ہینڈلوم وکست بھارت کے مستقبل کا تانا بانا بن رہا ہے

 

گری راج سنگھ
وزیرٹیکسٹائل
حکومت ہند

کسی ترقی یافتہ ملک کی تعمیر کا دارومدار صرف جدید ٹیکنالوجی پر نہیں ہوتا، بلکہ اس بات پر بھی ہوتا ہے کہ وہ اپنی دیرینہ طاقتوں کو مستقبل کی ترقی کے مؤثر محرکات میں کس حد تک تبدیل کر سکتی ہے۔ بھارت جب وکست بھارت 2047 کے وژن کی راہ پر تیزی سے گامزن ہے تو ایک طرف جدید ترین ٹیکنالوجیز میں سرمایہ کاری، مینوفیکچرنگ کے شعبے کو مضبوط بنانے اور عالمی معیار کی صنعتوں کے فروغ پر توجہ دی جا رہی ہے۔ دوسری جانب ہماری ایک بڑی طاقت جو ہمیشہ سے ہمارے ساتھ رہی ہے، وہ ہینڈلوم کی شاندار روایت ہے۔7 اگست کو جب بھارت ہینڈ لوم کا بارہواں قوم دن منانے جارہا ہے، تب یہ مناسب وقت ہے کہ ہینڈلوم کو ایسے اسٹریٹجک شعبے کے طور پر دیکھا جائے جو پائیداری،توثیق شدہ اور مستحکم سپلائی چین کو اہمیت دینے والی عالمی معیشت کے تقاضوں سے پوری طرح ہم آہنگ ہے۔

وزیراعظم نریندر مودی کا وکست بھارت 2047 کا وژن خوشحالی، خود انحصاری، شمولیتی ترقی اور ثقافتی خوداعتمادی پر مبنی ہے ۔ ہینڈلوم اس وژن کی عملی ترجمانی کرتا ہے، کیونکہ یہ روایت اور اختراع کے ساتھ تال میل بناتے ہوئے خواتین کی قیادت میں ترقی، دیہی صنعت کاری، روزگار کے مواقع اور عالمی مسابقت کو فروغ دیتا ہے۔
جیسا کہ رام چرت مانس ہمیں یاد دلاتی ہے کہ :
یعنی وجے رتھ کے واقعے کے دوران مکالمے میں بھگوان رام یہ تعلیم دیتے ہیں کہ پائیدار کامیابی صرف طاقت کے بل پر نہیں، بلکہ اعلیٰ انسانی اقدار کی بنیاد پر حاصل ہوتی ہے۔ یہی وہ اقدار ہیں جنہوں نے صدیوں سے بھارت کی ہینڈلوم روایت کو زندہ اور مستحکم رکھا ہے۔ہاتھ سے بُنے ہوئے ہر کپڑے میں روایت کی حفاظت کا حوصلہ، ہر دھاگے کو کمال تک پہنچانے کا صبر، دیانت دارانہ دستکاری کی سچائی اور نسل در نسل منتقل ہونے والی مہارت و دانائی جھلکتی ہے۔ اسی لئے ہینڈلوم محض ایک دستکاری نہیں، بلکہ بھارت کی تہذیبی وراثت اور اس کی عظیم ترین قومی طاقتوں میں سے ایک ہے۔وادئی سندھ کی تہذیب سے، جہاں پہلی بار کپاس کی کاشت اور اس سے کپڑا بُننے کا آغاز ہواسے لے کر اٹھارہویں صدی تک، جب بھارتی ملبوسات اور کپڑے عالمی تجارت پر نمایاں حیثیت رکھتے تھے، بھارت نے ٹیکسٹائل کے شعبے میں دنیا کے لئے اعلیٰ معیار قائم کیے۔بنگال کی شہرۂ آفاق ململ، جس کی نفاست کا یہ عالم تھا کہ پچیس میٹر لمبا کپڑا بھی ایک انگوٹھی میں سے گزر جاتا تھا، اس کے ساتھ بنارسی ریشم، کانچی پورم کی بُنائی، پوچم پلی اِکات اور ملک کے مختلف خطوں کی بے شمار روایتی بُنائیوں نے بھارت کو پوری دنیا میں غیر معمولی شہرت اور احترام دلایا۔ آج جب دنیا مستند، پائیدار اور ہاتھ سے تیار کی جانے والی مصنوعات کی جانب تیزی سے متوجہ ہو رہی ہے، تو ہمارے پاس ایک تاریخی موقع موجود ہے کہ ہم اس عالمی قیادت کو دوبارہ حاصل کریں۔ ہینڈلوم کے شعبے میں ہماری اگلی پیش رفت کا مقصد صرف کپڑے برآمد کرنا نہیں ہونا چاہیے، بلکہ دستکاری کی مہارت، تہذیبی وراثت، اختراع اور اعتماد کو بھی دنیا تک پہنچانا چاہیے، تاکہ ہاتھ سے بُنی ہوئی ہر مصنوعات برانڈ انڈیا کی ایک سفیر بن جائے۔

