امت میںظاہر ہونے والے فتنوں کی پیشین گوئیاں

ابونصر فاروق
(۱) حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جو شخص اللہ تعالیٰ سے وہ طلب کرے جو اُس کے پاس ہے، تو آسمان اُس کا سائبان ہو گا، اور زمین اُس کا بچھونا ہو گی، وہ دنیا کے کسی کام کو اہمیت نہیں دے گا، وہ کھیتی نہیں اُگاتا لیکن روٹی کھاتا ہے، وہ درخت نہیں اُگاتا، لیکن پھل کھاتا ہے، وہ صرف اللہ تعالیٰ کی ذات پر توکل کرتا ہے، اور اُس کی رضا کا طالب ہوتا ہے، اللہ تعالیٰ ساتوں آسمانوں اور ساتوں زمینوں کے ذمے اُس کا رزق لگا دیتا ہے، یہ آسمان اور زمین اُس کے رزق کے لئے کوشش کرتے ہیں اور اُس کو حلال رزق پہنچاتے ہیں، وہ آدمی اپنا رزق پورا وصول کرتا ہے، اور جب قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پیش ہو گا تو اُس کے رزق کا کوئی حساب نہیں لیا جائے گا۔  (التعلیق – من تلخیص الذہبی:7860 )
اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ آدمی روزی کمائے ہی نہیں،اور زکوٰۃ و خیرات پر گزارا کرے۔نماز جمعہ کے بعدحلال روزی کمانے کو قرآن میں فرض بتایا گیا ہے۔دوسرے یہ کہ اللہ کی راہ میں مال خرچ کرنا سب سے بڑی نیکی بتایا گیا ہے۔تجارت اور ہنر مندی کو پسندیدہ عمل بتایا گیا ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان حلال روزی بقدر ضرورت کمائے اور باقی سارا وقت اللہ کو یاد کرنے میں اور بندگان خدا کی خدمت میں خرچ کرے۔ایسا نہ ہو کہ ایسی نیکیوں کو چھوڑ کر وہ کروڑپتی بننے کے چکر میں دنیا دار بن جائے۔اس کی تائید آگے والی حدیث سے ہوتی ہے۔
(۲) حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم  ﷺ ایک آدمی کو نصیحت فرما رہے تھے، آپ  ﷺ نے فرمایا: دنیا میں بے رغبتی اختیار کر، اللہ تعالیٰ تجھ سے محبت کرے گا۔ اور اُن چیزوں سے بے رغبتی اختیار کر جو لوگوں کے پاس ہے، لوگ بھی تجھ سے محبت کریں گے۔ (التعلیق – من تلخیص الذہبی) 7873
(۳) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آخری زمانہ میں ایک قوم نکلے گی جس کے افراد نوعمر اور سطحی عقل والے ہوں گے، وہ قرآن پڑھیں گے لیکن قرآن اُن کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا، قرآن کی بات کریں گے لیکن وہ دین سے اسی طرح نکل جائیں گے جیسے شکار سے تیر آر پار نکل جاتا ہے۔ (ترمذی )
دوسری حدیث میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے جس میں آپ نے انہیں لوگوں کی طرح اوصاف بیان کیا کہ وہ لوگ قرآن پڑھیں گے، مگر اُن کے گلے کے نیچے نہیں اترے گا، وہ دین سے ایسے ہی نکل جائیں گے جیسے کمان سے تیر نکل جاتا ہے۔ (فتنوں کی پیش گوئیاں2188)
(۴) میں تم لوگوں سے ایک ایسی حدیث بیان کر رہا ہوں جسے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے اور میرے بعد تم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہوئی حدیث کوئی نہیں بیان کرے گا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’قیامت کی نشانیوں میں سے یہ ہے: علم کا اٹھایا جانا، جہالت کا پھیل جانا، زنا کا عام ہو جانا، شراب نوشی، عورتوں کی کثرت اور مردوں کی قلت یہاں تک کہ پچاس عورتوں پر ایک نگراں ہو گا۔ ( ترمذی: حسن صحیح ہے)
ان دونوں حدیثو ں میں رسول اللہ ﷺجو پیشین گوئی کر رہے ہیں،وہ دور آچکا۔قرآن پڑھنے پڑھانے کا رواج خوب چل رہا ہے ،لیکن قرآن کو سمجھنے اور سمجھانے والے نہیں ملتے۔عالم دین،حافظ قرآن ،مسجدو ں کے امام،قرآن و سنت کی بنیاد دین کے احکام نہیں بتاتے،بلکہ وہ جس فرقے سے تعلق رکھتے ہیں،اُس کے عقیدے اور اعمال کے متعلق عوام کو قائل کرتے رہتے ہیں کہ یہی صحیح ہے،اور دوسرا فرقہ چونکہ اس کو نہیں مانتا اس لئے وہ مردود اور جہنمی ہے۔حدیث نمبر چار میں رسول اللہﷺ جو باتیں بتا رہے ہیں وہ تو اب نظر آنے لگی ہیں۔
(۵) میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ’’تمام لوگوں سے بہتر میرے زمانہ کے لوگ ہیں، پھر اُن کے بعد آنے والے، پھر اُن کے بعد آنے والے، پھر ان کے بعد ایسے لوگ آئیں گے جو موٹے تازے ہوں گے، موٹاپا پسند کریں گے اور گواہی طلب کرنے سے پہلے ہی گواہی دیتے پھریں گے۔(ترمذی)(امت میں واقع ہونے والے فتنوں کی پیش گوئیاں2205)
(۶) ہلال بن یساف کہتے ہیں،ہم سے سفینہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’میری امت میں تیس سال تک خلافت رہے گی، پھر اُس کے بعد ملوکیت آ جائے گی‘‘، راوی حشرج بن نباتہ کہتے ہیں کہ ہم نے اسے تیس سال پایا، سعید بن جمہان کہتے ہیں کہ میں نے سفینہ رضی اللہ عنہ سے کہا: بنو امیہ یہ سمجھتے ہیں کہ خلافت اُن میں ہے؟ کہا: بنو زرقاء جھوٹ اور غلط کہتے ہیں، بلکہ اُن کا شمار تو بدترین بادشاہوں میں ہے۔ (2221)
