مرحوم ڈاکٹر شیخ مصطفیٰ کمال کی وفات پر تعزیت کے لئے مختلف سیاسی جماعتوں کےممبران، سماجی شخصیات اور عوام کی بڑی تعداد نے شیخ خاندان سے اظہارِ افسوس کیا۔ ایسے مواقع بنیادی طور پر دکھ بانٹنے، اہل خانہ کو حوصلہ دینے اور انسانی ہمدردی کا اظہار کرنے کے لئے ہوتے ہیں، نہ کہ سیاسی نمائش یا میڈیا کی توجہ حاصل کرنے کے لئے ہوتے ہیں۔
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کا یہ کہنا کہ "تعزیت پر سیاست نہ کریں” نہ صرف بروقت تھا بلکہ ہر لحاظ سے درست بھی تھا۔ افسوس کی بات یہ رہی کہ بعض سیاسی رہنما، خصوصاً حزبِ اختلاف سے تعلق رکھنے والے افراد، تعزیت کے بعد مرحوم کے گھر کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے نظر آئے۔ جس جگہ خاموشی، دعا اور احترام کا ماحول ہونا چاہیے تھا، وہاں سیاسی بیانات اور تبصروں نے اس تقدس کو مجروح کیا۔ تعزیتی اجتماع کو سیاسی پلیٹ فارم میں تبدیل کرنا نہ اخلاقی اقدار سے مطابقت رکھتا ہے اور نہ ہی ہماری سماجی روایات سےملاپ ہوتا ہے۔
اس معاملے میں میڈیا کا کردار بھی سوالات سے بالاتر نہیں۔ غمزدہ خاندان کے افراد یا تعزیت کے لئے آنے والے سیاسی شخصیات کے سامنے مائیک بڑھا دینا، فوری ردِعمل لینے کی کوشش کرنا اور ہر منظر کو براہِ راست نشر کرنے کی دوڑ انسانی حساسیت کے تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں۔یہ عمل صحافتی ذمہ داری نہیں بلکہ پیشہ ورانہ بے حسی کی علامت ہے۔
صحافت کا بنیادی اصول یہ ہے کہ خبر کی تلاش میں انسانی وقار اور نجی دکھ کا احترام ہر حال میں مقدم رہے۔ ہر منظر خبر نہیں ہوتا، اور ہر موقع بیان بازی کا متقاضی نہیں ہوتا۔ بعض اوقات خاموشی ہی سب سے باوقار رویہ ہوتی ہے۔
سیاست دانوں کو بھی یہ احساس ہونا چاہیے کہ تعزیت سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کا موقع نہیں بلکہ انسانیت کا امتحان ہے۔ اگر وہ واقعی مرحوم کے اہلِ خانہ کے غم میں شریک ہیں تو ان کی موجودگی کا سب سے مؤثر اظہار خاموش تعزیت، دعا اور ہمدردی ہے، نہ کہ کیمروں کے سامنے سیاسی بیانات۔
ہمارے معاشرے میں تعزیت کو ہمیشہ احترام، وقار اور اخلاص کی علامت سمجھا گیا ہے۔ اس روایت کو برقرار رکھنا سیاست دانوں، میڈیا اور معاشرے کے ہر فرد کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ دکھ کی گھڑی کو سیاست اور تشہیر سے آلودہ کرنے کے بجائے اسے انسانیت، احترام اور خاموش یکجہتی کا مظہر بنانا ہی ہماری اجتماعی اخلاقی ذمہ داری ہے۔
تعزیت کو سیاست کا میدان نہ بنائیں
تعزیت کو سیاست کا میدان نہ بنائیں
مرحوم ڈاکٹر شیخ مصطفیٰ کمال کی وفات پر تعزیت کے لئے مختلف سیاسی جماعتوں کےممبران، سماجی شخصیات اور عوام کی بڑی تعداد نے شیخ خاندان سے اظہارِ افسوس کیا۔ ایسے مواقع بنیادی طور پر دکھ بانٹنے، اہل خانہ کو حوصلہ دینے اور انسانی ہمدردی کا اظہار کرنے کے لئے ہوتے ہیں، نہ کہ سیاسی نمائش یا میڈیا کی توجہ حاصل کرنے کے لئے ہوتے ہیں۔
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کا یہ کہنا کہ "تعزیت پر سیاست نہ کریں” نہ صرف بروقت تھا بلکہ ہر لحاظ سے درست بھی تھا۔ افسوس کی بات یہ رہی کہ بعض سیاسی رہنما، خصوصاً حزبِ اختلاف سے تعلق رکھنے والے افراد، تعزیت کے بعد مرحوم کے گھر کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے نظر آئے۔ جس جگہ خاموشی، دعا اور احترام کا ماحول ہونا چاہیے تھا، وہاں سیاسی بیانات اور تبصروں نے اس تقدس کو مجروح کیا۔ تعزیتی اجتماع کو سیاسی پلیٹ فارم میں تبدیل کرنا نہ اخلاقی اقدار سے مطابقت رکھتا ہے اور نہ ہی ہماری سماجی روایات سےملاپ ہوتا ہے۔
اس معاملے میں میڈیا کا کردار بھی سوالات سے بالاتر نہیں۔ غمزدہ خاندان کے افراد یا تعزیت کے لئے آنے والے سیاسی شخصیات کے سامنے مائیک بڑھا دینا، فوری ردِعمل لینے کی کوشش کرنا اور ہر منظر کو براہِ راست نشر کرنے کی دوڑ انسانی حساسیت کے تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں۔یہ عمل صحافتی ذمہ داری نہیں بلکہ پیشہ ورانہ بے حسی کی علامت ہے۔
صحافت کا بنیادی اصول یہ ہے کہ خبر کی تلاش میں انسانی وقار اور نجی دکھ کا احترام ہر حال میں مقدم رہے۔ ہر منظر خبر نہیں ہوتا، اور ہر موقع بیان بازی کا متقاضی نہیں ہوتا۔ بعض اوقات خاموشی ہی سب سے باوقار رویہ ہوتی ہے۔
سیاست دانوں کو بھی یہ احساس ہونا چاہیے کہ تعزیت سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کا موقع نہیں بلکہ انسانیت کا امتحان ہے۔ اگر وہ واقعی مرحوم کے اہلِ خانہ کے غم میں شریک ہیں تو ان کی موجودگی کا سب سے مؤثر اظہار خاموش تعزیت، دعا اور ہمدردی ہے، نہ کہ کیمروں کے سامنے سیاسی بیانات۔
ہمارے معاشرے میں تعزیت کو ہمیشہ احترام، وقار اور اخلاص کی علامت سمجھا گیا ہے۔ اس روایت کو برقرار رکھنا سیاست دانوں، میڈیا اور معاشرے کے ہر فرد کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ دکھ کی گھڑی کو سیاست اور تشہیر سے آلودہ کرنے کے بجائے اسے انسانیت، احترام اور خاموش یکجہتی کا مظہر بنانا ہی ہماری اجتماعی اخلاقی ذمہ داری ہے۔


