مرکزی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان نے ہفتے کے روز اپنے عہدے سے استعفیٰ دینے کا اعلان کر دیا۔ ان کا یہ اقدام مقابلے کے امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں کے بعد ان سے استعفے کے مطالبے کے لیے جاری ملک گیر احتجاج کے درمیان سامنے آیا ہے۔
ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری کردہ ایک خط میں انہوں نے کہا کہ یہ عہدہ ان کے لیے کبھی بھی "ذاتی انا یا وقار کا مسئلہ” نہیں رہا۔
دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مکمل بیان:
"میرے نوجوان ساتھیو! چار دہائیوں سے زائد عرصے سے میں نے خود کو طلبہ، اساتذہ اور تعلیمی اصلاحات کے مقصد کے لیے وقف کر رکھا ہے۔ میرا ہمیشہ سے یہ ایمان رہا ہے کہ ایک مضبوط، شمولیت پر مبنی اور دور اندیش تعلیمی نظام ہی ایک باوقار اور بااختیار قوم کی بنیاد بنتا ہے۔
میں ملک کے نوجوانوں کی امنگوں، احساسات اور جائز توقعات کا دل سے احترام کرتا ہوں۔ بھارت کی نئی نسل کے خوابوں کو پورا کرنا ہماری سیاسی اور سماجی زندگی کا ایک اخلاقی عہد رہا ہے۔ میں معزز وزیراعظم کا تہہ دل سے ممنون ہوں کہ انہوں نے مجھے ان کی بصیرت افروز قیادت میں قوم کی خدمت کا موقع دیا۔
تاہم، 3 مئی 2026ء کو منعقد ہونے والے NEET-UG کے امتحان سے متعلق کچھ بے ضابطگیاں سامنے آئیں۔ اس کا فوری نوٹس لیتے ہوئے حکومتِ ہند نے معاملہ کی تحقیقات سی بی آئی (CBI) کے سپرد کی، امتحان منسوخ کیا اور دوبارہ امتحان کی تاریخ کا اعلان کیا۔ مزید برآں، یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ اگلے سال سے یہ امتحان سی بی ٹی (کمپیوٹر پر مبنی ٹیسٹ) موڈ میں منعقد کیا جائے گا۔
اس پورے عرصے کے دوران ہماری سب سے پہلی ترجیح 20 لاکھ سے زائد طلبہ کے لیے امتحان کا شفاف اور پرامن انعقاد یقینی بنانا تھا۔ اس مقصد کو ‘ہمہ گیر حکومتی’ (whole-of-government) حکمتِ عملی کے تحت حکومتِ ہند، ریاستی حکومتوں اور بالخصوص ضلاعی انتظامیہ کے تعاون سے حاصل کیا گیا۔ طلبہ اور والدین کے تعاون سے یہ امتحان 21 جون 2026ء کو کامیابی کے ساتھ مکمل ہوا۔”


