چنار کتب میلہ میں شبھانشو شکلا نے بچوں کو خلا کے خواب دیکھنے کی ترغیب دی

 

جنگ نیوز ڈیسک

سری نگر/اگرچہ سری نگر کا آسمان ابر آلود تھا، تاہم چنار کتب میلہ کے تیسرے روز شیرِ کشمیر انٹرنیشنل کنونشن سینٹر (SKICC) میں غیر معمولی جوش و خروش دیکھنے کو ملا۔ موسلا دھار بارش کے باوجود وادی کے مختلف علاقوں سے بچے، طلبہ اور اساتذہ بڑی تعداد میں بھارتی خلاباز گروپ کیپٹن شبھانشو شکلا، اے سی سے ملاقات کے لئے پہنچے۔
چمکتی آنکھوں اور تجسس سے بھرے ذہنوں کے ساتھ 2,200 سے زائد بچوں نے خلائی دنیا کے اس ہیرو کا پرتپاک استقبال کیا۔ تقریب کی نظامت چنار کتب میلہ کے چیف کنوینر امت وانچو نے کی۔ اس موقع پر گروپ کیپٹن شکلا نے نہایت سادہ، پُراثر اور دلچسپ انداز میں بھارتی فضائیہ کے پائلٹ سے بین الاقوامی خلائی اسٹیشن تک پہنچنے والے پہلے ہندوستانی بننے کے اپنے سفر کی داستان بیان کی۔
اپنی گفتگو کے آغاز میں انہوں نے کہا کہ خلا تک ان کا سفر صرف ان کی ذاتی کامیابی نہیں بلکہ پورے ملک کی کامیابی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ خلا میں 20 روز گزارنے کے لئے انہیں پانچ برس تک مسلسل تربیت حاصل کرنا پڑی۔ انہوں نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ کامیابی کے لئے نظم و ضبط کو اپنی زندگی کا لازمی حصہ بنائیں۔
نشست کے دوران گروپ کیپٹن شکلا نے پیچیدہ سائنسی تصورات کو نہایت آسان اور دلچسپ مثالوں کے ذریعے سمجھایا۔ انہوں نے اپنی خلائی تربیت اور بین الاقوامی خلائی اسٹیشن میں قیام سے متعلق ویڈیو کلپس بھی پیش کیے، جنہیں بچوں نے بے حد دلچسپی سے دیکھا۔
انہوں نے خلائی جہاز کے انجن روشن ہونے کے لمحے کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت وہ "اپنی ساری تربیت بھول گئے تھے”۔ انہوں نے اس کیفیت کو امتحان کے سوالیہ پرچے کو پہلی مرتبہ دیکھنے کی گھبراہٹ سے تشبیہ دی، حالانکہ اس کی تیاری کئی ہفتوں تک کی گئی ہوتی ہے۔ انہوں نے خلا میں بے وزنی کے باعث اپنے قد میں معمولی اضافے، بین الاقوامی خلائی اسٹیشن کے اندر دیواروں پر چلنے، زمین پر واپسی کے بعد کششِ ثقل کا اندازہ نہ ہونے کے باعث اپنا لیپ ٹاپ گرا دینے اور دوبارہ معمول کے مطابق چلنا سیکھنے جیسے دلچسپ اور یادگار تجربات بھی بچوں سے شیئر کیے۔
انہوں نے گگنیان مشن، مستقبل کے بھارتی خلائی اسٹیشن اور 2040 تک ایک ہندوستانی کو چاند پر بھیجنے کے منصوبے پر بھی روشنی ڈالی۔ ان کا کہنا تھا کہ ہندوستان کا خلائی سفر اسی نوجوان نسل کے ہاتھوں آگے بڑھے گا جو خود اعتمادی کی کمی کے بجائے تجسس، جستجو اور سیکھنے کے جذبے کو اپنائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ممکن ہے اسی ہال میں بیٹھا کوئی بچہ مستقبل میں خلا میں ہندوستان کا ترنگا بلند کرے۔ ان کے بقول، "آسمان کبھی حد نہیں رہا، نہ میرے لئے اور نہ آپ کے لئے۔”
تقریباً دو گھنٹے جاری رہنے والی اس نشست میں انہوں نے جموں و کشمیر کے مختلف اضلاع سے آئے طلبہ کو بار بار اس بات کی تلقین کی کہ وہ خواہ سائنس، خلائی تحقیق، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ یا کسی بھی دوسرے شعبے کا انتخاب کریں، اپنی جسمانی اور ذہنی صحت کو ہمیشہ اولین ترجیح دیں۔ انہوں نے نوجوانوں کو اپنے شعبوں میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے اور علم، اختراع اور خدمتِ وطن کے جذبے کے ساتھ قوم کی ترقی میں اپنا کردار ادا کرنے کی ترغیب دی۔
اس نشست کا سب سے دلچسپ مرحلہ طلبہ کے ساتھ سوال و جواب کا سیشن تھا۔ جیسے ہی سوالات کی دعوت دی گئی، درجنوں ہاتھ بلند ہوگئے۔ بچوں نے بین الاقوامی خلائی اسٹیشن میں روزمرہ زندگی، خلائی تربیت کے مراحل اور ہندوستان کے مستقبل کے خلائی پروگراموں سے متعلق نہایت بصیرت افروز اور تخلیقی سوالات کیے۔ گروپ کیپٹن شکلا نے ہر سوال کا صبر، خوش مزاجی اور انکساری کے ساتھ جواب دیا اور ہر جواب کو سیکھنے اور جستجو کا ایک نیا سبق بنا دیا۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

احتجاج، جمہوریت اور ریاستی ردعمل

حیات اندرابی پلوامہ، کشمیر دنیا کی جدید جمہوریتوں میں عوامی احتجاج...

امریکہ-اسرائیل تعلقات اور مشرقی وسطیٰ کا نیا منظرنامہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین...

محکمہ موسمیات کی تازہ پیشنگوئی

  اگلے 2 سے 4 گھنٹوں کے دوران جنوبی کشمیر...

زلزلے کے شدید جھٹکے، شدت 7.1 ریکارڈ، سونامی کی وارننگ جاری

ٹوکیو: جاپان کے جنوبی جزیرے کیوشو میں منگل کے روز...

تازہ ترین خبریں

احتجاج، جمہوریت اور ریاستی ردعمل

حیات اندرابی پلوامہ، کشمیر دنیا کی جدید جمہوریتوں میں عوامی احتجاج...

امریکہ-اسرائیل تعلقات اور مشرقی وسطیٰ کا نیا منظرنامہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین...

محکمہ موسمیات کی تازہ پیشنگوئی

  اگلے 2 سے 4 گھنٹوں کے دوران جنوبی کشمیر...

زلزلے کے شدید جھٹکے، شدت 7.1 ریکارڈ، سونامی کی وارننگ جاری

ٹوکیو: جاپان کے جنوبی جزیرے کیوشو میں منگل کے روز...

چنار کتب میلہ میں شبھانشو شکلا نے بچوں کو خلا کے خواب دیکھنے کی ترغیب دی

 

جنگ نیوز ڈیسک

سری نگر/اگرچہ سری نگر کا آسمان ابر آلود تھا، تاہم چنار کتب میلہ کے تیسرے روز شیرِ کشمیر انٹرنیشنل کنونشن سینٹر (SKICC) میں غیر معمولی جوش و خروش دیکھنے کو ملا۔ موسلا دھار بارش کے باوجود وادی کے مختلف علاقوں سے بچے، طلبہ اور اساتذہ بڑی تعداد میں بھارتی خلاباز گروپ کیپٹن شبھانشو شکلا، اے سی سے ملاقات کے لئے پہنچے۔
چمکتی آنکھوں اور تجسس سے بھرے ذہنوں کے ساتھ 2,200 سے زائد بچوں نے خلائی دنیا کے اس ہیرو کا پرتپاک استقبال کیا۔ تقریب کی نظامت چنار کتب میلہ کے چیف کنوینر امت وانچو نے کی۔ اس موقع پر گروپ کیپٹن شکلا نے نہایت سادہ، پُراثر اور دلچسپ انداز میں بھارتی فضائیہ کے پائلٹ سے بین الاقوامی خلائی اسٹیشن تک پہنچنے والے پہلے ہندوستانی بننے کے اپنے سفر کی داستان بیان کی۔
اپنی گفتگو کے آغاز میں انہوں نے کہا کہ خلا تک ان کا سفر صرف ان کی ذاتی کامیابی نہیں بلکہ پورے ملک کی کامیابی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ خلا میں 20 روز گزارنے کے لئے انہیں پانچ برس تک مسلسل تربیت حاصل کرنا پڑی۔ انہوں نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ کامیابی کے لئے نظم و ضبط کو اپنی زندگی کا لازمی حصہ بنائیں۔
نشست کے دوران گروپ کیپٹن شکلا نے پیچیدہ سائنسی تصورات کو نہایت آسان اور دلچسپ مثالوں کے ذریعے سمجھایا۔ انہوں نے اپنی خلائی تربیت اور بین الاقوامی خلائی اسٹیشن میں قیام سے متعلق ویڈیو کلپس بھی پیش کیے، جنہیں بچوں نے بے حد دلچسپی سے دیکھا۔
انہوں نے خلائی جہاز کے انجن روشن ہونے کے لمحے کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت وہ "اپنی ساری تربیت بھول گئے تھے”۔ انہوں نے اس کیفیت کو امتحان کے سوالیہ پرچے کو پہلی مرتبہ دیکھنے کی گھبراہٹ سے تشبیہ دی، حالانکہ اس کی تیاری کئی ہفتوں تک کی گئی ہوتی ہے۔ انہوں نے خلا میں بے وزنی کے باعث اپنے قد میں معمولی اضافے، بین الاقوامی خلائی اسٹیشن کے اندر دیواروں پر چلنے، زمین پر واپسی کے بعد کششِ ثقل کا اندازہ نہ ہونے کے باعث اپنا لیپ ٹاپ گرا دینے اور دوبارہ معمول کے مطابق چلنا سیکھنے جیسے دلچسپ اور یادگار تجربات بھی بچوں سے شیئر کیے۔
انہوں نے گگنیان مشن، مستقبل کے بھارتی خلائی اسٹیشن اور 2040 تک ایک ہندوستانی کو چاند پر بھیجنے کے منصوبے پر بھی روشنی ڈالی۔ ان کا کہنا تھا کہ ہندوستان کا خلائی سفر اسی نوجوان نسل کے ہاتھوں آگے بڑھے گا جو خود اعتمادی کی کمی کے بجائے تجسس، جستجو اور سیکھنے کے جذبے کو اپنائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ممکن ہے اسی ہال میں بیٹھا کوئی بچہ مستقبل میں خلا میں ہندوستان کا ترنگا بلند کرے۔ ان کے بقول، "آسمان کبھی حد نہیں رہا، نہ میرے لئے اور نہ آپ کے لئے۔”
تقریباً دو گھنٹے جاری رہنے والی اس نشست میں انہوں نے جموں و کشمیر کے مختلف اضلاع سے آئے طلبہ کو بار بار اس بات کی تلقین کی کہ وہ خواہ سائنس، خلائی تحقیق، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ یا کسی بھی دوسرے شعبے کا انتخاب کریں، اپنی جسمانی اور ذہنی صحت کو ہمیشہ اولین ترجیح دیں۔ انہوں نے نوجوانوں کو اپنے شعبوں میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے اور علم، اختراع اور خدمتِ وطن کے جذبے کے ساتھ قوم کی ترقی میں اپنا کردار ادا کرنے کی ترغیب دی۔
اس نشست کا سب سے دلچسپ مرحلہ طلبہ کے ساتھ سوال و جواب کا سیشن تھا۔ جیسے ہی سوالات کی دعوت دی گئی، درجنوں ہاتھ بلند ہوگئے۔ بچوں نے بین الاقوامی خلائی اسٹیشن میں روزمرہ زندگی، خلائی تربیت کے مراحل اور ہندوستان کے مستقبل کے خلائی پروگراموں سے متعلق نہایت بصیرت افروز اور تخلیقی سوالات کیے۔ گروپ کیپٹن شکلا نے ہر سوال کا صبر، خوش مزاجی اور انکساری کے ساتھ جواب دیا اور ہر جواب کو سیکھنے اور جستجو کا ایک نیا سبق بنا دیا۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں