روشنی

محمد انصار ندوی

رات اپنی سیاہ چادر زمین پر پوری طرح پھیلا چکی تھی۔ آسمان پر ستارے خاموش نگاہوں سے دنیا کو دیکھ رہے تھے، مگر زمین پر ہر طرف ایک انجانی اداسی رقص کر رہی تھی۔ گاؤں کے کنارے واقع وہ چھوٹا سا کچا مکان، جس کی دیواریں وقت کے تھپیڑوں سے شکستہ ہو چکی تھیں، ایک بجھے ہوئے چراغ کی مانند خاموش کھڑا تھا۔
اسی گھر میں بارہ سالہ سلیم اپنی بوڑھی ماں کے ساتھ رہتا تھا۔ غربت ان کے دروازے کی دائمی مہمان تھی، مگر خودداری اس گھر کی سب سے قیمتی دولت تھی۔ سلیم کی آنکھوں میں عجیب سی چمک تھی؛ وہ چمک جو بڑے خواب دیکھنے والوں کی آنکھوں میں بسیرا کرتی ہے۔
ہر شام جب گاؤں کے بچے کھیلتے، سلیم ایک پرانی کتاب لے کر مسجد کے صحن میں جا بیٹھتا، جہاں ایک کمزور سا بلب جلتا تھا۔ وہ اسی روشنی میں اپنے خوابوں کی تعبیر تلاش کرتا۔ لوگ اکثر ہنستے اور کہتے:
"ارے سلیم! اس پڑھائی سے کیا ہوگا؟ غربت کتابوں سے نہیں جاتی۔”
سلیم مسکرا دیتا۔ اسے معلوم تھا کہ اندھیروں کا مذاق ہمیشہ روشنی سے ہارا ہے۔
ایک دن سردیوں کی سخت رات تھی۔ بجلی غائب تھی۔ مسجد کا بلب بھی بجھ چکا تھا۔ سلیم نے کتاب بند کی اور مایوس ہو کر گھر کی طرف چل پڑا۔ راستے میں اس کی نظر ایک بوڑھے فقیر پر پڑی جو ایک ننھا سا چراغ جلائے بیٹھا تھا۔
سلیم نے حیرت سے پوچھا: "بابا! اتنی تیز ہوا میں یہ چراغ کیسے جل رہا ہے؟”
بوڑھا مسکرایا اور بولا: "بیٹا! چراغ تیل سے کم، حوصلے سے زیادہ جلتے ہیں۔”
یہ مختصر سا جملہ سلیم کے دل میں ایسے اتر گیا جیسے خشک زمین میں پہلی بارش کا قطرہ۔
اس رات اس نے عہد کیا کہ اگر چراغ نہ ہوگا تو چاندنی میں پڑھے گا، اگر چاندنی نہ ہوگی تو یادداشت کی روشنی میں سبق دہرائے گا، مگر ہار نہیں مانے گا۔
دن گزرتے گئے۔ موسم بدلتے رہے۔ غربت نے کبھی اس کا دامن نہ چھوڑا، مگر اس کے ارادے ہر آزمائش کے بعد مزید مضبوط ہوتے گئے۔ ماں اکثر اس کے سر پر ہاتھ پھیر کر کہتی:
"بیٹا! انسان کے نصیب کا سورج محنت کے افق سے طلوع ہوتا ہے۔”
یہ الفاظ اس کے لئے دعا بھی تھے اور سرمایہ بھی۔
کئی برس بعد گاؤں میں ایک نئی خبر پھیلی۔ ضلع میں ہونے والے امتحان میں سلیم نے پہلی پوزیشن حاصل کی تھی۔ وہی لوگ جو کبھی اس پر ہنستے تھے، آج اس کے دروازے پر مبارک باد دینے آئے۔
بوڑھی ماں کی آنکھوں سے خوشی کے آنسو بہہ نکلے۔ اس نے آسمان کی طرف دیکھ کر کہا: "اے مالک! تو نے میرے گھر کا چراغ بجھنے نہیں دیا۔”
وقت نے پھر کروٹ لی۔ سلیم اعلیٰ تعلیم حاصل کر کے اپنے گاؤں واپس آیا، مگر اس بار وہ صرف اپنے لئے نہیں لوٹا تھا۔ اس نے گاؤں میں ایک چھوٹی سی لائبریری قائم کی۔ اس کے دروازے پر صرف دو لفظ لکھے تھے:
"روشنی گھر”
وہ کہتا تھا: "علم وہ چراغ ہے جو جلانے سے کم نہیں ہوتا، بلکہ روشنی بڑھتی جاتی ہے۔”
ہر شام گاؤں کے بچے وہاں جمع ہوتے۔ کتابوں کی خوشبو، قلم کی سیاہی اور معصوم خوابوں کی چمک مل کر ایک نئی دنیا آباد کر دیتی۔
ایک دن وہی بوڑھا فقیر، جس نے برسوں پہلے چراغ والا جملہ کہا تھا، لائبریری کے سامنے سے گزرا۔ اس کی نگاہ تختی پر پڑی تو لبوں پر مسکراہٹ آ گئی۔
سلیم نے دوڑ کر اس کے قدم چوم لئے۔
فقیر نے پوچھا: "بیٹا! چراغ اب بھی جلتا ہے؟”
سلیم نے لائبریری کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: "بابا! اب ایک چراغ نہیں، سیکڑوں چراغ جلتے ہیں۔”
بوڑھے نے آسمان کی طرف دیکھا اور آہستہ سے کہا: "یہی روشنی ہے جو نسلوں کا مقدر بدل دیتی ہے۔”
شام ڈھل رہی تھی۔ سورج مغرب کی آغوش میں اتر رہا تھا، مگر لائبریری کے اندر علم کے چراغ روشن تھے۔ باہر اندھیرا بڑھ رہا تھا اور اندر اجالے کا سفر جاری تھا۔
اس روز گاؤں والوں نے پہلی بار محسوس کیا کہ روشنی صرف بجلی کے بلب کا نام نہیں، بلکہ وہ یقین ہے جو مایوسی کے اندھیروں میں امید کا چراغ جلاتا ہے، وہ علم ہے جو جہالت کی زنجیریں توڑ دیتا ہے، وہ کردار ہے جو انسان کو انسان بناتا ہے، اور وہ محبت ہے جو دلوں کے فاصلے مٹا دیتی ہے۔
دنیا میں سورج ہر روز طلوع ہوتا ہے، مگر حقیقی روشنی صرف ان دلوں میں اترتی ہے جو دوسروں کے لئے جینا سیکھ لیتے ہیں۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

گزشتہ مضمون

تازہ ترین خبریں

موسمیاتی تبدیلی :کشمیر میں قبل از وقت بادام کی فصل تیار

جنگ نیوز پلولامہ/ کشمیر میں اس سال بادام کی فصل...

مجوزعہ IFFJK کو عالمی سطح پر زبردست پذیرائی حاصل

  نیوز ڈیسک سری نگر/ جموں و کشمیر کے پہلے...

مرکز PoJK کے حالات پر آواز اٹھائے/ فاروق عبداللہ

جنگ نیوز سری نگر/نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ...

امتحانی پرچہ لیک روکنے کا ترمیمی بل لوک سبھا سے منظور

جنگ نیوز نئی دہلی/لوک سبھا نے بدھ کے روز شدید...

تازہ ترین خبریں

موسمیاتی تبدیلی :کشمیر میں قبل از وقت بادام کی فصل تیار

جنگ نیوز پلولامہ/ کشمیر میں اس سال بادام کی فصل...

مجوزعہ IFFJK کو عالمی سطح پر زبردست پذیرائی حاصل

  نیوز ڈیسک سری نگر/ جموں و کشمیر کے پہلے...

مرکز PoJK کے حالات پر آواز اٹھائے/ فاروق عبداللہ

جنگ نیوز سری نگر/نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ...

امتحانی پرچہ لیک روکنے کا ترمیمی بل لوک سبھا سے منظور

جنگ نیوز نئی دہلی/لوک سبھا نے بدھ کے روز شدید...

روشنی

محمد انصار ندوی

رات اپنی سیاہ چادر زمین پر پوری طرح پھیلا چکی تھی۔ آسمان پر ستارے خاموش نگاہوں سے دنیا کو دیکھ رہے تھے، مگر زمین پر ہر طرف ایک انجانی اداسی رقص کر رہی تھی۔ گاؤں کے کنارے واقع وہ چھوٹا سا کچا مکان، جس کی دیواریں وقت کے تھپیڑوں سے شکستہ ہو چکی تھیں، ایک بجھے ہوئے چراغ کی مانند خاموش کھڑا تھا۔
اسی گھر میں بارہ سالہ سلیم اپنی بوڑھی ماں کے ساتھ رہتا تھا۔ غربت ان کے دروازے کی دائمی مہمان تھی، مگر خودداری اس گھر کی سب سے قیمتی دولت تھی۔ سلیم کی آنکھوں میں عجیب سی چمک تھی؛ وہ چمک جو بڑے خواب دیکھنے والوں کی آنکھوں میں بسیرا کرتی ہے۔
ہر شام جب گاؤں کے بچے کھیلتے، سلیم ایک پرانی کتاب لے کر مسجد کے صحن میں جا بیٹھتا، جہاں ایک کمزور سا بلب جلتا تھا۔ وہ اسی روشنی میں اپنے خوابوں کی تعبیر تلاش کرتا۔ لوگ اکثر ہنستے اور کہتے:
"ارے سلیم! اس پڑھائی سے کیا ہوگا؟ غربت کتابوں سے نہیں جاتی۔”
سلیم مسکرا دیتا۔ اسے معلوم تھا کہ اندھیروں کا مذاق ہمیشہ روشنی سے ہارا ہے۔
ایک دن سردیوں کی سخت رات تھی۔ بجلی غائب تھی۔ مسجد کا بلب بھی بجھ چکا تھا۔ سلیم نے کتاب بند کی اور مایوس ہو کر گھر کی طرف چل پڑا۔ راستے میں اس کی نظر ایک بوڑھے فقیر پر پڑی جو ایک ننھا سا چراغ جلائے بیٹھا تھا۔
سلیم نے حیرت سے پوچھا: "بابا! اتنی تیز ہوا میں یہ چراغ کیسے جل رہا ہے؟”
بوڑھا مسکرایا اور بولا: "بیٹا! چراغ تیل سے کم، حوصلے سے زیادہ جلتے ہیں۔”
یہ مختصر سا جملہ سلیم کے دل میں ایسے اتر گیا جیسے خشک زمین میں پہلی بارش کا قطرہ۔
اس رات اس نے عہد کیا کہ اگر چراغ نہ ہوگا تو چاندنی میں پڑھے گا، اگر چاندنی نہ ہوگی تو یادداشت کی روشنی میں سبق دہرائے گا، مگر ہار نہیں مانے گا۔
دن گزرتے گئے۔ موسم بدلتے رہے۔ غربت نے کبھی اس کا دامن نہ چھوڑا، مگر اس کے ارادے ہر آزمائش کے بعد مزید مضبوط ہوتے گئے۔ ماں اکثر اس کے سر پر ہاتھ پھیر کر کہتی:
"بیٹا! انسان کے نصیب کا سورج محنت کے افق سے طلوع ہوتا ہے۔”
یہ الفاظ اس کے لئے دعا بھی تھے اور سرمایہ بھی۔
کئی برس بعد گاؤں میں ایک نئی خبر پھیلی۔ ضلع میں ہونے والے امتحان میں سلیم نے پہلی پوزیشن حاصل کی تھی۔ وہی لوگ جو کبھی اس پر ہنستے تھے، آج اس کے دروازے پر مبارک باد دینے آئے۔
بوڑھی ماں کی آنکھوں سے خوشی کے آنسو بہہ نکلے۔ اس نے آسمان کی طرف دیکھ کر کہا: "اے مالک! تو نے میرے گھر کا چراغ بجھنے نہیں دیا۔”
وقت نے پھر کروٹ لی۔ سلیم اعلیٰ تعلیم حاصل کر کے اپنے گاؤں واپس آیا، مگر اس بار وہ صرف اپنے لئے نہیں لوٹا تھا۔ اس نے گاؤں میں ایک چھوٹی سی لائبریری قائم کی۔ اس کے دروازے پر صرف دو لفظ لکھے تھے:
"روشنی گھر”
وہ کہتا تھا: "علم وہ چراغ ہے جو جلانے سے کم نہیں ہوتا، بلکہ روشنی بڑھتی جاتی ہے۔”
ہر شام گاؤں کے بچے وہاں جمع ہوتے۔ کتابوں کی خوشبو، قلم کی سیاہی اور معصوم خوابوں کی چمک مل کر ایک نئی دنیا آباد کر دیتی۔
ایک دن وہی بوڑھا فقیر، جس نے برسوں پہلے چراغ والا جملہ کہا تھا، لائبریری کے سامنے سے گزرا۔ اس کی نگاہ تختی پر پڑی تو لبوں پر مسکراہٹ آ گئی۔
سلیم نے دوڑ کر اس کے قدم چوم لئے۔
فقیر نے پوچھا: "بیٹا! چراغ اب بھی جلتا ہے؟”
سلیم نے لائبریری کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: "بابا! اب ایک چراغ نہیں، سیکڑوں چراغ جلتے ہیں۔”
بوڑھے نے آسمان کی طرف دیکھا اور آہستہ سے کہا: "یہی روشنی ہے جو نسلوں کا مقدر بدل دیتی ہے۔”
شام ڈھل رہی تھی۔ سورج مغرب کی آغوش میں اتر رہا تھا، مگر لائبریری کے اندر علم کے چراغ روشن تھے۔ باہر اندھیرا بڑھ رہا تھا اور اندر اجالے کا سفر جاری تھا۔
اس روز گاؤں والوں نے پہلی بار محسوس کیا کہ روشنی صرف بجلی کے بلب کا نام نہیں، بلکہ وہ یقین ہے جو مایوسی کے اندھیروں میں امید کا چراغ جلاتا ہے، وہ علم ہے جو جہالت کی زنجیریں توڑ دیتا ہے، وہ کردار ہے جو انسان کو انسان بناتا ہے، اور وہ محبت ہے جو دلوں کے فاصلے مٹا دیتی ہے۔
دنیا میں سورج ہر روز طلوع ہوتا ہے، مگر حقیقی روشنی صرف ان دلوں میں اترتی ہے جو دوسروں کے لئے جینا سیکھ لیتے ہیں۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

گزشتہ مضمون