اس دور میں تمام امارتوں،خانقاہوں ،اوراداروں میں سارے علما اور مشائخ بنو امیہ کی پیروی کر رہے ہیں،یعنی باپ کے بعد بڑا بیٹا جانشیں بن رہا ہے اور گدی سنبھال رہا ہے۔اس کا کام صرف مریدوں سے نذرانہ وصول کرنا ہے،اور قوالی کراکے اُس میں ناچنا ہے۔کسی مرید کو کسی طرح کی شرعی اور دینی تعلیم و تربیت دی ہی نہیں جاتی۔جبکہ جن بزرگوں کے نام پر یہ خانقاہیں چلائی جا رہی ہیں اُنہوں اپنے تعلیم و تربیت اور اپنے پاکیزہ اخلاق و کردار سے اپنے مریدو ںکو رسول اللہ ﷺ کا تابعدار اور اللہ تعالیٰ کا پرستار بنایا تھا۔
(۷) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اُس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! عنقریب تمہارے درمیان عیسیٰ بن مریم حاکم اور منصف بن کر اتریں گے، وہ صلیب کو توڑیں گے، سور کو قتل کریں گے، جزیہ ختم کر دیں گے، اور مال کی زیادتی اس طرح ہو جائے گی کہ اُسے کوئی قبول کرنے والا نہ ہو گا(امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔(2233)
قران میں حکم ہے کہ’’تم نیکی کو پہنچ ہی نہیں سکتے جب تک کہ اپنا دل پسند مال(اللہ کی خوشنودی کے لئے غریبوں اور محتاجوں میں)خرچ نہ کرو۔‘‘مال کی زیادتی اُسی کے پاس ہوتی ہے جو کماتا ہے اور جمع کر کر کے رکھتا ہے خرچ نہیں کرتا۔ایسے لوگوں کے لئے قرآن کہتا ہے :’’تباہی اور بربادی ہے اُن لوگوں کے لئے جو مال کو گن گن کے جمع کرتے ہیںاور اس پر خوش ہوتے ہیں کہ اب اُن کے پاس اتنا مال جمع ہو گیا۔اور سمجھتے ہیں کہ یہ ان کا یہ مال ہمیشہ اُن کے پاس رہے گا۔ہر گز نہیںایسا شخص تو جہنم میں پھینک دیا جائے گا،جواللہ کی دہکائی ہوئی آگ ہے۔‘‘(الہمزہ)
(۸) ہم حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ نے پوچھا کہ فتنہ سے متعلق رسول اللہ ﷺ کی کوئی حدیث تم میں سے کسی کو یاد ہے؟ میں بولا، میں نے اسے (اسی طرح یاد رکھا ہے) جیسے آنحضور  ﷺ نے اس حدیث کو بیان فرمایا تھا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ بولے، کہ تم رسول اللہ ﷺسے فتن کو معلوم کرنے میں بہت بے باک تھے۔ میں نے کہا کہ انسان کے گھر والے، مال، اولاد اور پڑوسی سب فتنہ (کی چیز) ہیں۔ اور نماز، روزہ، صدقہ، اچھی بات کے لئے لوگوں کو حکم کرنا اور بری باتوں سے روکنا ان فتنوں کا کفارہ ہیں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں تم سے اُس کے متعلق نہیں پوچھتا، مجھے تم اُس فتنہ کے بارے میں بتلاؤ جو سمندر کی موج کی طرح ٹھاٹھیں مارتا ہوا بڑھے گا۔ اس پر میں نے کہا کہ یا امیرالمؤمنین! آپ اس سے خوف نہ کھائیے۔ آپ کے اور فتنوں کے درمیان ایک بند دروازہ ہے۔ پوچھا کیا وہ دروازہ توڑ دیا جائے گا یا (صرف) کھولا جائے گا۔ میں نے کہا کہ توڑ دیا جائے گا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ بول اٹھے، کہ پھر تو وہ کبھی بند نہیں ہو سکے گا۔ شقیق نے کہا کہ ہم نے حذیفہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا، کیا حضرت عمر رضی اللہ عنہ اس دروازہ کے متعلق کچھ علم رکھتے تھے۔ تو اُنہوں نے کہا کہ ہاں! بالکل اسی طرح جیسے دن کے بعد رات کے آنے کا۔ میں نے تم سے ایک ایسی حدیث بیان کی ہے جو قطعاً غلط نہیں ہے۔
(۹) میں دمشق میں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی خدمت میں گیا۔ آپ اُس وقت رو رہے تھے۔ میں نے عرض کیا کہ آپ کیوں رو رہے ہیں؟ اُنہوں نے فرمایا کہ نبی کریم ﷺ کے عہد کی کوئی چیز اس نماز کے علاوہ اب میں نہیں پاتا اور اب اس کو بھی ضائع کر دیا گیا ہے۔ اور بکر بن خلف نے کہا کہ ہم سے محمد بن بکر برسانی نے بیان کیا کہ ہم سے عثمان بن ابی رواد نے یہی حدیث بیان کی۔(صحیح بخاری530)
یہ حدیث اُس وقت کی ہے جب صحابہ کرام دنیا میں موجود تھے،اب تو مسلمانوں کی بہت بڑی اکثریت نماز بھی نہیں پڑھتی ہے،اور جو پڑھتی ہے اُس کے اندر نماز سے  پیدا ہونے والا اخلاق نہیں پایا جاتا۔یعنی اس وقت ایسے نمازی پائے جاتے ہیں کہ نمازی ہونے کے باوجود اُن کی زندگی غیر مسلموں جیسی گزر رہی ہے ۔ایسے لوگوں سے اللہ تعالیٰ قیامت میں پوچھے گا’’ تم نے ایمان لانے کے بعد بھی کافروں کی طرح زندگی گزاری؟،تو تم جو کفر کر کے کے آئے ہواُس کے عذاب کا مزہ چکھو۔(قرآن)
ایسے لوگوں کے لئے علامہ اقبال نے کہا ہے:
تیری نماز بے سرور تیراامام بے حضور
ایسی نماز سے گزر ایسے امام سے گزر۔
اور یہ کہ:
گلا تو گھونٹ دیا اہل مدرسہ نے ترا
کہاں سے آئے صدا لا الہ الا اللہ
٭٭٭

