نیلسن منڈیلا امن کی علامت 

نیلسن منڈیلا کا بین الاقوامی دن 18 جولائی کو آتا ہے اور نسل پرستی کے خلاف انقلابی، سیاسی رہنما، اور کارکن نیلسن منڈیلا کو خراج عقیدت پیش کرتا ہے۔ یہ دن لوگوں کو دنیا کو ایک بہتر جگہ بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔
نیلسن منڈیلا جنوبی افریقہ کے پہلے سیاہ فام سربراہ بنے۔ انہوں نے 1994 سے 1999 تک ملک کے صدر کے طور پر خدمات انجام دیں۔ اپنی قیادت کے دوران، منڈیلا نے نسل پرستی کو ختم کرنے پر توجہ دی۔ اس نے ایسا ادارہ جاتی نسل پرستی سے نمٹنے اور نسلی شناخت کو فروغ دے کر کیا۔
ابتدائی زندگی میں، منڈیلا افریقن نیشنل کانگریس (ANC) کے رکن تھے۔ 1943 میں، منڈیلا نے ANC کی یوتھ لیگ کی مشترکہ بنیاد رکھی۔ اس نے اور اے این سی نے خود کو نسل پرستی کو ختم کرنے کا عہد کیا۔ نیشنل پارٹی کی صرف سفید فام حکومت نے نسل پرستی کی بنیاد پر علیحدگی اور امتیاز کی پالیسی قائم کی جسے رنگ برنگی کہا جاتا ہے۔
1950 کی دہائی کے دوران، حکومت نے منڈیلا کو متعدد بار گرفتار کیا، اور ان پر غداری کا مقدمہ چلا۔ 1962 میں عدالت نے انہیں ریاست کا تختہ الٹنے کی سازش کرنے پر عمر قید کی سزا سنائی۔ منڈیلا نے 1990 میں صدر ایف ڈبلیو ڈی کلرک کی رہائی سے قبل 27 سال جیل میں گزارے۔
اپنی صدارت کے بعد، منڈیلا سیاست اور انسان دوستی کی کوششوں میں سرگرم رہے۔ اپنے خیراتی ادارے، نیلسن منڈیلا فاؤنڈیشن کے ذریعے، اس نے بنیادی طور پر غربت اور HIV/AIDS سے لڑنے پر توجہ مرکوز کی۔ بہت سے لوگ منڈیلا کو ایک متنازعہ شخصیت سمجھتے تھے۔ اس حقیقت کے باوجود منڈیلا کو 250 سے زیادہ اعزازات ملے ہیں جن میں امن کا نوبل انعام بھی شامل ہے۔ ان کا آبائی ملک نیلسن منڈیلا کو "فادر آف دی نیشن” کے نام سے نوازتا ہے۔
2009 میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 18 جولائی کو نیلسن منڈیلا کا عالمی دن قرار دیا۔ یہ تاریخ نیلسن منڈیلا کی سالگرہ مناتی ہے۔ وہ 18 جولائی 1918 کو پیدا ہوئے تھے۔ ان کا انتقال 5 دسمبر 2013 کو 95 سال کی عمر میں ہوا۔ 2015 میں، اقوام متحدہ نے قید کے انسانی حالات کو فروغ دینے کے لیے اس دن کا دائرہ کار بڑھا دیا۔ انہوں نے ایسا ایک قرارداد کو منظور کرتے ہوئے کیا جس میں قیدیوں کے ساتھ سلوک کے لیے اقوام متحدہ کے معیاری کم از کم قوانین کی تشکیل کا مطالبہ کیا گیا تھا، جسے نیلسن منڈیلا رولز بھی کہا جاتا ہے۔
کسی بھی شخص کے سامنے اگر یہ سوال رکھا جائے کہ بھارت میں مہاتما گاندھی ، پاکستان میں حضرت قائد اعظم محمد علی جناحؒ ، ایران میں آیت اللہ خمینی، چین میں ماؤزے تنگ ، امریکہ میں لوتھر کنگ، ترکیہ میں مصطفیٰ کمال پاشا، یوگو سلاویہ میں جوسپ ٹیٹو، برطانیہ میں ونسٹن چرچل ، روس میں جوزف سٹالن اور کیوبا میں فیڈل کاسترو اپنی اپنی قوم کے رہنما گردانے جاتے ہیں تو جنوبی افریقہ میں کون ہوگا ؟تو ذہن میں جھٹ سے ایک ہی نام امڈے گا ’’ نیلسن منڈیلا‘‘۔ کل یعنی پانچ دسمبر کو اسی عالمی رہنما کی9 ویں برسی ہے جسے جنوبی افریقہ میں قوم کے باپ کا مقام حاصل ہے۔
اپنے ہی وطن میں نسل پرستی سے متاثرہ سیاہ فاموں کو ان کے بنیادی حقوق دلانے اور ملک کو جمہوری بنانے میں نیلسن منڈیلا نے اپنے لہو سے چراغ جلایا۔جوانی میں مسلسل 27 سال قید کاٹی۔ 1990 میں رہا ہوئے تو سیاہ فاموں کو استحصال سے بچانے کی جدوجہد وہیں سے پھر شروع کردی جس کا سلسلہ 1964 میں ان کی گرفتاری سے قطع ہوا تھا۔ ڈیموکریٹک جنوبی افریقہ کے پہلے صدر منتخب ہوئے ، امن کا نوبیل انعام حاصل کیا اور دنیا بھر میں نسل پرستی اور استحصال کے خلاف مضبوط آواز اور استعارہ بن گئے۔