ہینڈلوم بھارت کی سب سے بڑی گھریلو صنعت ہے، جو 35 لاکھ سے زائد بُنکروں اور اس سے وابستہ کارکنوں کے لئے ذریعۂ معاش فراہم کرتی ہے۔ ان میں تقریباً 72 فیصد خواتین شامل ہیں۔ گزشتہ ایک دہائی کے دوران حکومت نے مختلف اقدامات کے ذریعے اس شعبے کو مضبوط بنانے کی سمت میں نمایاں پیش رفت کی ہے۔ ان اقدامات میں را میٹریل سپلائی اسکیم،797 ہینڈلوم کلسٹرز کا قیام، ایک لاکھ 24 ہزار سے زائد جدیدلوم کی فراہمی، تقریباً 97 ہزار ہنرمندوں کی مہارت میں اضافہ، نیز پروڈیوسر کمپنیوں، جی آئی سے رجسٹرڈ مصنوعات، ہینڈلوم مارک، انڈیا ہینڈ میڈ سرٹیفیکیشن، اربن ہاٹس اور ڈیزائن ریسورس سینٹرز جیسے اقدامات شامل ہیں۔اس وقت ملک بھر میں قائم 29 ویورز سروس سینٹرز تربیت، مہارت میں اضافہ، ڈیزائن کی تیاری، خام مال کی فراہمی اور مارکیٹ تک رسائی سمیت ہر مرحلے پر بُنکروں کو جامع معاونت فراہم کر رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی انڈین انسٹی ٹیوٹس آف ہینڈلوم ٹیکنالوجی کے 11 اداروں کو مزید مضبوط بنایا جا رہا ہے تاکہ اعلیٰ درجے کی تربیت کو فروغ دیا جا سکے اور ہینڈلوم کی منفرد اور زیادہ قدر و قیمت رکھنے والی مصنوعات تیار کی جا سکیں۔یہ تمام اقدامات اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ ہینڈلوم کو اب صرف ایک فلاحی سرگرمی کے طور پر نہیں، بلکہ ایک ایسی تخلیقی صنعت کے طور پر فروغ دیا جا رہا ہے جو عالمی سطح پر مسابقت کی صلاحیت رکھتی ہے۔اسی سلسلے میں جلد شروع کیے جانے والے قومی ہینڈلوم و ہینڈی کرافٹ پروگرام کے تحت ملک کے 500 سے زائد اضلاع میں 1800 کلسٹرز کو مضبوط بنایا جائے گا، جس سے 65 لاکھ بُنکر اور دستکار مستفید ہوں گے۔ اس پروگرام کا مقصد ‘‘ہینڈ میڈ اِن انڈیا’’ کو عالمی سطح پر ایک معتبر اور قابلِ اعتماد برانڈ کے طور پر قائم کرنا بھی ہے۔

بھارت کے ہینڈلوم کے سفر میں اختراع ہمیشہ سے ایک اہم جزو رہا ہے۔ مہاتما گاندھی کے امبر چرخے نے سوت کاتنے کے عمل کو آسان، تیز رفتار اور زیادہ مؤثر بنایا، جس سے خود انحصاری کے تصور کو تقویت ملی۔حالیہ برسوں میں بھی کئی مثالیں سامنے آئی ہیں۔ آسام کے مائنا لوم اور شیوساگر میں تیار کیے گئے چترنجن ہینڈلوم نے ثابت کیا ہے کہ بہتر اور جدید لوم ڈیزائن کے ذریعے بُنائی کے عمل کو زیادہ آسان، سہل اور زیادہ پیداواری بنایا جا سکتا ہے۔اسی ورثے کو آگے بڑھاتے ہوئے، انڈین انسٹی ٹیوٹس آف ٹیکنالوجی(آئی آئی ٹی) کے اشتراک سے قائم کیے گئے سینٹر آف ایکسیلنس فار ہینڈلوم ٹیکنالوجی کے تحت ایسے ہلکے، مضبوط اور آسانی سے استعمال ہونے والے لومز تیار کیے جا رہے ہیں جو جسمانی محنت کو کم کرتے ہیں اور پیداوار میں اضافہ کرتے ہیں۔ ان جدید لومز سےمعذور افراد کو بھی ہینڈلوم کے شعبے میں زیادہ مؤثر انداز میں کام کرنے میں مدد ملے گی۔اس مرکز کے تحت شروع کی گئی ہینڈلوم0.4 پہل ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کا استعمال کرتے ہوئے پیداوار، معیار اور دیکھ بھال کے عمل کی نگرانی کر رہا ہے۔ اس منصوبے کو ابتدائی طور پر 100 لومز پر آزمایا جا رہا ہے، جس کے بعد اسے مختلف ریاستوں میں بڑے پیمانے پر نافذ کرنے کا منصوبہ ہے۔

ٹیکنالوجی کا مقصد دستکار کو بااختیار بنانا ہونا چاہیے، نہ کہ دستکار کی جگہ لینا۔ ویزیو این ایکس ٹی جیسے پلیٹ فارم مانگ کا اندازہ لگانے، ڈیزائن کے رجحانات کی شناخت کرنے، اصلی ہینڈلوم مصنوعات کی تصدیق کرنے اور بُنکروں کو براہِ راست عالمی بازاروں سے جوڑنے میں مددگار ثابت ہوسکتے ہیں۔اسی کے ساتھ ساتھ اعلیٰ معیار کے ریشم، قدرتی ریشوں، پائیدار ریشوں اور اختراعی امتزاج کے ساتھ تیار کیے گئے ریشوں پر مبنی مصنوعات میں تنوع پیدا کر کے زیادہ قدر و قیمت رکھنے والی مصنوعات تیار کی جا سکتی ہیں اور نئی منڈیوں کے دروازے کھولے جا سکتے ہیں۔اسے بہتر برانڈنگ سے جوڑ کر مصنوعات کی قدر کا اضافہ اور براہ راست بازار تک رسائی کے ساتھ یہ اختراع بُنکروں کی آمدنی میں نمایاں اضافہ کرسکتی ہے۔ہمارا وژن یہ ہے کہ ہر بُنکر کو باعزت اور مناسب آمدنی حاصل ہو، اور آنے والے برسوں میں اس آمدنی کو 50 ہزار روپے ماہانہ تک پہنچانے کا ہدف حاصل کیا جائے۔
ہینڈلوم کا مستقبل جتنا بازار پر منحصر ہے اتنا ہی ہماری سوچ اورطرز فکر پر بھی ہے۔ ہمارے بُنکر محض افرادی قوت نہیں ہیں، بلکہ وہ کاروباری افراد، اختراع کار اور قدر کے تخلیق کار ہیں۔ اگر ہم انہیں اپنے برانڈ قائم کرنے، قدر کے سلسلے میں آگے بڑھنے اور عالمی بازاروں تک رسائی حاصل کرنے کے قابل بنائیں، تو ہینڈلوم کو بھارت کی سب سے متحرک اور تخلیقی صنعتوں میں سے ایک بنایا جا سکتا ہے۔یہ بھارت کے نوجوانوں کے لئے بھی ایک موقع ہے کہ وہ ورثے اور ٹیکنالوجی، تخلیقی صلاحیت اور کاروباری جذبے کو بروئے کار لاتے ہوئے ہینڈلوم کے مستقبل کے نئے باب کی تشکیل میں اپنا کردار ادا کریں۔
ٍٍ آئیے!ہینڈ لوم کے اس قومی دن کا ہم اپنے بُنکروں کو صرف اپنی تہذیبی وراثت کے محافظوں کے طور پر نہیں، بلکہ بھارت کی ترقی کے معماروں کے طور پرجشن منائیں ۔ ساتھ ہی یہ عہد کریں کہ ہینڈلوم کو اپنی روزمرہ زندگی کا حصہ بنائیں گے۔ہینڈلوم کی ہر وہ مصنوعات جسے ہم خریدتے اور استعمال کرتے ہیں، ایک بُنکر کے روزگار کو مضبوط کرتی ہے،

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

پہلگام میں تیز بارش,دریاۓ لڈر کے بہاؤ میں اضافہ

پہلگام، 01 ستمبر  جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ کے...

موسم کی تازہ ترین صورتِ حال

  آج جموں و کشمیر کے بیشتر علاقوں میں مطلع...

JNUمیں ممتاز ادیب پروفیسر محمد حسن کی صدسالہ تقریبات کا آغاز

جنگ نیوز نئی دہلی /ہندوستانی زبانوں کا مرکز، جواہر لعل...

ٹائمز ماسٹر پبلک اسکول کی دو روزہ سالانہ تعلیمی کانفرنس اختتام پذیر

  جنگ نیوز ڈیسک سرینگر: ٹائمز ماسٹر پبلک اسکول، عالمگیری بازار،...

تازہ ترین خبریں

پہلگام میں تیز بارش,دریاۓ لڈر کے بہاؤ میں اضافہ

پہلگام، 01 ستمبر  جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ کے...

موسم کی تازہ ترین صورتِ حال

  آج جموں و کشمیر کے بیشتر علاقوں میں مطلع...

JNUمیں ممتاز ادیب پروفیسر محمد حسن کی صدسالہ تقریبات کا آغاز

جنگ نیوز نئی دہلی /ہندوستانی زبانوں کا مرکز، جواہر لعل...

ٹائمز ماسٹر پبلک اسکول کی دو روزہ سالانہ تعلیمی کانفرنس اختتام پذیر

  جنگ نیوز ڈیسک سرینگر: ٹائمز ماسٹر پبلک اسکول، عالمگیری بازار،...

ہینڈلوم وکست بھارت کے مستقبل کا تانا بانا بن رہا ہے

 

گری راج سنگھ
وزیرٹیکسٹائل
حکومت ہند

کسی ترقی یافتہ ملک کی تعمیر کا دارومدار صرف جدید ٹیکنالوجی پر نہیں ہوتا، بلکہ اس بات پر بھی ہوتا ہے کہ وہ اپنی دیرینہ طاقتوں کو مستقبل کی ترقی کے مؤثر محرکات میں کس حد تک تبدیل کر سکتی ہے۔ بھارت جب وکست بھارت 2047 کے وژن کی راہ پر تیزی سے گامزن ہے تو ایک طرف جدید ترین ٹیکنالوجیز میں سرمایہ کاری، مینوفیکچرنگ کے شعبے کو مضبوط بنانے اور عالمی معیار کی صنعتوں کے فروغ پر توجہ دی جا رہی ہے۔ دوسری جانب ہماری ایک بڑی طاقت جو ہمیشہ سے ہمارے ساتھ رہی ہے، وہ ہینڈلوم کی شاندار روایت ہے۔7 اگست کو جب بھارت ہینڈ لوم کا بارہواں قوم دن منانے جارہا ہے، تب یہ مناسب وقت ہے کہ ہینڈلوم کو ایسے اسٹریٹجک شعبے کے طور پر دیکھا جائے جو پائیداری،توثیق شدہ اور مستحکم سپلائی چین کو اہمیت دینے والی عالمی معیشت کے تقاضوں سے پوری طرح ہم آہنگ ہے۔

وزیراعظم نریندر مودی کا وکست بھارت 2047 کا وژن خوشحالی، خود انحصاری، شمولیتی ترقی اور ثقافتی خوداعتمادی پر مبنی ہے ۔ ہینڈلوم اس وژن کی عملی ترجمانی کرتا ہے، کیونکہ یہ روایت اور اختراع کے ساتھ تال میل بناتے ہوئے خواتین کی قیادت میں ترقی، دیہی صنعت کاری، روزگار کے مواقع اور عالمی مسابقت کو فروغ دیتا ہے۔
جیسا کہ رام چرت مانس ہمیں یاد دلاتی ہے کہ :
یعنی وجے رتھ کے واقعے کے دوران مکالمے میں بھگوان رام یہ تعلیم دیتے ہیں کہ پائیدار کامیابی صرف طاقت کے بل پر نہیں، بلکہ اعلیٰ انسانی اقدار کی بنیاد پر حاصل ہوتی ہے۔ یہی وہ اقدار ہیں جنہوں نے صدیوں سے بھارت کی ہینڈلوم روایت کو زندہ اور مستحکم رکھا ہے۔ہاتھ سے بُنے ہوئے ہر کپڑے میں روایت کی حفاظت کا حوصلہ، ہر دھاگے کو کمال تک پہنچانے کا صبر، دیانت دارانہ دستکاری کی سچائی اور نسل در نسل منتقل ہونے والی مہارت و دانائی جھلکتی ہے۔ اسی لئے ہینڈلوم محض ایک دستکاری نہیں، بلکہ بھارت کی تہذیبی وراثت اور اس کی عظیم ترین قومی طاقتوں میں سے ایک ہے۔وادئی سندھ کی تہذیب سے، جہاں پہلی بار کپاس کی کاشت اور اس سے کپڑا بُننے کا آغاز ہواسے لے کر اٹھارہویں صدی تک، جب بھارتی ملبوسات اور کپڑے عالمی تجارت پر نمایاں حیثیت رکھتے تھے، بھارت نے ٹیکسٹائل کے شعبے میں دنیا کے لئے اعلیٰ معیار قائم کیے۔بنگال کی شہرۂ آفاق ململ، جس کی نفاست کا یہ عالم تھا کہ پچیس میٹر لمبا کپڑا بھی ایک انگوٹھی میں سے گزر جاتا تھا، اس کے ساتھ بنارسی ریشم، کانچی پورم کی بُنائی، پوچم پلی اِکات اور ملک کے مختلف خطوں کی بے شمار روایتی بُنائیوں نے بھارت کو پوری دنیا میں غیر معمولی شہرت اور احترام دلایا۔ آج جب دنیا مستند، پائیدار اور ہاتھ سے تیار کی جانے والی مصنوعات کی جانب تیزی سے متوجہ ہو رہی ہے، تو ہمارے پاس ایک تاریخی موقع موجود ہے کہ ہم اس عالمی قیادت کو دوبارہ حاصل کریں۔ ہینڈلوم کے شعبے میں ہماری اگلی پیش رفت کا مقصد صرف کپڑے برآمد کرنا نہیں ہونا چاہیے، بلکہ دستکاری کی مہارت، تہذیبی وراثت، اختراع اور اعتماد کو بھی دنیا تک پہنچانا چاہیے، تاکہ ہاتھ سے بُنی ہوئی ہر مصنوعات برانڈ انڈیا کی ایک سفیر بن جائے۔

ہینڈلوم بھارت کی سب سے بڑی گھریلو صنعت ہے، جو 35 لاکھ سے زائد بُنکروں اور اس سے وابستہ کارکنوں کے لئے ذریعۂ معاش فراہم کرتی ہے۔ ان میں تقریباً 72 فیصد خواتین شامل ہیں۔ گزشتہ ایک دہائی کے دوران حکومت نے مختلف اقدامات کے ذریعے اس شعبے کو مضبوط بنانے کی سمت میں نمایاں پیش رفت کی ہے۔ ان اقدامات میں را میٹریل سپلائی اسکیم،797 ہینڈلوم کلسٹرز کا قیام، ایک لاکھ 24 ہزار سے زائد جدیدلوم کی فراہمی، تقریباً 97 ہزار ہنرمندوں کی مہارت میں اضافہ، نیز پروڈیوسر کمپنیوں، جی آئی سے رجسٹرڈ مصنوعات، ہینڈلوم مارک، انڈیا ہینڈ میڈ سرٹیفیکیشن، اربن ہاٹس اور ڈیزائن ریسورس سینٹرز جیسے اقدامات شامل ہیں۔اس وقت ملک بھر میں قائم 29 ویورز سروس سینٹرز تربیت، مہارت میں اضافہ، ڈیزائن کی تیاری، خام مال کی فراہمی اور مارکیٹ تک رسائی سمیت ہر مرحلے پر بُنکروں کو جامع معاونت فراہم کر رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی انڈین انسٹی ٹیوٹس آف ہینڈلوم ٹیکنالوجی کے 11 اداروں کو مزید مضبوط بنایا جا رہا ہے تاکہ اعلیٰ درجے کی تربیت کو فروغ دیا جا سکے اور ہینڈلوم کی منفرد اور زیادہ قدر و قیمت رکھنے والی مصنوعات تیار کی جا سکیں۔یہ تمام اقدامات اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ ہینڈلوم کو اب صرف ایک فلاحی سرگرمی کے طور پر نہیں، بلکہ ایک ایسی تخلیقی صنعت کے طور پر فروغ دیا جا رہا ہے جو عالمی سطح پر مسابقت کی صلاحیت رکھتی ہے۔اسی سلسلے میں جلد شروع کیے جانے والے قومی ہینڈلوم و ہینڈی کرافٹ پروگرام کے تحت ملک کے 500 سے زائد اضلاع میں 1800 کلسٹرز کو مضبوط بنایا جائے گا، جس سے 65 لاکھ بُنکر اور دستکار مستفید ہوں گے۔ اس پروگرام کا مقصد ‘‘ہینڈ میڈ اِن انڈیا’’ کو عالمی سطح پر ایک معتبر اور قابلِ اعتماد برانڈ کے طور پر قائم کرنا بھی ہے۔

بھارت کے ہینڈلوم کے سفر میں اختراع ہمیشہ سے ایک اہم جزو رہا ہے۔ مہاتما گاندھی کے امبر چرخے نے سوت کاتنے کے عمل کو آسان، تیز رفتار اور زیادہ مؤثر بنایا، جس سے خود انحصاری کے تصور کو تقویت ملی۔حالیہ برسوں میں بھی کئی مثالیں سامنے آئی ہیں۔ آسام کے مائنا لوم اور شیوساگر میں تیار کیے گئے چترنجن ہینڈلوم نے ثابت کیا ہے کہ بہتر اور جدید لوم ڈیزائن کے ذریعے بُنائی کے عمل کو زیادہ آسان، سہل اور زیادہ پیداواری بنایا جا سکتا ہے۔اسی ورثے کو آگے بڑھاتے ہوئے، انڈین انسٹی ٹیوٹس آف ٹیکنالوجی(آئی آئی ٹی) کے اشتراک سے قائم کیے گئے سینٹر آف ایکسیلنس فار ہینڈلوم ٹیکنالوجی کے تحت ایسے ہلکے، مضبوط اور آسانی سے استعمال ہونے والے لومز تیار کیے جا رہے ہیں جو جسمانی محنت کو کم کرتے ہیں اور پیداوار میں اضافہ کرتے ہیں۔ ان جدید لومز سےمعذور افراد کو بھی ہینڈلوم کے شعبے میں زیادہ مؤثر انداز میں کام کرنے میں مدد ملے گی۔اس مرکز کے تحت شروع کی گئی ہینڈلوم0.4 پہل ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کا استعمال کرتے ہوئے پیداوار، معیار اور دیکھ بھال کے عمل کی نگرانی کر رہا ہے۔ اس منصوبے کو ابتدائی طور پر 100 لومز پر آزمایا جا رہا ہے، جس کے بعد اسے مختلف ریاستوں میں بڑے پیمانے پر نافذ کرنے کا منصوبہ ہے۔

ٹیکنالوجی کا مقصد دستکار کو بااختیار بنانا ہونا چاہیے، نہ کہ دستکار کی جگہ لینا۔ ویزیو این ایکس ٹی جیسے پلیٹ فارم مانگ کا اندازہ لگانے، ڈیزائن کے رجحانات کی شناخت کرنے، اصلی ہینڈلوم مصنوعات کی تصدیق کرنے اور بُنکروں کو براہِ راست عالمی بازاروں سے جوڑنے میں مددگار ثابت ہوسکتے ہیں۔اسی کے ساتھ ساتھ اعلیٰ معیار کے ریشم، قدرتی ریشوں، پائیدار ریشوں اور اختراعی امتزاج کے ساتھ تیار کیے گئے ریشوں پر مبنی مصنوعات میں تنوع پیدا کر کے زیادہ قدر و قیمت رکھنے والی مصنوعات تیار کی جا سکتی ہیں اور نئی منڈیوں کے دروازے کھولے جا سکتے ہیں۔اسے بہتر برانڈنگ سے جوڑ کر مصنوعات کی قدر کا اضافہ اور براہ راست بازار تک رسائی کے ساتھ یہ اختراع بُنکروں کی آمدنی میں نمایاں اضافہ کرسکتی ہے۔ہمارا وژن یہ ہے کہ ہر بُنکر کو باعزت اور مناسب آمدنی حاصل ہو، اور آنے والے برسوں میں اس آمدنی کو 50 ہزار روپے ماہانہ تک پہنچانے کا ہدف حاصل کیا جائے۔
ہینڈلوم کا مستقبل جتنا بازار پر منحصر ہے اتنا ہی ہماری سوچ اورطرز فکر پر بھی ہے۔ ہمارے بُنکر محض افرادی قوت نہیں ہیں، بلکہ وہ کاروباری افراد، اختراع کار اور قدر کے تخلیق کار ہیں۔ اگر ہم انہیں اپنے برانڈ قائم کرنے، قدر کے سلسلے میں آگے بڑھنے اور عالمی بازاروں تک رسائی حاصل کرنے کے قابل بنائیں، تو ہینڈلوم کو بھارت کی سب سے متحرک اور تخلیقی صنعتوں میں سے ایک بنایا جا سکتا ہے۔یہ بھارت کے نوجوانوں کے لئے بھی ایک موقع ہے کہ وہ ورثے اور ٹیکنالوجی، تخلیقی صلاحیت اور کاروباری جذبے کو بروئے کار لاتے ہوئے ہینڈلوم کے مستقبل کے نئے باب کی تشکیل میں اپنا کردار ادا کریں۔
ٍٍ آئیے!ہینڈ لوم کے اس قومی دن کا ہم اپنے بُنکروں کو صرف اپنی تہذیبی وراثت کے محافظوں کے طور پر نہیں، بلکہ بھارت کی ترقی کے معماروں کے طور پرجشن منائیں ۔ ساتھ ہی یہ عہد کریں کہ ہینڈلوم کو اپنی روزمرہ زندگی کا حصہ بنائیں گے۔ہینڈلوم کی ہر وہ مصنوعات جسے ہم خریدتے اور استعمال کرتے ہیں، ایک بُنکر کے روزگار کو مضبوط کرتی ہے،

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں