جنگ نیوز ڈیسک
نئی دہلی، 25 جولائی: بھارت کی پہلی ہائیڈروجن فیول سیل سے چلنے والی ٹرین نے 1200 کلومیٹر سے زائد کامیاب سفر مکمل کرتے ہوئے ماحول دوست ریل ٹرانسپورٹ کی جانب ایک اہم سنگِ میل عبور کر لیا ہے۔ اس دوران ٹرین نے 3000 لیٹر سے زائد ڈیزل کی بچت کی اور بطور اخراج صرف آبی بخارات خارج کیے۔
ریلوے وزارت کے مطابق اس ٹرین کو 17 جولائی کو جند۔سونی پت ریلوے سیکشن پر روانہ کیا گیا تھا۔ ٹرین میں ہائیڈروجن اور آکسیجن کے درمیان کیمیائی عمل سے بجلی پیدا کی جاتی ہے، جس کے نتیجے میں دھواں یا کاربن کا اخراج نہیں ہوتا بلکہ صرف پانی کی بھاپ خارج ہوتی ہے۔
وزارت نے بتایا کہ یہ منصوبہ انڈین ریلوے کی مکمل دیسی ٹیکنالوجی پر مبنی کاوش ہے۔ جند۔سونی پت روٹ پر کامیاب آپریشن کے بعد جلد ہی دہلی روٹ پر بھی آزمائشی سروس شروع کی جائے گی۔
ریلوے وزارت کے مطابق یہ منصوبہ ملک میں مقامی ہائیڈروجن ریل ماحولیاتی نظام کی بنیاد مضبوط کرے گا اور صاف، پائیدار اور زیرو ایمیشن ریل ٹرانسپورٹ کے فروغ کے ساتھ بھارت کو مستقبل میں ماحول دوست نقل و حمل کے عالمی رہنماؤں میں شامل کرنے کی سمت ایک اہم قدم ثابت ہوگا۔