نیلسن منڈیلا 18 جولائی 1918 کو جنوبی افریقہ کے گاؤں مویذو میں پیدا ہوئے۔والد نے اِن کا نام رولہلاہلا رکھا۔ منڈیلا کے والدین اَن پڑھ تھے مگر انہوں نے بچے کو سکول بھیجا اور وہ اپنے قبیلے کاسکول پہنچنے والا پہلابچہ قرار پایا۔ اس کی سفید فام استانی نے حسب روایت اس کا انگریزی نام نیلسن رکھ دیا۔ نیلسن نے تعلیم کا سلسلہ ٹوٹنے نہ دیا اور یونیورسٹی پہنچا۔ فورٹ ہیئر یونیورسٹی میں 19 سال کے نیلسن منڈیلا کی ملاقات اولیوتھمبونام کے نوجوان سے ہوئی اور یہ ملاقات عمر بھر کی رفاقت میں بدل گئی۔
چونکہ قدرت نے نیلسن منڈیلا کو صرف سیاست دان نہیں بلکہ ایک دانشور سیاستدان کے روپ میں ڈھالنا تھا اس لئے فطری طور پر تعلیم کے حصول کا شوق ان کی شخصیت میں پنپتا رہا حتیٰ کہ انہوں نے جیل میں رہتے ہوئے یونیورسٹی آف لندن سے پرائیویٹ طالب علم کے طور پر قانون کی تعلیم امتیازی نمبروں سے حاصل کی۔
نیلسن منڈیلا نے عملی سیاست کا آغاز 1948 ء میں اْس وقت کیا جب نسلی امتیاز کی حامی جماعت افریقن نیشنل پارٹی برسرِ اقتدار آئی۔نیلسن منڈیلاکا ایک اہم کارنامہ انقلابی نظریات کی ترویج ہے۔انہوں نے دھمکیوں سے نہ ڈرنے اور سامراجی طاقتوں کے سلسلے میں بیداری پیدا کرنے جیسے دو اہم اصولوں کی بنیاد پر جنوبی افریقہ میں ایک عظیم انقلاب کی داغ بیل ڈالی۔نیلسن منڈیلا کی نسلی امتیاز کے خلاف اس وسیع تر جدوجہد کے آغاز نے حکمرانوں کو ان کا سخت مخالف بنا دیا۔5 دسمبر 1956 کو انہیں ایک سو پچاس ساتھیوں کے ہمراہ گرفتار کر کے اْن پر غداری کا مقدمہ بنا دیا گیااور 1961 میں انہیں شواہد ثابت نہ ہونے کی بناء پر رہا کر دیا گیا۔
1962 میں وہ الجیریا گئے جہاں انہوں نے گوریلا جنگ اور ہتھیارچلانے کی باقاعدہ تربیت حاصل کی۔اْن کی افریقہ واپسی کے تھوڑے عرصہ ہی بعد 5 اگست 1962 کو ٹریفک جام کے دوران انہیں گرفتار کر کے پانچ سال کے لیئے جیل بھیج دیا گیا۔اکتوبر 1963 ء میں نیلسن منڈیلا اور ان کے ساتھیوں پر تخریب کاری اور غداری کا مقدمہ چلایا گیا ۔12 جون 1964 کو نیلسن منڈیلا اور ان کے تمام ساتھیوں کو غداری کا مجرم قرار دے کر عمر قید کی سزا سنادی گئی۔1964 سے 1982 ء تک نیلسن منڈیلا نے کیپ ٹاؤن کے جزیرے روبن میں قید بامشقت برداشت کی۔قید کے دوران نیلسن منڈیلا کی شہرت میں بے پناہ اضافہ ہوااور وہ افریقہ میں اہم ترین سیاہ فام رہنما کے طور پہچانے جانے لگے ۔
فروری 1990 میں نیلسن منڈیلا کی رہائی کا اعلان کیا گیا۔رہائی کے فوراً بعد نیلسن منڈیلا نے افریقن نیشنل کانگریس کی قیادت سنبھالی اور پارٹی کو آئندہ چاربرس بعد ہونے والے عام انتخابات کے لیے تیا ر کرنا شروع کردیا۔ 27 اپریل 1994 کو جنوبی افریقہ میں انتخابات کا انعقاد کیا گیا۔ان انتخابات میں افریقن نیشنل کانگریس نے 62 فیصد سے زائد ووٹ حاصل کیئے اور نیلسن منڈیلا ملک کے پہلے سیاہ فام صدر منتخب ہوگئے۔ نیلسن منڈیلا نے صدر منتخب ہونے کے بعد گوروں سے سیاہ فام باشندوں یا اپنے اْوپر ہونے والے ظلم کا انتقام لینے کے بجائے ایسے فیصلے کیے جس نے دنیا بھر کو حیران کر دیا۔ بڑے پیمانے پر سماجی اور معاشی اصلاحات ہوئیں۔نیلسن منڈیلا کو دوسری مدت کے لئے صدر بننے کی خواہش نہیں تھی۔اس لئے نیلسن منڈیلا کی خواہش و اصرار پر اْن کی جگہ 1999 میں تھابو میبیکی کو صدر منتخب کر لیا گیا
نیلسن منڈیلا کو ان کی خدمات پر 250 سے زائد اعزازات سے نوازا گیا جن میں سب سے قابل ذکر 1993 کا نوبیل پرائز برائے امن ہے۔دنیا کے اس عظیم رہنما کا 95 سال کی عمر میں 5 دسمبر 2013 ء کو انتقال ہوا۔آج نیلسن منڈیلا دنیا میں نہیں ہیں لیکن اْن کی عظیم و دلفریب داستانِ حیات یہ ثابت کرتی ہے کہ اگر اقتدار کو عوام کی بہتری اور اس کی فلاح وبہبود کے لئے استعمال کیا جائے تو دنیا کی کوئی طاقت آپ کو زوال آشنا نہیں کر سکتی۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

احتجاج، جمہوریت اور ریاستی ردعمل

حیات اندرابی پلوامہ، کشمیر دنیا کی جدید جمہوریتوں میں عوامی احتجاج...

امریکہ-اسرائیل تعلقات اور مشرقی وسطیٰ کا نیا منظرنامہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین...

محکمہ موسمیات کی تازہ پیشنگوئی

  اگلے 2 سے 4 گھنٹوں کے دوران جنوبی کشمیر...

زلزلے کے شدید جھٹکے، شدت 7.1 ریکارڈ، سونامی کی وارننگ جاری

ٹوکیو: جاپان کے جنوبی جزیرے کیوشو میں منگل کے روز...

تازہ ترین خبریں

احتجاج، جمہوریت اور ریاستی ردعمل

حیات اندرابی پلوامہ، کشمیر دنیا کی جدید جمہوریتوں میں عوامی احتجاج...

امریکہ-اسرائیل تعلقات اور مشرقی وسطیٰ کا نیا منظرنامہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین...

محکمہ موسمیات کی تازہ پیشنگوئی

  اگلے 2 سے 4 گھنٹوں کے دوران جنوبی کشمیر...

زلزلے کے شدید جھٹکے، شدت 7.1 ریکارڈ، سونامی کی وارننگ جاری

ٹوکیو: جاپان کے جنوبی جزیرے کیوشو میں منگل کے روز...

