خواجہ بہاؤالدین نقشبند بخاری کا یوم وصال سرینگر میں روایتی خواجہ دگر کی ادائیگی کیساتھ مناتا گیا

جنگ نیوز ڈیسک

سری نگر/کشمیر بھر میں پیر کو معروف صوفی بزرگ خواجہ بہاؤالدین نقشبند بخاریؒ کا سالانہ عرس مذہبی عقیدت و احترام کے ساتھ منایا گیا۔ اس موقع پر خانقاہِ نقشبند صاحب، خواجہ بازار، نوہٹہ سری نگر میں روایتی خواجہ دِگر کی نماز ادا کی گئی، جس میں بڑی تعداد میں عقیدت مندوں نے شرکت کی۔

خواجہ بہاؤالدین نقشبند بخاریؒ برصغیر میں معروف نقشبندی سلسلے کے روحانی پیشوا تھے۔ اگرچہ آپؒ کا وصال بخارا میں ہوا، تاہم آپ کی روحانی تعلیمات اور نقشبندی سلسلے نے بعد کے ادوار میں وسطی ایشیا سے کشمیر تک گہرا اثر قائم کیا۔ کشمیر میں اس سلسلے کے فروغ میں خواجہ خواوند محمودؒ اور ان کے فرزند خواجہ محمد معصومؒ/ملا محمد نقشبندی سے وابستہ نقشبندی خانوادے کا اہم کردار رہا، جس کے نتیجے میں سری نگر میں نقشبندی خانقاہی روایت مضبوط ہوئی۔

کشمیر میں خواجہ بہاؤالدین نقشبندؒ سے منسوب روحانی روایت کا سب سے نمایاں اظہار خواجہ دِگر کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ یہ اجتماع ان کی یاد، تعلیمات اور نقشبندی روحانی روایت سے وابستگی کی علامت سمجھا جاتا ہے اور ہر سال 3 ربیع الاول کو ان کے عرس کے موقع پر خصوصی طور پر منعقد کیا جاتا ہے۔

وادی کے مختلف علاقوں سے آئے لوگوں کی بڑی تعداد کے باعث خانقاہ اور اس کے گردونواح میں روحانی ماحول قائم رہا۔

خواجہ دِگر کشمیر کی صوفی اور مذہبی تاریخ کی ایک صدیوں پرانی روایت ہے، جو نقشبندی سلسلے کے ساتھ کشمیر کے گہرے روحانی تعلق اور وادی کی مخصوص صوفی تہذیب کی عکاسی کرتی ہے۔

تقریب سے قبل وقف بورڑ چیئرپرسن ڈاکٹر سید درخشاں اندرابی نے انتظامات کا جائزہ لیا

خواجہ دِگر کی مذہبی تقریب سے قبل جموں و کشمیر وقف بورڈ کی چیئرپرسن ڈاکٹر سید درخشان اندرابی نے آج سری نگر میں واقع تاریخی نقشبند صاحبؒ درگاہ کا ذاتی طور پر دورہ کرکے وہاں کیے گئے انتظامات کا تفصیلی جائزہ لیا۔ڈاکٹر درخشان اندرابی نے درگاہ کے احاطے میں موجود مختلف انتظامات کا موقع پر ہی معائنہ کیا اور صفائی و ستھرائی، نمازیوں کے لئے میٹنگ اور قالین، نماز کے مقامات، روشنی، آمد و رفت کے راستوں، زائرین کی سہولیات اور مجموعی انتظامات کا جائزہ لیا۔