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

جنگ اور معیشت کا خطرناک ملاپ

امریکہ اور ایران کے درمیان ایک ماہ سے زائد...

پہلگام میں تیز بارش,دریاۓ لڈر کے بہاؤ میں اضافہ

پہلگام، 01 ستمبر  جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ کے...

موسم کی تازہ ترین صورتِ حال

  آج جموں و کشمیر کے بیشتر علاقوں میں مطلع...

JNUمیں ممتاز ادیب پروفیسر محمد حسن کی صدسالہ تقریبات کا آغاز

جنگ نیوز نئی دہلی /ہندوستانی زبانوں کا مرکز، جواہر لعل...

تازہ ترین خبریں

جنگ اور معیشت کا خطرناک ملاپ

امریکہ اور ایران کے درمیان ایک ماہ سے زائد...

پہلگام میں تیز بارش,دریاۓ لڈر کے بہاؤ میں اضافہ

پہلگام، 01 ستمبر  جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ کے...

موسم کی تازہ ترین صورتِ حال

  آج جموں و کشمیر کے بیشتر علاقوں میں مطلع...

JNUمیں ممتاز ادیب پروفیسر محمد حسن کی صدسالہ تقریبات کا آغاز

جنگ نیوز نئی دہلی /ہندوستانی زبانوں کا مرکز، جواہر لعل...

امت میںظاہر ہونے والے فتنوں کی پیشین گوئیاں

ابونصر فاروق
(۱) حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جو شخص اللہ تعالیٰ سے وہ طلب کرے جو اُس کے پاس ہے، تو آسمان اُس کا سائبان ہو گا، اور زمین اُس کا بچھونا ہو گی، وہ دنیا کے کسی کام کو اہمیت نہیں دے گا، وہ کھیتی نہیں اُگاتا لیکن روٹی کھاتا ہے، وہ درخت نہیں اُگاتا، لیکن پھل کھاتا ہے، وہ صرف اللہ تعالیٰ کی ذات پر توکل کرتا ہے، اور اُس کی رضا کا طالب ہوتا ہے، اللہ تعالیٰ ساتوں آسمانوں اور ساتوں زمینوں کے ذمے اُس کا رزق لگا دیتا ہے، یہ آسمان اور زمین اُس کے رزق کے لئے کوشش کرتے ہیں اور اُس کو حلال رزق پہنچاتے ہیں، وہ آدمی اپنا رزق پورا وصول کرتا ہے، اور جب قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پیش ہو گا تو اُس کے رزق کا کوئی حساب نہیں لیا جائے گا۔  (التعلیق – من تلخیص الذہبی:7860 )
اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ آدمی روزی کمائے ہی نہیں،اور زکوٰۃ و خیرات پر گزارا کرے۔نماز جمعہ کے بعدحلال روزی کمانے کو قرآن میں فرض بتایا گیا ہے۔دوسرے یہ کہ اللہ کی راہ میں مال خرچ کرنا سب سے بڑی نیکی بتایا گیا ہے۔تجارت اور ہنر مندی کو پسندیدہ عمل بتایا گیا ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان حلال روزی بقدر ضرورت کمائے اور باقی سارا وقت اللہ کو یاد کرنے میں اور بندگان خدا کی خدمت میں خرچ کرے۔ایسا نہ ہو کہ ایسی نیکیوں کو چھوڑ کر وہ کروڑپتی بننے کے چکر میں دنیا دار بن جائے۔اس کی تائید آگے والی حدیث سے ہوتی ہے۔
(۲) حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم  ﷺ ایک آدمی کو نصیحت فرما رہے تھے، آپ  ﷺ نے فرمایا: دنیا میں بے رغبتی اختیار کر، اللہ تعالیٰ تجھ سے محبت کرے گا۔ اور اُن چیزوں سے بے رغبتی اختیار کر جو لوگوں کے پاس ہے، لوگ بھی تجھ سے محبت کریں گے۔ (التعلیق – من تلخیص الذہبی) 7873
(۳) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آخری زمانہ میں ایک قوم نکلے گی جس کے افراد نوعمر اور سطحی عقل والے ہوں گے، وہ قرآن پڑھیں گے لیکن قرآن اُن کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا، قرآن کی بات کریں گے لیکن وہ دین سے اسی طرح نکل جائیں گے جیسے شکار سے تیر آر پار نکل جاتا ہے۔ (ترمذی )
دوسری حدیث میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے جس میں آپ نے انہیں لوگوں کی طرح اوصاف بیان کیا کہ وہ لوگ قرآن پڑھیں گے، مگر اُن کے گلے کے نیچے نہیں اترے گا، وہ دین سے ایسے ہی نکل جائیں گے جیسے کمان سے تیر نکل جاتا ہے۔ (فتنوں کی پیش گوئیاں2188)
(۴) میں تم لوگوں سے ایک ایسی حدیث بیان کر رہا ہوں جسے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے اور میرے بعد تم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہوئی حدیث کوئی نہیں بیان کرے گا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’قیامت کی نشانیوں میں سے یہ ہے: علم کا اٹھایا جانا، جہالت کا پھیل جانا، زنا کا عام ہو جانا، شراب نوشی، عورتوں کی کثرت اور مردوں کی قلت یہاں تک کہ پچاس عورتوں پر ایک نگراں ہو گا۔ ( ترمذی: حسن صحیح ہے)
ان دونوں حدیثو ں میں رسول اللہ ﷺجو پیشین گوئی کر رہے ہیں،وہ دور آچکا۔قرآن پڑھنے پڑھانے کا رواج خوب چل رہا ہے ،لیکن قرآن کو سمجھنے اور سمجھانے والے نہیں ملتے۔عالم دین،حافظ قرآن ،مسجدو ں کے امام،قرآن و سنت کی بنیاد دین کے احکام نہیں بتاتے،بلکہ وہ جس فرقے سے تعلق رکھتے ہیں،اُس کے عقیدے اور اعمال کے متعلق عوام کو قائل کرتے رہتے ہیں کہ یہی صحیح ہے،اور دوسرا فرقہ چونکہ اس کو نہیں مانتا اس لئے وہ مردود اور جہنمی ہے۔حدیث نمبر چار میں رسول اللہﷺ جو باتیں بتا رہے ہیں وہ تو اب نظر آنے لگی ہیں۔
(۵) میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ’’تمام لوگوں سے بہتر میرے زمانہ کے لوگ ہیں، پھر اُن کے بعد آنے والے، پھر اُن کے بعد آنے والے، پھر ان کے بعد ایسے لوگ آئیں گے جو موٹے تازے ہوں گے، موٹاپا پسند کریں گے اور گواہی طلب کرنے سے پہلے ہی گواہی دیتے پھریں گے۔(ترمذی)(امت میں واقع ہونے والے فتنوں کی پیش گوئیاں2205)
(۶) ہلال بن یساف کہتے ہیں،ہم سے سفینہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’میری امت میں تیس سال تک خلافت رہے گی، پھر اُس کے بعد ملوکیت آ جائے گی‘‘، راوی حشرج بن نباتہ کہتے ہیں کہ ہم نے اسے تیس سال پایا، سعید بن جمہان کہتے ہیں کہ میں نے سفینہ رضی اللہ عنہ سے کہا: بنو امیہ یہ سمجھتے ہیں کہ خلافت اُن میں ہے؟ کہا: بنو زرقاء جھوٹ اور غلط کہتے ہیں، بلکہ اُن کا شمار تو بدترین بادشاہوں میں ہے۔ (2221)
اس دور میں تمام امارتوں،خانقاہوں ،اوراداروں میں سارے علما اور مشائخ بنو امیہ کی پیروی کر رہے ہیں،یعنی باپ کے بعد بڑا بیٹا جانشیں بن رہا ہے اور گدی سنبھال رہا ہے۔اس کا کام صرف مریدوں سے نذرانہ وصول کرنا ہے،اور قوالی کراکے اُس میں ناچنا ہے۔کسی مرید کو کسی طرح کی شرعی اور دینی تعلیم و تربیت دی ہی نہیں جاتی۔جبکہ جن بزرگوں کے نام پر یہ خانقاہیں چلائی جا رہی ہیں اُنہوں اپنے تعلیم و تربیت اور اپنے پاکیزہ اخلاق و کردار سے اپنے مریدو ںکو رسول اللہ ﷺ کا تابعدار اور اللہ تعالیٰ کا پرستار بنایا تھا۔
(۷) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اُس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! عنقریب تمہارے درمیان عیسیٰ بن مریم حاکم اور منصف بن کر اتریں گے، وہ صلیب کو توڑیں گے، سور کو قتل کریں گے، جزیہ ختم کر دیں گے، اور مال کی زیادتی اس طرح ہو جائے گی کہ اُسے کوئی قبول کرنے والا نہ ہو گا(امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔(2233)
قران میں حکم ہے کہ’’تم نیکی کو پہنچ ہی نہیں سکتے جب تک کہ اپنا دل پسند مال(اللہ کی خوشنودی کے لئے غریبوں اور محتاجوں میں)خرچ نہ کرو۔‘‘مال کی زیادتی اُسی کے پاس ہوتی ہے جو کماتا ہے اور جمع کر کر کے رکھتا ہے خرچ نہیں کرتا۔ایسے لوگوں کے لئے قرآن کہتا ہے :’’تباہی اور بربادی ہے اُن لوگوں کے لئے جو مال کو گن گن کے جمع کرتے ہیںاور اس پر خوش ہوتے ہیں کہ اب اُن کے پاس اتنا مال جمع ہو گیا۔اور سمجھتے ہیں کہ یہ ان کا یہ مال ہمیشہ اُن کے پاس رہے گا۔ہر گز نہیںایسا شخص تو جہنم میں پھینک دیا جائے گا،جواللہ کی دہکائی ہوئی آگ ہے۔‘‘(الہمزہ)
(۸) ہم حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ نے پوچھا کہ فتنہ سے متعلق رسول اللہ ﷺ کی کوئی حدیث تم میں سے کسی کو یاد ہے؟ میں بولا، میں نے اسے (اسی طرح یاد رکھا ہے) جیسے آنحضور  ﷺ نے اس حدیث کو بیان فرمایا تھا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ بولے، کہ تم رسول اللہ ﷺسے فتن کو معلوم کرنے میں بہت بے باک تھے۔ میں نے کہا کہ انسان کے گھر والے، مال، اولاد اور پڑوسی سب فتنہ (کی چیز) ہیں۔ اور نماز، روزہ، صدقہ، اچھی بات کے لئے لوگوں کو حکم کرنا اور بری باتوں سے روکنا ان فتنوں کا کفارہ ہیں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں تم سے اُس کے متعلق نہیں پوچھتا، مجھے تم اُس فتنہ کے بارے میں بتلاؤ جو سمندر کی موج کی طرح ٹھاٹھیں مارتا ہوا بڑھے گا۔ اس پر میں نے کہا کہ یا امیرالمؤمنین! آپ اس سے خوف نہ کھائیے۔ آپ کے اور فتنوں کے درمیان ایک بند دروازہ ہے۔ پوچھا کیا وہ دروازہ توڑ دیا جائے گا یا (صرف) کھولا جائے گا۔ میں نے کہا کہ توڑ دیا جائے گا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ بول اٹھے، کہ پھر تو وہ کبھی بند نہیں ہو سکے گا۔ شقیق نے کہا کہ ہم نے حذیفہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا، کیا حضرت عمر رضی اللہ عنہ اس دروازہ کے متعلق کچھ علم رکھتے تھے۔ تو اُنہوں نے کہا کہ ہاں! بالکل اسی طرح جیسے دن کے بعد رات کے آنے کا۔ میں نے تم سے ایک ایسی حدیث بیان کی ہے جو قطعاً غلط نہیں ہے۔
(۹) میں دمشق میں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی خدمت میں گیا۔ آپ اُس وقت رو رہے تھے۔ میں نے عرض کیا کہ آپ کیوں رو رہے ہیں؟ اُنہوں نے فرمایا کہ نبی کریم ﷺ کے عہد کی کوئی چیز اس نماز کے علاوہ اب میں نہیں پاتا اور اب اس کو بھی ضائع کر دیا گیا ہے۔ اور بکر بن خلف نے کہا کہ ہم سے محمد بن بکر برسانی نے بیان کیا کہ ہم سے عثمان بن ابی رواد نے یہی حدیث بیان کی۔(صحیح بخاری530)
یہ حدیث اُس وقت کی ہے جب صحابہ کرام دنیا میں موجود تھے،اب تو مسلمانوں کی بہت بڑی اکثریت نماز بھی نہیں پڑھتی ہے،اور جو پڑھتی ہے اُس کے اندر نماز سے  پیدا ہونے والا اخلاق نہیں پایا جاتا۔یعنی اس وقت ایسے نمازی پائے جاتے ہیں کہ نمازی ہونے کے باوجود اُن کی زندگی غیر مسلموں جیسی گزر رہی ہے ۔ایسے لوگوں سے اللہ تعالیٰ قیامت میں پوچھے گا’’ تم نے ایمان لانے کے بعد بھی کافروں کی طرح زندگی گزاری؟،تو تم جو کفر کر کے کے آئے ہواُس کے عذاب کا مزہ چکھو۔(قرآن)
ایسے لوگوں کے لئے علامہ اقبال نے کہا ہے:
تیری نماز بے سرور تیراامام بے حضور
ایسی نماز سے گزر ایسے امام سے گزر۔
اور یہ کہ:
گلا تو گھونٹ دیا اہل مدرسہ نے ترا
کہاں سے آئے صدا لا الہ الا اللہ
٭٭٭

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں