
افضال انصاری
بہار کے با نکی پو ر کے ضمنی انتخاب کے نتیجے نے سب کو چو نکا دیا۔جن سوراج پارٹی کے لیڈرپرشانت کشورکی اس شا ندار کامیابی کی گو نج صرف بانکی پور تک محدود نہیں ہے بلکہ اس کی با ز گشت قومی پیما نے پر سنائی دے رہی ہے۔ اخباروں نے اسے بہت اہمیت دی اوریہ خبر صفحہ اول پر جلی حرفوں میں شائع کی ۔ پرشانت کشور کے با رے میں جو بدگما نی پھیلی تھی کہ ان کی عملی سیاست میںجا ن نہیں وہ غلط ثا بت ہو گیا ۔وہ طوفان بن کر ابھرے اورپھر سے اپنا لوہا منوا لیا ۔اُن کی اس جیت سے بہارکی سیاست پر گہرا ثر پڑے گا ۔انہوں نے جن سوراج پا ر ٹی کی بنیاد 2024 میں ڈالی تھی ۔پچھلے سال نومبر 2025 میںبہار کے اسمبلی کے عام انتخا ب میںانہوں نے 243میں سے238 پر امیدوار کھڑا کیا مگر بد قسمتی سے ایک بھی سیٹ نہیں ملی ۔اس جیت سے کھا تہ کھل گیا ۔ یہ پہلی سیٹ ہے ۔ پرشانت کشورانتخابی سیاست کی زمینی حقیقت اور اتار چڑھائو سے اچھی طرح واقف ہیں ۔وہ ایک ما ہر منصوبہ ساز ہیں اور سب کو اس بات کا اعتراف ہے ۔اُن کی قابلیت کو بی جے پی اورترنمول کا نگریس وغیرہ نے بھی استعمال کیا ہے ۔آئی پیک Indian Political Action Committee) ( کے نام سے ان کی اپنی ایجنسی تھی جو الیکشن میںسیاسی پا رٹی کیلئے کا م کرتی ہے ۔اپنی پا رٹی بنا ئی تو اس سے الگ ہو گئے ۔آئی پیک کاڈبہ گو ل نہیں ہوا۔یہ ہے اور دوسرے چلا تے ہیں ۔
جولائی کے مہینے میںاُ دھر راجدھا نی دہلی میں مرکزی وزیر ِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفٰی کی ما نگ پر احتجاج کابازار گرم تھا اوراِدھر ملک کے تین کو نے میں تین ضمنی انتخابات تھے ۔بہار میں با نکی پور،مدھیہ پر دیش کا دتیا اورگجرات میں مانجل پور ۔ان ریاستوں میں بی جے پی کی حکومت ہے ۔ چر چے میں سب سے زیادہ بہار کی راج دھا نی پٹنہ کے با نکی پور کا حلقہ تھا ْ۔یہ علا قہ گا ندھی میدان کے اطراف کا ہے۔مسلم زرخیز علاقہ سبزی باغ اس میں شا مل ہے ۔ خدا بخش اورینٹل لا ئبریری بھی یہیں ہے ۔با نکی پور کا حلقہ 1995 سے مسلسل بی جے پی کے پاس تھا۔وہ اسے ایک مظبوط گڑھ مانتی تھی ۔گذشتہ 32 برس سے صرف کنول کھلتا آیا ہو تو یہ رنگ کتنا گہرا ہوگا یہ کہنے کی با ت نہیں ہے ۔جب ہی بی جے پی کو یہ دعویٰ تھا کہ وہ یہاں کتا بلی کھڑی کر دے تو جیت جا ئے۔اس غرور پر کئی کیلو لڈو رات ہی لا کر رکھ دئے گئے کہ گنتی کاپہلا رجحا ن آتے ہی بانٹنا شروع کر دیں گے ۔یہ حسرت پو ری نہ ہو ئی ۔ پچھلے سال نومبر 2025 میں اسمبلی کے عام انتخا ب میں نتین نبین یہاں سے منتخب ہو ئے تھے ۔وہ بی جے پی کے قومی صدر کے عہدے پر فائز کیے گئے اور پھر را جیہ سبھا کے ممبر منتخب ہو ئے تو با نکی پور کی سیٹ خا لی ہو گئی جس سے ضمنی انتخا ب کرا نا پڑا ۔
پرشانت کشور کی پہلی انتخا بی لڑا ئی ایک مشکل اور دشوار میدان میں تھی ۔وہ تقدیر کے دھنی تھے کہ جیت گئے ۔بانکی پور زعفرانی قلعہ ما نا جا تا ہے جہاں تین دہائی تک کسی کی دال نہیں گلی ۔امیدواروںکی فہرست بہت لمبی تھی ۔آزاد کی حیثیت سے جو لڑے انہیں ملا کر کُل 25 نام تھے ۔ سب سے دلچسپ با ت یہ تھی کہ اس دنگل میں بہار کے سا بق وزرائے اعلیٰ لا لو پرساد یا دو اور نیتیش کمار کے ہم نام بھی تھے ۔آزاد اُمیدواروں کے درمیان دو ایسے تھے جن میں ایک کا نام لالوپرساد یادو اور دوسرے کا نیتیش کما ر تھا ۔ پرشا نت کشور نے بی جے پی کے امیدوار نیرج کمار سنہا کو 19324 ووٹ سے شکست دیا ۔انہیں 64151 ووٹ ملا جب کہ نیرج سنہا کو 44827 ووٹ حا صل ہوا ۔را شٹریہ جنتا دل کی امیدوار ریکھا کماری14273ووٹ سے تیسرے نمبر پر رہیں۔نومبر 2025کے عام انتخا ب میںبی جے پی کے نیتین نبین سے براہ راست مقابلے میں انہیں 46363 ووٹ ملا تھا ۔لگ بھگ 32000 کم ہو گئے ۔ جو راشٹریہ جنتادل کو ملنا تھا وہ جن سوراج لے گئی ۔
پرشانت کشور اپنی انتخابی کا میا بی سے اخباروں اور میڈیا میں خوب واہ واہ بٹو ر رہے ہیں مگریہ عجب تنگ نظری ہے کہ ایک حلقہ اس جیت کو سراہنے سے کترا ہا ہے ۔َ ان کا کہنا ہے کہ بی جے پی نے جتوا دیا ۔نشا نے باز یہ ماننے کو تیا ر نہیں کہ پرشانت کشور اپنے بل پر کامیاب ہو ئے ہیں ۔جتنے منہ ا تنی با تیں۔نتیجہ آنے کے بعد راشٹریہ جنتا دل کا پہلا رد ِ عمل یہ تھا کہ یہ بی جے پی کی جیت ہے ۔کوئی کہہ رہاہے کہ نیتیش کمار اور چراغ پاسوان نے جتوا دیا ۔ جیسے ان کا اور کوئی کا م نہیںجو یہ کرتے پھریں۔ یہ کر کے وہ بی جے پی سے دشمنی مول لیتے ۔سچ یہ ہے کہ سیاسی حریفوںکو خطرہ نظر آنے لگا ہے کہ ان کی کرسی کھسک نہ جا ئے ۔کہیںپرشانت کشور ہماری جگہ نہ لے لیں اس لئے تیر چلائے جا رہے ہیں۔ جن سوراج والے بھی کم نہیں۔ انہوں نے یہ کہہ کر اس ڈر کو بڑھاوا دیا کہ بانکی پور تو شروعات ہے اب بہار کی با ری ہے ۔تامل نا ڈو میں تھلا پتی وجے نے جو کر دکھا یاوہ کمال یہاں بھی ہو نے والا ہے ۔گجرات میں مانجل پور بی جے پی کو ملی جو اسی کی تھی۔مدھیہ پر دیش میںدتیا اسمبلی کے ضمنی انتخاب میں کانگریس کے امیدوار گھنشیام سنگھ کا میا ب ہو ئے ہیں ۔بی جے پی اندیشے میں ہے کہ یہ دا خلی جھگڑے کا نتیجہ ہے ۔اس وجہ سے یہ دتیاکی تنظیمی ڈھا نچے کو برخاست کردی ۔
ہندوستان کی سیاست نے اچانک ایک نیا مو ڑلیا ہے ۔ رام مندر میں چڑھاوے کی چو ری ،جین جی کا احتجاج اور وزیر ِ تعلیم دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ سب اتنے کم وقفے میں ہو ئے کہ سیاست کی رُخ پلٹ گئی ۔جن سوراج پا رٹی کے صدر پر شا نت کشور کی جیت سیا سی رجحان کے بدلنے کا ایک پیغا م ہے۔ بی جے پی کو یہ شکست بھا ری پڑے گی ۔ایک بار غلط بیانیہ (Narrative) بن جا ئے تو اس کے سائے سے نکلنا بہت مشکل ہے ۔اس کے منفی اثر کا دائرہ پھیلنا شروع ہو جا تا ہے ۔ مرکزی حکومت بہت نازک مو ڑ سے گذ رہی ہے ۔اب تو وزیر داخلہ امیت شاہ کے استعفے کا مطا لبہ بھی جڑ پکڑرہا ہے ۔اس کوہلکے میں نہ لیا جا ئے ۔ ہندوستان اپنی الجھن سے نکلنے کا راستہ ڈھونڈھ رہا تھا جو اسے مل گیا ۔مذہب کی آڑ میں رجعت پسند سیاست آخر کب تک چلتی ۔یہ حد پار کر جا ئے تو اُلٹی گنتی شروع ہو جا تی ہے ۔ پٹنہ کے با نکی پور کے ضمنی انتخاب کا نتیجہ اس کی ایک کڑی ہے ۔اسے ہلکے میں نہ لیا جائے ۔
مانا کہ اس زمیں کو نہ گلزار کر سکے
کچھ خا ر کم توکر گئے گذرے جدھر سے ہم
(ساحرؔ)