انہوں نے موقع پر موجود وقف بورڈ کے افسران اور عملے سے بھی بات چیت کی اور ہدایت دی کہ زائرین کے لئے تمام سہولیات کو بہترین انداز میں برقرار رکھا جائے، تاکہ وہ پُرسکون، صاف ستھرے اور باوقار ماحول میں عبادت اور نماز ادا کرسکیں۔ چیئرپرسن نے درگاہ کے اندرونی اور بیرونی حصوں کا بھی معائنہ کیا اور زائرین کے لئے کیے گئے انتظامات کو خود موقع پر جاکر دیکھا۔ ان کی اس موقع پر موجودگی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ وقف بورڈ اہم مذہبی مواقع پر براہِ راست نگرانی، جوابدہی اور بہترین انتظامات کو خصوصی اہمیت دیتا ہے۔

جائزے کے بعد خواجہ دِگر کے انتظامات احسن طریقے سے انجام پائے اور نمازِ خواجہ دِگار پُرامن ماحول میں ادا کی گئی، جس میں بڑی تعداد میں عقیدت مندوں نے مذہبی عقیدت و احترام کے ساتھ شرکت کی۔ ڈاکٹر سید درخشان اندرابی کی اس موقع پر ذاتی موجودگی نے ایک بار پھر اس عزم کو اجاگر کیا کہ جموں و کشمیر وقف بورڈ کے زیرِ انتظام مذہبی مقامات کی تقدس، صفائی، خوبصورتی اور زائرین کی سہولیات کو مسلسل بہتر بنایا جائے گا۔

جموں و کشمیر وقف بورڈ ریاست بھر میں مذہبی مقامات کے تقدس کو برقرار رکھنے اور زائرین کے لئے بہتر سے بہتر سہولیات فراہم کرنے کے لئے پُرعزم ہے۔

میرواعظ کشمیر کو نظر بند کرکے خوجۂ دگر کے اجتماع سے خطاب کی اجازت نہیں

میرواعظِ کشمیر ڈاکٹر مولوی محمد عمر فاروق کو آج پھر ایک بار خانہ نظر بند کر دیا گیا اور انہیں آستانہ عالیہ نقشبند صاحبؒ میں منعقد ہونے والے صدیوں قدیم روحانی اجتماع خوجہ دگر سے خطاب کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ اس موقع پر انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم Xپر اپنے ردِعمل میں کہا
"ایک مرتبہ پھر مجھے آج حضرت نقشبند صاحبؒ کے آستانہ عالیہ میں منعقد ہونے والے تاریخی اور صدیوں قدیم مذہبی اجتماع خوجہ دِگر سے خطاب کی اجازت نہیں دی گئی، حالانکہ ہر سال 3 ربیع الاول کے موقع پر منعقد ہونے والی اس روح پرور مذہبی مجلس میں شرکت کے لئے دسیوں ہزار عقیدت مند بے تابی سے منتظر تھے۔ اس کے ساتھ ہی مجھے خانہ نظر بند بھی کر دیا گیا۔

حکمران جماعت نیشنل کانفرنس کی مذمت

"میرواعظ عمر فاروق کو ایک بار پھر نظر بند کیے جانے اور خواجہ دِگار کی مجلس سے خطاب کی اجازت نہ دینے کی اطلاعات انتہائی افسوسناک اور قابلِ مذمت ہیں۔ 5 اگست 2019 کے بعد حالات کو “معمول پر” اور “سب ٹھیک” قرار دیے جانے کے دعووں کے تناظر میں یہ صورتحال مزید تشویش ناک ہے۔”
-نیشنل کانفرنس ترجمان

 

 

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

موسم کی تازہ ترین صورتِ حال

  آج جموں و کشمیر کے بیشتر علاقوں میں مطلع...

JNUمیں ممتاز ادیب پروفیسر محمد حسن کی صدسالہ تقریبات کا آغاز

جنگ نیوز نئی دہلی /ہندوستانی زبانوں کا مرکز، جواہر لعل...

ٹائمز ماسٹر پبلک اسکول کی دو روزہ سالانہ تعلیمی کانفرنس اختتام پذیر

  جنگ نیوز ڈیسک سرینگر: ٹائمز ماسٹر پبلک اسکول، عالمگیری بازار،...

تازہ ترین خبریں

موسم کی تازہ ترین صورتِ حال

  آج جموں و کشمیر کے بیشتر علاقوں میں مطلع...

JNUمیں ممتاز ادیب پروفیسر محمد حسن کی صدسالہ تقریبات کا آغاز

جنگ نیوز نئی دہلی /ہندوستانی زبانوں کا مرکز، جواہر لعل...

ٹائمز ماسٹر پبلک اسکول کی دو روزہ سالانہ تعلیمی کانفرنس اختتام پذیر

  جنگ نیوز ڈیسک سرینگر: ٹائمز ماسٹر پبلک اسکول، عالمگیری بازار،...

خواجہ بہاؤالدین نقشبند بخاری کا یوم وصال سرینگر میں روایتی خواجہ دگر کی ادائیگی کیساتھ مناتا گیا

جنگ نیوز ڈیسک

سری نگر/کشمیر بھر میں پیر کو معروف صوفی بزرگ خواجہ بہاؤالدین نقشبند بخاریؒ کا سالانہ عرس مذہبی عقیدت و احترام کے ساتھ منایا گیا۔ اس موقع پر خانقاہِ نقشبند صاحب، خواجہ بازار، نوہٹہ سری نگر میں روایتی خواجہ دِگر کی نماز ادا کی گئی، جس میں بڑی تعداد میں عقیدت مندوں نے شرکت کی۔

خواجہ بہاؤالدین نقشبند بخاریؒ برصغیر میں معروف نقشبندی سلسلے کے روحانی پیشوا تھے۔ اگرچہ آپؒ کا وصال بخارا میں ہوا، تاہم آپ کی روحانی تعلیمات اور نقشبندی سلسلے نے بعد کے ادوار میں وسطی ایشیا سے کشمیر تک گہرا اثر قائم کیا۔ کشمیر میں اس سلسلے کے فروغ میں خواجہ خواوند محمودؒ اور ان کے فرزند خواجہ محمد معصومؒ/ملا محمد نقشبندی سے وابستہ نقشبندی خانوادے کا اہم کردار رہا، جس کے نتیجے میں سری نگر میں نقشبندی خانقاہی روایت مضبوط ہوئی۔

کشمیر میں خواجہ بہاؤالدین نقشبندؒ سے منسوب روحانی روایت کا سب سے نمایاں اظہار خواجہ دِگر کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ یہ اجتماع ان کی یاد، تعلیمات اور نقشبندی روحانی روایت سے وابستگی کی علامت سمجھا جاتا ہے اور ہر سال 3 ربیع الاول کو ان کے عرس کے موقع پر خصوصی طور پر منعقد کیا جاتا ہے۔

وادی کے مختلف علاقوں سے آئے لوگوں کی بڑی تعداد کے باعث خانقاہ اور اس کے گردونواح میں روحانی ماحول قائم رہا۔

خواجہ دِگر کشمیر کی صوفی اور مذہبی تاریخ کی ایک صدیوں پرانی روایت ہے، جو نقشبندی سلسلے کے ساتھ کشمیر کے گہرے روحانی تعلق اور وادی کی مخصوص صوفی تہذیب کی عکاسی کرتی ہے۔

تقریب سے قبل وقف بورڑ چیئرپرسن ڈاکٹر سید درخشاں اندرابی نے انتظامات کا جائزہ لیا

خواجہ دِگر کی مذہبی تقریب سے قبل جموں و کشمیر وقف بورڈ کی چیئرپرسن ڈاکٹر سید درخشان اندرابی نے آج سری نگر میں واقع تاریخی نقشبند صاحبؒ درگاہ کا ذاتی طور پر دورہ کرکے وہاں کیے گئے انتظامات کا تفصیلی جائزہ لیا۔ڈاکٹر درخشان اندرابی نے درگاہ کے احاطے میں موجود مختلف انتظامات کا موقع پر ہی معائنہ کیا اور صفائی و ستھرائی، نمازیوں کے لئے میٹنگ اور قالین، نماز کے مقامات، روشنی، آمد و رفت کے راستوں، زائرین کی سہولیات اور مجموعی انتظامات کا جائزہ لیا۔

انہوں نے موقع پر موجود وقف بورڈ کے افسران اور عملے سے بھی بات چیت کی اور ہدایت دی کہ زائرین کے لئے تمام سہولیات کو بہترین انداز میں برقرار رکھا جائے، تاکہ وہ پُرسکون، صاف ستھرے اور باوقار ماحول میں عبادت اور نماز ادا کرسکیں۔ چیئرپرسن نے درگاہ کے اندرونی اور بیرونی حصوں کا بھی معائنہ کیا اور زائرین کے لئے کیے گئے انتظامات کو خود موقع پر جاکر دیکھا۔ ان کی اس موقع پر موجودگی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ وقف بورڈ اہم مذہبی مواقع پر براہِ راست نگرانی، جوابدہی اور بہترین انتظامات کو خصوصی اہمیت دیتا ہے۔

جائزے کے بعد خواجہ دِگر کے انتظامات احسن طریقے سے انجام پائے اور نمازِ خواجہ دِگار پُرامن ماحول میں ادا کی گئی، جس میں بڑی تعداد میں عقیدت مندوں نے مذہبی عقیدت و احترام کے ساتھ شرکت کی۔ ڈاکٹر سید درخشان اندرابی کی اس موقع پر ذاتی موجودگی نے ایک بار پھر اس عزم کو اجاگر کیا کہ جموں و کشمیر وقف بورڈ کے زیرِ انتظام مذہبی مقامات کی تقدس، صفائی، خوبصورتی اور زائرین کی سہولیات کو مسلسل بہتر بنایا جائے گا۔

جموں و کشمیر وقف بورڈ ریاست بھر میں مذہبی مقامات کے تقدس کو برقرار رکھنے اور زائرین کے لئے بہتر سے بہتر سہولیات فراہم کرنے کے لئے پُرعزم ہے۔

میرواعظ کشمیر کو نظر بند کرکے خوجۂ دگر کے اجتماع سے خطاب کی اجازت نہیں

میرواعظِ کشمیر ڈاکٹر مولوی محمد عمر فاروق کو آج پھر ایک بار خانہ نظر بند کر دیا گیا اور انہیں آستانہ عالیہ نقشبند صاحبؒ میں منعقد ہونے والے صدیوں قدیم روحانی اجتماع خوجہ دگر سے خطاب کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ اس موقع پر انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم Xپر اپنے ردِعمل میں کہا
"ایک مرتبہ پھر مجھے آج حضرت نقشبند صاحبؒ کے آستانہ عالیہ میں منعقد ہونے والے تاریخی اور صدیوں قدیم مذہبی اجتماع خوجہ دِگر سے خطاب کی اجازت نہیں دی گئی، حالانکہ ہر سال 3 ربیع الاول کے موقع پر منعقد ہونے والی اس روح پرور مذہبی مجلس میں شرکت کے لئے دسیوں ہزار عقیدت مند بے تابی سے منتظر تھے۔ اس کے ساتھ ہی مجھے خانہ نظر بند بھی کر دیا گیا۔

حکمران جماعت نیشنل کانفرنس کی مذمت

"میرواعظ عمر فاروق کو ایک بار پھر نظر بند کیے جانے اور خواجہ دِگار کی مجلس سے خطاب کی اجازت نہ دینے کی اطلاعات انتہائی افسوسناک اور قابلِ مذمت ہیں۔ 5 اگست 2019 کے بعد حالات کو “معمول پر” اور “سب ٹھیک” قرار دیے جانے کے دعووں کے تناظر میں یہ صورتحال مزید تشویش ناک ہے۔”
-نیشنل کانفرنس ترجمان

 

 

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں