کشمیر میں یوم آزادی کا بدلتا منظرنامہ: ترنگے میں سجا گھنٹہ گھر

 

جنگ ڈیسک

سری نگر/ یومِ آزادی کے موقع پر سری نگر کا تاریخی لال چوک اس سال ایک منفرد منظر پیش کرتا رہا، جہاں ترنگے میں سجا گھنٹہ گھر نہ صرف سیاحوں بلکہ مقامی لوگوں کی توجہ کا مرکز بنا رہا۔ معروف تجارتی مرکز میں لوگوں نے تصاویر بنائیں، قومی پرچم لہرائے اور یومِ آزادی کی تقریبات کے رنگ میں رنگے نظر آئے۔
کشمیر میں یومِ آزادی کی تقریبات اب محض سرکاری مقامات تک محدود نہیں رہیں بلکہ وادی کے مختلف علاقوں میں عام لوگوں کی شرکت بھی نمایاں رہی۔ سری نگر سے لے کر دور دراز اضلاع تک سرکاری و غیر سرکاری سطح پر تقریبات، ثقافتی پروگراموں اور ترنگا ریلیوں کا انعقاد کیا گیا، جبکہ متعدد مقامات پر شہریوں نے اپنے گھروں، دکانوں اور کاروباری مراکز پر قومی پرچم لہرائے۔
لال چوک میں گھنٹہ گھر کی ترنگے سے سجی عمارت نے جشن کے ماحول کو مزید نمایاں کردیا۔ یومِ آزادی کے موقع پر کشمیر پہنچنے والے سیاحوں کے لئے پہاڑوں، جھیلوں اور مغلیہ باغات کے علاوہ سری نگر کا یہ تاریخی مرکز بھی خاص توجہ کا باعث بنا۔ سیاحوں نے گھنٹہ گھر کے سامنے تصاویر بنائیں اور جشن کے مناظر اپنے کیمروں میں محفوظ کیے۔
کے این او کے مطابق، گھنٹہ گھر کے گرد مقامی شہری بھی بڑی تعداد میں نظر آئے۔ عموماً ٹریفک اور کاروباری سرگرمیوں سے مصروف رہنے والا لال چوک یومِ آزادی کی تعطیل کے باعث نسبتاً پرسکون تھا، تاہم جہاں جہاں تقریبات منعقد ہوئیں وہاں لوگوں کی آمد و رفت نے شہر میں جشن کا ماحول پیدا کردیا۔
کشمیر میں جشن، ثقافت اور قومی جذبے کا امتزاج
وادی کے مختلف اضلاع میں یومِ آزادی کے موقع پر پرچم کشائی کی تقریبات کے ساتھ ثقافتی پروگرام، طلبہ کی سرگرمیاں، ترنگا ریلیاں اور دیگر تقریبات منعقد ہوئیں۔ اسکولوں، سرکاری اداروں اور مختلف تنظیموں سے وابستہ افراد نے بھی پروگراموں میں شرکت کی۔
سری نگر میں بخشی اسٹیڈیم سے لے کر لال چوک، ڈل جھیل اور دیگر علاقوں تک یومِ آزادی کی سرگرمیوں نے شہر کے مختلف حصوں کو اپنے رنگ میں رنگ دیا۔ ڈل جھیل میں ترنگا شکارا ریلی نے جشن میں ایک منفرد رنگ شامل کیا، جبکہ لال چوک کا گھنٹہ گھر سیاحوں اور شہریوں کے لئے تصویری یادگار بن گیا۔
کشمیر کے قصبوں اور دیہی علاقوں میں بھی یومِ آزادی کی تقریبات منعقد کی گئیں۔ متعدد مقامات پر نوجوانوں، طلبہ، سرکاری ملازمین، تاجروں اور عام شہریوں نے پروگراموں میں شرکت کی۔ کئی علاقوں میں گھروں اور تجارتی مراکز پر قومی پرچم لہراتے دیکھے گئے۔
سیاحوں کے لئے کشمیر کا ایک نیا منظر
ممبئی سے کشمیر کا دورہ کرنے والے سیاح کرن نے کہا، ’’کشمیر کا یہ میرا پہلا سفر ہے اور میں یہاں اپنے قیام سے لطف اندوز ہو رہا ہوں۔ یہ جگہ جنت کی طرح خوبصورت ہے اور میں اسے الفاظ میں بیان نہیں کرسکتا۔‘‘
مقامی شہریوں نے بھی تقریبات کو مثبت انداز میں دیکھا۔ کرن نگر کے رہائشی گلزار احمد، جو کورٹ روڈ کے قریب چائے کا ٹھیلا چلاتے ہیں، نے کہا کہ مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو ایک ساتھ جشن مناتے دیکھنا خوش آئند ہے اور اس سے اتحاد اور قومی فخر کا احساس پیدا ہوتا ہے۔
ایک اور مقامی شہری زبیر احمد نے کہا کہ یومِ آزادی کی تقریبات نے نسبتاً پرسکون تجارتی مرکز میں ایک منفرد رونق پیدا کردی۔ ان کے مطابق لوگوں کو ایک ساتھ جشن مناتے دیکھنا حوصلہ افزا ہے۔
بدلتے کشمیر کی علامت بنتا گھنٹہ گھر
سری نگر اسمارٹ سٹی منصوبے کے تحت تزئین و آرائش کے بعد گھنٹہ گھر پہلے ہی شہر کی نمایاں علامت اور سیاحوں کے لئے مقبول مقام بن چکا ہے۔ تاہم یومِ آزادی کے موقع پر ترنگے میں سجا گھنٹہ گھر ایک ایسے منظر کا حصہ بن گیا جہاں تاریخ، سیاحت، مقامی زندگی اور قومی جشن ایک ہی مقام پر دکھائی دیے۔
کشمیر میں یومِ آزادی کی تقریبات کا یہ منظر اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ وادی میں قومی دنوں کے حوالے سے عوامی شرکت اور تقریبات کا انداز گزشتہ برسوں میں نمایاں طور پر تبدیل ہوا ہے۔ اس سال بھی مختلف علاقوں میں شہریوں کی شرکت، نوجوانوں کی سرگرمیوں اور ثقافتی پروگراموں نے یومِ آزادی کو ایک عوامی جشن کی صورت دے دی۔

مودی کی قیادت میں جموں و کشمیر نے خوف سے آزادی تک کا سفر طے کیا

مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نے کہا ہے کہ جموں و کشمیر میں یومِ آزادی کی تقریبات گزشتہ چند برسوں کے دوران خطے میں رونما ہونے والی نمایاں تبدیلیوں کی علامت ہیں اور وزیراعظم نریندر مودی کی قیادت میں جموں و کشمیر نے ’’خوف سے آزادی‘‘ تک کا سفر طے کیا ہے۔
سماجی رابطہ ویب سائٹ ’ایکس‘ پر ایک پیغام میں امیت شاہ نے کہا کہ جن علاقوں میں کبھی ترنگا لہرانے پر دھمکیاں دی جاتی تھیں، وہاں آج ترنگا یاترائیں منعقد ہو رہی ہیں اور لاکھوں لوگ خوشی اور فخر کے ساتھ قومی پرچم لہرا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر میں یومِ آزادی کی تقریبات خطے میں حالیہ برسوں کے دوران آنے والی تبدیلیوں کی عکاس ہیں۔ ان کے مطابق پورے جموں و کشمیر میں قومی پرچم خوشی اور فخر کے ساتھ لہرایا جا رہا ہے جبکہ لوگ کسی خوف یا دھمکی کے بغیر یومِ آزادی کی تقریبات میں شرکت کر رہے ہیں۔
امیت شاہ کا یہ بیان بھارت کے 80ویں یومِ آزادی کے موقع پر سامنے آیا، جب سخت حفاظتی انتظامات کے درمیان جموں و کشمیر کے مختلف علاقوں میں یومِ آزادی کی تقریبات منعقد کی گئیں۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

میرواعظ سمیت دیگر مذہبی رہنماؤں کی ایرانی صدر سے ملاقات

جنگ نیوز نئی دہلی: ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے مذہبی...

فلم فیسٹول IFFJKکی کامیابی میں DIPR کی ٹیم ورک نمایاں

جنگ نیوز سری نگر/جموں و کشمیر میں پہلی مرتبہ منعقد...

لشکر کی تین نکاتی حکمت عملی:جموںکشمیر میں انسدادِ دہشت گردی کارروائیاں تیز

    جنگ نیوز نئی دہلی/سکیورٹی اداروں نے جموں و کشمیر میں...

وزیراعظم مودی نےBRICS بزنس فورم سے خطاب کے دوران تجارتی رکاوٹیں دور کرنے کی تجویزپیش کی

  جنگ نیوز ڈیسک نئی دہلی/وزیراعظم نریندر مودی نے کہا ہے...

جموں کشمیر بینک ڈیجیٹل تبدیلی پربہترین بینک ایوارڈسے سرفراز

  جنگ نیوز سرینگر/جے اینڈ کے بینک نے ممبئی میں منعقدہ...

تازہ ترین خبریں

میرواعظ سمیت دیگر مذہبی رہنماؤں کی ایرانی صدر سے ملاقات

جنگ نیوز نئی دہلی: ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے مذہبی...

فلم فیسٹول IFFJKکی کامیابی میں DIPR کی ٹیم ورک نمایاں

جنگ نیوز سری نگر/جموں و کشمیر میں پہلی مرتبہ منعقد...

لشکر کی تین نکاتی حکمت عملی:جموںکشمیر میں انسدادِ دہشت گردی کارروائیاں تیز

    جنگ نیوز نئی دہلی/سکیورٹی اداروں نے جموں و کشمیر میں...

وزیراعظم مودی نےBRICS بزنس فورم سے خطاب کے دوران تجارتی رکاوٹیں دور کرنے کی تجویزپیش کی

  جنگ نیوز ڈیسک نئی دہلی/وزیراعظم نریندر مودی نے کہا ہے...

جموں کشمیر بینک ڈیجیٹل تبدیلی پربہترین بینک ایوارڈسے سرفراز

  جنگ نیوز سرینگر/جے اینڈ کے بینک نے ممبئی میں منعقدہ...

کشمیر میں یوم آزادی کا بدلتا منظرنامہ: ترنگے میں سجا گھنٹہ گھر

 

جنگ ڈیسک

سری نگر/ یومِ آزادی کے موقع پر سری نگر کا تاریخی لال چوک اس سال ایک منفرد منظر پیش کرتا رہا، جہاں ترنگے میں سجا گھنٹہ گھر نہ صرف سیاحوں بلکہ مقامی لوگوں کی توجہ کا مرکز بنا رہا۔ معروف تجارتی مرکز میں لوگوں نے تصاویر بنائیں، قومی پرچم لہرائے اور یومِ آزادی کی تقریبات کے رنگ میں رنگے نظر آئے۔
کشمیر میں یومِ آزادی کی تقریبات اب محض سرکاری مقامات تک محدود نہیں رہیں بلکہ وادی کے مختلف علاقوں میں عام لوگوں کی شرکت بھی نمایاں رہی۔ سری نگر سے لے کر دور دراز اضلاع تک سرکاری و غیر سرکاری سطح پر تقریبات، ثقافتی پروگراموں اور ترنگا ریلیوں کا انعقاد کیا گیا، جبکہ متعدد مقامات پر شہریوں نے اپنے گھروں، دکانوں اور کاروباری مراکز پر قومی پرچم لہرائے۔
لال چوک میں گھنٹہ گھر کی ترنگے سے سجی عمارت نے جشن کے ماحول کو مزید نمایاں کردیا۔ یومِ آزادی کے موقع پر کشمیر پہنچنے والے سیاحوں کے لئے پہاڑوں، جھیلوں اور مغلیہ باغات کے علاوہ سری نگر کا یہ تاریخی مرکز بھی خاص توجہ کا باعث بنا۔ سیاحوں نے گھنٹہ گھر کے سامنے تصاویر بنائیں اور جشن کے مناظر اپنے کیمروں میں محفوظ کیے۔
کے این او کے مطابق، گھنٹہ گھر کے گرد مقامی شہری بھی بڑی تعداد میں نظر آئے۔ عموماً ٹریفک اور کاروباری سرگرمیوں سے مصروف رہنے والا لال چوک یومِ آزادی کی تعطیل کے باعث نسبتاً پرسکون تھا، تاہم جہاں جہاں تقریبات منعقد ہوئیں وہاں لوگوں کی آمد و رفت نے شہر میں جشن کا ماحول پیدا کردیا۔
کشمیر میں جشن، ثقافت اور قومی جذبے کا امتزاج
وادی کے مختلف اضلاع میں یومِ آزادی کے موقع پر پرچم کشائی کی تقریبات کے ساتھ ثقافتی پروگرام، طلبہ کی سرگرمیاں، ترنگا ریلیاں اور دیگر تقریبات منعقد ہوئیں۔ اسکولوں، سرکاری اداروں اور مختلف تنظیموں سے وابستہ افراد نے بھی پروگراموں میں شرکت کی۔
سری نگر میں بخشی اسٹیڈیم سے لے کر لال چوک، ڈل جھیل اور دیگر علاقوں تک یومِ آزادی کی سرگرمیوں نے شہر کے مختلف حصوں کو اپنے رنگ میں رنگ دیا۔ ڈل جھیل میں ترنگا شکارا ریلی نے جشن میں ایک منفرد رنگ شامل کیا، جبکہ لال چوک کا گھنٹہ گھر سیاحوں اور شہریوں کے لئے تصویری یادگار بن گیا۔
کشمیر کے قصبوں اور دیہی علاقوں میں بھی یومِ آزادی کی تقریبات منعقد کی گئیں۔ متعدد مقامات پر نوجوانوں، طلبہ، سرکاری ملازمین، تاجروں اور عام شہریوں نے پروگراموں میں شرکت کی۔ کئی علاقوں میں گھروں اور تجارتی مراکز پر قومی پرچم لہراتے دیکھے گئے۔
سیاحوں کے لئے کشمیر کا ایک نیا منظر
ممبئی سے کشمیر کا دورہ کرنے والے سیاح کرن نے کہا، ’’کشمیر کا یہ میرا پہلا سفر ہے اور میں یہاں اپنے قیام سے لطف اندوز ہو رہا ہوں۔ یہ جگہ جنت کی طرح خوبصورت ہے اور میں اسے الفاظ میں بیان نہیں کرسکتا۔‘‘
مقامی شہریوں نے بھی تقریبات کو مثبت انداز میں دیکھا۔ کرن نگر کے رہائشی گلزار احمد، جو کورٹ روڈ کے قریب چائے کا ٹھیلا چلاتے ہیں، نے کہا کہ مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو ایک ساتھ جشن مناتے دیکھنا خوش آئند ہے اور اس سے اتحاد اور قومی فخر کا احساس پیدا ہوتا ہے۔
ایک اور مقامی شہری زبیر احمد نے کہا کہ یومِ آزادی کی تقریبات نے نسبتاً پرسکون تجارتی مرکز میں ایک منفرد رونق پیدا کردی۔ ان کے مطابق لوگوں کو ایک ساتھ جشن مناتے دیکھنا حوصلہ افزا ہے۔
بدلتے کشمیر کی علامت بنتا گھنٹہ گھر
سری نگر اسمارٹ سٹی منصوبے کے تحت تزئین و آرائش کے بعد گھنٹہ گھر پہلے ہی شہر کی نمایاں علامت اور سیاحوں کے لئے مقبول مقام بن چکا ہے۔ تاہم یومِ آزادی کے موقع پر ترنگے میں سجا گھنٹہ گھر ایک ایسے منظر کا حصہ بن گیا جہاں تاریخ، سیاحت، مقامی زندگی اور قومی جشن ایک ہی مقام پر دکھائی دیے۔
کشمیر میں یومِ آزادی کی تقریبات کا یہ منظر اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ وادی میں قومی دنوں کے حوالے سے عوامی شرکت اور تقریبات کا انداز گزشتہ برسوں میں نمایاں طور پر تبدیل ہوا ہے۔ اس سال بھی مختلف علاقوں میں شہریوں کی شرکت، نوجوانوں کی سرگرمیوں اور ثقافتی پروگراموں نے یومِ آزادی کو ایک عوامی جشن کی صورت دے دی۔

مودی کی قیادت میں جموں و کشمیر نے خوف سے آزادی تک کا سفر طے کیا

مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نے کہا ہے کہ جموں و کشمیر میں یومِ آزادی کی تقریبات گزشتہ چند برسوں کے دوران خطے میں رونما ہونے والی نمایاں تبدیلیوں کی علامت ہیں اور وزیراعظم نریندر مودی کی قیادت میں جموں و کشمیر نے ’’خوف سے آزادی‘‘ تک کا سفر طے کیا ہے۔
سماجی رابطہ ویب سائٹ ’ایکس‘ پر ایک پیغام میں امیت شاہ نے کہا کہ جن علاقوں میں کبھی ترنگا لہرانے پر دھمکیاں دی جاتی تھیں، وہاں آج ترنگا یاترائیں منعقد ہو رہی ہیں اور لاکھوں لوگ خوشی اور فخر کے ساتھ قومی پرچم لہرا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر میں یومِ آزادی کی تقریبات خطے میں حالیہ برسوں کے دوران آنے والی تبدیلیوں کی عکاس ہیں۔ ان کے مطابق پورے جموں و کشمیر میں قومی پرچم خوشی اور فخر کے ساتھ لہرایا جا رہا ہے جبکہ لوگ کسی خوف یا دھمکی کے بغیر یومِ آزادی کی تقریبات میں شرکت کر رہے ہیں۔
امیت شاہ کا یہ بیان بھارت کے 80ویں یومِ آزادی کے موقع پر سامنے آیا، جب سخت حفاظتی انتظامات کے درمیان جموں و کشمیر کے مختلف علاقوں میں یومِ آزادی کی تقریبات منعقد کی گئیں۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں