راجوری کی وہ روایت جسے اب ملا قومی ورثے کا اعزاز

جنگ فیچر ڈیسک

جموں و کشمیر کے لیے ایک اہم ثقافتی سنگِ میل کے طور پر راجوری کی تاریخی بھیرَو یاترا کو بھارت کے قومی غیر مادی ثقافتی ورثہ (ICH) کی فہرست میں شامل کر لیا گیا ہے۔ لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے اس اعتراف کو مرکز کے زیر انتظام علاقے کے لیے باعثِ فخر قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے خطے کی عظیم روحانی اور ثقافتی میراث کے تحفظ اور فروغ میں مدد ملے گی۔ صدیوں پرانی یہ روایت، جو اپنی گہری مذہبی اہمیت اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے پیغام کے لیے معروف ہے، جموں و کشمیر کا دوسرا ثقافتی ورثہ ہے جسے یہ قومی اعزاز حاصل ہوا ہے۔
جموں و کشمیر کے سرحدی ضلع راجوری کو قومی سطح پر اس وقت اہم شناخت ملی جب اس کی تاریخی بھیرَو یاترا کو باضابطہ طور پر بھارت کے قومی غیر مادی ثقافتی ورثہ (ICH) کی فہرست میں شامل کیا گیا۔
جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے راجوری ضلع انتظامیہ اور محکمہ ثقافت، جموں و کشمیر کو تاریخی بھیرَو یاترا کی قومی غیر مادی ثقافتی ورثہ (ICH) کی فہرست میں شمولیت پر دلی مبارکباد پیش کی۔
راجوری کی بھیرَو یاترا کو اس کی ثقافتی، روحانی اور تاریخی اہمیت کے اعتراف میں بھارت کے قومی غیر مادی ثقافتی ورثے کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔ یہ اقدام خطے کی زندہ روایات کے تحفظ کی جانب ایک اہم قدم ہے تاکہ اس کی ثقافتی میراث آئندہ نسلوں کے لیے بھی مشعلِ راہ بنی رہے۔
جموں و کشمیر کی قدیم ترین مذہبی روایات میں شمار ہونے والی بھیرَو یاترا کو اب قومی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے۔ اس یاترا کو بھارت کے قومی غیر مادی ثقافتی ورثے کی فہرست میں شامل کرتے ہوئے اس کی ثقافتی، روحانی اور تاریخی اہمیت کو اجاگر کیا گیا ہے۔
صدیوں پرانی یہ زیارت راجوری کی شناخت کا اہم حصہ رہی ہے، جہاں عقیدت مند اور مقامی برادریاں عقیدے، مذہبی رسومات اور مشترکہ روایات کے ذریعے ایک دوسرے سے جڑی رہتی ہیں۔ قومی ورثے کی فہرست میں شمولیت سے توقع ہے کہ اس یاترا کے تحفظ اور فروغ میں مدد ملے گی تاکہ آنے والی نسلیں بھی اس سے مستفید ہو سکیں۔
اس اعتراف کے لیے تجویز ضلع ترقیاتی کمشنر ابھشیک شرما کی قیادت میں راجوری ضلع انتظامیہ نے تیار کرکے پیش کی تھی۔ اس عمل میں محکمہ ثقافت، جموں و کشمیر نے سیکریٹری بریج موہن شرما کی رہنمائی میں تعاون کیا۔ قومی غیر مادی ثقافتی ورثے کی فہرست کو اپ ڈیٹ کرنے والی عبوری کمیٹی کی جانچ کے بعد بھیرَو یاترا کو باضابطہ طور پر اس فہرست میں شامل کرنے کی منظوری دی گئی۔
ضلع ترقیاتی کمشنر ابھشیک شرما نے اس اعتراف کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ یہ اُن نسل در نسل عقیدت مندوں اور مقامی برادریوں کو خراجِ تحسین ہے جنہوں نے برسوں تک اس روایت کو زندہ رکھا۔ انہوں نے کہا کہ اس اعتراف سے راجوری کی ثقافتی شناخت کو قومی سطح پر نمایاں مقام حاصل ہوا ہے اور انتظامیہ خطے کے ثقافتی ورثے کی دستاویز سازی، تحفظ اور فروغ کے لیے پُرعزم ہے۔
انتظامیہ نے بھیرَو یاترا کمیٹی، عقیدت مندوں، محققین، ثقافتی کارکنوں اور متعلقہ افسران کی خدمات کو بھی سراہا جنہوں نے اس تاریخی روایت کی دستاویز سازی اور تحفظ میں اہم کردار ادا کیا۔
بھارت کے قومی ثقافتی ورثے کی فہرست میں بھیرَو یاترا کی شمولیت نہ صرف راجوری بلکہ پورے خطے کے لیے باعثِ افتخار ہے بلکہ یہ اس امر کو بھی یقینی بناتی ہے کہ یہاں کی زندہ روایات محفوظ رہیں اور آئندہ نسلوں کو بھی اپنی ثقافتی میراث سے روشناس کراتی رہیں۔
مقامی روایت کے مطابق بہت پہلے راجوری شدید قحط کی لپیٹ میں آ گیا تھا۔ جب حالات انتہائی خراب ہو گئے تو ایک درویش صفت شخصیت لوگوں کے درمیان نمودار ہوئی۔ اس نے مشورہ دیا کہ ہر سال ہولی سے ایک دن قبل بھیرَو جھانکی نکالی جائے اور بھیرَو دیو سے رحمت و حفاظت کی دعا کی جائے۔ اس نے یقین دلایا کہ ایسا کرنے سے خوشحالی واپس آ جائے گی۔روایت کے مطابق ایسا ہی ہوا، اور تب سے یہ رسم کبھی منقطع نہیں ہوئی۔ آج بھی راجوری شہر اور جوہر نگر میں پوری عقیدت کے ساتھ اسے منایا جاتا ہے، جو سات روزہ ہولی تقریبات کا باقاعدہ آغاز تصور کیا جاتا ہے۔
یہ جلوس دو مقامات پر رکتا ہے: ایک نکی تاوی کے بھیرَو استھان پر اور دوسرا نباں محلہ کے بھیرَو استھان پر۔ دونوں مقامات پر بھیرَو بابا کی پتھر کی مورتی کی پوجا کی جاتی ہے۔ دوپہر سے شروع ہونے والا جلوس پورے شہر کا چکر لگا کر شام کو دیوی دوار پر اختتام پذیر ہوتا ہے۔ یہ سلسلہ ہولی کے دن تک جاری رہتا ہے۔ عقیدت مند بھیرَو بابا سے سیاہ تلک لگواتے ہیں اور لوہے کے چمٹے سے پشت پر ہلکی ضرب کو برکت سمجھتے ہیں۔
جھانکی کے مرکز میں بھیرَو باوا خود چلتے ہیں، جنہیں ایک پراسرار اور خوش بختی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ روایت ہے کہ ان کا ایک ہلکا سا ہاتھ کسی شخص پر پڑ جائے تو وہ پورا سال برکت کا مستحق رہتا ہے۔
جب بھیرَو باوا راجوری کی گلیوں سے گزرتے ہیں تو سینکڑوں نوجوان رنگ، موسیقی اور عقیدت کے ماحول میں ان کے گرد رقص کرتے ہیں۔ فضا مذہبی گیتوں اور روایتی موسیقی سے گونج اٹھتی ہے جبکہ گھروں کی چھتوں پر خواتین جلوس کا نظارہ کرتے ہوئے دعائیں مانگتی ہیں۔ یہ منظر جہاں عقیدت کی علامت ہے، وہیں خوشی اور جشن کی بھی خوبصورت تصویر پیش کرتا ہے۔
شاید بھیرَو دیو جھانکی کی سب سے نمایاں خصوصیت اس کی مذہبی رسومات سے بڑھ کر وہ پیغام ہے جو یہ دیتی ہے۔ سرحدی ضلع راجوری میں، جہاں ہندو اور مسلمان صدیوں سے ایک ساتھ رہتے آئے ہیں، یہ جھانکی دونوں برادریوں کو ایک مشترکہ جشن میں یکجا کرتی ہے۔ مسلمان بھی اپنے ہندو ہمسایوں کے ساتھ بلا جھجھک اس جلوس میں شریک ہوتے ہیں، جو ایسے خطے میں بقائے باہمی کی زندہ مثال ہے جسے اکثر قومی سطح پر صرف تنازعات کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔
راجوری میں کم از کم سال میں ایک بار بھیرَو دیو جھانکی سب کو یہ یاد دلاتی ہے کہ اس ضلع کی اصل شناخت امن، خوشحالی اور ایسا بھائی چارہ ہے جو ہر طرح کی تقسیم سے کہیں زیادہ قدیم اور مضبوط ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

احتجاج، جمہوریت اور ریاستی ردعمل

حیات اندرابی پلوامہ، کشمیر دنیا کی جدید جمہوریتوں میں عوامی احتجاج...

امریکہ-اسرائیل تعلقات اور مشرقی وسطیٰ کا نیا منظرنامہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین...

محکمہ موسمیات کی تازہ پیشنگوئی

  اگلے 2 سے 4 گھنٹوں کے دوران جنوبی کشمیر...

زلزلے کے شدید جھٹکے، شدت 7.1 ریکارڈ، سونامی کی وارننگ جاری

ٹوکیو: جاپان کے جنوبی جزیرے کیوشو میں منگل کے روز...

تازہ ترین خبریں

احتجاج، جمہوریت اور ریاستی ردعمل

حیات اندرابی پلوامہ، کشمیر دنیا کی جدید جمہوریتوں میں عوامی احتجاج...

امریکہ-اسرائیل تعلقات اور مشرقی وسطیٰ کا نیا منظرنامہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین...

محکمہ موسمیات کی تازہ پیشنگوئی

  اگلے 2 سے 4 گھنٹوں کے دوران جنوبی کشمیر...

زلزلے کے شدید جھٹکے، شدت 7.1 ریکارڈ، سونامی کی وارننگ جاری

ٹوکیو: جاپان کے جنوبی جزیرے کیوشو میں منگل کے روز...

راجوری کی وہ روایت جسے اب ملا قومی ورثے کا اعزاز

جنگ فیچر ڈیسک

جموں و کشمیر کے لیے ایک اہم ثقافتی سنگِ میل کے طور پر راجوری کی تاریخی بھیرَو یاترا کو بھارت کے قومی غیر مادی ثقافتی ورثہ (ICH) کی فہرست میں شامل کر لیا گیا ہے۔ لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے اس اعتراف کو مرکز کے زیر انتظام علاقے کے لیے باعثِ فخر قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے خطے کی عظیم روحانی اور ثقافتی میراث کے تحفظ اور فروغ میں مدد ملے گی۔ صدیوں پرانی یہ روایت، جو اپنی گہری مذہبی اہمیت اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے پیغام کے لیے معروف ہے، جموں و کشمیر کا دوسرا ثقافتی ورثہ ہے جسے یہ قومی اعزاز حاصل ہوا ہے۔
جموں و کشمیر کے سرحدی ضلع راجوری کو قومی سطح پر اس وقت اہم شناخت ملی جب اس کی تاریخی بھیرَو یاترا کو باضابطہ طور پر بھارت کے قومی غیر مادی ثقافتی ورثہ (ICH) کی فہرست میں شامل کیا گیا۔
جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے راجوری ضلع انتظامیہ اور محکمہ ثقافت، جموں و کشمیر کو تاریخی بھیرَو یاترا کی قومی غیر مادی ثقافتی ورثہ (ICH) کی فہرست میں شمولیت پر دلی مبارکباد پیش کی۔
راجوری کی بھیرَو یاترا کو اس کی ثقافتی، روحانی اور تاریخی اہمیت کے اعتراف میں بھارت کے قومی غیر مادی ثقافتی ورثے کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔ یہ اقدام خطے کی زندہ روایات کے تحفظ کی جانب ایک اہم قدم ہے تاکہ اس کی ثقافتی میراث آئندہ نسلوں کے لیے بھی مشعلِ راہ بنی رہے۔
جموں و کشمیر کی قدیم ترین مذہبی روایات میں شمار ہونے والی بھیرَو یاترا کو اب قومی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے۔ اس یاترا کو بھارت کے قومی غیر مادی ثقافتی ورثے کی فہرست میں شامل کرتے ہوئے اس کی ثقافتی، روحانی اور تاریخی اہمیت کو اجاگر کیا گیا ہے۔
صدیوں پرانی یہ زیارت راجوری کی شناخت کا اہم حصہ رہی ہے، جہاں عقیدت مند اور مقامی برادریاں عقیدے، مذہبی رسومات اور مشترکہ روایات کے ذریعے ایک دوسرے سے جڑی رہتی ہیں۔ قومی ورثے کی فہرست میں شمولیت سے توقع ہے کہ اس یاترا کے تحفظ اور فروغ میں مدد ملے گی تاکہ آنے والی نسلیں بھی اس سے مستفید ہو سکیں۔
اس اعتراف کے لیے تجویز ضلع ترقیاتی کمشنر ابھشیک شرما کی قیادت میں راجوری ضلع انتظامیہ نے تیار کرکے پیش کی تھی۔ اس عمل میں محکمہ ثقافت، جموں و کشمیر نے سیکریٹری بریج موہن شرما کی رہنمائی میں تعاون کیا۔ قومی غیر مادی ثقافتی ورثے کی فہرست کو اپ ڈیٹ کرنے والی عبوری کمیٹی کی جانچ کے بعد بھیرَو یاترا کو باضابطہ طور پر اس فہرست میں شامل کرنے کی منظوری دی گئی۔
ضلع ترقیاتی کمشنر ابھشیک شرما نے اس اعتراف کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ یہ اُن نسل در نسل عقیدت مندوں اور مقامی برادریوں کو خراجِ تحسین ہے جنہوں نے برسوں تک اس روایت کو زندہ رکھا۔ انہوں نے کہا کہ اس اعتراف سے راجوری کی ثقافتی شناخت کو قومی سطح پر نمایاں مقام حاصل ہوا ہے اور انتظامیہ خطے کے ثقافتی ورثے کی دستاویز سازی، تحفظ اور فروغ کے لیے پُرعزم ہے۔
انتظامیہ نے بھیرَو یاترا کمیٹی، عقیدت مندوں، محققین، ثقافتی کارکنوں اور متعلقہ افسران کی خدمات کو بھی سراہا جنہوں نے اس تاریخی روایت کی دستاویز سازی اور تحفظ میں اہم کردار ادا کیا۔
بھارت کے قومی ثقافتی ورثے کی فہرست میں بھیرَو یاترا کی شمولیت نہ صرف راجوری بلکہ پورے خطے کے لیے باعثِ افتخار ہے بلکہ یہ اس امر کو بھی یقینی بناتی ہے کہ یہاں کی زندہ روایات محفوظ رہیں اور آئندہ نسلوں کو بھی اپنی ثقافتی میراث سے روشناس کراتی رہیں۔
مقامی روایت کے مطابق بہت پہلے راجوری شدید قحط کی لپیٹ میں آ گیا تھا۔ جب حالات انتہائی خراب ہو گئے تو ایک درویش صفت شخصیت لوگوں کے درمیان نمودار ہوئی۔ اس نے مشورہ دیا کہ ہر سال ہولی سے ایک دن قبل بھیرَو جھانکی نکالی جائے اور بھیرَو دیو سے رحمت و حفاظت کی دعا کی جائے۔ اس نے یقین دلایا کہ ایسا کرنے سے خوشحالی واپس آ جائے گی۔روایت کے مطابق ایسا ہی ہوا، اور تب سے یہ رسم کبھی منقطع نہیں ہوئی۔ آج بھی راجوری شہر اور جوہر نگر میں پوری عقیدت کے ساتھ اسے منایا جاتا ہے، جو سات روزہ ہولی تقریبات کا باقاعدہ آغاز تصور کیا جاتا ہے۔
یہ جلوس دو مقامات پر رکتا ہے: ایک نکی تاوی کے بھیرَو استھان پر اور دوسرا نباں محلہ کے بھیرَو استھان پر۔ دونوں مقامات پر بھیرَو بابا کی پتھر کی مورتی کی پوجا کی جاتی ہے۔ دوپہر سے شروع ہونے والا جلوس پورے شہر کا چکر لگا کر شام کو دیوی دوار پر اختتام پذیر ہوتا ہے۔ یہ سلسلہ ہولی کے دن تک جاری رہتا ہے۔ عقیدت مند بھیرَو بابا سے سیاہ تلک لگواتے ہیں اور لوہے کے چمٹے سے پشت پر ہلکی ضرب کو برکت سمجھتے ہیں۔
جھانکی کے مرکز میں بھیرَو باوا خود چلتے ہیں، جنہیں ایک پراسرار اور خوش بختی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ روایت ہے کہ ان کا ایک ہلکا سا ہاتھ کسی شخص پر پڑ جائے تو وہ پورا سال برکت کا مستحق رہتا ہے۔
جب بھیرَو باوا راجوری کی گلیوں سے گزرتے ہیں تو سینکڑوں نوجوان رنگ، موسیقی اور عقیدت کے ماحول میں ان کے گرد رقص کرتے ہیں۔ فضا مذہبی گیتوں اور روایتی موسیقی سے گونج اٹھتی ہے جبکہ گھروں کی چھتوں پر خواتین جلوس کا نظارہ کرتے ہوئے دعائیں مانگتی ہیں۔ یہ منظر جہاں عقیدت کی علامت ہے، وہیں خوشی اور جشن کی بھی خوبصورت تصویر پیش کرتا ہے۔
شاید بھیرَو دیو جھانکی کی سب سے نمایاں خصوصیت اس کی مذہبی رسومات سے بڑھ کر وہ پیغام ہے جو یہ دیتی ہے۔ سرحدی ضلع راجوری میں، جہاں ہندو اور مسلمان صدیوں سے ایک ساتھ رہتے آئے ہیں، یہ جھانکی دونوں برادریوں کو ایک مشترکہ جشن میں یکجا کرتی ہے۔ مسلمان بھی اپنے ہندو ہمسایوں کے ساتھ بلا جھجھک اس جلوس میں شریک ہوتے ہیں، جو ایسے خطے میں بقائے باہمی کی زندہ مثال ہے جسے اکثر قومی سطح پر صرف تنازعات کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔
راجوری میں کم از کم سال میں ایک بار بھیرَو دیو جھانکی سب کو یہ یاد دلاتی ہے کہ اس ضلع کی اصل شناخت امن، خوشحالی اور ایسا بھائی چارہ ہے جو ہر طرح کی تقسیم سے کہیں زیادہ قدیم اور مضبوط ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں