحب! ذرا میرا نام بھی نیچے لکھ دینا۔“
پھرقلم کا مالک کون ہے؟یہ سچ ہے کہ ٹیکنالوجی کو روکنا ممکن نہیں ہے۔AI آچکی ہے، اس سے مزید ترقی بھی ہورہی ہے اور اب یہ ہماری زندگی کا پہلے سے زیادہ حصہ بن چکی ہے۔ہم اسے روک بھی نہیں سکتے ہیں اور شاید راسے وکنا بھی نہیں چاہیے۔ہمیں صرف یہ طے کرنا ہے کہ ہم اس کے ساتھ اپنا تعلق کس طرح قائم کرتے ہیں۔ایک ادیب AI سے مدد لے سکتا ہے، لیکن اپنی تخلیقی شناخت اس کے حوالے نہیں کر سکتا۔وہ اس سے سوال کرسکتا ہے، مگر ہر جواب قبول نہیں کرسکتا۔وہ اس سے خاکہ لے سکتا ہے، مگر تحریر میں اپنا تجربہ شامل نہیں کر سکتا ہے۔وہ زبان سنوار سکتا ہے، مگر اپنی آواز نہیں بدلے گا۔کیونکہ آخرکار ادب کی اصل قدر اس بات میں نہیں کہ تحریر کتنی شاندار ہے۔اصل سوال یہ ہے کہ اس تحریر میں لکھنے والا کتنا موجود ہے؟ممکن ہے آنے والے زمانے میں AI ہماری کتابوں کے مسودے تیار کرے، ہمارے مضامین کے خاکے بنائے، ہماری زبان درست کرے اور ہمارے خیالات کو ترتیب دے۔یہ سب خوش آئند بھی ہوسکتا ہے۔لیکن ہمیں ایک لکیر ضرور کھینچنی ہوگی۔AI سے قلم کو مدد ملے، قلم AI کے حوالے نہ ہو۔کیونکہ جب تک قلم ہمارے ہاتھ میں ہے، ہم لکھنے والے ہیں۔
جس دن قلم بھی مشین کے ہاتھ میں چلا گیا، اس دن شاید ہمارے نام سے کتابیں تو شائع ہوتی رہیں گی، کالم بھی چھپتے رہیں گے، شعر بھی داد حاصل کرتے رہیں گے۔مگر ان سب کے پیچھے ایک سوال مسلسل ہمارا پیچھا کرے گا:”یہ لکھا کس نے ہے؟“اور شاید اس سوال کا جواب دینے کے لئے ہمیں اپنے دستخط سے زیادہ اپنی آواز کی ضرورت پڑے گی۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں