جنگ فیچر ڈیسک
کشمیر کی تاریخ کے ایک تابناک باب نے اتوار کے روز ایک مرتبہ پھر نئی زندگی پائی، جب لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے صدیوں قدیم ویثرناگ مندر کمپلیکس کا تزئین و آرائش کے بعد افتتاح کیا۔ یہ محض ایک تاریخی عبادت گاہ کی بحالی نہیں، بلکہ اُس عظیم تہذیبی، روحانی اور علمی روایت کی تجدید ہے جس نے کبھی کشمیر کو علم و دانش، فلسفہ اور فکری مکالمے کا عالمی مرکز بنایا تھا۔
ویثرناگ نام اپنے اندر ایک پوری تاریخ سموئے ہوئے ہے۔ ’’وچار‘‘ کے معنی ہیں غور و فکر، تدبر اور فکری مکالمہ جبکہ ’’ناگ‘‘ کشمیری زبان میں قدرتی چشمے کو کہا جاتا ہے۔ یوں ویثرناگ کا مفہوم بنتا ہے ’’غور و فکر کا چشمہ‘‘—ایک ایسا مقام جہاں صرف پانی ہی نہیں بلکہ علم، حکمت اور دانائی بھی رواں دواں رہتی تھی۔
قدیم زمانے میں ویثرناگ کو ’’مجلسِ فکر‘‘ یا ’’دارالحکمت‘‘ کی حیثیت حاصل تھی۔ روایت ہے کہ یہاں ملک و بیرونِ ملک سے آئے ہوئے علماء، فلسفی، پنڈت اور دانشور مذہبیات، فلسفہ، ریاضیات، فلکیات، سنسکرت علوم اور ہندو تقویم (پنچانگ) جیسے موضوعات پر علمی مباحث کیا کرتے تھے۔ انہی فکری نشستوں نے کشمیر کو برصغیر کے عظیم ترین علمی مراکز میں ممتاز مقام عطا کیا۔
بارہویں صدی کے مؤرخ کلہن کی شہرۂ آفاق تصنیف راج ترنگنی میں بھی ویثرناگ کا تذکرہ ملتا ہے، جو اس مقام کی قدامت اور تاریخی اہمیت کا بین ثبوت ہے۔ یہ مقام قدیم شاردا تہذیب کا بھی ایک نمایاں مرکز سمجھا جاتا ہے، جس نے صدیوں تک سنسکرت ادب، فلسفے اور روحانی علوم کو فروغ دیا۔ مقامی روایات کے مطابق عظیم فلسفی آدی شنکراچاریہ نے بھی یہاں علمی مباحث میں شرکت کی، جبکہ کشمیر کے نامور فلسفی ابھینو گپت کی فکری روایت بھی اسی علمی ماحول سے وابستہ تصور کی جاتی ہے۔
اس مقدس مقام کے قلب میں ایک قدیم قدرتی چشمہ واقع ہے، جس کے وسط میں شیو لنگ نصب ہے۔ یہ چشمہ صدیوں سے عقیدت مندوں کے لئے روحانی تقدس کا سرچشمہ رہا ہے۔ روایت ہے کہ مخصوص مذہبی ایام میں یہاں غسل اور عبادت کو غیر معمولی مذہبی اہمیت حاصل رہی ہے۔ نوّے کی دہائی میں کشمیری پنڈت برادری کی نقل مکانی سے قبل ہر سال ہزاروں عقیدت مند یہاں مذہبی رسومات، پوجا پاٹھ اور دعاؤں کے لئے جمع ہوتے تھے۔
وقت کے نشیب و فراز اور طویل عرصے کی بے توجہی نے اس تاریخی ورثے کو شدید نقصان پہنچایا، تاہم حالیہ برسوں میں اس کی بحالی کے لئے کیے گئے اقدامات نے ویثرناگ کو ایک بار پھر اس کی اصل شان و شوکت سے ہمکنار کر دیا ہے۔ قدیم طرزِ تعمیر کو محفوظ رکھتے ہوئے کمپلیکس کی ازسرِنو مرمت کی گئی ہے تاکہ اس کی تاریخی اور روحانی شناخت برقرار رہے۔
افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے کہا کہ ویثرناگ مندر کمپلیکس کی بحالی جموں و کشمیر کی تہذیبی، روحانی اور تمدنی شناخت کی بازیافت کی جانب ایک تاریخی پیش رفت ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ مقام ماضی میں شاردا روایت کا ایک عظیم علمی مرکز تھا، جہاں دنیا کے مختلف خطوں سے اہلِ علم آکر فکری و فلسفیانہ مباحث میں شریک ہوتے تھے۔
انہوں نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج ایک بار پھر اس تاریخی مقام پر یگیہ، ہون، شیو کی مورتی کی تنصیب اور دیگر مذہبی رسومات ادا کی جا رہی ہیں، جو اس امر کی علامت ہے کہ کشمیر کی قدیم تہذیبی روایت دوبارہ زندہ ہو رہی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ جموں و کشمیر مستقبل میں ایک مرتبہ پھر علم، تحقیق، مکالمے اور روحانی بیداری کا مرکز بن کر ابھرے گا۔
لیفٹیننٹ گورنر نے اپنے خطاب میں کشمیر کے عظیم فلسفی ابھینو گپت کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ یہ سرزمین صدیوں تک فلسفے، روحانیت اور علمی جستجو کی امین رہی ہے۔ ان کے مطابق ویثرناگ اس تہذیب کی علامت ہے جہاں عبادت اور علم ایک دوسرے کے معاون تھے، نہ کہ متضاد۔
افتتاحی تقریب میں کشمیری پنڈت برادری کے افراد، مذہبی رہنماؤں، معزز شہریوں، سول سوسائٹی کے نمائندوں اور اعلیٰ سرکاری حکام نے شرکت کی۔ شرکاء نے اس موقع کو صرف ایک مذہبی مقام کی بحالی نہیں بلکہ کشمیر کی تاریخی یادداشت، مشترکہ تہذیب اور صدیوں پر محیط علمی روایت کی واپسی قرار دیا۔
ویثرناگ کی بحالی صرف ایک تعمیراتی منصوبہ نہیں، بلکہ کشمیر کی اُس شناخت کی تجدید ہے جس کی بنیاد علم، روحانیت، رواداری اور مکالمے پر استوار رہی ہے۔ آج جب اس مقدس چشمے کے کنارے ایک بار پھر دعاؤں کی صدائیں گونج رہی ہیں، تو ویثرناگ صرف ایک مندر نہیں بلکہ کشمیر کی لازوال تہذیبی روح، علمی عظمت اور مشترکہ ورثے کی زندہ علامت بن کر ابھرا ہے۔