نیلسن منڈیلا امن کی علامت 

نیلسن منڈیلا کا بین الاقوامی دن 18 جولائی کو آتا ہے اور نسل پرستی کے خلاف انقلابی، سیاسی رہنما، اور کارکن نیلسن منڈیلا کو خراج عقیدت پیش کرتا ہے۔ یہ دن لوگوں کو دنیا کو ایک بہتر جگہ بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔
نیلسن منڈیلا جنوبی افریقہ کے پہلے سیاہ فام سربراہ بنے۔ انہوں نے 1994 سے 1999 تک ملک کے صدر کے طور پر خدمات انجام دیں۔ اپنی قیادت کے دوران، منڈیلا نے نسل پرستی کو ختم کرنے پر توجہ دی۔ اس نے ایسا ادارہ جاتی نسل پرستی سے نمٹنے اور نسلی شناخت کو فروغ دے کر کیا۔
ابتدائی زندگی میں، منڈیلا افریقن نیشنل کانگریس (ANC) کے رکن تھے۔ 1943 میں، منڈیلا نے ANC کی یوتھ لیگ کی مشترکہ بنیاد رکھی۔ اس نے اور اے این سی نے خود کو نسل پرستی کو ختم کرنے کا عہد کیا۔ نیشنل پارٹی کی صرف سفید فام حکومت نے نسل پرستی کی بنیاد پر علیحدگی اور امتیاز کی پالیسی قائم کی جسے رنگ برنگی کہا جاتا ہے۔
1950 کی دہائی کے دوران، حکومت نے منڈیلا کو متعدد بار گرفتار کیا، اور ان پر غداری کا مقدمہ چلا۔ 1962 میں عدالت نے انہیں ریاست کا تختہ الٹنے کی سازش کرنے پر عمر قید کی سزا سنائی۔ منڈیلا نے 1990 میں صدر ایف ڈبلیو ڈی کلرک کی رہائی سے قبل 27 سال جیل میں گزارے۔
اپنی صدارت کے بعد، منڈیلا سیاست اور انسان دوستی کی کوششوں میں سرگرم رہے۔ اپنے خیراتی ادارے، نیلسن منڈیلا فاؤنڈیشن کے ذریعے، اس نے بنیادی طور پر غربت اور HIV/AIDS سے لڑنے پر توجہ مرکوز کی۔ بہت سے لوگ منڈیلا کو ایک متنازعہ شخصیت سمجھتے تھے۔ اس حقیقت کے باوجود منڈیلا کو 250 سے زیادہ اعزازات ملے ہیں جن میں امن کا نوبل انعام بھی شامل ہے۔ ان کا آبائی ملک نیلسن منڈیلا کو "فادر آف دی نیشن” کے نام سے نوازتا ہے۔
2009 میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 18 جولائی کو نیلسن منڈیلا کا عالمی دن قرار دیا۔ یہ تاریخ نیلسن منڈیلا کی سالگرہ مناتی ہے۔ وہ 18 جولائی 1918 کو پیدا ہوئے تھے۔ ان کا انتقال 5 دسمبر 2013 کو 95 سال کی عمر میں ہوا۔ 2015 میں، اقوام متحدہ نے قید کے انسانی حالات کو فروغ دینے کے لیے اس دن کا دائرہ کار بڑھا دیا۔ انہوں نے ایسا ایک قرارداد کو منظور کرتے ہوئے کیا جس میں قیدیوں کے ساتھ سلوک کے لیے اقوام متحدہ کے معیاری کم از کم قوانین کی تشکیل کا مطالبہ کیا گیا تھا، جسے نیلسن منڈیلا رولز بھی کہا جاتا ہے۔
کسی بھی شخص کے سامنے اگر یہ سوال رکھا جائے کہ بھارت میں مہاتما گاندھی ، پاکستان میں حضرت قائد اعظم محمد علی جناحؒ ، ایران میں آیت اللہ خمینی، چین میں ماؤزے تنگ ، امریکہ میں لوتھر کنگ، ترکیہ میں مصطفیٰ کمال پاشا، یوگو سلاویہ میں جوسپ ٹیٹو، برطانیہ میں ونسٹن چرچل ، روس میں جوزف سٹالن اور کیوبا میں فیڈل کاسترو اپنی اپنی قوم کے رہنما گردانے جاتے ہیں تو جنوبی افریقہ میں کون ہوگا ؟تو ذہن میں جھٹ سے ایک ہی نام امڈے گا ’’ نیلسن منڈیلا‘‘۔ کل یعنی پانچ دسمبر کو اسی عالمی رہنما کی9 ویں برسی ہے جسے جنوبی افریقہ میں قوم کے باپ کا مقام حاصل ہے۔
اپنے ہی وطن میں نسل پرستی سے متاثرہ سیاہ فاموں کو ان کے بنیادی حقوق دلانے اور ملک کو جمہوری بنانے میں نیلسن منڈیلا نے اپنے لہو سے چراغ جلایا۔جوانی میں مسلسل 27 سال قید کاٹی۔ 1990 میں رہا ہوئے تو سیاہ فاموں کو استحصال سے بچانے کی جدوجہد وہیں سے پھر شروع کردی جس کا سلسلہ 1964 میں ان کی گرفتاری سے قطع ہوا تھا۔ ڈیموکریٹک جنوبی افریقہ کے پہلے صدر منتخب ہوئے ، امن کا نوبیل انعام حاصل کیا اور دنیا بھر میں نسل پرستی اور استحصال کے خلاف مضبوط آواز اور استعارہ بن گئے۔
نیلسن منڈیلا 18 جولائی 1918 کو جنوبی افریقہ کے گاؤں مویذو میں پیدا ہوئے۔والد نے اِن کا نام رولہلاہلا رکھا۔ منڈیلا کے والدین اَن پڑھ تھے مگر انہوں نے بچے کو سکول بھیجا اور وہ اپنے قبیلے کاسکول پہنچنے والا پہلابچہ قرار پایا۔ اس کی سفید فام استانی نے حسب روایت اس کا انگریزی نام نیلسن رکھ دیا۔ نیلسن نے تعلیم کا سلسلہ ٹوٹنے نہ دیا اور یونیورسٹی پہنچا۔ فورٹ ہیئر یونیورسٹی میں 19 سال کے نیلسن منڈیلا کی ملاقات اولیوتھمبونام کے نوجوان سے ہوئی اور یہ ملاقات عمر بھر کی رفاقت میں بدل گئی۔
چونکہ قدرت نے نیلسن منڈیلا کو صرف سیاست دان نہیں بلکہ ایک دانشور سیاستدان کے روپ میں ڈھالنا تھا اس لئے فطری طور پر تعلیم کے حصول کا شوق ان کی شخصیت میں پنپتا رہا حتیٰ کہ انہوں نے جیل میں رہتے ہوئے یونیورسٹی آف لندن سے پرائیویٹ طالب علم کے طور پر قانون کی تعلیم امتیازی نمبروں سے حاصل کی۔
نیلسن منڈیلا نے عملی سیاست کا آغاز 1948 ء میں اْس وقت کیا جب نسلی امتیاز کی حامی جماعت افریقن نیشنل پارٹی برسرِ اقتدار آئی۔نیلسن منڈیلاکا ایک اہم کارنامہ انقلابی نظریات کی ترویج ہے۔انہوں نے دھمکیوں سے نہ ڈرنے اور سامراجی طاقتوں کے سلسلے میں بیداری پیدا کرنے جیسے دو اہم اصولوں کی بنیاد پر جنوبی افریقہ میں ایک عظیم انقلاب کی داغ بیل ڈالی۔نیلسن منڈیلا کی نسلی امتیاز کے خلاف اس وسیع تر جدوجہد کے آغاز نے حکمرانوں کو ان کا سخت مخالف بنا دیا۔5 دسمبر 1956 کو انہیں ایک سو پچاس ساتھیوں کے ہمراہ گرفتار کر کے اْن پر غداری کا مقدمہ بنا دیا گیااور 1961 میں انہیں شواہد ثابت نہ ہونے کی بناء پر رہا کر دیا گیا۔
1962 میں وہ الجیریا گئے جہاں انہوں نے گوریلا جنگ اور ہتھیارچلانے کی باقاعدہ تربیت حاصل کی۔اْن کی افریقہ واپسی کے تھوڑے عرصہ ہی بعد 5 اگست 1962 کو ٹریفک جام کے دوران انہیں گرفتار کر کے پانچ سال کے لیئے جیل بھیج دیا گیا۔اکتوبر 1963 ء میں نیلسن منڈیلا اور ان کے ساتھیوں پر تخریب کاری اور غداری کا مقدمہ چلایا گیا ۔12 جون 1964 کو نیلسن منڈیلا اور ان کے تمام ساتھیوں کو غداری کا مجرم قرار دے کر عمر قید کی سزا سنادی گئی۔1964 سے 1982 ء تک نیلسن منڈیلا نے کیپ ٹاؤن کے جزیرے روبن میں قید بامشقت برداشت کی۔قید کے دوران نیلسن منڈیلا کی شہرت میں بے پناہ اضافہ ہوااور وہ افریقہ میں اہم ترین سیاہ فام رہنما کے طور پہچانے جانے لگے ۔
فروری 1990 میں نیلسن منڈیلا کی رہائی کا اعلان کیا گیا۔رہائی کے فوراً بعد نیلسن منڈیلا نے افریقن نیشنل کانگریس کی قیادت سنبھالی اور پارٹی کو آئندہ چاربرس بعد ہونے والے عام انتخابات کے لیے تیا ر کرنا شروع کردیا۔ 27 اپریل 1994 کو جنوبی افریقہ میں انتخابات کا انعقاد کیا گیا۔ان انتخابات میں افریقن نیشنل کانگریس نے 62 فیصد سے زائد ووٹ حاصل کیئے اور نیلسن منڈیلا ملک کے پہلے سیاہ فام صدر منتخب ہوگئے۔ نیلسن منڈیلا نے صدر منتخب ہونے کے بعد گوروں سے سیاہ فام باشندوں یا اپنے اْوپر ہونے والے ظلم کا انتقام لینے کے بجائے ایسے فیصلے کیے جس نے دنیا بھر کو حیران کر دیا۔ بڑے پیمانے پر سماجی اور معاشی اصلاحات ہوئیں۔نیلسن منڈیلا کو دوسری مدت کے لئے صدر بننے کی خواہش نہیں تھی۔اس لئے نیلسن منڈیلا کی خواہش و اصرار پر اْن کی جگہ 1999 میں تھابو میبیکی کو صدر منتخب کر لیا گیا
نیلسن منڈیلا کو ان کی خدمات پر 250 سے زائد اعزازات سے نوازا گیا جن میں سب سے قابل ذکر 1993 کا نوبیل پرائز برائے امن ہے۔دنیا کے اس عظیم رہنما کا 95 سال کی عمر میں 5 دسمبر 2013 ء کو انتقال ہوا۔آج نیلسن منڈیلا دنیا میں نہیں ہیں لیکن اْن کی عظیم و دلفریب داستانِ حیات یہ ثابت کرتی ہے کہ اگر اقتدار کو عوام کی بہتری اور اس کی فلاح وبہبود کے لئے استعمال کیا جائے تو دنیا کی کوئی طاقت آپ کو زوال آشنا نہیں کر سکتی۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں